بالی وڈ: بڑے نام خواتین کے مرکزی کرداروں والی فلموں سے خائف کیوں؟

تاپسی پنوں

،تصویر کا ذریعہtaapseeofficial

    • مصنف, سپریا سوگلے
    • عہدہ, ممبئی

بالی ووڈ اداکارہ تاپسی پنوں جو پنک، ملک، بدلہ اور سانڈ کی آنکھ جیسی فلموں میں ایک مضبوط عورت کا کردار ادا کر چکی ہیں، نوجوان اداکاراؤں میں خواتین کے مرکزی کردار ادا کرنے والی اداکارہ کے طور پر اپنا نام بنا رہی ہیں۔

لیکن تاپسی کا کہنا ہے کہ خواتین پر مبنی فلموں کے لیے اداکاراؤں میں مقابلہ کم ہے کیونکہ فلم انڈسٹری میں بہت سے خواتین فلموں کا وزن اپنے کندھوں پر اٹھانا نہیں چاہتیں۔

وہ کہتی ہیں ’اگر فلم فلاپ ہوئی تو ذمہ داری ان پر آئے گی، لہذا بہت سی اداکارائیں اس کو محفوظ نہیں سمجھتی ہیں۔‘

تاہم اپنے کریئر کے آغاز سے ہی تاپسی کو بڑے سٹارز کے ساتھ فلمیں نہیں ملیں لہذا ان کے لیے صرف ایسی فلمیں کرنے کا آپشن رہ گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

تاپسی نے اعتراف کیا ہےکہ آج بھی ان کے پاس کوئی زیادہ آپشن نہیں ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’میں نے کبھی نہیں کہا کہ میں ہیرو سے چھوٹا کردار نہیں کروں گی جبکہ کئی مرد اداکاروں نے مجھے بتایا ہے کہ وہ ان فلموں کا حصہ نہیں ہوں گے جس میں ہیرو کا کردار کسی خاتون کردار سے کم ہو گا۔ میری ہر فلم میں ہر عورت کا کردار ایک مضبوط عورت کا ہے جو مرد اداکاروں کے لیے ایک خطرہ ہے۔‘

’بہت سے اداکاروں نے خود مجھے بتایا کہ ہم ایسی فلمیں نہیں کر سکتے ہیں جس میں خواتین کا کردار بہت مضبوط اور دوسرے کرداروں پر غالب ہو۔‘

تاپسی پنوں

،تصویر کا ذریعہtaapseeofficial

ان کا کہنا ہے کہ ایک طویل عرصے سے خواتین مردوں کے غلبے والی فلموں کا حصہ رہی ہیں، جس میں ان کے لیے صرف چار گانے اور دو مناظر ہوتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود اداکاراؤں نے فلموں میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا لیکن اب جب حالات بدل رہے ہیں تو اداکار گھبرا رہے ہیں۔ خواتین کے کرداروں کے گرد گھومنے والی فلمیں آئیں، دیکھنے والوں نے انھیں پسند کیا۔ لیکن سٹار اداکار خواتین پر مبنی فلموں میں نظر نہیں آتے۔

تاپسی اس کو فلم انڈسٹری کی تلخ حقیقت سمجھتی ہیں۔

تاپسی کا خیال ہے کہ یہ اداکار اپنی اداکاری کے بارے میں عدم تحفظ کا شکار ہیں اور انھیں لگتا ہے کہ ایسی فلمیں جن میں خواتین کردار غالب ہوں ان میں شریک ہونے سے ان کی سٹار پاور کم ہو جائے گی۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ فین ان سٹارز کو اس طرح کے کرداروں میں قبول نہیں کریں گے۔

تاپسی کا کہنا ہے انھیں اس بات پر بہت غصہ آتا ہے کہ یہ تمام سٹار خواتین اور مردوں کے مابین برابری کی بات تو کرتے ہیں لیکن ایسی بڑی فلموں کا حصہ نہیں بنتے۔

تاپسی اکشے کمار کا بہت احترام کرتی ہیں کہ سپر سٹار ہونے کے باوجود فلم ’مشن منگل‘ کا حصہ بنے، اس فلم کا مرکزی کردار ودیا بالن نے ادا کیا۔

تاپسی پنوں انوبھو سنہا کی آنے والی فلم ’تھپڑ‘ میں نظر آئیں گی جس میں گھریلو تشدد پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ یہ فلم 28 فروری کو ریلیز کی جا رہی ہے۔

شکارا

،تصویر کا ذریعہlunchboxmovie

ہندی فلمیں آسکر تک کیسے پہنچیں؟

لنچ باکس، پیڈلرز اور گینگ آف واسے پور جیسی فلمیں بنانے والی انڈین پروڈیوسر گنیت مونگا نے سنہ 2018 میں اپنی دستاویزی فلم ’پیریڈ، دا اینڈ آف سینٹینس کے لیے اکیڈمی ایوارڈ جیتا لیکن بطور خاتون پروڈیوسر ان کا فلمی سفر آسان نہیں رہا۔

گنیت کہتی ہیں کہ ان سے بطور خاتون پروڈیوسر سوالات نہیں پوچھے گئے لیکن ان کی کم عمر کی وجہ سے ان کے کام پر سوالیہ نشان لگائے گئے

لیکن ایک مختصر دستاویزی فلم کے لیے آسکر جیتنے کے بعد انھیں اب اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا پڑتی۔

جہاں کورین فلم ’پیراسیائٹ‘ نے رواں سال آسکر جیت کر تاریخ رقم کی، اسی طرح ہندی فلمیں آسکر تک پہنچنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔

ابھی تک انڈیا کی جانب سے بھیجے جانے والی فلم ’مدر انڈیا‘ اور ’لگان‘ ہی صرف آسکر نامزدگی تک پہنچ سکیں ہیں۔

گنیت جو ایک دہائی سے فلم انڈسٹری سے منسلک ہیں، سمجھتی ہیں کہ جب ایک امریکن ڈسٹری بیوٹر ہندی فلم کا حصہ بن جائے گا تو فلم آسکر تک پہنچ جائے گی۔

وہ کہتی ہیں ’آسکر ایک امریکی ایوارڈ ہے۔ آپ کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو جانتے ہوں کہ فلم وہاں فلم کیسے لے جا سکتے ہیں اور وہاں کیسے اسے ریلیز کرنا ہے۔ اس کے بعد کسی ہندی فلم میں امریکی ڈسٹری بیوٹر رکھنا بہت ضروری ہے۔

اس کی توقع رکھنی چاہیے کہ صحیح ہندی فلموں کے چناؤ میں مشکلات ہوں ، جیسے لنچ باکس میں امریکی تقسیم کار سونی پکچر کلاسیکی اور ’دی پیرا سائٹ کا فلم ڈسٹربيوٹر بھی ہالی وڈ سے منسلک تھا اور اسی وجہ سے یہ ممکن ہوا. "

گنیت کو اپنے کیریئر میں تقریباً 16 نئے ہدایت کاروں کو اپنی کہانی سنانے کا موقع ملا۔

ان کا کہنا ہے کہ نئی نسل کی کہانیاں آج کے دور سے متعلقہ ہیں لہذا وہ نوجوان ہدایت کاروں کے ساتھ کام کرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔

اب وہ اپنی مختصر دورانیے کی فلم سیریز ’زندگی ان شارٹ‘ میں سات نئے ہدایت کاروں کو موقع فراہم کررہی ہیں جس میں سات کہانیاں ہوں گی۔

ان کہانیوں میں نینا گپتا، طاہرہ کشیپ، سواروپ سمپت اور سنجے کپور جیسے بہت سے معروف نام شامل ہیں۔ یہ فلم فلپ کارٹ کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر ریلیز کی جائے گی۔

شکارا

،تصویر کا ذریعہvinodchoprafilms

’کچھ لوگ ناراض ہیں کہ میں نے نفرت، غصہ اور ریپ نہیں دکھایا‘

فلمساز ودھو ونود چوپڑا کی فلم شکارا کی ریلیز کے بعد انھیں کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بہت سے لوگ فلم کی تعریف بھی کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر کہا جا رہا ہے کہ فلم میں کشمیری پنڈتوں کو ملک بدر کرنے کا درد اور تکلیف ایمانداری کے ساتھ نہیں دکھایا گیا۔

ودھو ونود چوپڑا نے تمام تر تنقید کا بھرپور جواب دیا ہے۔

بی بی سی ہندی کے ساتھ خصوصی گفتگو میں ان کا کہنا تھا ’شکارا میری آج تک کی سب سے مشکل فلموں میں سے ایک ہے۔ اس کی وجہ اس کا مقام تھا۔ میں وہاں ڈیڑھ سال رہا اور میں نے بہت کچھ دیکھا۔ وہاں شوٹنگ کرنا مشکل تھا لیکن یہ فلم بنانا میرے لیے بہت ضروری تھا کیونکہ یہ فلم توڑنا نہیں، بلکہ جوڑنا سکھاتی ہے۔ "

’آپ سب جانتے ہو کہ جب یہ فلم ریلیز ہوئی تھی تو بہت سارے لوگوں نے کہا تھا کہ اس فلم میں نفرت، تشدد کو دکھائیں ، عصمت دری کے مناظر دکھائیں لیکن میں نے یہ فلم اپنی والدہ کے لیے بنائی ہے۔ میری والدہ کشمیر میں رہتی تھیں ، اس کا گھر لوٹ لیا گیا اور بہت سالوں بعد جب وہ وہاں گئیں تو انھوں نے صرف اتنا کہا کہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔، میری ماں نے تمام پڑوسیوں سے ملاقات کی ، سب کو گلے لگایا۔

ودھو ونود چوپڑا کا کہنا ہے کہ مجھے جو برا لگتا ہے وہ یہ ہے کہ آج کے دور میں لوگ نفرت اور غصے کو بیچ کر پیسہ کماتے ہیں ، انہیں سمجھ نہیں آتی ہے کہ وہ جو بیچ رہے ہیں اس سے پیسہ کمائیں گے ، لیکن ملک میں کتنا زہر پھیل رہا ہے۔ میں اپنی فلم سے نفرت پھیلانا نہیں چاہتا تھا اور اس لیے میں نے اپنی فلم کا نام شکارا رکھا تھا۔

شکارا

،تصویر کا ذریعہvinodchoprafilms

"میں نے اپنی فلم کا نام یہ تو نہیں رکھا۔ میں بکھرا ہوا ہوں لیکن میں ایک پنڈت ہوں، میں ان لوگوں سے کیا کہوں سکتا ہوں جو کہتے ہیں کہ میں درد نہیں دکھا سکتا۔ شکارا کا مطلب ایک خوبصورت کشتی بھی ہے، جس میں دو افراد محبت میں ہیں اور اس کے نیچےنفرت کا پانی ہے ، اور میرا پہلا پوسٹر بھی ایسا ہی تھا۔

"میں اس مسئلے کو حل نکالنے کے لیے ایک بہت ہی آسان بات کہہ رہا ہوں کہ مشکل کا حل نکالیے۔ میں نے اکثر اپنے وزیر اعظم کو یہ کہتے سنا ہے کہ سب کا ساتھ اور سب کا ویکاس‘۔ تو کیا وہ لوگ جو میری فلم کی مخالفت کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ میں کہوں سب کی بربادی۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا۔ میں نے بہت سی نفرت انگیز فلمیں دیکھی ہیں لیکن ہم نے کبھی نہیں کہا کہ ہم نفرت کو بیچیں گے۔ ‘