ڈرامہ’آرٹ‘ رویوّں کی کہانی

drama-art-napa

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنڈرامہ آرٹ کے تین مرکزی کردار، دائیں سے بائیں، ساحر(فواد خان)، سمیر (عدنان جعفر) اور سلمان ( منصور احمد خان)
    • مصنف, انور سِن رائے
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

جب سے ناپا بنی ہے پوری کوشش کر رہی ہے کہ سارے تھیٹر سمیت تمام پرفارمنگ آرٹس کو ہی ایک مستقل اور باعزت حیثیت حاصل ہو جائے بلکہ تماشائیوں کے ذوق کی بھی پرورش ہو۔

یہ کام آسان نہیں ہے کیوں کہ ایک تو یہ خالصتاً غیر روایتی ہے اور پھر اب ایسے لوگ بھی بڑی تعداد میں سرگرم ہیں جو من پسند تصورات اور معنی مسلط کرنے پر تُلے ہیں۔

کراچی آرٹس کونسل میں ناپا کے تحت ڈرامہ ’آرٹ‘ پیش کیا جا رہا ہے۔

یہ ڈرامہ ساحر (فواد خان)، سمیر (عدنان جعفر) اور سلمان (منصور احمد) نامی تین پرانے دوستوں کی کچھ ملاقاتوں پر مشتمل ہے۔ ان میں سمیر جلدی امراض کا ماہر اور خوشحال ہے، ساحر ایک مقامی یونیورسٹی میں اردو پڑھاتا ہے اور سلمان کو تعلیم حاصل کرنے کے باوجود مناسب ملازمت نہیں ملی۔

ازدواجی اعتبار سے تینوں سنگل ہیں۔ سمیر کی بیوی سے علیحدگی ہو چکی ہے۔ ساحر کا عشق جاری ہے اور سلمان اپنے مالک کی نسبتی بیٹی سے شادی کی تیاریوں میں ہے۔

یہ لوگ سمیر کے گھر اکھٹے ہوتے ہیں اور ڈرامے میں پیش کی جانے والی ان کی ہر ملاقات اختلاف اور نا اتفاقی پر ختم ہوتی ہے۔

نیا جھگڑا چار بائی پانچ فٹ ایک پینٹنگ سے پیدا ہوتا ہے جو سمیر نے ڈھائی لاکھ میں خریدی ہے اور جو سفید کینوس پر محض کچھ سفید خراشوں پر مشتمل ہے۔

ساحر اسے پینٹنگ ماننے کے لیے تیار نہیں۔ سمیر اس کی باتوں کو روایت پسندی اور جدید تصورات اور محسوسات سے ناآشنائی کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔

یہ بحث آرٹ میں جدیدیت اور روایت کے مباحث میں آنے والے دلائل کی مضحکہ خیزی پر مشتمل ہے لیکن اس کے دوران بات نکلتی ہے تو ایک دوسرے کے ذاتی مسائل اور حوالوں تک جا پہنچتی ہے۔

یہاں تک کہ سمیر اور ساحر توہین آمیز انداز سے بڑھ کر ایک دوسرے سے ہاتھا پائی پر اتر آتے ہیں اور بیچ بچاؤ کراتے ہوئے سلمان ساحر کے گھونسے کا نشانہ بن جاتا ہے۔

yasmeena raza writter

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنڈرامے کی فرانسیسی مصنفہ، یاسمینہ رضا

انجام یہ ہوتا ہے کہ سمیر خود ہی پینٹنگ کو خراب کرنے کے لیے سلمان کے قلم کی سیاہی اس پہ چھڑکنے لگتا ہے لیکن کوشش کے باوجود ایسا کر نہیں پاتا تو قلم ساحر کو تھما دیتا ہے جو پینٹنگ پر سیاہی چھڑک دیتا ہے۔

لیکن سیاہی چھڑکتے ہی اسے اپنی غلطی کا احساس ہو جاتا ہے اور وہ سمیر کے ساتھ مل کر سیاہی کو صاف کرنے لگتا ہے اور سیاہی صرف پینٹنگ سے ہی صاف نہیں ہوتی ان کے تعلقات میں موجود تلخیوں کو اپنے ساتھ لے جاتی ہے۔

’آرٹ‘ کو فرانسیسی میں اداکارہ، ناول نگار اور سکرین رائٹر یاسمینہ رضا نے لکھا جو اس ڈرامے سے پہلے بھی کئی مقبول ڈرامے لکھ چکی ہیں۔ وہ اپنے والد کی جانب سے ایرانی اور والدہ کی طرف ہنگیرین ہیں اور پیرس ہی کی پیدائش اور پرورش ہیں۔

اس ڈرامے کو جب فرانس میں پہل بار سٹیج کیا گیا تو مسلسل سات سال تک اس کی ہر پرفارمنس پہلے بُک ہوتی تھی۔ جب کہ براڈوے میں اسے چھ سو بار سٹیج کیا گیا۔

یہ ڈرامہ پہلی بار پیرس میں 1994میں، اس کے دو سال بعد لندن میں اور اس کے دو سال بعد براڈوے نیو یارک میں سٹیج کیا گیا۔ ہر جگہ اب تک نہ صرف ڈرامے کو بلکہ اس کے اداکاروں کو بھی کئی اہم ایوارڈز مل چکے ہیں۔

اس ڈرامے کو انگریزی روپ کرسٹوفر ہیمپٹن نے دیا جو خود بھی کئی ڈرامے لکھ چکے ہیں اور جانے پہچانے سکرین رائٹر ہیں۔ اردو شکل اسے ڈرامے کی ڈائریکٹر ثمینہ نذیر نے معاون ڈائریکٹر طارق صدیقی کے ساتھ مل کر دی ہے۔ ثمینہ نے اداکاری میں گریجویشن کی ہے لیکن اب ان کا رخ لکھنے اور ہدایات پر زیادہ ہے۔

اردو میں اسے اتنی عمدگی سے ڈھالا گیا ہے کہ اگر یہ نہ بھی بتایا جائے کہ یہ کسی ڈرامے کی ایڈاپٹیشن ہے تو کسی کو احساس بھی نہیں ہو گا کہ یہ ڈرامہ ایڈاپٹ کیا گیا ہے اور ہمارے ماحول سے ہم آہنگ نہیں ہے۔

یہ ڈرامے کی پرڈکشن اور ہدایات کا کمال ہے۔

اس کے باوجود مجھے اندیشہ ہے کہ یہ ڈرامہ قبول عام حاصل نہیں کر سکے گا کیونکہ یہ ان پہلوؤں کی نشاندہی کرتا ہے جو روزمرہ کی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں رائج رویوں کا حصہ بن چکے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ تمام تماشائیوں کے لیے چیلنج ہے جو کہانی، جنسی جملے بازیوں یا روایتی تجسس کی تلاش میں تھیٹر جاتے ہیں۔

’آرٹ‘ کی پیشکش میں وہی انداز اپنایا گیا ہے جو اس کے اصل ڈرامے کا تھا اس میں تبدیلی لا کر اسے نسبتاً پُر کشش بنایا جا سکتا ہے۔ اداکاری کے حوالے سے عدنان، فواد اور منصور تینوں بھر پور داد کے مستحق ہیں اور تینوں ناپا کے تعلیم اور تربیت یافتہ ہیں۔

یہ ڈرامہ بھی NAPA Repertory Theatre ناپا ریپرٹری تھیٹر کے تحت پیش کیا گیا ہے۔