آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بارہواں کھلاڑی: 'ہمیں لگتا تھا کہ ہم بوڑھے اور ماہرہ خان زیادہ جوان ہیں‘
'جب میں نے سکرپٹ میں پہلی گالی پڑھی تو میں نے ماہرہ کو کال کی اور کہا کہ کیا یہ واقعی ہو رہا ہے، انھوں نے کہا ہاں، تو میں نے کہا ٹھیک ہے میں یہ کردار کروں گا۔'
گلوکار علی ظفر کے بھائی دانیال ظفر کا یہ جملہ ’بارہواں کھلاڑی‘ کے بارے میں ہے جو کرکٹ سے جنون کی حد تک لگاوٴ رکھنے والے نوجوانوں کی کہانی ہے جو ’مقابلہ کرنے کا شوق رکھتے ہیں۔‘
بارہواں کھلاڑی ایک ویب سیریز ہے جو جلد ہی آن لائن پلیٹ فارم پر دیکھی جا سکے گی۔ ماہرہ خان کا بطور پروڈیوسر یہ پہلا پراجیکٹ ہے تاہم اس سیریز کے لیے چنے گئے کردار نوجوان ہیں اور انھیں اداکاری کا کچھ خاص تجربہ بھی نہیں ہے۔
صحافی براق شبیر نے اس ویب سیریز میں اداکاری کرنے والے دانیال ظفر، شاہویر جعفر اور خاقان شاہنواز سے بی بی سی کے لیے انٹرویو کیا ہے۔ دانیال ایک گلوکار ہیں جبکہ خاقان اور شاہویر دونوں ہی ولاگر ہیں۔
ان سب کی اس شو کے لیے چنے جانے کی کہانیاں بھی خاصی دلچسپ ہیں۔
ماہرہ خان میرا 'سیلیبرٹی کرش' تھیں
خاقان شاہنواز، اداکاری کرنا چاہتے تھے، لیکن ان کو اس سیریز کے بارے میں ان کی ایک دوست کے واٹس ایپ پیغام سے پتا چلا۔
وہ کہتے ہیں کہ 'میں تو صرف ایک ولاگر تھا اور اس وقت اتنا مقبول بھی نہیں تھا جب ایک سال پہلے اس سیریز کے لیے فلمنگ کی گئی۔ جب میں نے آڈیشن دیا تو مجھے دوبارہ ایک بہتر اور اہم کردار کے لیے بلایا گیا۔
جب مجھے کال آئی کہ آپ کو ہم اتنے پیسے دیں گے اس کردار کے لیے ہم نے آپ کو چن لیا ہے، تو میں نے دل میں سوچا نہیں چاہییں پیسے، میں بس اداکاری کرنا چاہتا ہوں۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر شاہویر کے لیے ماہرہ خان ایک 'سیلیبرٹی کرش' کا درجہ رکھتی ہیں اور انھیں کئی سالوں سے پسند تھیں۔ اس بات پر ان کے ساتھی اداکار ان کا مذاق بھی اڑاتے ہیں۔
'جب مجھے ان کی ٹیم سے سنہ 2019 میں کال آئی اور انھوں نے کہا ماہرہ خان کے ساتھ یہ ویڈیو ریکارڈ کرنی ہے تو میں تو پاگل ہو گیا، میں نے کہا یہ کیسے ممکن ہے، میں نے اپنے سارے خاندان کو بتا دیا۔ میں تو ساتویں آسمان پر جھوم رہا تھا۔'
دو سال 2021 میں ’بارہواں کھلاڑی‘ کی ٹیم نے شاہویر سے ایک کردار کے بارے میں بات کی تو انھوں نے فوراً ہاں کر دی۔
'انھوں نے مجھ سے کہا کہ آپ سے اب ماہرہ بھی بات کریں گی، تو میں نے کہا کیا مطلب، تو پھر انھوں نے بتایا کہ وہ اس شو میں شامل ہیں، تو میں نے انھیں کہا بالکل ٹھیک ہے، ان سے کہیں مجھے کال کر کے مزید منانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘
دانیال ظفر جو گلوکار اور اداکار علی ظفر کے بھائی ہیں بتاتے ہیں کہ وہ شوبز انڈسٹری میں کم عمری سے ہی سب سے مل چکے تھے اور انھیں جانتے تھے۔
'میں ہمیشہ سے ہی اپنے لیے ایک چاکلیٹی بوائے کا کردار ہی سوچتا تھا، لیکن یہ کردار اور سکرپٹ اس ماحول کے برعکس تھا جس میں میں بڑا ہوا ہوں۔'
'ماہرہ خان میں ایک بچے جیسی پھرتی اور توانائی ہے'
ماہرہ خان کے بطور پروڈیوسر اس سیریز میں کام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شاہویر کا کہنا تھا کہ کوئی جب مجھ سے یہ سوال کرتا ہے تو میں کہتا ہوں کہ 'ماہرہ خان میں ایک بچے جیسی پھرتی اور توانائی ہے۔'
خاقان شاہنواز ان کی بات کاٹ کر کہتے ہیں کہ 'ہمیں لگتا تھا کہ ہم بوڑھے اور وہ ہم سے زیادہ جوان ہیں۔'
یہ بھی پڑھیے
شاہویر کہتے ہیں کہ 'اور وہ آپ کا فوراً حوصلہ بڑھا دیتی ہیں۔'
ٹی وی پر نہ چلنے کے باوجود کیا یہ سیریز مقبول ہو پائے گی؟
بارہواں کھلاڑی ایک ویب سیریز ہے جو کسی ٹی وی چینل پر نشر نہیں ہو گی۔ کچھ افراد کو اس کی مقبولیت کے بارے میں خدشات لاحق ہیں۔
تاہم شاہویر کہتے ہیں کہ ’ظاہر ہے اگر یہ ٹی وی پر آتی تو یہ زیادہ مقبول ہوتی، لیکن اگر آپ مستقبل کو دیکھیں تو سوشل میڈیا، انٹرنیٹ اور ویب سیریز ہی مستقبل ہیں۔'
دانیال ظفر اس بحث میں شرکت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ 'مقصد یہ نہیں ہے کہ ٹی وی، ریٹنگ وغیرہ کے پیچھے بھاگیں، مقصد یہ ہے کہ مواد ایسا بنائیں، پراڈکٹ ایسا بنائیں جو دقیانوسی سوچ کو ختم کرے۔'
اس بارے میں خاقان کا کہنا تھا کہ جب 10 سال بعد یہ انٹرویو کوئی دیکھے گا تو وہ کہے گا کہ 10 سال پہلے ان نوجوان اداکاروں نے پروڈیوسرز کو یہ بتا دیا تھا کہ ویب سیریز بناؤ۔
'ایسے ماحول سے آیا تھا جس میں اپنا باس تھا'
خاقان کا اپنی اداکاری کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ولاگنگ کی نسبت اداکاری نبھانا مشکل تھا ’لیکن اتنا بھی نہیں کیونکہ ڈائریکٹر عدنان نے مجھے حوصلہ دیا اور ساتھ لے کر چلے۔‘
شاہویر کا اداکاری کے تجربے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 'میں ایک ایسے ماحول سے آیا تھا جس میں میں اپنا باس تھا۔ ایسے میں ایک ایسا پراجیکٹ کرنا جو آپ سے بڑا ہو، اس سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔ جیسے ڈائریکٹر اور پوری ٹیم کا احترام کرنا۔‘
تینوں ہی ایک بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ انھیں ہنسی بہت آتی تھی اور ’جب بھی کوئی تناؤ والا سین ہوتا تھا تو ہمیں ہنسی آ جاتی تھی۔‘
تاہم فلم کے لیے کرکٹ کھیلنی تھی اور دانیال کے لیے مسئلہ یہ تھا کہ وہ کرکٹ کھیلنا نہیں جانتے تھے اور ایک فٹبال فین تھے۔ اس فلم کے لیے دانیال نے اپنے ایک کزن کی مدد سے کرکٹ کھیلنا سیکھی۔
کرکٹ کے سین شوٹ کرنے کے لیے ان تمام کرداروں کو جنوری کے سرد موسم میں صبح صبح گراؤنڈ میں آ کر کرکٹ کھیلنی پڑی۔ خاقان کہتے ہیں کہ 'اس وقت پتا چلا کہ اداکاری ایک مشکل کام ہے، یہ ایک آسان کام ہرگز نہیں ہے، جیسا میں سمجھ رہا تھا۔'