حلیمہ عدن: حجاب اوڑھنے والی خاتون کو ماڈلنگ کیوں چھوڑنا پڑی؟

حلیمہ عدن

،تصویر کا ذریعہGILIANE MANSFELDT PHOTOGRAPHY

حلیمہ عدن حجاب اوڑھنے والی پہلی سپر ماڈل تھیں۔ لیکن انھوں نے نومبر میں یہ کہہ کر ماڈلنگ چھوڑنے کا اعلان کیا تھا کہ یہ شعبہ ان کے مسلم عقائد سے مطابقت نہیں رکھتا۔

بی بی سی نے ان کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ وہ ماڈل کیسے بنیں اور اب وہ اپنے اس فیصلے سے پیچھے کیوں ہٹ گئی ہیں۔

23 سالہ حلیمہ اس وقت سینٹ کلاؤڈ منی سوٹا میں ہیں جہاں وہ صومالیہ سے آئے دیگر افراد کے بیچ پلی بڑھیں۔ اب انھوں نے عام کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور کوئی میک اپ نہیں کیا ہوا۔ وہ اپنے پالتو کتے کوکو کے ساتھ کھیل رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

وہ کہتی ہیں کہ ’میرا نام حلیمہ ہے اور میرا تعلق کاکوما سے ہے۔‘ ان کا مطلب کینیا میں پناہ گزین کا وہ کیمپ ہے جہاں ان کی پیدائش ہوئی تھی۔

لوگوں نے انھیں حجاب پہننے کا رواج قائم کرنے والی ابتدائی سپر ماڈلز میں سے ایک قرار دیا ہے۔ وہ ایسی پہلی خاتون تھیں جن کی تصویر ووگ میگزین کے پہلے صفحے پر شائع ہوئی۔

لیکن انھوں نے ماڈلنگ میں اپنے کیریئر کو دو ماہ قبل الوداع کہہ دیا تھا، یہ کہہ کر کہ فیشن کی صنعت ان کے مسلم عقائد سے مطابقت نہیں رکھتی۔

حلیمہ عدن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن2017 میں ایک فیشن شو میں حلیمہ کی تصویر

وہ ہنستے ہوئے کہتی ہیں کہ ’میں اب پہلی بار کسی انٹرویو میں اتنی پُرسکون ہوں۔‘

’کیونکہ میں نے تیار ہونے میں 10 گھنٹے نہیں لگائے، اور نہ ہی ایسے کپڑے پہنے ہیں جن میں، میں بلکل پُرسکون نہیں ہوتی تھی۔‘

حجاب اوڑھنے والی ماڈل ہونے کی وجہ سے حلیمہ کو اپنے کپڑوں کے بارے میں کافی خیال رکھنا پڑتا تھا۔ اس سفر کے آغاز میں وہ اپنے خود کے حجاب ایک بکسے میں لے کر پھرتی تھیں۔ انھیں ہر شوٹ کے لیے اپنے ساتھ لمبے ڈریس اور سکرٹ لے کر گھومنا پڑتا تھا۔ امریکی گلوکار ریحانہ کے برانڈ فینٹی بیوٹی کے لیے اپنی پہلی کیمپین میں انھوں نے اپنا سیاہ حجاب استعمال کیا تھا۔

ان کی شرط تھی کہ انھیں جیسا مرضی تیار کیا جائے لیکن ہر شوٹ پر وہ اپنا حجاب پہنے رکھیں گی۔ یہ ان کے لیے اتنا اہم تھا کہ جب 2017 میں انھیں دنیا کی سب سے بڑی ماڈلنگ ایجنسیوں میں سے ایک آئی ایم جی کے لیے کام کرنے کا موقع ملا تو انھوں نے اپنے معاہدے میں درج کروایا کہ انھیں کبھی حجاب اتارنے کا نہیں کہا جائے گا۔ ان کے لیے ان کا حجاب سب کچھ تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ایسی لڑکیاں بھی ہیں جو ماڈلنگ کے معاہدے کے لیے اپنی جان بھی داؤ پر لگا سکتی ہیں۔ لیکن میں یہ کام چھوڑنے کے لیے تیار تھی اگر میری شرط نہ مانی جاتی۔‘

حلیمہ عدن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن2020 کے ایک فیشن شو میں انھوں نے مشہور برانڈ ٹامی ہلفگر کے لیے کام کیا

یہ اس وقت کی بات ہے جب کسی نے ان کا نام بھی نہیں سنا تھا۔ وہ اپنے بقول دوسروں کے لیے ’کچھ بھی نہیں تھیں۔‘

لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان کی اپنے کپڑوں پر مرضی کم ہوتی گئی۔ وہ سر ڈھانپنے کے لیے ایسے کپڑے بھی پہننے لگیں جو وہ شروع میں کبھی نہ پہنتیں۔

’میں پھر راستے سے بھٹکنا شروع ہوگئی اور پریشانی کے حال میں ایک درمیانی جگہ میں داخل ہوگئیں جہاں میں سیٹ پر موجود ٹیم کو اپنے حجاب کی سٹائلنگ کرنے دیتی تھی۔‘

ان کے کیریئر کے آخری برس کے دوران ان کا حجاب چھوٹا ہوتا گیا۔ اور کبھی کبھار یہ صرف ان کی گردن اور سینے پر ہوتا تھا۔ اور کبھی کبھار انھیں سر پر حجاب کی جگہ جینز یا کوئی دوسرا کپڑا اوڑھنا پڑتا۔

حلیمہ کے معاہدے میں ایک اور اہم نقطہ درج تھا کہ انھیں تیار ہونے کے لیے اپنی الگ ذاتی جگہ دی جائے گی تاکہ تیاری کے دوران انھیں باقی لوگ دیکھ نہ سکیں۔

لیکن جلد انھیں احساس ہوا کہ حجاب اوڑھنے والی دیگر ماڈلز، جو ان سے متاثر ہو کر اس شعبے کا حصہ بنی تھیں، سے ویسا سلوک نہیں کیا جارہا۔ ان ماڈلز کو کہا جاتا تھا کہ کوئی باتھ روم ڈھونڈ کر وہیں تیار ہو جائیں۔

’مجھے یہ بالکل اچھا نہیں لگا۔ میں نے سوچا کہ یہ لڑکیاں مجھے دیکھ کر میری پیروی کر رہی ہیں اور میں نے انھیں مشکل سے دوچار کر دیا ہے۔‘

انھوں نے سوچا تھا کہ ان کے بعد آنے والی لڑکیوں کو ویسا ہی سلوک ملے گا اور وہ ان کے برابر ہوں گی۔ اس طرح ان کے تحفظ کے لیے حلیمہ کے جذبات بڑھ گئے۔

’ان میں سے کئی لڑکیاں نوجوان ہیں اور یہ صنعت کافی عجیب ہو سکتی ہے۔ حتی کہ جن پارٹیوں میں ہم جاتے ہیں وہاں بھی میں خود کو بڑی بہن بنا لیتی تھی اور حجاب پہننے والی ماڈلز کو اپنے ساتھ رکھتی تھیں کیونکہ اکثر انھیں مردوں کا گروہ گھیر لیتا تھا اور ان کا پیچھا کرتا تھا۔ میں سوچتی تھی کہ ’یہ ٹھیک نہیں لگ رہا، وہ صرف ایک بچی ہی تو ہے‘۔ میں اسے وہاں سے واپس بلا کر پوچھتی تھی کہ وہ کس کے ساتھ ہے۔‘

اس ذمہ داری اور برادری کے احساس کی ایک بڑی وجہ حلیمہ کا صومالی پس منظر ہے۔

حلیمہ عدن

،تصویر کا ذریعہAlamy

،تصویر کا کیپشن2016 میں حلیمہ نے مِس منی سوٹا مقابلوں میں شرکت کی

کینیا کے شمال مغربی حصے میں کاکوما پناہ گزین کیمپ میں جب وہ ایک بچی تھیں تو انھیں ان کی والدہ نے سکھایا تھا کہ سخت محنت کرو اور دوسروں کی مدد کرو۔ یہ جاری رہا جب حلیمہ سات برس کی ہوئیں اور منی سوٹا میں پہنچ کر زندگی گزارنے لگیں۔ یہ امریکہ میں صومالی برادری والا سب سے بڑا علاقہ ہے۔

حلیمہ ہائی سکول میں حجاب پہننے والی پہلی ہوم کمنگ کوئین بن گئی تھیں۔ یہ ایک اعزاز ہے جو سکول میں صرف مشہور بچوں کو ملتا ہے۔ اس دوران انھیں معلوم تھا کہ ان کی والدہ، جنھیں صرف ان کے اچھے نمبروں سے غرض ہے، اس کی مخالفت کریں گی۔

’مجھے جب نامزد کیا گیا تو میں بہت شرمندہ ہوئی۔ طلبہ گھر آتے تھے تو میں کہتی تھی ’یہ نہ کرو۔ میری امی اپنے جوتے تیار رکھیں گی اور آپ یہ سمجھ نہیں پائیں گے کہ آپ کس مصیبت میں پھنس گئے ہیں!‘۔‘

ان کا ڈر حقیقت پر مبنی تھا۔ حلیمہ کی والدہ نے ان کا ہوم کمنگ کا تاج توڑ دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’تم صرف اپنے دوستوں اور خوبصورتی کے مقابلوں پر توجہ دے رہی ہو۔‘

حلیمہ نے 2016 میں مِس منی سوٹا کے مقابلے میں حصہ لیا۔ وہ حجاب پہننے والی پہلی امیدوار تھیں اور وہ اس مقابلے میں سیمی فائنل تک پہنچ گئی تھیں۔

اور پھر اپنی والدہ کو مزید مایوس کرتے ہوئے حلیمہ نے ماڈلنگ کا راستہ اپنایا۔ حلیمہ کی والدہ کے مطابق یہ شعبے ان کے ایک سیاہ فام مسلم پناہ گزین کی حیثیت سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔

حلیمہ نے اس دوران یزی اور میکس مارا جیسے ناموں کے لیے کام کرنا شروع کر دیا۔ وہ مِس یو ایس اے کے مقابلوں میں جج بھی بنی۔ لیکن ان کی والدہ ایک ہی بات کہتی تھیں: ’جاؤ جا کر صحیح نوکری ڈھونڈو۔‘

حلیمہ کے کیریئر کے انسانیت دوست پہلو نے ان کی والدہ کو منانے میں مدد کی اور وہ انھیں اس بنیاد پر رضا مند کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔ وہ ایک پناہ گزین تھیں جنھوں نے 12 روز تک صومالیہ سے کینیا تک پیدل سفر کیا تھا۔ وہ دوسروں کی مدد کی قدر جانتی تھیں۔

حلیمہ کہتی ہیں کہ ’آپ کبھی ماڈلنگ نہ کریں اگر اس میں انسانیت سے جڑا پہلو نہ ہو۔ آئی ایم جی کے ساتھ اپنی پہلی میٹنگ کے دوران میں نے کہا کہ مجھے یونیسیف لے چلیں۔‘

حلیمہ عدن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

آئی ایم جی نے حلیمہ کی اس شرط کو بھی قبول کیا اور 2018 میں وہ یونیسیف کی سفیر بن گئیں۔ وہ اپنا بچپن پناہ گزین کے ایک کیمپ میں گزار چکی تھیں اور اب ان کا کام بچوں کے حقوق پر مبنی تھا۔

’میری والدہ نے مجھے کبھی ماڈل یا میگزین کوور پر آنے والی لڑکی کے طور پر نہیں دیکھا۔ انھوں نے مجھے نوجوان لڑکیوں کے لیے ایک امید کی کرن سمجھا اور وہ مجھے ہمیشہ یاد دلاتی رہتی تھیں کہ کیسے مجھے اُن کے لیے ایک مثال بننا ہے۔‘

حلیمہ بے گھر بچوں کے حوالے سے آگاہی پھیلانا چاہتی تھیں۔ وہ ان بچوں کو بتانا چاہتی تھیں کہ ایک دن وہ بھی کسی پناہ گزین کے کیمپ سے نکل کر ان کی طرح کی زندگی گزار سکتے ہیں۔

لیکن یونیسیف ان کی توقعات پر پورا نہیں اترا۔

2018 میں انھوں نے یونیسیف کے سفیر کا عہدہ چھوڑنے کے کچھ عرصے بعد انھوں نے کوکاما کے کیمپ کا دورہ کیا اور ایک ٹیڈ ٹاک دی۔

’میں بچوں سے ملی اور ان سے پوچھا ’کیا اب بھی سب ویسا ہو رہا ہے جیسے پہلے؟ کیا اب بھی آپ کو نئے آنے والوں کے سامنے ڈانس کرنا پڑتا ہے اور گانا پڑتا ہے؟‘ انھوں نے جواب دیا ’ہاں۔ لیکن اس بار ہم کسی مشہور شخصیت کے لیے ایسا نہیں کر رہے جسے کیمپ میں مدعو کیا جاتا ہو۔ بلکہ ہم یہ آپ کے لیے کر رہے ہیں۔‘

سوڈان کے پناہ گزین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسوڈان کے پناہ گزین ایک کیمپ میں ڈانس کر کے لوگوں کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں

حلیمہ کو اس پر کافی افسوس ہوا۔ وہ کہتی ہیں کہ انھیں یاد ہے کہ انھیں دوسرے بچوں کے ساتھ کیمپ میں داخل ہونے والی مشہور شخصیات کے لیے گانا اور ناچنا پڑتا تھا۔

’اقوام متحدہ کے عملے نے مجھے مستقبل کے لیے تیار کیا: ان تنظیموں کی مہربانی سے میں نے اپنے چہرے کے پہلی تصویر بنوائی تھی۔‘

انھیں ایسا لگتا تھا کہ یہ تنظیمیں بچوں کی تعلیم سے زیادہ اپنے برانڈ پر توجہ دیتی تھیں۔

’میں یونیسیف لکھ سکتی تھی جب مجھے اپنا نام بھی نہیں لکھنا آتا تھا۔ منی سوٹا نے مجھے میری پہلی کتاب، پہلا قلم، پہلا بستہ دیا۔ نہ کہ یونیسیف نے۔‘

انھیں لگتا تھا کہ ان کے وہاں سے جانے کے بعد چیزیں بدل گئی ہوں گی۔

نومبر میں انھوں نے بچوں کے عالمی دن کے موقع پر کاکوما میں بچوں سے ویڈیو کال پر بات کی۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ان حالات میں مزید کام نہیں کر سکتیں۔ موسم سرما میں عالمی وبا کے دوران انھیں اس حالت میں دیکھنا مشکل تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’بچوں سے بات چیت کے بعد میں نے ایک اہم چیز سیکھی۔‘

میں نے فیصلہ کیا کہ میں این جی او کی دنیا کے ساتھ کام نہیں کروں گی جو محض حوصلہ افزائی اور امید دلانے کے لیے میری اس خوبصورت کہانی کو استعمال کرتے ہیں۔

امریکہ میں یونیسیف نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ حلیمہ کے ساتھ ساڑھے تین سالہ شراکت اور حمایت کے شکر گزار ہیں۔ ’بہادری اور امید سے بھری ان کی کہانی نے دنیا کو ان کے نظریات سے آگاہ کیا ہے جو ہر بچے کے حقوق کو نمایاں کرتی ہے۔‘ انھوں نے مستقبل میں حلیمہ کے کیریئر کے حوالے سے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا ہے۔

ماڈلنگ میں اپنے کیریئر کے بارے میں حلیمہ کے شکوک بڑھ رہے تھے۔

فیشن کی صنعت میں ان کی مانگ بڑھ رہی تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے خاندان کے ساتھ زیادہ وقت نہیں گزار پاتی تھیں اور مسلم مذہنی تہواروں کے دوران بھی وہ گھر پر اکثر نہیں ہوتی تھیں۔

’کیریئر کے پہلے سال میں عید اور رمضان میں گھر پر ہوتی تھیں لیکن گذشتہ تین برسوں کے دوران میں ہمیشہ سفر پر ہوتی تھی۔ میں کبھی کبھار تو ہفتے میں چھ سے سات پروازوں میں سفر کرتی تھی۔ یہ رُک نہیں رہا تھا۔‘

حلیمہ عدن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ستمبر 2019 میں کنگ کانگ میگزین کے پہلے صفحے پر ان کی تصویر شائع ہوئی۔ اس میں انھوں نے سرخ اور سبز آئی شیڈو لگایا ہوا ہے اور چہرے پر بڑے زیورات پہنے ہوئے ہیں۔ یہ کسی ماسک کی طرح لگ رہا تھا جس میں ان کی ناک اور منھ کے علاوہ ہر چیز ڈھکی ہوئی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ سٹائل اور میک اپ خوفناک تھا۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے میں کسی سفید فام شخص کی جنسی خواہشات کی عکاسی کر رہی ہوں۔‘

اور انھیں بت بھی بُرا لگا جب اسی میگزین میں انھوں نے ایک برہنہ مرد کی تصویر بھی دیکھی۔

وہ پوچھتی ہیں کہ ’میگزین نے یہ قابل قبول کیوں سمجھا کہ پہلے صفحے پر حجاب پہنے مسلم لڑکی اور اگلے ہی صفحے پر ایک برہنہ مرد ہے؟‘ یہ ان کے عقائد کے سخت خلاف تھا۔

کنگ کونگ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم کئی فنکاروں، فوٹوگرافرز اور لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہیں جو اپنے کام کے اظہار کے لیے ایسے طریقے اپناتے ہیں جو کچھ لوگوں کے لیے اچھے جبکہ دوسروں کے لیے اشتعال انگیز ہوتے ہیں۔ لیکن تمام کہانیوں میں ہمیشہ اس عنوان اور ماڈل کی عزت کا خیال رکھا جاتا ہے۔‘

’ہم معذرت خواہ ہیں اگر حلیمہ کو ہمارے ساتھ کیے اپنے کام پر پچھتاوا ہے۔ اور اس بات پر کہ ہمارے اُس میگزین میں ایسی تصاویر تھیں جو انھیں ذاتی طور پر پسند نہیں آئیں۔ لیکن اس کا ان کے فیچر سے کوئی تعلق نہیں تھا۔‘

Instagram پوسٹ نظرانداز کریں
Instagram کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

Instagram پوسٹ کا اختتام

حلیمہ کہتی ہیں کہ وہ اپنے شوٹس کے دوران جب سفر کرتی تھیں اور ایئر پورٹ پر ہوتی تھیں تو اپنی تصاویر میں خود کو نہیں پہچان پاتی تھیں۔

’کام میں میرا تجسس ختم ہوگیا تھا کیونکہ میں خود کو دیکھ نہیں پاتی تھی۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کسی کے لیے ذہنی اعتبار سے کتنا نقصان دہ ہوسکتا ہے؟ جب مجھے خوش یا مطمئن ہونا ہو، جو کہ میری فطرت ہے، میں اپنی تصاویر دیکھتی ہوں۔ لیکن میں اب اس سے دور ہوچکی تھی۔

’میرا کیریئر بہت اوپر جا چکا تھا لیکن میں ذہنی طور پر خوش نہیں تھی۔‘

اور اس کے علاوہ دیگر مسائل بھی تھے۔ حجاب سے متعلق ان کے اصول کو ٹوٹنے تک لچکدار بنایا جاتا اور دوسری ماڈلز کے ساتھ بُرا سلوک ہوتا۔

کورونا وائرس کی عالمی وبا نے ہر چیز کو سمجھنے میں آسان بنا دیا۔ کووڈ 19 کے دوران فیش شو اور شوٹ رُک گئے۔ وہ اپنے شہر واپس آئیں اور اپنی والدہ کے ساتھ وقت گزارا جن کے ساتھ وہ اب بھی کافی قریبی تعلق رکھتی ہیں۔

’2021 کے بارے میں سوچ کر میں پریشان تھی کیونکہ مجھے گھر پر اپنے خاندان کے رہنا پسند ہے اور اپنے دوستوں سے ملنا اچھا لگتا ہے۔‘

اس سے واضح ہوتا ہے کہ نومبر میں انھوں نے ماڈلنگ کے ساتھ یونیسیف میں اپنا عہدہ کیوں چھوڑ دیا۔

حلیمہ عدن

،تصویر کا ذریعہAlamy

’میں کووڈ 19 کی وجہ سے ملنے والے موقع کے لیے شکر گزار ہوں۔ ہم اپنے شعبوں پر اب نظر دوڑا کر خود سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا اس سے واقعی ہمیں خوشی مل رہی ہے، یا کسی اور کام میں لطف آتا ہے؟‘

ان کی والدہ کی دعا آخر کار قبول ہوئی۔ وہ اس قدر خوش ہوئیں کہ حلیمہ کے ساتھ فوٹو شوٹ پر بھی راضی ہوگئیں۔

’جب میں ماڈل تھی تب میری ماں نے ہر شوٹ پر انکار کیا تھا۔ وہ ماں بیٹی والی کیمپین پر بھی نہ کر دیتی تھیں۔ میں چاہتی تھی کہ وہ مجھے میرے تخلیقی کام کے دوران دیکھیں۔‘

’میں سب زیادہ ان سے متاثر ہوں اور خدا کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ میں ان کی بیٹی بنی۔ وہ ایک کمال کی خاتون ہیں جنھوں نے مشکلات کا بہادری سے مقابلہ کیا۔‘

حلیمہ عدن

،تصویر کا ذریعہGILIANE MANSFELDT PHOTOGRAPHY

،تصویر کا کیپشنحلیمہ کی ایک فیملی فوٹو

حلیمہ صرف اس فوٹو شوٹ کی وجہ سے خوش نہیں ہیں۔ وہ افغانستان میں جنگ اور پُرتشدد واقعات کے دوران پناہ گزین کی نقل مکانی پر ایک فلم ’آئی ایم یو‘ بنا رہی ہیں جو مارچ میں ایپل ٹی وی پر نشر ہوگی۔

’ہم تجسس سے انتظار کر رہے ہیں کہ آیا ہم آسکر کے لیے نامزد ہوں گے۔‘

یونیسیف چھوڑنے کا مطلب یہ نہیں کہ حلیمہ اب خیراتی کام نہیں کر رہیں۔

’میں رضا کارانہ کام چھوڑ نہیں رہی۔ مجھے لگتا ہے کہ دنیا کو میری ضرورت بطور ایک ماڈل یا مشہور شخصیت کے نہیں بلکہ بطور کاکوما کی حلیمہ ہے، یعنی ایک ایسا شخص جو پیسے کی قدر جانتا ہو اور برادری کی اصل اہمیت کو نمایا کرے۔‘

لیکن سب سے پہلے وہ ایک وقفہ چاہتی ہیں۔

’میں کبھی کسی صحیح چھٹی نہیں گئی۔ میں اپنی ذہنی صحت اور خاندان کو ترجیح دے رہی ہوں۔ میں صرف جینا نہیں چاہتی بلکہ زندگی میں ترقی پانا چاہتی ہوں۔ میں اپنی ذہنی صحت چیک کروا رہی ہوں اور تھراپی کو وقت دے رہی ہوں۔‘