جنوبی کوریا وہ ملک جہاں بچوں کی پیدائش کی شرح دنیا میں سب سے کم

جنوبی کوریا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجنوبی کوریا میں دنیا میں کم ترین شرح پیدائش پریشانی کا باعث بن چکی ہے
    • مصنف, فرانکو ماؤ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

جنوبی کوریا میں ایک مرتبہ پھر عالمی سطح پر پیدائش کی شرح سب سے نچلی سطح پر یکارڈ ہوئی ہے۔ جنوبی کوریا میں پہلی بار فی عورت ایک بچہ سے کم شرح 2018 میں ریکارڈ کی گئی تھی۔

لیکن حکومت کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعدادوشمار کے مطابق یہ شرح مزید نیچے گر کر 0.81 بچہ فی خاتون جا پہنچی ہے۔ یعنی گزشتہ برس کے اعدادوشمار سے اعشاریہ تین نکات مزید نیچے۔

جنوبی کوریا میں شرح پیدائش میں یہ مسلسل چھٹی گراوٹ ہے۔ دنیا کی ترقی پذیر معیشتوں میں شرح پیدائش اوسطاً 1.6 بچے فی خاتون ہے۔

بچوں کی شرح پیدائش

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اگر ہجرت کے امکانات کو نکال دیا جائے تو کسی بھی ملک کی آبادی کسی ایک سطح پر برقرار رکھنے کے لیے 2 0 .1 بچے فی خاتون کی ضرورت ہوتی ہے۔

آرگنائزیشن فار اکانومک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ کے مطابق گذشتہ چھ دہائیوں میں شرح پیدائش میں شدید گراوٹ سامنے آئی ہے۔

جنوبی کوریا میں شرح پیدائش میں کمی چند نسلوں سے ہوئی اور خاندانوں کے سائز سکڑتے چلے جا رہے ہیں۔ جنوبی کوریا میں 1970 کی دہائی کے آغاز تک اوسطاً ہر خاتون کے چار بچے ہوا کرتے تھے۔

کسی ملک کی کم ہوتی آبادی اس پر شدید دباؤ اور اس کے مستقبل پر بڑا سوال کھڑا کر سکتی ہے۔

جیسے جیسے عمر رسیدہ آبادی کی طبی ضروریات اور پینشن کی ضروریات میں اضافہ ہوتا جاتا ہے عوام پر مہنگائی کا بوجھ بڑھتا جاتا ہے۔

ملک کی کم ہوتی نوجوان آبادی کے سبب لیبر مارکیٹ متاثر ہوتی ہے، ضرورت کے باوجود نوکریوں کو پر کرنے والے لوگوں کی قلت محسوس کی جانے لگتی ہے جس کا ملک کی معیشت پر اثر پڑتا ہے۔

سنہ 2020 سے ملک میں اس بارے میں خاصی فکر پائی جاتی ہے۔ رواں برس پیدائش کی شرح پہلی بار ملک میں ہونے والی اموات سے کم تھی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ملک میں پیدائش کی شرح میں ہونے والی کمی کے پیچھے حالیہ برسوں میں بڑھنے والا معاشی دباؤ اور کریئر پر عوام کی مزید توجہ بھی ہے۔

ماہرین کے مطابق ملک میں زندگی کی بنیادی ضروریات کے اخراجات بڑھ گئے ہیں، گھروں کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ کووڈ کی وبا کے سبب بھی بہت سے نوجوان جوڑوں نے بچے پیدا کرنے کے منصوبے کو مؤخر کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو آہستہ آہستہ بڑا ہوتا جا رہا ہے۔ اگر جنوبی کوریا کی آبادی مزید گھٹتی چلی جاتی ہے، تو وہاں معیشت کو چلانے کے لیے لوگ نہیں بچیں گے۔ اس کے علاوہ ملک کی بوڑھی آبادی کا خیال کون رکھے گا یا فوج میں کون بھرتی ہو گا؟

یہ مسئلہ سیاست دانوں کو بھی ایک عرصے سے پریشان کر رہا ہے لیکن وہ اس کا حل تلاش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انھوں نے لوگوں کو بچے پیدا کرنے کے لیے راضی کرنے کی تمام کوششوں پر ہزاروں خرچ کیے، لیکن بات نہیں بنی۔

اس مسئلے کی سب سے بڑی جڑ معاشی وجوہات ہیں۔ جنوبی کوریا میں بچے پالنا بہت مہنگا ہے اور متعدد نوجوانوں کی زندگی کے اہم فیصلے گھر خریدنے کی کوشش میں متاثر ہو رہے ہیں۔

بچوں کی شرح پیدائش

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس کی ایک اور بڑی وجہ خواتین کے لیے برابری کے مواقعوں کی کمی ہے۔ جنوبی کوریا کی خواتین تعلیم یافتہ تو ہیں لیکن کام کے مقامات پر انھیں اکثر برابری کے مواقع نہیں ملتے۔ ملک میں عورتوں اور مردوں کی تنخواہوں میں فرق دنیا کے کسی بھی دولت مند ملک سے زیادہ ہے۔

گھروں کے کام کے علاوہ بچوں کی پرورش کے بھی زیادہ تر کام خواتین کے حصے میں ہی آتے ہیں۔ ایسے میں بچے ہو جانے کے بعد خواتین کو مجبوراً کام چھوڑنا پڑتا ہے یا ان کے کریئر کو شدید دھچکہ لگتا ہے۔

آج بھی وہاں خواتین کو کریئر اور بچوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ اور آہستہ آہستہ ایسی خواتین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو بچوں کی خاطر کریئر کی قربانی دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ایک خاتون نے اسے کچھ اس انداز میں بیان کیا ’ہم بچے پیدا کرنے کی ہڑتال پر ہیں۔‘