امریکی گلوکارہ جینیفر گراؤٹ کو اسلام قبول کرنے کے بعد حجاب نہ پہننے پر کیا کیا کچھ سننا اور سہنا پڑا؟

،تصویر کا ذریعہJeanGrout/Instagram
- مصنف, منزہ انوار
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
’مجھے مسلمان ہوئے سات سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ہاں، اگرچہ میں بنا حجاب کے اپنی تصویر شیئر کر رہی ہوں، لیکن حجاب کے بغیر بھی میں مسلمان ہوں۔‘
سات سال قبل اسلام قبول کرنے والی معروف امریکی گلوکارہ جینیفر گراؤٹ نے چند دن قبل اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ایک طویل پوسٹ شئیر کی، جس کے ساتھ انھوں نے اپنی بغیر حجاب والی ایک تصویر بھی پوسٹ کی۔
اس پوسٹ کے ذریعے انھوں نے سوشل میڈیا دباؤ کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی زور دیا کہ سر نہ ڈھانپ کر بھی وہ مسلمان ہی رہیں گی۔
اس پوسٹ میں جینفر نے سوشل میڈیا کے ذریعے نافذ کردہ ’غیر حقیقت پسندانہ توقعات‘ کے مسئلے پر کھل کر بات کی۔
جینیفر کے حجاب کو لے کر ان پر تنقید اتنی بڑھ گئی کہ تنگ آ کر انھوں نے سنیپ چیٹ کے کتے والے فلٹر کا استعمال کرتے ہوئے اپنی ایک ویڈیو پوسٹ کی (جسے اب ہر پلیٹ فارم سے ہٹا لیا گیا ہے) جس میں وہ یہ کہتے سنائی دیتی ہیں کہ ’آپ کو لگتا ہے میں حجاب کے بغیر کتے کے طرح نظر آتی ہوں تو یہ لیں آپ کی خواہشات کے پیشِ نظر میں کتا بن گئی ہوں۔‘
جینیفر گراؤٹ نے سنہ 2013 میں معروف ٹی وی شو ’عربز گاٹ ٹیلنٹ‘ میں شرکت کی تھی۔ انھوں نے عربی زبان نہ جانتے ہوئے بھی عربی میں ایک گانا گایا جس کے بعد وہ عرب دنیا میں انتہائی مقبول ہوئی تھیں۔ اسی سال انھوں نے اسلام بھی قبول کر لیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جینیفر کا تعلق امریکہ سے ہے مگر انھوں نے چار سال تک افریقی مسلم ملک مراکش میں رہائش اختیار کیے رکھی۔ عرب ممالک میں وہ اپنے عربی گانوں اور قرآن کی خوبصورت آواز میں تلاوت کے حوالے سے بہت مشہور ہیں۔
جینفر گراؤٹ نے بی بی سی کے ساتھ اپنے حجاب پر حالیہ بحث، اور اسلام قبول کرنے کے بعد کی ذاتی زندگی اور سوشل میڈیا پر انھیں کیا کچھ سننا اور سہنا پڑا، اس بارے میں بات کی۔ لیکن اس سے پہلے آئیے آپ کو ان کے حجاب تنازعے کا پسِ منظر بتاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہJennifer Grout Facebook
جینیفر گراؤٹ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شئیر کی جانے والی پوسٹ کا آغاز یہ تسلیم کرتے ہوئے کیا کہ انھیں معلوم ہے کہ ان کی اس تحریر سے کیا تنازعہ کھڑا ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے اپنی ذہنی حالت ٹھیک رکھنے کے لیے سوشل میڈیا سے بریک لینی پڑی۔ سوشل میڈیا کے مجھ پر زیادہ دباؤ ڈالنے کی وجہ یہ ہے کہ میں مسلم معاشرے کی ’غیر حقیقت پسندانہ توقعات‘ کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کر رہی ہوں اور اس کی وجہ سے ایک سے زیادہ مرتبہ میں اپنی ذات کو کھو بیٹھی ہوں۔‘
اس کے ساتھ جینیفر نے اپنی ایک ایسی تصویر پوسٹ کی جس میں انھوں نے سر نہیں ڈھانپا ہوا۔ اس سے قبل وہ زیادہ تر ایسی تصاویر پوسٹ کرتی تھیں جس میں انھوں نے حجاب پہنا ہوتا تھا۔
جینیفر نے صرف اس بنا پر کہ وہ قرآن کی تلاوت کرتی ہیں، خود کو مسلم دنیا کی رول ماڈل ماننے سے انکار کیا۔
ان کا کہنا تھا ’مجھے یقین ہے کہ سر ڈھانپنا ایک ’فرض‘ ہے، اس لیے میں یقیناً کسی بھی عورت کے حجاب پہننے کی حوصلہ شکنی کرنے کی کوشش نہیں کر رہی ہوں۔ لیکن اسی کے ساتھ ہی میں یہ بتانا چاہتی ہوں کہ ہر روز خود کو کسی ایسے انسان کے طور پر پیش کرنا جو میں نہیں ہوں، میری ذات کو کچل رہا ہے۔۔۔ اور ایسا صرف اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ میری آواز اچھی ہے اور میں قرآن کی تلاوت کرتی ہوں تو لوگ مجھ سے ایک رول ماڈل بننے کی توقع کر رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہJeanGrout/Instagram
جینفر کا کہنا تھا ’میں سمجھتی ہوں کہ میرا پلیٹ فارم ایک نعمت کے ساتھ ساتھ ذمہ داری بھی ہے۔ اللہ نے مجھے بہت کچھ عنایت کیا ہے جس میں تلاوت کرنے کی قابلیت بھی شامل ہے، اور یہ ایک اعزاز ہے جسے معمولی انداز میں نہیں لیا جانا چاہیے۔ لیکن میں اپنے مداحوں کو یہ بتانے اور سمجھانے کی بھی ضرورت محسوس کرتی ہوں کہ صرف تلاوت کرنے کی قابلیت میری تعریف نہیں ہے۔۔۔ میری اور بھی بہت سی دلچسپیاں ہیں، مثال کے طور پر مجھے گانا اور شعر لکھنا پسند ہے، مجھے زبان، کھیل اور رقص پسند ہے۔‘
انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو صرف ایک بزنس سمجھتے ہوئے آن لائن کمیونٹی کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے اپنی ناپسندگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’میں اس پلیٹ فارم کو خالصتاً ایک کاروبار کی طرح ٹریٹ کر سکتی ہوں اور اس بند ڈبے میں سر دیے رہ سکتی ہوں جس میں، میں نے خود کو پھنسا لیا ہے۔ لیکن یہ میری حقیقت نہیں ہے۔۔۔ میں ایسی نہیں ہوں۔‘
پوسٹ کا اختتام کرتے ہوئے جینفر نے کہا ’شاید کچھ دن میں آپ کو ویسی نظر آؤں جیسا آپ مجھے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور باقی دن شاید آپ مجھے ویسا دیکھیں جس کا آپ نے کبھی تصور نہ کیا ہو۔۔۔ مجھ میں بہت حد تک عیب ہیں۔۔ اللہ ہم سب کو معاف کرے۔‘
جینفر نے زور دیا کہ لوگوں کو بغیر جانے ان کی ظاہری حالت کی بنا پر جانچنا چھوڑ دیں۔ ساتھ ہی انھوں نے اپنے مداحوں کو یاد دلایا کہ ’جو کوئی بھی قرآن کی تلاوت کرتا ہے اس بنا پر وہ دوسروں سے سبقت لے جاتا ہے۔ اور میں تو صرف ایک ذریعہ ہوں۔۔۔ اس کے سوا کچھ بھی نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہ@JennigerGrout3
’لوگوں نے مجھے قرآن کی تلاوت کرنے والی حجابی لڑکی کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنے حجاب کے بارے میں آن لائن بحث سے متعلق، جینفر گراؤٹ کا کہنا تھا کہ ’حجاب، عبادت کا صرف ایک طریقہ ہے۔ یہ اسلام کے پانچ بنیادی ستونوں کا حصہ نہیں ہے لیکن آن لائن لوگوں کے تبصر ے پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ وہ حجاب کو زیادہ ہی اہمیت دیتے ہیں اور اسے اسلام کا ایک بنیادی ستون سمجھتے ہیں۔‘
جینفر کہتی ہیں کہ لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ ’مجھ جیسے مذہب تبدیل کرنے والے بیشتر افراد کی پرورش ایک ایسے معاشرے میں ہوئی ہے جو اسلام سے بالکل مختلف ہے۔۔ اور ہمارا ہر چیز کو دیکھنے کا اپنا ایک نظریہ ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے اسلام قبول کیے سات سال ہو گئے ہیں اور اس دوران میں بہت سے مراحل سے گزری ہوں۔‘
جینفر بتاتی ہیں کہ جب انھوں نے نیا نیا اسلام قبول کیا تو ان دنوں کبھی وہ حجاب پہن لیتیں اور کبھی نہ پہنتیں۔ لیکن بعد میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب انھوں نے عہد کیا کہ وہ حجاب نہیں اتاریں گی۔ اور اس دوران انھوں نے تقریباً سات مہینے عبایا کے ساتھ چہرے کا نقاب بھی پہنا۔ اس دوران وہ قطر میں مقیم تھیں۔
امریکہ واپس جاکر جینیفر نے حجاب پہننا تو برقرار رکھا لیکن چہرے کا نقاب ختم کر دیا۔ پھر اگلے تین سال انھوں نے باقاعدگی سے حجاب پہنا۔

،تصویر کا ذریعہ@JenniferGrout3
وہ کہتی ہیں ’اس کے بعد میں نے ذاتی وجوہات کی بنا پر حجاب نہ پہننے کا فیصلہ کیا۔ لیکن قرآن کی پہلی تلاوت کے بعد جب مجھے بہت شہرت ملنے لگی تو میں نے دوبارہ حجاب پہننا شروع کر دیا۔‘
’لیکن اب آکر مجھے ایسا محسوس ہونے لگا کہ سب کو خوش کرنے کے چکر میں جیسے میرا دم گھٹ رہا ہو۔ لوگوں نے مجھے صرف قرآن کی تلاوت کرنے والی حجابی لڑکی کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا۔‘
جینفر بتاتی ہیں کہ انھوں نے پانچ سال کی عمر میں موسیقی کی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا اور ایک موسیقار کے طور پر وہ ان پلیٹ فارمز کا آغاز اسلام قبول کرنے سے کہیں پہلے کر چکی تھیں۔
’یوٹیوب چینل شروع کیے مجھے 10 سال سے زیادہ کا عرصہ، اور فیس بک پر سات سال سے زیادہ وقت ہو چکا ہے اور ان پلیٹ فارمز کا مقصد یہ تھا کہ میں خود کو ایک آرٹسٹ کے طور پر فروغ دے سکوں۔‘
وہ کہتی ہیں ’قرآن کی تلاوت کرنے والے بھی آرٹسٹ ہوتے ہیں۔ اگر آپ میری تلاوت والی پہلی ویڈیو دیکھیں تو اس میں، میں نے حجاب نہیں پہنا ہوا اور اس پوسٹ کے ساتھ میری تحریر پڑھیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ میری اس راستے پر چلنے کی کوئی نیت نہیں تھی جس پر میں بعد میں چلتی چلی گئی۔ میں نے اپنے مداحوں کی نہ ختم ہونے والی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش شروع کر دی اور پھر اس دلدل میں دھنستی ہی چلی گئی۔‘

،تصویر کا ذریعہJeanGrout/Instagram
’سوشل میڈیا ایک دو دھاری تلوار ہے‘
جینفر کہتی ہیں کہ ان کے خیال میں سوشل میڈیا زندگی کو بہت مشکل بنا دیتا ہے۔ ’ایک آرٹسٹ کے طور پر آپ کو اس کی ضرورت پڑتی ہے۔۔۔ ایسا نہیں ہے کہ آپ یہاں اپنا آپ بیچتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ اپنی ’ذات کا ایک حصہ‘ یہاں بیچ رہے ہوتے ہیں۔‘
جینفر سمجھتی ہیں کہ ’سوشل میڈیا ایک دو دھاری تلوار ہے کیونکہ یہاں اپنا منجن بیچنے کے لیے آپ لوگوں کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک بار آپ ایسا کرنے کی کوششیں شروع کر دیں تو اپنی انفرادیت کھونے لگتے ہیں۔‘
’شاید اسی لیے بہت سے آرٹسٹ مشہور ہونے کے بعد ذہنی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔۔ اسی لیے میں نے سوچا ایسا کچھ ہونے سے قبل خود کو بچا لوں۔‘
وہ کہتی ہیں ’جب میں یہ کہتی ہوں کہ قرآن کی تلاوت ایک آرٹ ہے تو مجھے نہیں لگتا کہ اس سے قرآن کی روحانیت یا مذہبی اہمیت پر کوئی فرق پڑتا ہے۔ تلاوت کرنا میرے لیے بہت ہی مقدس ہے اور میں چاہتی ہوں ہمیشہ ایسا ہی رہے۔ لیکن میں صرف اس لیے حجاب پہن کر تلاوت کرتے ہوئے نظر نہیں آنا چاہتی کیونکہ لوگ مجھ سے ایسا کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔‘
جینیفر کہتی ہیں اسلام میں کسی بھی کام کو کرنے کے پیچھے سب سے اہم چیز ’نیت‘ ہوتی ہے۔ لیکن سوشل میڈیا کا مسئلہ یہ ہے کہ جب بہت سارے لوگ مسلسل آپ کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہوں کہ آپ کو کیسا نظر آنا چاہیے، تو آپ کے پاس اپنا حقیقی روپ دکھانے کی گنجائش ہی نہیں بچتی۔
اس کی مثال دیتے ہوئے وہ کہتی ہیں ’چلیے مان لیتے ہیں کہ مجھے حجاب پہننا پسند ہے لیکن دوسری طرف لاکھوں افراد ہر روز مجھے بتاتے ہیں ’تمھیں حجاب پہننا چاہیے۔۔ تمھیں خود کو ڈھانپنا چاہیے۔۔۔ تمھارا حجاب کہاں ہے۔۔۔ پھر اگر میں حجاب پہننے کا فیصلہ کرتی بھی ہوں تو یہ میری الجھن میں اضافہ کرنے کا سبب بنتا ہے۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ میں خدا کی رضا کے لیے حجاب پہن رہی ہوں یا سوشل میڈیا پر موجود لوگوں کی خوشی کے لیے۔۔۔ لوگوں کی توقعات کسی کو اپنی اچھی نیت ظاہر کرنے کا موقع ہی نہیں دیتیں۔‘
وہ کہتی ہیں ’ہماری اُمہ کی صوتحال بہت بہتر ہو جائے گی اگر انھیں نیتوں کی اہمیت سمجھ آ جائے اور یہ سمجھ آ جائے کہ اسلام میں تنوع موجود ہے۔ دنیا میں بہت سی خواتین حجاب نہیں پہنتیں لیکن وہ خود کو مسلمان کہتی ہیں اور انھیں اس کا حق حاصل ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہ@JenniferGrout3
’مجھے سب سے زیادہ دکھ تب ہوتا ہے جب لوگ مجھے صرف اس وجہ سے مسیحی کہہ کر بلاتے ہیں کیونکہ میں ان کی توقعات پر پورا نہیں اتر رہی۔ میں گانے بنا اور گا رہی ہوں۔‘
وہ کہتی ہیں ’کبھی کبھار میں صوفیوں کی طرح خدا سے قربت حاصل کرنے کے لیے موسیقی بناتی ہوں۔۔۔ لیکن مجھ پر تنقید کرنے والوں کو اس سب سے کوئی غرض نہیں۔۔ ان کی ساری توجہ صرف اس چیز پر ہے کہ میں نے حجاب پہن رکھا ہے یا نہیں۔‘
جینیفر نے اپنی بات کا اختتام اس بات پر کیا ’میں صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ میں اپنا ذہنی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہوں اور میں اس چیز سے انکار نہیں کر رہی کہ لوگوں کے تبصرے مجھ پر اثر انداز نہیں ہو رہے ہیں۔۔ یہ صرف کوئی دو، تین ٹرولز نہیں ہیں بلکہ یہ ہزاروں افراد ہیں جنھیں میں اپنے خاندان کی طرح سمجھتی ہوں۔۔ یہ افراد بیہودہ تبصرہ کرتے ہیں اور بنا کچھ جانے غلیظ باتیں لکھ کر چلے جاتے ہیں۔۔ یہ سب میرے لیے بہت مشکل ہے۔۔‘
’لوگ مجھے مشورہ دیتے ہیں کہ کمنٹس نہ پڑھو لیکن اگر آپ کے مداحوں کی تعداد اتنی زیادہ ہو تو ایسا کیونکر ممکن ہے کہ میں سکرول نہ کروں؟ یہ انسانی فطرت ہے، آپ جاننا چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ میں یہ سب نظر انداز کروں اور اس سے اپنے آپ کو تکلیف نہ پہنچنے دوں لیکن اس کے ساتھ ساتھ میں اس پر کھل کر بات کرنا چاہتی ہوں کیونکہ یہ ایک اجتماعی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے اور یہ صرف میرے بارے میں نہیں، دنیا بھر میں مسلمان عورتیں اس سے متاثر ہو رہی ہیں۔‘












