جب ایک دل جلے بیک پیکر کی انڈیا میں ’دی بیٹلز‘ سے ملاقات ہوئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سوتک بسواس
- عہدہ, بی بی سی نیوز
نصف صدی قبل انڈیا میں ایک روحانی اجتماع میں ’دی بیٹلز‘ بینڈ کے ساتھ کینیڈا کے ایک بیک پیکر کی ملاقات ایک نئی دستاویزی فلم کا موضوع ہے۔ فلمساز پال سالٹزمان کے لیے یہ ایک ’زندگی بدلنے والا‘ تجربہ تھا۔
جب 1968 میں کینیڈا کا ایک 23 سالہ شخص مراقبہ کرنے کے لیے انڈیا کے مقدس شہر رشیکش کے قریب ایک آشرم میں پہنچا تو اسے بتایا گیا کہ وہ اس جگہ پر نہیں جا سکتا کیونکہ وہاں 'دی بیٹلز' بینڈ کے اراکین رہائش پذیر تھے۔
فلمساز پال سالٹزمان اس وقت انڈیا کے دورے پر تھے جب انھیں کینیڈا کے شہر سے یہ اطلاع ملی کہ ان کی گرل فرینڈ نے انھیں چھوڑ دیا ہے۔
دل شکستہ پال ٹرین، کشتی اور ٹیکسی کے ذریعے سفر کرتے ہوئے مراقبے کے لیے اس آشرم پہنچے جسے ماہارشی مہاہیش یوگی چلاتے تھے اور وہ ہیپی ڈوم کے دور سے ابھرنے والے خود ساختہ گروؤں میں سب سے زیادہ مہشور تھے۔
سالٹزمان کہتے ہیں ’میرا ارادہ اپنے ٹوٹے دل کو سنبھالنے کے لیے مراقبہ کرنے کا تھا۔‘
بہت گھنٹوں کی منت سماجت کے بعد آشرم پر کام کرنے والے مدد گار نے سالٹزمان کو اندر جانے کی اجازت دے دی۔ وہ سیدھے ایک گھنٹے تک جاری رہنے والے مراقبے کے سیشن میں گئے اور اس کے بعد بہتر محسوس کرتے ہوئے باہر آئے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سالٹزمان نے مجھے ٹیلیفون پر دیے گئے انٹرویو میں بتایا ’دل ٹوٹنے کی تکلیف جا چکی تھی، میں آشرم کے علاقے کا جائزہ لینے کے لیے قریبی جنگل کی جانب چل پڑا۔‘
وہاں انھوں نے پہلی مرتبہ دی بیٹلز کو دیکھا تھا۔ جان لینن، پال میکارٹنی، رنگو سٹار اور جارج ہیرسن روایتی انڈین لباس پہنے ایک پہاڑی کے قریب لمبے میز پر بیٹھے تھے۔

،تصویر کا ذریعہPAUL SALTZMAN
ان میں سے کچھ کی بیویاں اور گرل فرینڈز بھی موجود تھیں جبکہ اداکارہ میا فارو، مائیک لو آف دی بیچ بوائز اور لوک گلوکار دانون بھی وہاں موجود تھے۔ انھوں نے تین ماہ تک اس 18 ایکٹر پر محیط ریاست میں مراقبے کا ارادہ کر رکھا تھا۔
سالٹزمان نے پوچھا کہ کیا وہ ان کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں، میکارٹنی نے ان کے لیے ایک کرسی کھینچ لی۔
78 برس کے ایمی ایوارڈ یافتہ ڈائریکٹر سالٹزمان کہتے ہیں ’میں وہاں بیٹھ گیا اور میرا ذہن خوشی کے مارے چیخ رہا تھا: یہ دی بیٹلز ہیں۔‘
چار برس قبل سنہ 1964 میں سالٹزمان نے 18 ہزار دیوانہ وار چیختے مداحوں کے ساتھ انھیں ٹورونٹو کے میمل لیف گارڈن میں دیکھا تھا۔ اب انھیں اس کے بارے میں زیادہ یاد نہیں۔
اب خوش قسمتی سے اچانک وہ دنیا کے سب سے زیادہ مقبول بینڈ کے سامنے کھڑے تھے۔
بیٹلس نے اپنے 1967 کے مشہور البم، سارجنٹ پیپرز لونلی ہارٹس کلب بینڈ سے کامیابی کا آغاز کیا تھا اور اگلے گانوں کو لکھنا شروع کیا تھا، جو وائٹ البم کے نام سے مشہور ہوئے تھے۔
سالٹزمان کہانی سناتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے درمیان خاموشی جلد ہی ختم ہو گئی۔

،تصویر کا ذریعہLARRY KURLAND
لینن نے سالٹزمان سے یوچھا ’کیا تم امریکی ہو؟‘
سالٹزمان نے جواب دیا ’نہیں میں کینڈین ہوں۔‘
لینن نے طنز کیا: ’اور وہ کالونیوں میں سے ایک سے ہے‘ اور میز پر قہقہے گونجنے لگے۔
لینن نے مذاق کیا: ’تو کیا آپ ابھی بھی اس کی (شاہی) عظمت کی پوجا کر رہے ہیں۔‘
سالٹزمان نے کہا کہ ’ذاتی‘ طور پر نہیں۔
میک کارٹنی اور سٹار بھی آ گئے۔
’ٹھیک ہے، تمہاری کرنسی پر ملکہ ہے۔۔۔‘
سالٹزمان نے جواب دیا: ’ہاں ہماری کرنسی پر ملک ہے لیکن وہ تمہارے ساتھ رہتی ہے۔‘
اگلے ایک ہفتے تک بیک پیکر بیٹلز کے ساتھ گھومتا پھرتا رہا۔ انھوں نے مراقبہ کیا، گانے گائے، باتیں کیں اور سبزی والے کھانے کھائے۔
فیب فور سے ملاقات کے 50 برس سے بھی زیادہ عرصے کے بعد سالٹزمان نے ایک 79 منٹ کی دستاویزی فلم بنائی ’انڈیا میں بیٹلز سے ملاقات‘۔ مورگن فری مین کی بیان کردہ اورپرڈیوسر ڈیوڈ لینچ کی اس فلم میں بہت سی دوسری چیزوں کے علاوہ اس بینڈ کی کچھ انتہائی نایاب تصاویر بھی شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPAUL SALTZMAN
سالٹزمان کہتے ہیں: ’یہ ایک جادوئی ملاقات تھی۔ مجھے ان کی موسیقی بہت پسند آئی، لیکن میں ان سے ویسے پیش نہیں آیا کہ وہ سیلیبرٹیز ہیں اور انھوں نے بھی بہت نارمل رویہ رکھا اور ان میں غرور نہیں تھا۔‘
سالٹزمان نے اپنے سستے سے پینٹکس کیمرہ کے ساتھ تین موقعوں پر اس بینڈ کی تصاویر لیں۔ ان 54 میں سے 30 تصاویر میں ایک بیٹل تھا۔
پھر وہ گھر واپس آئے اور ان تصاویر کو 32 برس کے لیے اپنے گھر کے تہہ خانے میں رکھا دیا، یہاں تک کے ان کی بیٹی نے انھیں ان تصاویر سے کچھ کرنے کے لیے آمادہ کیا۔ یہی وہ وقت تھا جب سنہ 2005 میں انھوں نے ان تصاویر میں سے کچھ پر مشتمل ایک کتاب تیار کی۔
آشٹرم میں، رنگو سٹار نے سالٹزمان کو اپنا 16 ایم ایم کا کیمرہ اور تقریباً 100 فٹ لمبی فلم دی تاکہ وہ بینڈ کی کچھ فوٹیج بنا سکیں اور اپنے پاس رکھ سکیں اور بتایا کہ ’اس سے انھی کچھ رقم مل سکتی ہے۔‘ تین منٹ کی یہ فوٹیج جسے سالٹزمان نے شوٹ کیا اور اپنے ساتھ گھر لے گئے تھے، کھو گئی اور دوبارہ کبھی نہیں ملی۔
سالٹزمان کہتے ہیں ’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں ان تصاویر اور فوٹیج کے ساتھ اتنا کچھ کروں گا۔ میں بارہ برس تک بیٹلز کو ایک پروجیکٹ کے لیے رضامند کرنے کی کوشش کرتا رہا لیکن انھوں نے کبھی جواب نہیں دیا اور میں نے ہار مان لی۔‘

،تصویر کا ذریعہPAUL SALTZMAN
اس آشرم میں، جو بندروں اور پرندوں سے بھرے جنگل میں گھرا تھا، بیٹلز کا وائٹ البم وجود میں آیا اور اسی البم نے ناقدین کو تقسیم کر دیا۔
سالٹزمان یاد کرتے ہیں کہ بینڈ نے 30 سے 48 گانے لکھے جن میں سے کئی نے نئے ریکارڈ بھی قائم کیے۔
ایک گانا اوب لا ڈی، اوب لا ڈی ایک چھوٹی سے کاٹیج کی سیڑھیوں میں تخلیق کیا گیا جہاں زیادہ تر ملازمین رہتے تھے۔
سالٹزمان یاد کرتے ہیں کہ ایک دن وہ کاٹیج کے پاس سے گزر رہے تھے جب انھوں نے لینن اور میک کارٹنی کو سییڑھوں پر بیٹھے اپنے گٹاروں سے دھنیں بجاتے دیکھا۔
وہ واپس بھاگے، کیمرہ لیا اور ان دونوں کی تصاویر بنائی جس میں ایک سائیڈ پر سٹار بھی بیٹھے تھے۔
بیٹلز انڈیا میں کئی ہفتے تک رہے سوائے رنگو کے جن کو جلدی واپس جانا پڑا۔ابھی تک یہ آشرم ان کے پرستاروں کے لیے زیارت کا ایک مقام ہے۔
سالٹزمان اس ملاقات کو ’زندگی بدل دینے والا تجربہ‘ بلا کر یاد کرتے ہیں۔ فلم میں انھوں نے اس وقت کو خاکوں، تصاویر اور آشرم کی اصل فوٹیج اور انٹرویوز کے ساتھ دوبارہ بنایا ہے۔
’لینن، سب سے زیادہ مزاحیہ تھے جن کا حس مزاح غیرمعمولی تھا۔ سٹار، بہت پرسکون دکھائی دیتے تھے۔ جارج سب سے زیادہ خاموش لیکن ہر وقت دل کی باتیں کرنے کے لیے تیار ہوتے تھے اور پال، بینڈ کے سب سے زیادہ زندہ دل اور دوستوں کی طرح پیش آنے والے رکن تھے۔‘
’میں صرف آٹھ دن کے لیے انھیں جانتا تھا لیکن وہ سب بہت جادوئی تھا۔‘









