دیبینا بنرجی کی سات سال تک کوشش کرنے کے بعد آئی وی ایف کے ذریعے ماں بننے اور دوبارہ قدرتی حمل کی کہانی

دیبینا بنرجی

،تصویر کا ذریعہINSTAGRAM/DEBINA BONNERJEE

انڈین اداکارہ دیبینا بنرجی گزشتہ 15 سال سے ڈیلی سوپ دیکھنے والے ناظرین کے قریباً ہر گھر میں جانا پہچانا نام ہیں۔ اپنے کیرئیر کے ابتدائی دنوں میں وہ چھوٹے پردے کی ’سیتا‘ بن کر سرخیوں میں آئیں، اسی سیریل میں انھوں نے گرومیت چودھری سے شادی کی، جو سال 2011 میں ’رام‘ بنے۔

رواں سال اپریل میں وہ پہلی بار ماں بنیں، ان کی بیٹی کا نام لیانا ہے۔ دیبینا اب دوسری بار ماں بننے والی ہیں، اس سے پہلے وہ طویل انتظار کے بعد ماں بن سکیں۔

اب جب کہ وہ چند ماہ بعد ہی دوسری بار ماں بننے والی ہیں، بہت سے لوگ اس پر حیرت کا اظہار بھی کر رہے ہیں اور بعض اوقات دیبینا بنرجی کو بغیر پوچھے مشورہ بھی مل جاتا ہے۔

لوگ نہیں جانتے کہ اتنی جلدی دوسرے بچے سے پہلے ان کی 10 سال کی طویل کہانی ہے جس میں ماں نہ بن پانے کا تکلیف دہ سفر شامل ہے۔

دیبینا کی ’زچگی‘ کی کہانی بہت سی خواتین کے لیے ایک تحریک ہے۔ شادی کے تقریباً ایک دہائی کے بعد ماں بننے سے پہلے دیبینا کو معاشرے، خاندان اور دوستوں سمیت کئی لوگوں کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

صحت کی وجہ سے بھی انھیں کئی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اب جب کہ وہ ایک بچی کی ماں ہیں اور دوسری بار ماں بننے جا رہی ہیں تو انھوں نے اپنا تجربات کھل کر بیان کیے ہیں۔

بی بی سی ہندی کے لیے نین دیپ رکشٹ نے ان سے خصوصی بات چیت کی۔

دیبینا ٹرولنگ کو کیسے دیکھتی ہے؟

دیبینا بنرجی کو بھی اکثر سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ سوشل میڈیا پر کافی متحرک ہیں۔

ڈیبینا کہتی ہیں کہ ’لوگوں کی ججمنٹ تو لیانا کے پیدا ہوتے ہی شروع ہو گئی تھی۔ میں نے لیانا کو گود میں لے کر ویڈیو بنائی تو لوگوں نے کہا کہ تم نہیں جانتے کہ بچے کو کیسے پکڑنا ہے۔ میں ایک ماں ہوں، کیا میں اپنے بچے کو پکڑ نہیں پاؤں گی؟‘

دیبینا کو یہ بھی سننا پڑا ہے کہ بچے کی پیدائش کے بعد اگر اتنے کم وقت میں دوسرا بچہ پیدا ہوا تو وہ ان دونوں کی دیکھ بھال کیسے کر پائے گی۔

اس کے جواب میں وہ کہتی ہیں کہ ’لیانا کو کم پیار ملے گا، ایسا کیوں ہو گا؟ جن کے جڑواں بچے ہیں، کیا وہ کسی کو کم پیار دیتے ہیں؟ ایک ماں کے لیے دو بچے کبھی مختلف نہیں ہوتے۔‘

’ماں بننے کا فیصلہ بہت خاص ہے‘

دیبینا کہتی ہیں کہ ’بچپن سے ہی یہ سکھایا جاتا ہے کہ یہ کام نہ کریں لیکن یہ کبھی نہیں بتایا جاتا کہ اگر کچھ کام وقت پر نہ کیے جائیں تو کیا ہو سکتا ہے۔ ‘

کریئر بنانے کے لیے کولکتہ سے ممبئی آنے والی دیبینا کہتی ہیں کہ جب وہ ممبئی آئیں تو ان کی پہلی ترجیح کیرئیر تھی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’جب آپ کیرئیر کے راستے میں کوئی فرق پڑتا ہے، تو آپ کو سوچنا پڑتا ہے کہ دوبارہ کہاں سے آغاز کرنا ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ کیا ہم اس رفتار سے دوبارہ کام کر پائیں گے جس رفتار سے ہم آج کام کر رہے ہیں (ماں بننے سے پہلے)۔ میری نسل اس سوچ سے کسی حد تک چھٹکارا پا چکی ہے۔ پہلے یہ سوچا جاتا تھا کہ اگر آپ نے شادی کر لی تو آپ کا کیرئیر ختم ہو جائے گا۔‘

ماں بننے کے فیصلے کے بارے میں وہ کہتی ہیں کہ ’جب میں نے سوچا کہ ہمیں ایک خاندان شروع کرنا ہے تو شروع میں میں نے کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکا، پھر میں نے سوچا کہ مجھے ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے۔ ڈاکٹر کے پاس جانے کے بعد، مجھے احساس ہوا کہ میں اپنے جسم کے بارے میں کتنا کم جانتی ہوں۔‘

دیبینا بنرجی

،تصویر کا ذریعہINSTAGRAM/DEBINA BONNERJEE

’ہم اپنے جسم کے بارے میں کتنا کم جانتے ہیں‘

دیبینا کہتی ہیں کہ ماں بننے میں ابتدائی مشکلات کے بعد جب انھوں نے ڈاکٹر سے مشورہ کیا تو انھیں معلوم ہوا کہ انھیں بہت سے مسائل، مسائل ہیں جن کے بارے میں انھیں معلوم بھی نہیں تھا۔ دیبینا کا کہنا ہے کہ وہ خود کو جسمانی اور ذہنی طور پر مضبوط سمجھتی تھی اور اس کے بعد بھی جب مسائل سامنے آئے تو وہ سوچنے پر مجبور ہوگئیں۔

دیبینا کہتی ہیں ’پہلے میں سوچتی تھی کہ میں بہت طاقتور ہوں، میں ذہنی طور پر بہت مضبوط ہوں، میں اچھا کھاتی ہوں، پھر بھی مجھے اتنی پریشانیاں کیوں ہیں؟ میں نے بہت سی چیزوں کا نام بھی نہیں سنا تھا جیسے endometriosis، adenomyosis. یہ ایسی حالت ہے جس کا کوئی علاج نہیں اور اس کے ساتھ رہنا پڑتا ہے۔‘

دیبینا کا خیال ہے کہ بہت سی خواتین اب بھی اپنے جسم کو اچھی طرح سے نہیں جان سکیں۔ ایک مثال دیتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ’پیریڈ کا درد آدھے سے زیادہ لوگوں کو نارمل لگتا ہے، مجھے شروع میں درد محسوس نہیں ہوتا تھا، یہ بعد میں ہونے لگا۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ شاید یہ درد endometriosis، adenomyosis جیسے مسائل کی وجہ سے شروع ہوا ہے۔‘

آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ ماہواری کے دوران معمولی درد کا ہونا عام بات ہے لیکن ضرورت سے زیادہ درد ہونا معمول کی بات نہیں۔ پھر یہ ایک قسم کی بیماری ہے جسے Endometriosis کہتے ہیں۔

درحقیقت ماہواری سے پہلے بچہ دانی کے قریب خون جمع ہو جاتا ہے جو زرخیزی کے دوران سپرم نہ ہونے کی صورت میں جسم سے باہر نکل جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ خون کے ٹشوز رحم کے ساتھ ساتھ فیلوپین ٹیوبوں، آنتوں، رحم وغیرہ میں جمع ہو جاتے ہیں۔ بعض کیسز میں، وہ پھیپھڑوں، آنکھوں، دماغ اور یہاں تک کہ ریڑھ کی ہڈی میں پائے گئے ہیں۔ تلی جسم کا واحد حصہ ہے جہاں آج تک خون کے یہ ٹشوز نہیں ملے۔

Endometriosis کی علامتوں میں ماہواری کے دوران بہت زیادہ خون بہنا، ماہواری کے آغاز سے پہلے کمزوری اور تھکاوٹ، ریڑھ کی ہڈی کے نچلے حصے اور کولہے کی ہڈی میں درد ہے۔

حمل کے لیے بار بار کوشش اور اس کا اثر

دیبینا اور گرمیت نے تقریباً 7 سال پہلے خاندان کے بارے میں سوچا تھا۔ وہ چھ سال پہلے ڈاکٹر کے پاس گئی تھی۔ دیبینا کہتی ہیں کہ 6 سال کے اس طویل عرصے میں اس نے کم از کم چارس ے پانچ آئی یو آئی سائیکل آزمائے اور 3 بار آئی وی ایف اور پھر چوتھی بار وہ کامیاب رہیں۔

ڈیبینا کہتی ہیں ’ایک اور اہم چیز خاندان، دوستوں، مداحوں اور ٹرولز کا دباؤ ہے۔ جب سب کچھ مل جاتا ہے تو تناؤ ہوتا ہے۔ اسی لیے ملک و بیرون ملک حمل کے بہت سے طریقے شروع ہو چکے ہیں، میں نے کئی طریقوں سے کوشش کی۔‘

دیبینا کا خیال ہے کہ اتنی کوششوں کے بعد بھی اگر ماں بننے میں کامیابی نہیں ملتی تو اس کا دماغی صحت پر بھی اثر پڑتا ہے۔

دیبینا کا خیال ہے کہ ایسی صورتحال میں خاندان اور ساتھی کا تعاون سب سے اہم ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ انھیں ماں بننے میں جو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، وہ شروع میں صرف اپنے شوہر اور والدہ کے ساتھ شیئر کیں۔

یہ بھی پڑھیے

دیبینا بنرجی

،تصویر کا ذریعہINSTAGRAM/DEBINA BONNERJEE

دیبینا کہتی ہیں ’گرمیت خود بھی مصروف رہتے تھے اور کہتے تھے، تم اتنا بھی مت سوچو۔ یہ احساس جو آپ کا ساتھی دیتا ہے بہت اہم ہے۔ لیکن اتنا سہارا بننے کے بعد بھی میں ماں اور گرمیت کے سامنے رویا کرتی تھی لیکن میں لوگوں کے سامنے کبھی ظاہر نہیں کرتی تھی۔‘

زچگی کا احساس

دیبینا کے لیے ماں بننا ایک بہت ہی منفرد احساس ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جب انھیں معلوم ہوا کہ وہ حاملہ ہیں تو انھیں یقین نہیں آیا۔

ڈیبینا کہتی ہیں ’ایسا لگتا تھا کہ خدا مجھے پہلے ہی اشارہ دے رہا ہے۔ لیکن ہم دونوں نے جشن منانے میں تحمل رکھا، کیونکہ ہم پہلے بھی کئی بار ناکام ہو چکے تھے، اس لیے ہم سارے مرحلے دیکھنا چاہتے تھے۔ عموماً حمل کا پتہ لگتے ہی جشن شروع ہو جاتا ہے لیکن ہمارے لیے ایسا نہیں ہوا۔ ہم خوش تھے لیکن ہمیں کچھ وقت دینا تھا۔ تقریباً 3-4 ماہ کے بعد جب ہمیں مکمل یقین ہو گیا تو ہم مطمئن ہو گئے۔‘