عمر شریف کی وفات: ’عمر شریف جیسا نہ کوئی تھا نہ ہوگا‘

،تصویر کا ذریعہCouretsy PTV
پاکستان کے معروف مزاحیہ فنکار عمر شریف کی وفات کے بعد سے پاکستان میں سوشل میڈیا سمیت دیگر پلیٹ فارمز پر ان ہی کا ذکر کیا جا رہا ہے اور ان کی فنکارانہ صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔
عمر شریف کے مداح صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ سرحد پار بھی تھے اور انھوں نے اس زمانے میں مقبولیت حاصل کی تھی جب وی ایچ ایس ٹیپس کا زمانہ تھا، اور وہ اپنے اچھوتے انداز میں لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کے ماہر تھے۔
وزیر اعظم عمران خان نے عمر شریف کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور ان کے دفتر سے جاری ہونے والے پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’عمر شریف بے شمار صلاحیتوں کے مالک تھے اور فنون لطیفہ کے شعبے میں ایک منفرد مقام رکھتے تھے۔ فن کے شعبے میں ان کی خدمات کو تا دیر یاد رکھا جائے گا۔‘
اسی طرح پاکستان کرکٹ ٹیم کے متعدد موجودہ اور سابق کھلاڑی بھی عمر شریف کی وفات پر دکھ کا اظہار کر رہے ہیں اور انھیں خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے لکھا کہ ’پاکستان کے لیے آپ کی قیمتی خدمات اور ہمیں اپنے ابدی مزاح سے ہنسانے کا شکریہ۔ آپ کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔‘
پاکستان تحریک انصاف کی رکن پارلیمان ظلِ ہما کا کہنا ہے کہ ’عمر شریف کی وفات پر دل شکستہ ہوں، پہلے معین اختر اور اب یہ ہم نے لیجینڈز اور عہدساز فنکار کھو دیے ہیں۔ ان کے مزاح کی رسائی بچوں اور بڑوں دونوں تک تھی۔ ان کی کمی کوئی بھی پوری نہیں کر سکتا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اسی طرح صارفین نے عمر شریف کا وی ایچ ایس کا دور یاد کیا۔ ایک صارف اسامہ بن جاوید کا کہنا ہے کہ ’انھوں نے تھیٹر کو تبدیل کر کے اسے فیملی کے لیے ہنسی مزاح کا موقع بنا دیا۔ لفظ ’چھچھورا‘ بھی ان ہی کی اختراع تھی۔ عمر شریف اور معین اختر نے ’بڈھا گھر پہ ہے‘ میں کتنا ہنسایا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@faysalquraishi
اسی طرح صارف صائمہ خان نے لکھا کہ ’عمر شریف نے ہمیں ہمارے بچپن میں ہر روز ہنسنے پر مجبور کیا، وہ ایک خوبصورت روح تھے اور پاکستان ان کی خدمات کا اب بھی مقروض ہے۔ خدا ان کے خاندان کو صبر اور استقامت عطا کرے۔‘
فیصل قریشی کی جانب سے کیے گئے ٹویٹ میں کہا گیا کہ ’وہ انڈسٹری میں اصلی ہیرا تھے اور ایک لیجینڈ بھی۔ میں اس مشکل وقت میں ان کے خاندان کے لیے دعا گو ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@RandeepHooda
انڈیا کے وکرانت گپتا نے لکھا کہ عمر شریف اب ہم میں نہیں ہیں۔ 80 اور 90 کی دہائی ان ہی کی تھی۔‘ ایک صارف عبدالاحد جاوید کا کہنا ہے کہ 'عمر شریف جیسا نہ کوئی تھا نہ کوئی ہو گا'۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@NadeemfParacha
ندیم فاروق پراچہ کا کہنا ہے کہ ’عمر شریف پاکستان میں سب سے زیادہ مزاحیہ فنکاروں میں سے ایک تھے۔ ان کا کراچی میں ایک متوسط گھرانے سے تعلق تھا اور پھر وہ اپنی فیلڈ میں ایک عظیم فنکار بن کر ابھرے۔ ان کے کامیڈی کے عوامی انداز کا اثر متعدد مزاح نگاروں پر ہوا، نہ صرف پاکستان میں بلکہ انڈیا میں بھی۔‘
پاکستانی موسیقار شہزاد رائے کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ ان کی کمپنی میں ہوتے تھے تو وہ کبھی آپ کو غمزدہ نہیں ہونے دیتے تھے۔ وہ جس طرح سے دنیا کو دیکھتے تھے وہ باقی لوگوں سے بہت مختلف تھا اور یہ بات ان کی پرفارمنس میں بھی عیاں تھی۔‘











