دلچسپ، اہم اور اچھی کتاب

کتاب مجلد ہے اور انتہائی عمدہ شائع ہوئی ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنکتاب مجلد ہے اور انتہائی عمدہ شائع ہوئی ہے
    • مصنف, انور سِن رائے
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

نام کتاب: ادب کا عالمی دریچہ

مصنف: امجد طفیل

صفحات: 227

قیمت: 500 روپے

ناشر: نےرےٹیو(Narratives) پرائیویٹ لیمیٹڈ۔

E-mail: info@narratives.pk

پاکستان میں کتابوں کی اشاعت نہ صرف بڑھی ہے بلکہ بہت اچھی طرح بڑھی ہے۔ ایسی کتابیں اب خاصی تعداد میں شائع ہو رہی ہیں جو نہ صرف پڑھے جانے کا تقاضا کرتی ہیں بلکہ غور سے پڑھے جانے کا تقاضا کرتی ہیں۔

امجد طفیل تدریس سے وابستہ ہیں، افسانے بھی لکھتے ہیں اور تنقید بھی۔ ان کے افسانے پڑھنے کا تو مجھے اتفاق نہیں ہوا لیکن ان کی کتاب ان کے بارے بہت اچھی امیدیں پیدا کرتی ہے۔

اس کتاب میں ان کے تیس مضمون ہیں اور ایک حرف آغاز۔ ان مضامین کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

پہلا حصہ مباحث کے عنوان سے ہے جس میں ایسے مضامین ہیں جو پس منظر اور تصورات کی وضاحت سے تعلق رکھتے ہیں اور خود مصنف کے نظری جغرافیے کا بھی حوالہ بنتے ہیں۔ ان میں سے تین مضامین خاص طور پر تہذیب و ثقافت کے حوالے سے ہیں: ’ثقافت اور استعمار‘، ’برصغیر میں ثقافتی استعماریت‘ اور ’تہذیبوں کا تصادم‘۔ باقی چھ مضامین پچھلے پچاس ساٹھ سال کے دوران ادبی منظر میں نمایاں ہلچل پیدا کرنے والے تصورات کے بارے میں ہیں۔

اگر پروف ریڈنگ پر بھی ذرا اور توجہ دی جاتی تو کہیں کہیں جو بے لطفی پیدا ہوتی ہے وہ نہ ہوتی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناگر پروف ریڈنگ پر بھی ذرا اور توجہ دی جاتی تو کہیں کہیں جو بے لطفی پیدا ہوتی ہے وہ نہ ہوتی

کوئی بھی مضمون دس بارہ صفحے سے طویل نہیں ہے لیکن ہر مضمون میں امجد نے جو بھی کہنے کی کوشش کرتے ہیں اسے نہ صرف خود بھی بخوبی سمجھتے ہیں بلکہ اسے بیان کرنے پر بھی دسترس رکھتے ہیں۔

دوسرا حصہ، تخلیق کار کے عنوان سے ہے۔ اس حصے میں صرف تین مضمون ہیں۔ ایک مارکیز (گبرئیل گارشیا مارکیز) کے بارے میں، دوسرا میلان کنڈیرہ کے بارے میں اور تیسرا پائلو کوئلو کے بارے میں۔

کوئلو کو پڑھنے میں تو کوئی حرج نہیں لیکن اسے مارکیز یا کنڈیرا کے ساتھ پیش کرنے سے بہت سے پڑھنے والوں کو غلط تاثر مل سکتا ہے۔ کوئلو میں وہ ساری کمزوریاں ہیں جو مغرب کے مقبول لکھنے والوں میں ہوتی ہیں۔ جہاں تک ان کی کہانی سنانے کی صلاحیت کا تعلق تو یہ ان کا بنیادی جوہر ہے جس نے انھیں مقبول بنایا ہے۔ کوئلو کے مذہبی حوالے سے امجد نے جو بات کی ہے وہ خاصی بحث طلب ہے۔

تیسرا حصہ نقاد کے عنوان سے قائم کیا گیا ہے اس میں ایڈورڈ سعید کی ادبی تنقید، ٹیری ایگلٹن کی ادبی تھیوری اور ناول کے بارے میں میلان کنڈیرہ کے تصورات کا ذکر ہے لیکن زیادہ بات اردو ناول کی طرف چلی گئی ہے۔

ایڈورڈ سعید کا ترجمہ ہمارے ہاں بہت کم ہوا ہے اور اس سے بھی کم ان پر لکھا گیا ہے حالاں کہ وہ اردو کے پڑھنے والوں کے لیے نسبتاً زیادہ دلچسپی کے حامل ہو سکتے ہیں۔

کتاب کا چوتھا حصہ سب سے زیادہ معلومات کا حامل ہے اس میں زیادہ تر بات ناول کے بارے میں کی گئی ہے۔ اس حصے پندرہ مضمون ہیں جن میں سے غالباً آٹھ ناول کے بارے میں ہیں اور امجد ناولوں کا ایسا تعارف کرتے ہیں کہ مضمون پڑھنے والے کا دل ناول پڑھنے کو چاہنے لگے۔ ویسے تو دوسرے سات مضامین کا انداز بھی ایسا ہی ہے۔ یہ مضمون شاید انھوں نے اخبار کے لیے لکھے تھے۔

ایک دو مضامین ذرا سے مس فٹ اور فرمائشی قسم کے لگتے ہیں، ایسے مضمون بہ وجوہ لکھنے پڑتے ہیں لیکن کتاب میں شامل کرتے ہوئے ایک بار ضرور سوچ لینا چاہیے۔

حرف آغاز سے امجد طفیل نے جو ڈیڑھ صفحہ لکھا ہے اس کے نتیجے میں یہ دشواری پیدا ہو گئی کہ تبصرہ کیا کیا جائے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنحرف آغاز سے امجد طفیل نے جو ڈیڑھ صفحہ لکھا ہے اس کے نتیجے میں یہ دشواری پیدا ہو گئی کہ تبصرہ کیا کیا جائے

حرف آغاز سے امجد طفیل نے جو ڈیڑھ صفحہ لکھا ہے اس کے نتیجے میں یہ دشواری پیدا ہو گئی کہ تبصرہ کیا کیا جائے۔

امجد طفیل کہتے ہیں کہ ’زیر نظر کتاب میرے ان مضامین پر مشتمل ہے جو میں گزشتہ اٹھارہ بیس سال میں لکھے اور ان میں سے اکثر مختلف ادبی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ مختلف موضوعات، ناقدین اور تخلیق کاروں کے بارے میں تحریر کردہ ان مضامین میں ایک باطنی ربط موجود ہےجس کے باعث انھیں ایک مجموعے میں شائع کر دیا گیا ہے‘۔

یہ کتاب تمام لوگوں کے لیے ممکن ہے بہت گہری دلچسپی کی حامل نہ ہو لیکن ان لوگوں کے لیے خاص طور پر بڑی اہمیت کی حامل ہے جنھیں اردو میں پڑھتے ہوئے زیادہ آسانی ہوتی ہے۔ دوسرے لوگوں کے لیے اس میں یہ دلچسپی ضرور ہے کہ انھیں کسی ایسی کتاب کے بارے میں علم ہو سکتا ہے جو ابھی ان کی نظر سے نہ گذری ہو۔

کتاب مجلد ہے اور انتہائی عمدہ شائع ہوئی ہے لیکن اگر پروف ریڈنگ پر بھی ذرا اور توجہ دی جاتی تو کہیں کہیں جو بے لطفی پیدا ہوتی ہے وہ نہ ہوتی۔