سلمان خان کا بگ باس میں مشورہ: ’میری بیٹی کو وہ نہیں سننا چاہیے جو سلمان خان نے بگ باس میں کہا‘

salman khan

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, روپا جھا
    • عہدہ, بی بی سی ہندی

میری بیٹی نے جو کہ نویں جماعت میں پڑھتی ہے، حال ہی میں اپنی سابقہ کلاس ٹیچر کو ایک نوٹ لکھا، جس میں اس نے اپنی پچھلی کلاس کے لڑکوں کی طرف سے ریپ سے متعلق مذاق پر اعتراض کیا اور بتایا کہ اس کی وجہ سے کلاس کی لڑکیاں کتنی بے چینی محسوس کرتی تھیں۔

وہ ایک سال پہلے اپنے اردگرد کی لڑکیوں اور ان سے متعلق کیے جانے والے بیہودہ تبصروں پر بولنے کی ہمت نہیں کر سکی تھی۔ ایک سال بعد کسی حوالے سے اسے وہ سب کچھ پھر یاد آ رہا تھا۔ لڑکوں کا ایک گروپ کلاس کی لڑکیوں، ان کے جسم کے مختلف حصوں کا مذاق اڑاتا، یا نابالغوں کے ریپ جیسی پرتشدد باتیں کرتا تھا۔ ریپ سے متعلق مذاق تو عام تھا۔

ایک سال بعد، وہ الفاظ ابھی تک اس کے ذہن میں تازہ تھے، اور اس سے بڑھ کر یہ کہ وہ مذمت نہیں کر پائی تھی۔

لکھنے سے پہلے اس نے مجھ سے یہ ضرور پوچھا کہ کیا ایک سال بعد یہ شکایت کرنا مناسب ہو گا؟ ظاہر ہے کہ اس نے محسوس کیا کہ لوگوں کی نظر میں ایک طویل وقفے کے بعد ایسی شکایات سامنے لانا غلط ہو سکتا ہے۔

لیکن یہ اچھا ہوا کہ اس نے خود فیصلہ کیا کہ جب ہمت بندھ جائے اور وقت مناسب ہو تو بولنا چاہیے۔ صرف ایک سال کے بعد وہ اپنے لیے اور اپنے دوستوں کے لیے کھڑی ہو سکی۔

آخر کیوں کبھی کبھار وقت کی پابندی ہمارے احتجاج ریکارڈ کرانے کے فیصلے پر سوالیہ نشان کھڑا کردیتی ہے۔ پہلی بار نہیں تو بعد میں کیوں؟

اس ذہنیت کی وجہ تلاش کرنا مشکل نہیں۔ نہ صرف اس وقت جب اس ملک کے عام لوگ لڑکیوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایسی باتیں دراصل صرف لطیفے ہیں، اور لڑکیاں اسے کچھ زیادہ ہی سنجیدگی سے لے رہی ہیں یا پھر یہ کہ لڑکوں کو بات کرتے ہوئے شاید خیال نہیں رہا اور لڑکیوں کو بس اسے نظرانداز کر دینا چاہیے۔

سلمان خان نے کیا کہا؟

حیران کن بات یہ ہے کہ ایک بڑے چینل کے مقبول ٹی وی ریئلٹی شو کے میزبان سلمان خان نہ صرف یہ مشورہ ایک خاتون کو دے رہے تھے بلکہ اس شو میں وہ اس خاتون کے احتجاج کو غلط قرار دیتے ہوئے نظر آئے۔

سپر سٹار سلمان خان 'بگ باس' ریئلٹی شو میں شریک لڑکیوں کو مشورہ دے رہے تھے کہ 'اگر کوئی لڑکا آپ پر تبصرہ کرے تو اسے نظر انداز کر دیں، دوسری بار بھی نظر انداز کریں، تیسری بار اسے ٹوکو اور آگے بڑھو، سخت رویے کی ضرورت نہیں ہے۔ ‘

مزید پڑھیے

وہ اس بات کی حمایت کرتے ہوئے نظر آئے کہ 'لڑکی انگلی آگے بڑھائے گی تو لڑکا تو ہاتھ پکڑے گا۔‘

ایسا ہی کچھ اس بگ باس نامی مشہور رئیلٹی شو میں ایک گیم کے دوران ہوا جہاں ابھیجیت بیچوکالے نامی ایک مد مقابل مرد نے دیوولینا نامی خاتون سے اس گیم میں مدد کرنے کے نام پر اسے بار بار چومنے کا مطالبہ کیا۔

دیولینا نے ایک دو بار اس پر کچھ نہیں کہا لیکن بعد میں اس معاملے پر احتجاج درج کرایا۔ اب دیوولینا پر ہی سوال اٹھنے لگا کہ یہ ایک مذاق ہے، اگر اسے برا لگا تو اسے پہلے بھی احتجاج کرنا چاہیے تھا۔

ایک نوجوان لڑکی اور ایک عورت کی ماں ہونے کے ناطے میں نہیں چاہتی کہ میری بیٹی یا کوئی اور لڑکی اس مشورے پر عمل کرے۔

اسی کو ’وِکٹم شیمنگ‘ کہتے ہیں یعنی متاثرہ شخص کو ہی شکایت کرنے پر شرم دلائی جاتی ہے۔ اس چھوٹی سی بات کو سمجھنا اتنا مشکل کیوں ہے کہ آپ کو اس عمل کو روکنے کا حق ہے جو پہلی، دوسری، دسویں یا گیارہویں بار بھی نہیں روکا گیا تھا۔

شو کے میزبان سلمان خان کو دیوولینا سے سوال کرتے ہوئے اور اس ذہنیت کی عکاسی کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے جس میں ِوکٹم شیمنگ بہت آسان ہے۔

'لڑکی نے کچھ کیا ہوگا'

’لڑکی نے کچھ کیا ہوگا‘ سے لے کر 'مرد، مرد ہی رہیں گے' تک، یہ ذہنیت لڑکیوں کو نام نہاد دائرے میں رہنے کا مشورہ دیتی ہے، یہ لڑکوں کو دائرہ توڑنے سے بچنے کا مشورہ دیتی ہے۔ یعنی یہ وہی منطق ہے کہ ہم مردوں کو ان کی حدود کو یاد رکھنے اور سمجھنے پر مجبور نہیں کر سکتے، اس لیے ایسے حالات سے بچنا ہی عقلمندی ہے۔

جلد ہی سوشل میڈیا پر کیمپ تقسیم ہو گئے اور دوڑ شروع ہو گئی کہ خاتون مقابلہ کرنے والے اس مد مقابل مرد کے ساتھ کافی آرام دہ تھی۔ یہاں یہ جواز پیش کیا جاتا رہا کہ اگر آپ کسی وقت کسی کے ساتھ راحت محسوس کرتے تھے تو پھر آپ ان کے کسی بھی عمل سے کیسے بے چین ہوسکتے ہیں۔ اگر ایک وقت میں کسی چیز یا رویے سے بے چینی نہیں تھی، تو کسی دوسرے وقت میں کیوں بے چینی ہو گئی؟

دیولینا

،تصویر کا ذریعہTwitter/big boss

،تصویر کا کیپشندیولینا نے ایک دو بار اس پر کچھ نہیں کہا لیکن بعد میں اس معاملے پر احتجاج درج کرایا

بعض اوقات کسی بھی قسم کے جنسی تشدد یا غیر مناسب رویے پر فوری ردعمل سمجھ میں نہیں آتا۔ کئی بار آپ الجھن میں رہتے ہیں، کبھی کبھی آپ اپنے آپ کو ٹٹولتے ہوئے پاتے ہیں کہ کیا مجھے سمجھنے میں کوئی غلطی تو نہیں ہوئی؟

جب آپ سمجھتے ہیں تو بولنے کی گنجائش ہونی چاہیے اور اس کے لیے لوگوں کو آپ کے لیے فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ جنسی تشدد سے نبرد آزما اس معاشرے میں بولنے کی ہمت اسی طرح آئے گی۔ گھڑیاں اور کیلنڈر کی تاریخیں اس وقت کا تعین اور فیصلہ نہیں کر سکتیں کہ کب لڑکیاں اپنی آواز بلند کریں گی۔

یہ پہلا کیس نہیں ہے

ملائم سنگھ یادو کا 'لڑکے غلطیاں کرتے ہیں' یا کرناٹک کے ایم ایل اے کا تازہ ترین تبصرہ نہ تو پہلا ہے اور نہ ہی آخری۔ اگر آج لڑکیاں بولیں گی تو شاید کل ایسا مذاق کرنے والوں کے لیے سزا نہ بھی ہو لیکن کم از کم شرمندگی کا ماحول پیدا ہو جائے۔

بات بہت آسان ہے اور وہ یہ ہے کہ نہیں کا مطلب نہیں۔ رضامندی کو سمجھنا اتنا مشکل نہیں ہوسکتا اور خاموشی یا تاخیر کو رضامندی سمجھنا ناانصافی ہے۔

فلموں، رئیلٹی شوز اور میڈیا کے بہت سے پلیٹ فارمز پر اس طرح کی ذہنیت ایک عام سی بات ہے اور جب کروڑوں لوگوں کے پیارے اداکار ان باتوں کی تصدیق کرتے ہیں تو پھر ہمارے ہاں سکولوں کالجوں میں لڑکیوں اور ملک میں خواتین کے خلاف ایسے مزاحیہ لطیفے سننے کو ملتے ہیں اور ایسے میں جنسی تشدد میں اضافہ حیران کن نہیں ہونا چاہیے۔

جب سلمان خان جیسے سپر سٹار کی جانب سے اور اس طرح کے پروگراموں میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جاتا ہے تو خاموش رہنا یا 'چلتا ہے' کہہ کر آگے بڑھنا جرم ہے۔

2019 میں انڈیا میں 'MeToo' تحریک کا آغاز ہوا، جس نے خواتین کو ہمت دی کہ زخم وقت گزرنے کے ساتھ نہیں بھرتے اور جب تک وہ ہرے ہیں، اس پر وقت کی کوئی پابندی نہیں ہو سکتی۔