آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’تیری راہ میں‘: ‘ایمان کے کردار کو اگر ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ ہو گا برداشت‘
'یہ توقع تھی کہ ڈرامہ مقبول ہو گا مگر اتنا مقبول ہو گا یہ توقع نہیں تھی۔‘
یہ کہنا ہے حال ہی میں نشر ہونے والے ڈرامے ’تیری راہ‘ کے اداکار اسامہ خان اور اداکارہ زنیب بشیر کا۔ اسامہ نے ڈرامے کی مقبولیت کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جب ہم کوئی ڈرامہ ساتھ کر رہے ہوتے ہیں تو میں زنیب سے پوچھتا ہوں کہ کیا اس کی ریٹنگ آئے گی، کیونکہ لڑکیوں کو زیادہ پتا ہوتا ہے کہ لڑکیاں کیا دیکھیں گی۔ اگر وہ ہاں کہہ دے تو میں کہتا ہوں پھر ٹھیک ہے۔‘
ڈرامے کی مقبولیت، اس کے کرداروں پر ہونے والی تنقید کے متعلق اسامہ اور زنیب سے صحافی براق شبیر نے خصوصی انٹرویو کیا ہے۔ اس ڈرامے کی اداکارہ زینب کہتی ہیں کہ جب انھوں نے اس ڈرامے کا سکرپٹ پڑھا تو انھیں لگا کہ یہ ڈرامہ کامیاب رہے گا۔
وہ بتاتی ہیں کہ ’میں نے ابتدا میں پُراعتماد انداز میں کہہ تو دیا مگر آخر میں ایسا ہی ہوا۔‘
اسامہ خان ڈرامے میں اپنے کردار فخر کے متعلق بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس پراجیکٹ کو کرتے وقت میں کچھ تذبذب کا شکار تھا کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ فخر کے کردار میں پرفارم کرنے کا زیادہ مارجن نہیں ہے۔ میرا ماننا ہے کہ کردار چاہے مرکزی نہ ہو مگر ایسا ہو جس میں کوئی غصہ، رومانس ہو یا کچھ دکھانے کا مارجن تو ہو۔‘
تو پھر اس ڈرامے کو کرنے کی کیا وجہ تھی، اس سوال کے جواب میں اسامہ کا کہنا ہے کہ ’مجھے کہانی اچھی لگی تھی۔۔۔ اور ڈرامے کی ٹیم بھی اچھی لگی‘ جبکہ زینب کہتی ہیں کہ ’مجھے اس کہانی میں کردار اچھے لگے تھے۔‘
وہ بتاتی ہیں کہ اس کہانی میں شیزل اور شیروز کے منفی کردار ہیں۔ اور ان کے منفی کردار کے ہونے کے کوئی وجہ بتائی گئی ہے ورنہ بہت سے ڈراموں کی کہانیوں میں منفی کردار ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ڈرامے کے سکرپٹ میں بہت کچھ ہو رہا تھا، روزانہ کچھ نہ کچھ دیکھنے کو مل رہا تھا۔‘
اسامہ نے بتایا کہ اس ڈرامے کو بنانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی گئی۔ ڈائریکٹر سمیت ٹیم نے بہت محنت کی اور معمولی سے معمولی چیز کو بھی شوٹ کے دوران ملحوظ خاطر رکھا گیا۔ انھوں نے ایسا ہی ایک واقعہ بتایا کہ ایک سین کو جلد عکس بند کرنا تھا تو انھوں نے ہدایتکار خرم والٹر سے کہا کہ جینز پہنے ہوئے ہی یہ سین کر لیتے ہیں مگر انھیں کہا گیا کہ یہ کردار جینز والا نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسامہ اور زینب کہتے ہیں کہ اس پراجیکٹ کو مکمل کرنے میں کافی وقت لگا جس کی وجہ سے کاسٹ کی آپس میں دوستی ہو گئی تھی۔ اور یہی ’کیمسٹری‘ سکرین پر نظر آ رہی تھی۔
یہ ڈرامہ روزانہ نشر کیا گیا اور گذشتہ برس اگست سے اس ڈرامے کی شوٹنگ شروع ہوئی تھی تو اس دوران پیش آنے والی مشکلات پر بات کرتے ہوئے اسامہ بتاتے ہیں کہ ’ہمیں بتایا گیا تھا کہ یہ ڈرامہ نومبر میں آن ائیر ہو گا مگر اس کے دو ماہ بعد تک ایسا نہ ہو سکا جبکہ شوٹنگ اگست میں شروع ہو گئی تھی۔‘
اس ڈرامے کے مکمل ہونے میں کچھ رکاوٹیں اور تاخیر ہوئی کیونکہ دیگر کاسٹ کی ڈیٹس اور وقت کا خیال بھی رکھا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اگر اس دوران میں کوئی اور ڈرامہ ساتھ کر رہا تھا تو ایسا بھی ہوا کہ میں اس کے سیٹ پر دو گھنٹے کام کر کے دوسرے ڈرامے پر تین گھنٹے کرتا اور پھر واپس آ کر اس سیٹ پر شوٹ کرواتا۔ ہم نے رات کے بارہ بجے تک شوٹ کیا۔‘
اسامہ کہتے ہیں کہ اداکار بھی مزدور کی زندگی جیتے ہیں۔ ’صبح جم جاؤ، پھر شوٹ کرو، وہیں پر آپ کو سکرپٹ ملتا ہے، رات کو بارہ بارہ بجے تک بنا چائے کے وقفے کے کام کرو۔‘
کیا دیگر کاسٹ کی ڈیٹس کی وجہ سے کوئی مسائل پیدا ہوئے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے دونوں اداکاروں کا کہنا ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کیونکہ پروڈکشن ٹیم نے سب کے ساتھ مل کر کام کیا۔
’ایمان جیسی بہو ہر ساس چاہتی ہے‘
اس ڈرامے میں بہو کا کردار ایمان کافی مثبت انداز میں دکھایا گیا ہے۔ اسامہ کہتے ہیں کہ ’میں ہر سین سے پہلے پوچھتا تھا کہ زینب کیا ایسی لڑکیاں ہوتی ہیں؟ ایک دن میں نے اپنی کام والی سے پوچھا کہ کیا ایسی لڑکیاں ہوتی ہیں تو وہ کہنے لگی بھائی میں ہوں!‘
اس کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے اداکارہ زنیب کہتی ہیں کہ مجھے یہ کردار کر کے اچھا لگا، اتنا برداشت شاید کسی میں نہیں ہوتا مگر بہرحال ہونا چاہیے۔ ایمان کے کردار کو اگر ایک لفظ میں بند کیا جائے تو وہ ہو گا ’برداشت۔'
زینب کا کردار کے متعلق کہنا تھا کہ ’ایمان کے کردار میں اتنی برداشت اور صبر دکھایا گیا کہ اس جیسی بہو ہر ساس چاہتی ہے۔‘
ایمان کے کردار کی ڈرامہ بینوں میں مقبولیت پر بات کرتے ہوئے اسامہ بتاتے ہیں کہ ’لوگ مجھے پیغامات بھیجتے تھے کہ بھائی نہ کرو اس کے ساتھ بُرا!‘
زینب بتاتی ہیں کہ انھیں اس کردار کے حوالے سے ہر طرح کا ردعمل ملا۔ 'کچھ لوگوں نے غصہ کیا کہ ہر وقت روتی رہتی ہے۔ کچھ لوگوں نے پیار، کچھ نے ہمدردی کا اظہار کیا۔‘
فخر کے کردار کے متعلق بات کرتے ہوئے زنیب کا کہنا تھا کہ اس کردار کو بہتر بنانے میں اسامہ کے ساتھ ساتھ ڈرامے کے ہدایت کار کی بھی محنت شامل ہے۔ یہ کردار نہ زیادہ چیختا چلاتا ہے، نہ ہی زیادہ خاموش ہے۔‘
اسامہ کہتے ہیں کہ اس کردار کے لیے ہم نے شروع میں ہی طے کر لیا تھا کہ اس کردار کو ہم نے عملی اور حقیقت کے قریب رکھنا ہے جو بے جا غصہ نہ کرے اور سکرین پر روئے دھوئے بھی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شروع میں جب میں نے سکرپٹ پڑھا تو مجھے لگا اس کردار میں میں کیا کروں گا۔ لیکن آن سکرین دیکھ کر یہ کردار ٹھیک لگا۔
یہ بھی پڑھیے
تیری راہ کی شوٹنگ روزانہ کی بنیاد پر ہوتی تھی ایسے میں سیٹ پر کیا کیا مشکلات رہیں؟ اس سوال کے جواب میں اسامہ کہتے ہیں کہ کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ سین کی ضرورت کے مطابق کسی مخصوص رنگ کی شرٹ پہننی ہے لیکن وہ گم ہو گئی یا گھر رہ گئی۔
زنیب بھی اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ شوٹ کے دوران ان کا ایک ڈریس گم ہو گیا اور وہ سین کی ضرورت تھی۔ ایسے میں پروڈکشن اور ہدایتکار بازار سے ویسے کپڑے ڈھونڈنے کی کوشش کرتے رہے۔
زنیب کہتی ہیں کہ اس ڈرامے کے کپڑوں پر کافی توجہ دی اور لوگوں نے اس حوالے سے انسٹاگرام پر بہت خواتین کے پیغامات آئے کہ یہ کہاں سے تیار کروایا، یہ کس ڈیزائنر کا ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ بہت سے ڈیزائنرز نے مجھے بتایا کہ آپ کا ڈرامہ دیکھ کر ان کے کپڑوں کے سیل بڑھ گئی ہے۔
’اب ناظرین سوپ اور سیریل سب کچھ دیکھ رہے ہیں‘
اسامہ اور زنیب رات نو بجے یا شام سات بجے دکھائے جانے والے ڈراموں میں ہی زیادہ کیوں دکھائی دیتے ہیں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے زنیب کہتی ہیں کہ ڈرامہ ’سانوری‘ سے لے کر ’تیری راہ میں‘ تک بہت پزیرائی ملی ہے اور روزانہ نشر کیے جانے والے ڈراموں سے آپ کی اچھی پہچان بنتی ہے۔ لوگ آپ کو جاننے لگتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اب لوگوں میں اس وقت پر دکھائے جانے والے ڈراموں کو بہت سے ناظرین دیکھتے ہیں۔ اسامہ کہتے ہیں کہ آٹھ بجے کا ڈرامہ ایک پرائم ٹائم سمجھا جاتا ہے لیکن اب سات اور نو بجے کے ڈرامے کی ویورشپ بہت زیادہ ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اب آٹھ بجے بنانے والے ہدایتکار بھی سات بجے یا نو بجے والے ڈرامے بنا رہے ہیں۔ زنیب کہتی ہیں کہ سوپ ڈرامے اور سیریل ڈرامے میں فرق ختم ہو گیا ہے اور ناظرین اب سب دیکھ رہے ہیں۔