آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ڈرامہ سیریز ’حقیقت‘ کا نیا کھیل ’جڑواں‘: سہاگ رات پر فضّہ کے کمرے میں شزّا، وجہ ارینج میرج یا ’پھپھو کی سازش‘
ڈرامے بنانے والے ہدایتکاروں کا تو اکثر یہی دعویٰ ہوتا ہے کہ یہ معاشرتی مسائل کے عکاس اور حقیقت سے قریب ہیں لیکن ٹوئٹر پر گردش کرنے والے ’حقیقت‘ ڈرامے کے کلپ نے بہت سے سوشل میڈیا صارفین کو یہ پوچھنے پر مجبور کر دیا کہ آخر یہ کون سی دنیا کی حقیقت ہے؟
اس کلپ میں ایک دلہن کو سہاگ رات پر اپنے دولہا سے منھ دکھائی کا تحفہ قبول کرتے دکھا جا سکتا ہے۔ دلہن کی تعریف کرتے کرتے جب دولہا دلہن کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ’ایک بات بتاؤ فضّہ۔۔۔‘ بس ابھی دولہے کا یہ کہنا ہی تھا کہ دلہن نے جھٹک کر اپنا ہاتھ چھڑوا لیا اور جواب دیا کہ ’میں فضّہ نہیں بلکہ شزّا ہوں۔۔۔‘
اب اس کلپ کو دیکھنے والے یہ سوال کر رہے ہیں کہ بے شک جڑواں بہنیں شزّا اور فضّہ کی ایک گھر میں شادی ہوئی لیکن ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ دولہا دلہن سمیت گھر والوں میں سے کسی کو پتا نہیں چلا کہ دلہن تبدیل ہو گئی۔ کسی نے میم بنائی تو کسی نے اس پر مزاح سے بھرپور تبصرے کیے۔
ایک صارف نے پوچھا کہ ’کیا دولہا کو فضّہ کے نام کے علاوہ کچھ نہیں پتا تھا؟ کیا وہ اس کی شخصیت کے کسی پہلو سے بھی آگاہ نہیں تھا؟‘
اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صارف نے لکھا کہ یہی وجہ ہے کہ ’آپ کو جڑواں لڑکیوں کا رشتہ ایک گھر میں نہیں کروانا چاہیے، ورنہ بھائی سب فضّہ شزّا ہو جائے گا۔‘
ایک اور صارف نے پاکستان میں ارینج میریج پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’اگر ارینج میرج ہو گی تو پھر ایسا ہی ہو گا۔‘
ایک صارف کا کہنا تھا کہ جب ترکی کے ڈرامے پاکستان میں چلے تو کچھ پاکستانی اداکار ان پر پابندی لگوانے کے لیے عدالت چلے گئے کہ پاکستانی ڈراموں کو فروغ دیا جائے۔ کیا یہ ہے وہ مقامی مواد؟
ایک صارف نے کہا کہ ’کہا جاتا ہے کہ پاکستانی ڈرامے معاشرتی مسائل پر مبنی ہوتے ہیں اور (یہ ہیں ڈراموں میں دیکھائے جانے والے) وہ معاشرتی مسائل۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک صارف نے میم پوسٹ کیا کہ ’جب شزّا اور فضّہ ایک کرکٹ فیلڈ پر ہوں تو ایسا ہو گا۔‘
اس ڈرامے کی کہانی آخر ہے کیا اور لوگوں کے ان سوالات اور پریشانیوں کو دور کرنے کے لیے بی بی سی نے اس ڈرامے کی اداکارہ کرن تعبیر سے بات کی۔
تو کرن کے مطابق کہانی کچھ یوں ہے کہ دو جڑواں بہنوں شزا اور فضا کی شادی ان کے ماں باپ دو بھائیوں سے طے کی۔ اب کیونکہ یہ ارینج میرج تھی تو لڑکے کے ماں باپ نے بڑے فخر سے دعویٰ کیا کہ ان کے بیٹے ان کے فیصلے کو بغیر کسی سوال اور مطالبے کے مان لیں گے لہٰذا انھوں نے لڑکیوں کے تصویر نہیں مانگی۔
کرن کے مطابق جب لڑکے کے گھر والوں نے تصویر نہیں مانگی تو مروت میں لڑکیوں کے والدین نے بھی تصویر کا تقاضہ نہیں کیا لیکن معاملہ یہاں ختم نہیں ہوتا، اس کہانی میں بھی ایک پھپھو کی سازش نکلی۔
لڑکوں کی پھپھو جو اپنی بیٹی کی شادی ان میں سے ایک بھتیجے کے ساتھ کرنا چاہتی تھی نے سوچی سمجھی سازش کے تحت ان لڑکیوں کے کمرے تبدیل کر دیے اور اس طرح فضّہ شزّا کے شوہر کے پاس چلی گئی اور شزّا فضّہ کے شوہر کے پاس۔
کرن کا کہنا ہے کہ ’لوگوں کو چاہیے کہ وہ ایک چھوٹے کلپ کی بنیاد پر ڈرامے کی مکمل کہانی کو پرکھا نہ کریں بلکہ ڈرامہ کیسا ہے اس کا فیصلہ پورا ڈرامہ دیکھنے کے بعد ہی کریں۔‘
کرن کا کہنا تھا کہ انھیں سمجھ نہیں آ رہی کہ اس کلپ میں بھلا ایسا کیا ہے جو یہ اس وقت ٹوئٹر پر اس قدر زیر بحث ہے۔ اس کے ساتھ کرن نے دلہن کے تبدیلی کا سارا ماجرا بھی سنا دیا۔
یہ بھی پڑھیے
خیال رہے کہ یہ کلپ ڈرامے کی پرانی قسط سے لیا گیا ہے اور حالیہ قسطوں میں اس ڈرامے کی کہانی خاصی آگے بڑھ چکی ہے اور اب فضہ اور شزا کو درپیش اس مسئلہ کا حل بھی مفتی صاحب سے پوچھ لیا گیا ہے۔
ڈرامے میں دونوں بہنوں کے درمیان اس بارے میں گفتگو کے ایک سین سے پتا چلتا ہے کہ اس کا حل دراصل یہ ہے کہ دونوں بھائی دونوں بہنوں کو طلاق دیں گے اور پھر عدت پوری ہونے کے بعد ان کی شادی ان ہی لڑکوں سے کر دی جائے گی جن سے ہونا طے پائی تھی۔
اس ڈرامے میں مزید کیا ہے؟
ڈرامہ سیریز ’حقیقت‘ کے نئے کھیل ’جڑواں‘ کی کہانی دو جڑواں بہنوں فضا اور شزا کے گرد گھومتی ہے، جو زندگی میں ہم شکل ہونے کا جہاں بہت فائدہ اٹھاتی ہیں وہیں اس بنیاد پر انھیں ہونے والے نقصانات کی بھی ایک طویل فہرست ہے۔
والدین کے گھر میں شزا اور فضہ کا فرق ان کی والدہ کو بھی یاد نہیں رہتا کہ آخر کچن میں سالن بنانے میں کس نے مدد کی تھی اور اب روٹیاں بنانے کی ذمہ داری کس کی ہے۔
اس سے بھی بڑھ کر دونوں بہنیں ایک دوسرے کی جگہ امتحان دینے بھی چلی جاتی تھیں، جس پر ان کی والدہ ان کے والد کے سامنے کہتی ہیں کہ یہ بہنیں جڑواں ہونے کا بہت فائدہ اٹھاتی ہیں۔