پروین شاکر: زندگی، شاعری اور عشق

- مصنف, انور سِن رائے
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
نام کتاب: پارہ پارہ (پروین شاکر کی سوانح حیات، فکر و فن اور یادیں)
مصنف: نصرت زہرا
سال اشاعت: 2011
صفحات: دو سو چالیس
قیمت: تین سو روپے، مجلد
ناشر: مسز فہمیدہ امانت علی، ایمان زہرا پبلیکیشنز، کراچی۔
جب بھی کسی شاعر اور ادیب کو ناوقت یا حادثاتی موت میسر آتی ہے تو اس کی شاعری اور زندگی کے بارے میں بات کرنا یوں بھی دشوار ہو جاتا ہے، اس پر ہمارا معاشرہ، جہاں مرنے والے کو نہلا دھلا کر رحمت اللہ علیہ کی کھونٹی پر لٹکانے کی مستحکم روایت موجود ہے (منٹو)، اگر معاملہ شاعرہ کا ہو، جو اردو میں یوں بھی نایاب ہیں، تو مسئلہ کچھ اور بھی ٹیڑھا ہو جاتا ہے۔
اردو کو اب تک ایک مکمل شاعرہ کا انتظار ہے اور یہ معاملہ صرف اردو ہی کا نہیں، لیکن مایوس نہیں ہونا چاہیے یہ صدی عورتوں کی صدی ہے اور اس میں تو یہ مرحلہ سر ہو کر ہی رہے گا۔ خود ہمارے ہاں فہمیدہ ریاض ایک ایسا نام ہیں جن سے کم از کم مجھے بڑی امیدیں ہیں لیکن کیا وہ خود کو وہاں تک لے جا سکیں گی کہ جہاں فیض کا عہد ختم ہو وہاں سے ان کا عہد شروع ہو جائے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شاعر کا نظریاتی ہونا معیوب نہیں لیکن اس کے انسان کو انسان ہونا چاہیے، اس انسان کو نظریاتی خانوں میں بانٹنا سیاسی کارکن کا کام ہے، اسی طرح شاعر اور تخلیق کاروں کا انسان اور اس کا تاریخ وجغرافیہ عمومی تاریخ و جغرافیے سے بلند ہوتے ہیں۔ مسئلہ کچھ ٹیڑھا ہے لیکن خواب دیکھنے میں کیا ہے کہ اس صدی کی لاٹری ہمارے نام کھلے گی۔
جہاں تک پروین شاکر کا تعلق تو ابھی ان کی جواں مرگی کا صدمہ جاری ہے اور یہ صدمہ نصرت زہرہ کی کتاب پر بھی چھایا ہوا ہے۔
اس کتاب پر جتنی باتیں کی جانی چاہیں وہ سب کی سب تو کاشف رضا، رومانہ رومی، خود نصرت زہرہ اور پروین شاکر کی بہن نسرین نے کر ہی دی ہیں۔
کاشف نے کتاب اور نصرت کے بارے میں بڑے کام کی بات کی ہے: ’نصرت زہرہ کی پروین سے عقیدت اور ایک طالب علم جیسی کرید نے راستے آسان کیے لیکن جہاں ایسی شخصیت سے سامنا ہو جس کے متعلق کہانیاں بہت ہوں اور حقائق کم یاب، وہاں مصنفہ کی مشکلات کا صرف اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے‘۔
کیوں؟ اس کی وضاحت خود کاشف ہی نے کر دی ہے کہ وفات کے بعد متعلقین یہ چاہتے ہیں کہ مرنے والے کے بارے میں صرف وہی معلومات سامنے آئیں جن سے اس کی ادبی شہرت (خود ان کی مطلوبہ عزت) متاثر نہ ہو۔ اب آپ خود سوچ لیں کہ جو کچھ اس کتاب میں ہے اس کے لیے نصرت کو کس کس سے گزرنا پڑا ہو گا۔ لیکن نصرت نے اپنی تمام تر ’مجلس بیانی اور لسانی لطف اندوزی‘ کے باوجود سطور اور بین السطور سب تقاضے پورے کرنے کی کوشش کی ہے۔
کاشف نے اسے خاتون کا بیانیہ اور نسائی متن بھی کہا ہے۔ ’خاتون کا بیانیہ‘ میں سے تو کچھ آدھی گواہی کی سی مردانہ شاونسٹک قسم کی کھد بُد سنائی دیتی ہے لیکن نسائی متن کا معاملہ بہت اہم ہے۔ میں تو اس پر ایمان رکھتا ہوں کہ بیان پر بہت دسترس نہ ہونے کے باوجود بھی نسائی ادراک وہاں تک پہنچ جاتا ہے جہاں مردانہ اڑان پر تک نہیں مار سکتی۔ نصرت نے زبان کے بھاری پردوں کا معقول انتظام کیا ہے اور انہیں کرنا بھی تھا لیکن بات بھی کی ہے اور پہنچائی بھی ہے۔

،تصویر کا ذریعہ
ان کے کام کے کچھ اور پہلو رومانہ رومی نے اجاگر کیے ہیں اور بجا کیے ہیں۔ لیکن ڈاکٹر نسرین نے نصرت کے کام کو ایک نئی شہادت فراہم کی ہے ’پروین شاکر کی بڑی بہن ہونے کے ناطے میں حقیقی گواہ ہوں کہ جو کچھ آپ کے سامنے ہے اس میں کسی قسم کی کمی بیشی کی کوئی گنجائش نہیں، امید ہے کہ لوگ ماضی کی تحریروں کے جال سے نکلنے میں کامیاب ہوں گے‘۔
پارہ پارہ، روایتی معنوں میں پروین شاکر کی شاعری اور زندگی کا گہرا اور وسیع تجزیہ نہیں لیکن اس میں بلاشبہ ایسا مواد موجود ہے جو ایسا کام کرنے والوں کے لیے انتہائی مفید ہو گا لیکن جو لوگ پروین شاکر کی شاعری کو پڑھتے ہیں اور ظاہر ہے ان میں جوان اور نوجوان لڑکیاں زیادہ ہیں انہیں اس کتاب کو ان کی شاعری کی کتابوں کے ساتھ ملا کر پڑھنا چاہیے اور غور سے پڑھنا چاہیے کیوں کہ اس میں ان کے لیے بہت کچھ ہے، وہ سب کچھ اور اس کا شعور جو انہیں اس معاشرے میں زندگی گزارنے کے لیے درکار ہوگا جس میں پروین شاکر نے اپنی زندگی کاٹی اور شاعری کی۔
اس کتاب کی سب سے نمایاں کمی یہ ہے کہ نصرت زہرہ نے اس میں خود اپنے بارے میں معلومات فراہم نہیں کیں۔ تصویر ضرور دی ہے جو بنیادی معلومات کا متبادل نہیں ہو سکتی۔
کتاب اچھی چھپی ہے، قیمت بھی غیر متناسب نہیں ہے لیکن جلد بندی کرنے والوں نے توجہ ذرا کم دی ہے۔







