عمر شریف: ’جب تک لوگ ہنسنا چاہیں گے عمر شریف زندہ رہے گا‘

،تصویر کا ذریعہWaseem Badami
- مصنف, طاہر سرور میر
- عہدہ, صحافی
برصغیر میں مزاح کے شہنشاہ تسلیم کیے جانے والے فنکار عمر شریف کی نمازِ جنارہ کراچی میں ادا کر دی گئی ہے اور انھیں ان کی خواہش کے مطابق عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
عمر شریف دو اکتوبر کو جرمنی کے ہسپتال میں وفات پا گئے تھے اور ان کی میت بدھ کی صبح کراچی پہنچی تھی۔
ان کی نماز جنازہ کلفٹن کے علاقے میں ان سے منسوب ’عمر شریف پارک‘ میں ادا کی گئی جس میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد شامل تھی۔
عمر شریف کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کے ساتھی اور جونیئر فنکاروں نے انھیں ایک ایسا فنکار قرار دیا جن کے نام اور کام کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
’گھر ایک دوسرے سے دور تھے لیکن دل سے دور نہیں تھے‘
نامور اداکارہ بشری انصاری نے کینیڈا کے شہر ٹورنٹو سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے عمر شریف کے ساتھ 1980 سے 1990 کے درمیان بہت کام کیا۔
’جب کراچی میں بہت تقربیات ہوتی تھیں۔ ہم ہر ہفتے کی رات اکٹھے ہوتے۔ سٹینڈ اپ کامیڈی میں عمر شریف کی بہت ڈیمانڈ ہو چکی تھی اور میں تقریبات کی میزبان ہوا کرتی تھی۔ ایسا سینکڑوں بار ہوا کہ مجھے عمر شریف کو سٹیج پر بلانا پڑا۔ میں نے ان کے لیے ایک جملہ گھڑا تھا کہ ’اب تشریف لاتے ہیں عمر شریف، میری دعا ہے کہ خدا ان کی عمر دراز کرے۔‘
مجھے افسوس ہے کہ زندگی کے آخری دنوں میں میری اس سے ملاقات نہ ہو سکی۔
’کراچی میں ہمارے گھر ایک دوسرے سے دور تھے لیکن ہم دل سے دور نہیں تھے اور غم میں ایک دوسرے سے بات کر لیا کرتے تھے۔ گذشتہ دنوں جب میری بہن سنبل کا انتقال ہوا تو عمر شریف کا فون آیا تھا۔ مجھے پُرسہ دے رہا تھا حالانکہ خود بیمار تھا اور اس سے کچھ عرصہ قبل اس کی بیٹی حرا کی موت ہوئی تھی۔ جب عمر شریف کی جواں سال بیٹی حرا دنیا سے چلی گئی تو اسے شدید صدمے کا سامنا تھا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہTAHIR SARWAR MIR
بشریٰ انصاری کے مطابق ’عمر شریف کو یہ پسند نہیں تھا کہ انھیں بیمار سمجھا جائے۔ میں نے ایک دو مرتبہ اس کی ویڈیو بھی دیکھی تھی جس میں وہ اپنی بیماری کو چھپاتے ہوئے یہ کہہ رہا تھا کہ میں بالکل ٹھیک ہوں۔ وہ اپنی بیماری کے ہاتھوں ہار رہا تھا لیکن اسے شکست قبول نہیں تھی۔ ایسا شخص جو ہمیشہ جیتا ہو اس نے اپنی زندگی کے مشکل ترین حالات سے جنگ لڑی تھی، اس لیے وہ ہارنا نہیں چاہتا تھا۔‘
بشریٰ انصاری نے کہا کہ عمر شریف کی بیماری کے سلسلہ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ سندھ اور وفاقی حکومت نے اپنے فرائض ادا کئے ہیں۔یہ اعزاز بھی عمر شریف کو ہی جاتاہے کہ فنکار کو معاشرے کا اہم فرد سمجھا گیاہے،اسکی بیماری کی بابت وسائل بروئے کار لائے گئے،وہ جاتے ہوئے ایک راستہ کھول گیاہے اب اسے بند نہیں ہونا چاہیے اور جس بھی فنکار کو حکومت اور ریاست کی سرپرستی چاہیے ہو اسے یہ سب مہیا کیاجائے۔
’وہ آناً فاناً آیا اور چھا گیا‘
عمر شریف کے سینیئر اور دیرینہ ساتھی شہزاد رضا کا کہنا تھا کہ ’عمر شریف کبھی نہ ختم ہونے والا موضوع ہے۔ کوئی نہیں بتاسکتا کہ یہ شروع کہاں سے ہوا تھا۔ وہ آناً فاناً آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے چھا گیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’عمر شریف کا تاثر قیامت تک قائم رہے گا۔ جب تک لوگ ہیں ،جب تک وہ ہنسنا چاہیں گے عمر شریف زندہ رہے گا۔ وہ انتہائی خوشبودار انسان تھا، وہ دوستوں کی خوشیوں میں خوش ہوتا اور دوستوں کے دکھ اسے دکھی کر دیتے تھے۔ اس کی نیکیاں گنوائی نہیں جا سکتیں اور خوبیاں بیان نہیں کی جا سکتیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTahir Sarwar Mir
’عمر شریف رستم مزاح تھے‘
نامور اداکار سہیل احمد نے کہا کہ عمر شریف ایک صدی کے فنکار تھے۔ ’وہ رستم مزاح تھے میں ان کی طرف دیکھتا ہوں تو میرا شملہ (پگڑی) گر جاتا ہے۔ آجکل ہر ایرے غیرے کو 'کنگ' کہہ دیا جاتاہے لیکن وہ اصلی کامیڈی کنگ تھے جنھیں پورے برصغیر میں مزاح کا بادشاہ تسلیم کیا گیا۔
سہیل احمد کے مطابق ’منورظریف کو تمام مزاحیہ فنکار اپنا استاد مانتے ہیں اور عمر شریف بھی انھیں روحانی استاد تسلیم کرتے تھے لیکن منور ظریف صرف 36 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے اس لیے یہ کہنے میں حرج نہیں کہ عمر شریف نے دنیا میں ایک بڑی آبادی کو سب سے زیادہ ہنسایا اور خوش کیا۔‘
یہ بھی پڑھیے
سہیل احمد نے کہا کہ ’شہرت دنیا کا سب سے عجیب نشہ ہے لیکن جو اس میں بھی زمین سے جڑا رہے وہ بہت بڑا انسان ہوتا ہے اور عمر شریف بہت بڑا انسان تھا۔ انھوں نے اپنی ساری زندگی کوئی ایک جملہ بھی ایسا ادا نہیں کیا جو ہماری ثقافت کو داغدار کرے۔‘
'عمر شریف شو مین تھے‘
عمرشریف کے دیرینہ ساتھی اور کامیڈین شکیل صدیقی نے کہا کہ ’عمر بھائی دنیا کے واحد میگا سٹار تھے جو ایک مکمل ون مین شو تھے بلکہ میں انھیں 'شو مین' کہوں گا جو تن تنہا پروڈیوسر، رائٹر، ڈائریکٹر، ایکٹر، ڈسٹری بیوٹر، میوزک ڈائریکٹر اور شاعر کے علاوہ نجانے کیا،کیا تھے۔
’دنیا کا ہر آرٹسٹ اور کامیڈین رائٹر کا لکھا بولتا ہے، عمر شریف وہ تھے جو بولتے تو لوگ لکھ لیا کرتے تھے۔ عمر شریف کا مقابلہ صرف عمر شریف سے تھا۔ وہ بےمثل فنکار تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہTAHIR SARWAR MIR
شکیل صدیقی نے بتایا کہ 'بکرا قسطوں پہ‘ پارٹ فور کا سکرپٹ عمر بھائی نے ڈرامہ شروع ہونے سے دو گھنٹے قبل لکھا تھا۔
’نائٹ فلائٹ سے وہ لاہور سے کراچی آئے۔ عید کے روز سہ پہر کے وقت اس ڈرامے کی پوری کاسٹ آرٹس کونسل میں اکٹھی ہوئی ۔عمر بھائی نے تمام فنکاروں کو ان کی لائنز لکھ کر دیں ور ڈرامہ شروع ہوگیا۔ دو ایکٹ مکمل ہوئے تو وقفے میں تیسرا ایکٹ لکھ دیا اور وہ ڈرامہ تاریخ کا حصہ ہے۔‘
’استاد محترم مزاح کے تان سین تھے‘
عمر شریف کے شاگرد اور نامور مزاحیہ فنکار پرویز صدیقی کا کہنا ہے کہ ’استاد محترم عمر شریف مزاح کے تان سین تھے۔ وہ دنیا کے واحد مزاحیہ فنکار تھے جن کی زبان، دماغ اور جسم یوں آپس میں ملے ہوئے تھے جیسے تان پورہ ہو۔ وہ خداداد صلاحیتیوں کے مالک تھے، انھیں پروردگار نے ان گنت خوبیاں بخشی تھیں۔
’عمر بھائی کے ساتھ میرا پہلا ڈرامہ 'ماموں مذاق مت کرو' تھا اس کے بعد سالہاسال ان کے سایہ شفقت میں رہنے کا اعزاز نصیب ہوا۔ بولی وڈ کے ٹاپ کامیڈینز ان کو اوتار مانتے تھے‘۔








