ودیا بالن میں ایسی کیا خاص بات ہے جو اُن کی فلموں کو منفرد بناتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہT-Series
اگر ودیا بالن کا تذکرہ آئے تو لوگوں کے ذہنوں میں ساڑھی میں ملبوس، اپنی فلموں پرینیتا، کہانی، دی ڈرٹی پکچر، مشن منگل اور شکنتلا دیوی کے کرداروں جیسی خاتون آتی ہیں کیونکہ ان فلموں میں انھوں نے اپنی بہترین پرفارمنس دی۔
انھوں نے اپنے ان کرداروں سے اتنا گہرا تاثر چھوڑا ہے کہ انہیں آف بیٹ اداکارہ کا درجہ دیا گیا ہے۔ ہر بار ان کی فلموں نے کامیابی کی ایک نئی مثال قائم کی ہے۔
تقریباً دو دہائیوں سے فلموں میں مختلف کردار ادا کرنے والی ودیا بالن کا کہنا ہے کہ وہ وہی کہانی اور کردار نبھاتی ہیں جس کو وہ نہ نہیں کہہ سکتیں اور اُنھیں خواتین کے کرداروں پر مبنی فلموں کا حصہ بننے میں کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ وہ فلم کا ’ہیرو‘ بننا پسند کرتی ہیں۔
ودیا کی نئی فلم ’شیرنی‘ کی دھوم
پچھلے ہفتے ودیا بالن کی فلم ’شیرنی‘ او ٹی ٹی پلیٹ فارم ایمازون پرائم پر ریلیز ہوئی تھی۔
ودیا بالن نے فلم شیرنی میں جنگلات کی ایک خاتون افسر ودیا ونسنٹ کا کردار ادا کیا، امیت مسور نے اس کی ہدایت کاری کی جنھوں نے اپنی فلم ’نیوٹن‘ کے لیے نیشنل ایوارڈ جیتا تھا۔
فلمی نقادوں کا کہنا ہے کہ ودیا بالن کا یہ کردار ان کی پچھلی فلموں سے بہت مختلف ہے۔ اس میں اُنھیں ملازمت پر صنفی امتیاز اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ودیا نے اس فلم میں اپنی اداکاری کی نئی جھلک دکھائی ہے۔

،تصویر کا ذریعہVVC films
ودیا بالن میں کیا خاص بات ہے؟
ودیا بالن نے خواتین پر مبنی بہت سی فلمیں کیں اور فلمی صنعت میں اپنی پہچان بنائی۔
کمرشل فلموں کے تجزیہ کار اتول موہن کہتے ہیں ’فلم انڈسٹری میں ہمیشہ مرد کا راج رہا ہے لیکن بہت سی اداکارائیں ایسی ہیں جنھوں نے اپنی پہچان بنائی ہے۔ ان میں ریکھا، ہیما مالنی، وجینتی مالا، سری دیوی اور مادھوری ڈکشٹ جیسے نام شامل ہیں۔ ودیا بالن نے بھی یہی مقام حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتے ہیں کہ ’پرینیتا کے بعد انھوں نے قدم قدم پر اچھی پرفارمنس دی۔ ’لگے رہو منا بھائی‘ راجکمار ہیرانی اور سنجے دت کی فلم تھی، لیکن لوگوں کو ودیا کے اس میں گڈ مارننگ ممبئی کہنے کا انداز آج بھی یاد ہے۔ انھوں نے غیر روایتی انداز اختیار کیا۔ 'نو ون کلڈ جیسیکا' سنجیدہ ہونے کے باوجود ایک کامیاب فلم رہی۔
اتل موہن کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں یہ خیال پیدا ہوچکا ہے کہ اداکاراؤں کو پتلا اور ماڈرن ہونا چاہیے، ان کو انگریزی میں بولنا چاہیے لیکن نوتن سے کاجول تک کے دور میں انڈین پن کا مظاہرہ کرنے والی اداکارہ حکمرانی کر رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAmazon prime
ودیا بالن بھی اسی زمرے میں آتی ہیں۔ جب ودیا بالن اچھی کہانیوں کا حصہ بن جاتی ہیں تو پھر ناظرین اُنھیں دیکھنے کے لیے تھیٹر میں ضرور جاتے ہیں۔ تمہاری سولو اس کی ایک مثال ہے۔
فلمی مؤرخ ایس ایم ایم اوساجا کا خیال ہے کہ ودیا بالن ایک سوچنے والی اداکارہ ہیں۔ سکرپٹ دیکھ کر وہ فلم سوچ سمجھ کے کرتی ہے جس میں اس کا کردار چمکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے ’اُنھوں نے بری فلمیں بھی کیں اس وجہ سے کہ وہ اس وقت اتنی مشہور تھیں اور انھیں بہت ساری فلمیں ملیں اور ایسی صورتحال میں سٹارز بھی کچھ ایسی فلمیں کرتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی انھوں نے ایسی فلمیں بھی کیں کہ ودیا بالن آج کل کے اس دور میں اس فلم انڈسٹری میں انڈین خواتین کا بہترین کردار ادا کر رہی ہیں جس طرح 70 کے دہائی میں امول پالیکر عام آدمی کا کردار ادا کرتے تھے۔ ان کی ہندوستانیت ہی اُن کی شناخت ہے۔ ناظرین اسے پسند کرتے ہیں۔‘
ہندی فلموں کی شروعات 'پرنیتا' سے
ودیا بالن نے 90 کی دہائی میں مشہور مزاحیہ سیریل 'ہم پانچ' میں رادھیکا کے کردار سے اپنی اداکاری کا آغاز کیا تھا۔ اپنے والدین کے کہنے پر انھوں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے اداکاری سے وقفہ لیا۔ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ودیا نے فلموں میں اداکاری کا رخ کیا۔
ساؤتھ انڈین اور بنگالی سنیما میں کام کرنے کے بعد انھوں نے پردیپ سرکار کی فلم پرنیتا سے ہندی فلموں میں اپنے سفر کا آغاز کیا۔

،تصویر کا ذریعہBalaji movies
'ڈرٹی پکچر' بڑا سٹاپ
ودیا بالن پرنیتا فلم کی کامیابی کے بعد بہت سی بڑی فلموں کا حصہ تھیں۔ ان فلموں میں ’بھول بھلیاں‘ میں نفسیاتی مسائل کا شکار خاتون، امیتابھ بچن کی مشہور فلم 'پا' میں ایک ڈاکٹر کا کردار، وشال بھاردواج کی فلم 'عشقیہ' میں کرشنا کا کردار، لگ رہو منا بھائی میں جھانوی کا کردار ادا کیا۔
ودیا بالن کی دو فلمیں 2011 میں آئیں۔ 'نو ون کلڈ جیسیکا' جس میں ان کی اداکاری کو خوب سراہا گیا۔ سال کے آخر میں ریشم اسمتھا کی زندگی پر مبنی فلم 'ڈرٹی پکچر' آئی جس نے باکس آفس پر کئی ریکارڈ توڑ ڈالے اور ودیا بالن کو فلمی صنعت میں ایک نیا مقام دیا۔ 'ڈرٹی پکچر' کے لیے انھوں نے نیشنل ایوارڈ بھی جیتا۔
فلم 'ڈرٹی پکچر' کے ہدایتکار میلان لتھوریہ نے اس کو بنانے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا ’میں جذباتی طور پر اس کہانی سے منسلک تھا۔ میں خواتین پر مبنی فلم بنانا چاہتا تھا کیونکہ میں پریشان تھا کہ سب مجھ سے یہ سوال پوچھتے تھے کہ میں صرف مردوں پر مبنی فلمیں ہی بناتا ہوں۔‘
وہ کہتے ہیں ’کوئی بھی یہ کہانی بنانا نہیں چاہتا تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ فلم کا ٹائٹل خراب ہے، فلم کی کاسٹنگ خراب ہے، یہ ایک فحش فلم ہے۔ کسی نے بھی اس فلم کے لیے ہماری حوصلہ افزائی نہیں کی۔ ہر کسی نے کہا کہ ایسا نہ کریں۔ اس کے باوجود ہم نے اسے بنایا جس پر مجھے بہت فخر ہے اور آخر میں اس فلم نے تین قومی ایوارڈ جیتے۔‘
میلان لتھوریہ کو خوشی ہے کہ ودیا بالن ان کی زندگی میں فلم 'ڈرٹی پکچر' کی وجہ سے آئیں۔ ان کا خیال ہے کہ ودیا بالن ایک بہترین فنکار ہیں چاہے وہ بائیوپک فلموں میں ہوں یا فکشن فلموں میں۔

،تصویر کا ذریعہVIACOM MOTION PUCTURES
'ڈرٹی پکچر' میں ودیا بالن کی اداکاری کے بارے میں فلمی مؤرخ ایس ایم ایم اوساجا کا کہنا ہے، ’ڈرٹی پکچر میں ان کی عمدہ کارکردگی تھی۔ یہ ایک بہت ہی مشکل کردار تھا۔ اس طرح کا پیچیدہ اور نڈر کردار ادا کرنا مشکل ہوتا ہے اور کسی بھی اعلیٰ درجے کی اداکارہ کے لیے اس کردار کو ادا کرنا آسان نہیں ہے۔ ودیا نے جو کیا وہ ایک غیر معمولی کارکردگی تھی۔‘
یہ بھی پڑھیے
’کہانی‘
فلم 'ڈرٹی پکچر' کے چند ماہ بعد ودیا بالن کی سوجوئے گھوش ہدایت کاری میں بننے والی فلم 'کہانی' 2012 میں آئی تھی۔ فلم بہت کامیاب رہی تھی۔ دونوں ہی فلموں نے 70 سے 80 کروڑ کمائے جو کسی بھی خواتین پر مبنی فلم کے لیے بہت بڑی تھیں۔
ایس ایم ایم اوساجا کا خیال ہے کہ 'ڈرٹی پکچر' اور 'کہانی' میں ان کا کردار بہت مختلف تھا۔ انھوں نے دونوں فلموں کا بوجھ اپنے کندھے پر اٹھا لیا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ودیا کے لیے جوئے سے کم نہیں تھے۔ وہ ناکام ہو سکتی تھیں لیکن وہ خوش قسمت تھی۔ وہ بہت با صلاحیت ہیں لہٰذا انھوں نے یہ کام کیا۔

،تصویر کا ذریعہT-Series
’تمہاری سولو‘
'ڈرٹی پکچر' اور کہانی کی کامیابی کے بعد ودیا بالن کی بہت سی اور فلمیں آئیں لیکن وہ اتنی نہیں چل سیکں جو ان کی توقع تھی۔
'نون ون کلڈ جیسیکا' کے ہدایتکار راجکمار گپتا نے ایک بار پھر ودیا بالن کے ساتھ مل کر 'گھن چکر' بنائی۔ اس فلم سے بہت سی توقعات وابستہ تھیں لیکن اس کا فائدہ نہیں ہوا۔
اس کے علاوہ ودیا بالن خواتین پر مبنی فلموں میں 'بوبی جاسوس'، 'ہماری ادھوری کہانی'، 'کہانی 2'، 'بیگم جان' میں نظر آئیں تھیں لیکن شائقین ان کہانیوں کے ساتھ بندھ نہیں سکے۔
سنہ 2017 میں ودیا بالن کی فلم 'تمھاری سولو' آئی جس میں ان کا کردار ایک متوسط طبقے کی شادی شدہ عورت کا تھا، جسے ریڈیو جوکی کی نوکری مل جاتی ہے۔ اس عام کہانی نے ایک بار پھر ودیا بالن کو سامعین کی آنکھوں کا تارہ بنا دیا۔
فلمی نقادوں کو بھی یہ کردار بہت پسند آیا۔ انھوں نے اپنی اداکاری کے لیے فلم فیئر ایوارڈ بھی حاصل کیا۔ فلم نے تقریباً 30 سے 35 کروڑ کی کمائی کی۔
'مشن منگل' اور 'شکنتلا دیوی'
2019 میں ، ودیا بالن کی اکشے کمار کے ساتھ فلم 'مشن منگل' آئی تھی جس میں ان کے کام کو سراہا گیا تھا۔ سنہ 2020 کی کووڈ کی وبا کے دوران، ان کی فلم 'شکنتلا دیوی' او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر جاری کی گئی تھی۔
اس میں بھی ان کی اداکاری کی تعریف کی گئی اور انہیں فلمی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔











