آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’اے مشتِ خاک میں میرا کردار ویسے بھائی کا نہیں جو ہم اکثر ڈراموں میں دیکھتے ہیں‘، اسد صدیقی
’مجھے ہمیشہ سے اداکار ہی بننا تھا۔ میرے ماموں ایکٹر ہیں۔ جب میں ان سے شروع میں کہتا تھا کہ مجھے ایکٹر بننا ہے تو وہ کہتے تھے کہ پہلے پڑھ لو۔ وہ کہتے تھے پڑھائی پہلے، یہ والا کام بعد میں کیونکہ یہ کام تو کبھی بھی ہو سکتا ہے۔‘
ایسا کہنا ہے پاکستان ٹی وی انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے اداکار اسد صدیقی کا، جو اداکار عدنان صدیقی کے بھانجے بھی ہیں۔
صحافی برّاق شبیر کو انٹرویو دیتے ہوئے اسد صدیقی کہتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کا اداکاری کا شوق بڑھتا گیا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے اداکاری کی کوئی خاص تعلیم حاصل نہیں کی اور نہ کبھی کسی تھیٹر گیا۔ بس اتنی سی چاہ تھی کہ ٹی وی میں جانا ہے۔‘
آڈیشن کے لیے دادی کی وفات کا بہانہ کیا
اپنے ایکٹنگ کریئر کے بارے میں بات کرتے ہوئے اسد صدیقی نے بتایا کہ وہ انٹرمیڈیٹ کے بعد اپنے بھائی کے ساتھ ایک بینک میں انٹرنشپ کر رہے تھے جب ان کے ایک دوست کی دوست نے ان سے ایک ڈرامے کے لیے رابطہ کیا۔
اُنھیں مرینہ خان کے گھر کا ایڈریس دیا گیا کہ اُنھیں وہاں آڈیشن کے لیے آنا ہو گا۔ جیسے ہی بریک ٹائم ہوا تو اُنھوں نے بہانہ کیا کہ اُن کی دادی کی وفات ہو گئی ہے تو اُنھیں جانا ہو گا۔ دفتر والوں نے فوراً ہی انھیں جانے کی اجازت دے دی۔
وہ بتاتے ہیں کہ آڈیشن کے بعد جب میں واپس گھر جا رہا تھا تو مجھے بھائی کا فون آیا۔
’میرے بھائی نے مجھ سے پوچھا کہ تم کیا کہہ کر آفس سے نکلے ہو۔ تو مجھے فوراً یاد آیا کہ میرا تو بھائی بھی اسی بینک میں کام کرتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حالانکہ اسد اس وقت بینک کی انٹرنشپ کے ساتھ ساتھ ایم بی اے بھی کر رہے تھے لیکن وہ کہتے ہیں کہ ایکٹنگ کا ایسا جنون تھا کہ بس پڑھائی بھی وہیں چھوڑ دی اور بس اسے ہی پیشہ بنا لیا۔ ان کے مطابق انھی ابھی بھی یہ ملال ہے کہ پڑھائی مکمل کیوں نہیں کی، لیکن وہ اپنے کام سے بہت مطمئن ہیں۔
پہلا ڈرامہ کون سا تھا؟
میرا پہلا ڈرامہ ’آذر کی آئے گی بارات‘ تھا۔ یہ آغاز ہی بڑا شاندار تھا اور اس پراجیکٹ میں شامل دوسرے لوگ اتنے سکھانے والے تھے، اتنے پروفیشنل تھے کہ نہ پوچھیں۔ سبھی انڈسٹری کے بڑے تھے۔ جاوید شیخ، بشریٰ انصاری، ثمینہ احمد، صبا حمید، مرینہ خان، ندیم بیگ، یہ سبھی لوگ بہت پروفیشنل تھے۔
’ندیم بیگ صاحب کے ساتھ اب میں دوبارہ ’صنفِ آہن‘ پر کام کر رہا ہو۔ ان سب میں کچھ خاص ہے۔ جو انرجی آپ کے پاس ان سے ٹرانسفر ہوتی ہے نہ وہ بڑی کمال کی ہوتی ہے، بہت مدد کرتی ہے۔ ان سب کے ساتھ ایک رشتہ قائم ہے جو زندگی بھر رہے گا۔‘
اے مشتِ خاک میں ’مشکل کردار‘
اپنے ڈرامے ’اے مشت خاک‘ میں اپنے کردار کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسد صدیقی نے کہا کہ یہ ایک مشکل کردار تھا۔
’کیونکہ کبھی ایسا کردار ادا نہیں کیا لیکن اس میں مجھے لگا کہ بطور فنکار اس میں چیلنج ملے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ڈائریکٹر نے مجھے کہا کہ یہ سکرپٹ لے کر جاؤ اور اسے پڑھو، اس میں کام کرنے کے لیے کوئی زبردستی بھی نہیں کی تھی۔ ڈرامے کے سکرپٹ کو پڑھ کر مجھے لگا کہ یہ معمول کے مطابق ویسا بھائی کا کردار نہیں جو ہم اکثر ڈراموں میں دیکھتے ہیں۔ یہ وہ والا بھائی ہے جو سامنے آ کر بات کرتا ہے، اسے معلوم ہے کہ کیا غلط ہو رہا ہے، کیا صحیح ہے، لیکن اس کردار کو ادا کرنا آسان نہیں تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ انھیں مزہ آتا ہے ’گرے‘ کردار ادا کرنے میں کیونکہ ’مجھے لگتا ہے کہ وہ میرے لیے بہتر ہیں۔‘
’منفی کرداروں میں آپ کو طرح طرح کے جذبات دکھانے کا موقع ملتا ہے، آواز سے، رویے سے، باڈی لینگویج سے آپ کھیل سکتے ہیں، لیکن جب آپ مثبت نوعیت کے کردار ادا کرتے ہیں تو آپ کو ہر چیز تمیز سے کرنی ہوتی ہے اور آپ سوچتے ہیں کہ اس بند ڈبے میں رہتے ہوئے اور کیا کر سکتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی ایکٹر کے لیے یہ چیز سب سے زیادہ مشکل ہے۔‘
پسندیدہ ڈرامہ جو خواتین کے لیے ہے
آئی ایس پی آر کے اشتراک سے بنائے گئے ڈرامے ’صنف آہن‘ کے بارے میں اسد صدیقی کہتے ہیں کہ یہ ان کے پسندیدہ ڈراموں میں سے ایک ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اس ڈرامے میں دو مختلف کردار ہیں۔ ایک طرف دایان ہے اور ایک طرف نوریز۔ ایک طرف وہ لڑکا ہے جو رشتوں کی بنیاد پر اپنی زندگی کو دیکھتا ہے کہ میرے لیے زندگی میں سب سے اہم میرے رشتے ہیں۔ دوسری طرف نوریز ہے جسے رشتوں کا پتا ہی نہیں۔ وہ نفسیاتی طور پر عجیب ہے۔ اسے صرف یہ پتہ ہے کہ میں ایک سرکاری ملازم ہوں اور میری گیم آن ہے۔‘
’مجھے نہیں پتہ کہ اس میں نوریز کا کردار برا ہے یا نہیں لیکن وہ اتنا سوچ ہی نہیں رہا۔ بس وہ کہتا ہے کہ جو میں سوچ رہا ہوں اور کہہ رہا ہوں وہ ہو جائے۔‘
'بڑی دیر کے بعد کوئی ایسی چیز آئی ہے جو اتنی تازہ ہے اور بالخصوص خواتین کے لیے ہے اور اس میں وہ معمول کے ساس بہو والے مسائل بھی نہیں ہیں بلکہ خواتین کی اپنی جنگ دکھائی گئی ہے۔'
اس ڈرامے میں اسد اپنے کردار نوریز کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ اس کی کہانی سے بہت خوش ہیں جس میں وہ لڑکیوں کی حمایت کرتے ہیں، ان کے لیے آواز اٹھاتے ہیں۔
مزید پڑھیے
شادی اور دوستی
جب اسد صدیقی سے ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ ان کی اداکارہ زارا نور عباس سے شادی کروانے میں ان کے ساتھی اداکار سجل علی، عاصم اظہر اور یاسر حسین کا بڑا ہاتھ ہے۔
’آپ کہہ سکتے ہیں کہ ارینجڈ میرج تھی۔ سجل اور زارا کو ویسے ہی شادیاں کروانے کا شوق ہے۔ کسی کنوارے لڑکے کو دیکھا، جسے اطوار اچھے لگے تو بس فوراً ہی زارا پوچھتی ہے کہ شادی کب کر رہے ہیں، کوئی لڑکی دیکھی، میں ڈھونڈ دوں۔ اسی طرح اگر کوئی لڑکی دیکھتی ہے جس کی شادی نہیں تو سوچنے لگتی ہے کہ اس کی شادی کروانی چاہیے۔ یہ اچھی بھی ہے، بڑی تمیز والی ہے، بس اس کی شادی کروانی ہے۔ وہ اس طرح کی ہے۔ سجل بھی بالکل اسی طرح کی ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ میں، عاصم اور یاسر ساتھ گھوما کرتے تھے۔ مستی، مذاق وغیرہ۔ سجل وغیرہ کے دماغ میں کیا چل رہا ہے اس کا ہمیں پتہ نہیں تھا۔ میں تو زارا کو سجل کے ساتھ ہی پہلی مرتبہ ملا تھا۔ انھوں نے عاصم اور یاسر کے ساتھ کچھ بات کی اور یہ شادی تک کیسے پہنچی اس کا پتہ ہی نہیں چلا۔
’بس ہم رشتہ لینے لاہور چلے گئے۔ میرے خاندان کے علاوہ میں ساتھ عاصم تھا، یاسر تھا اور سجل تھی۔ زارا کے رشتہ داروں کو پوری بات کا پتہ ہی نہیں تھا وہ یہی سمجھے کہ یہ بس بات کرنے ہی آ رہے ہیں۔ لیکن ہم تو پوری تیاری کے ساتھ گئے تھے۔ ہم پورا پکا کام کرنے گئے تھے۔‘
انھوں نے بتایا کہ معروف فنکار بشریٰ انصاری نے بھی ان کی شادی میں بہت اہم کردار ادا کیا جنھوں نے زارا نور عباس کے والد سے ان کی سفارش کی۔ چھ سات ماہ بعد ان دونوں کی شادی ہو گئی۔
میاں بیوی دونوں ہی شوبز سے منسلک ہونے اور اس کا ازدواجی زندگی پر اثر ہونے کے سوال پر اسد کا کہنا تھا کہ دونوں کوشش کرتے ہیں کہ گھر میں کام کے بارے میں کم سے کم بات ہو۔
’اگر کوئی انوکھی بات سامنے آئے یا کوئی بہت دلچسپ پراجیکٹ ہو تو ہم بات کر لیتے ہیں لیکن 95 فیصد کوشش ہوتی ہے کہ کام کی بات گھر پر نہ کریں۔ کبھی کبھار ہماری سکرپٹ پر بات چیت ہوتی ہے کہ کس کردار کو کیسے طریقے سے کیا جا سکتا ہے۔ وہ بھی جب کوئی مزیدار کردار آتا ہے، لیکن ہمارے زیادہ بات اس وقت ہوتی ہے جب ہم مل کر فلمیں دیکھتے ہیں کہ یہ والا کردار اس طرح کیا جا سکتا ہے۔ لیکن وہ ایک صحت مند گفتگو ہوتی ہے۔ لیکن اس کے علاوہ مجھے لگتا ہے کہ فیملی ٹائم بہت ضروری ہے۔‘
اسد کہتے ہیں کہ ہم دونوں دو انسان ہیں۔ زارا کی ایک اپنی پہچان ہے اور میری ایک اپنی۔ ان کا الگ کام ہے، طریقۂ کار الگ ہے، کردار الگ ہیں۔ اسی طرح میرا بھی الگ کام ہے۔
اسد کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے حوالے سے تو وہ کافی ’اینٹی سوشل‘ ہیں۔ شو بز میں جو لوگ ان کے خاندان کی طرح ہیں یا پرانے دوست ہیں وہ تو الگ بات ہے لیکن اس کے علاوہ وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے لوگوں کے ساتھ ملنے سے زیادہ گھر رہنا پسند ہے۔‘ دوسری طرف وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہر ہاتھ ملانے والا دوست بھی نہیں ہوتا۔ جو آپ کے دکھ سکھ میں ہے، وہی آپ کا دوست ہے۔ دوست بہت ضروری ہوتے ہیں اور اگر آپ کو اچھے مل جائیں تو کیا ہی بات ہے۔
’اقربا پروری اس وقت بری ہے جب آپ کو کام نہ آتا ہو‘
شوبز انڈسٹری میں اقربا پروری پر بات کرتے انھوں نے کہا کہ ان کے والد صاحب کے مطابق سفارش صرف آپ کو اینٹر کرواتی ہے آگے آپ کا اپنا کام ہوتا ہے۔
’ہمارے والدین نے ہمیں یہ ہی کہا کہ پہلے اپنی صلاحیت کو دیکھو، تمہیں ہمیشہ کوئی نوالہ بنا کر نہیں کھلائے گا۔ تم نے اپنی لڑائی خود لڑنی ہے۔ اسی لیے میں نے کبھی کسی کو نہیں کہا بلکہ ہر کام خود کیا۔‘
اسد کہتے ہیں کہ اقربا پروری اس وقت بری ہے جب آپ کو کام آتا بھی نہ ہو اور اس کے باوجود آپ کو کام مل جائے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اقربا پروری اس وقت بری ہے جب ایک صاحب کا بچہ کام میں برا ہے لیکن اسے کام مل رہا ہے لیکن اگر ایک صاحب کا بچہ اچھا ہے اور بے شک اس کے کسی رشتہ دار نے اسے سفارش سے لگوایا لیکن اگر وہ اچھا کام کر رہا ہے تو اس میں کوئی برائی نہیں۔ وہ کسی کا حق نہیں مار رہا۔‘