’پہاڑوں میں بیٹھ کر رباب بجا سکتا تھا، مگر شہر میں نہیں‘

،ویڈیو کیپشنپاڑہ چنار میں 'رباب سننا سب کو پسند ہے، لیکن رباب بجانے والا پسند نہیں'
    • مصنف, فرحت جاوید
    • عہدہ, بی بی سی اردو، پاڑہ چنار

افغان سرحد کے قریب، بادلوں میں گھِرے بلند و بالا پہاڑوں کے دامن میں رباب کی دھنیں سننے کے لیے نوجوانوں کا مجمع نعیم عاجز کے قریب بیٹھا ہے۔ وہ اِس علاقے کے چند مشہور رباب نوازوں میں سے ایک ہیں جبکہ یہاں بیٹھے نوجوانوں میں کچھ ان کے شاگرد بھی ہیں۔

یہ کرم ایجنسی کا صدر مقام پاڑہ چنار ہے جہاں کوہِ سفید کی دوسری جانب افغانستان کی سرحد ہے۔ اونچے چناروں کی بیچ نرم سبزے پر کہیں جانور منہ مارتے، اٹھکیلیاں کرتے پھرتے ہیں اور آبشاروں اور ندیوں کا پانی یہاں چھایا سکوت توڑتا ہے۔ سورج ڈوبنے سے پہلے نعیم عاجز یہیں چناروں کے دامن میں کچھ نوجوانوں کو رباب کے تاروں اور سرگم کا تال میل سمجھا رہے ہیں۔

'2005 کے بعد حالات اس قدر خراب ہو چکے تھے کہ مجھ سمیت پاڑہ چنار کا ہر شہری ہی ڈپریشن کا مریض بن گیا۔ کسی کو ڈاکٹر کی ضرورت تھی تو کوئی ایسے ہی جیتا رہا، مگر مجھے رباب کی آواز میں سکون ملنے لگا'۔ نعیم عاجز نے ڈپریشن ختم کرنے کے لیے رباب بجانا شروع کیا اور پھر اِسی کے ہو کر رہ گئے۔

اسی بارے میں

موسیقی، پاڑہ چنار
،تصویر کا کیپشنرباب نواز نعیم عاجز کہتے ہیں کہ ’پاڑہ چنار کے پہاڑوں میں جب رباب کی آواز گونجتی ہے تو لگتا ہے میں قدرت سے ہم کلام ہوں۔‘

پاکستان کے تمام قبائلی علاقے ہی گذشتہ چند دہائیوں میں دہشت گردی کا شکار رہے، لیکن کرم ایجنسی میں پاڑہ چنار وہ علاقہ ہے جہاں دہشت گردی کے ساتھ مذہبی فرقہ واریت نے تباہی مچائی۔ لیکن یہاں کے موسیقاروں نے ان حالات میں بھی ہمت نہیں ہاری اور موسیقی کے ساتھ اپنا ناطہ قائم رکھنے کی سعی کرتے رہے۔

اب یہاں دو انتہائیں ایک دوسرے سے برسرِ پیکار نظر آتی ہیں۔ مگریہ طے ہے کہ روایتی پشتون موسیقی یہاں سب کو پسند ہے۔ البتہ یہ موسیقی سنانے والے اپنی 'شناخت اور عزت ' کے لیے تگ و دو میں مگن ہیں۔

پاڑہ چنار میں مذہبی تقریبات میں بھی رباب لازمی حصہ ہے، یہی وجہ ہے کہ یہاں رباب سننا انہونی بات نہیں۔ نعیم عاجز کہتے ہیں کہ پاکستان کے دیگر قبائلی علاقوں کے مقابلے میں کرم ایجنسی میں ادب، شاعری اور موسیقی کو صدیوں تک اہم مقام حاصل رہا ہے۔ 'یہاں تصوف میں رباب کو خاص مقام حاصل ہے، یہی وجہ ہے کہ یہاں جن لوگوں کا جھکاؤ تصوف کی جانب ہے، انہیں رباب سے بھی پیار ہے'۔

ان کے مطابق وہ رباب صرف سننے کے قائل نہیں تھے بلکہ یہ فن سِیکھا اور اب دوسروں کو سکھانا چاہتے ہیں۔ اور یہی وہ نُکتہ ہے جس سے پہاڑوں سے نظر آتی چناروں کی اس وادی کی اکثریت متفق نہیں ہے۔

نعیم عاجز کہتے ہیں کہ یہاں 'رباب سننا سب کو پسند ہے، لیکن رباب بجانے والا پسند نہیں'۔

کچھ یہی حال دیگر موسیقی کا بھی ہے۔

موسیقی، پاڑہ چنار
،تصویر کا کیپشنوادی کے فنکاروں نے شدت پسندی اور فرقہ واریت کے باوجود روایتی پشتو موسیقی کو زندہ رکھا ہے۔

پہاڑوں سے اتر کر ہم پاڑہ چنار کے مرکزی بازار پہنچے تو یہاں ایک رہائشی عمارت کی دوسری منزل پر چھوٹے سے کمرے میں درجنوں نوجوان جمع تھے۔ یہ ایک بے نام میوزک اکیڈمی ہے، اور یہ سب نوجوان یہاں موسیقی سیکھنے آتے ہیں۔ کچھ شاگرد اس وقت چلے گئے جب انہوں نے کیمرہ دیکھا کہ کہیں 'اہلخانہ کو پتہ ہی نہ چل جائے کہ وہ موسیقی سیکھ رہے ہیں'۔

لیکن سب ہی ایسا نہیں کرتے۔ اسی کمرے میں انیس سالہ جواز علی ایک میوزک گروپ کا حصہ ہیں۔ وہ خود گلوکار ہیں، جب کہ ان کے گروپ میں طبلہ نواز، ہارمونیئم پلیئر،رباب نواز، شہنائی اور بانسری بجانے والے نوجوان بھی شامل ہیں۔

موسیقی، پاڑہ چنار
،تصویر کا کیپشنگلوکار جواز علی کہتے ہیں کہ ’اس کمرے سے باہر آدھے لوگ موسیقی کو مانتے ہیں، باقی نہیں مانتے۔‘

یہی رباب، طبلہ، شہنائی کبھی اس علاقے کی پہچان تھے۔ لیکن اب اس بند کمرے میں صرف دن کے مصروف اوقات میں ہی موسیقی کی مشق ممکن ہے۔

جواز علی کہتے ہیں کہ اب بھی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو 'اس فیلڈ میں آنا چاہتی ہے، مگر کچھ لوگوں کی وجہ سے نہیں آتے، کچھ سیکھ ہی نہیں پاتے اور کسی کو اپنا مستقبل روشن نظر نہیں آتا'۔

لیکن جواز علی خود خوش بھی ہیں اور پرامید بھی، وہ کہتے ہیں کہ ان کا موسیقی کو خیرباد کہنے کا کوئی ارادہ نہیں، ' میں نے جتنی محنت کی ہے، اس چھوٹے سے کمرے میں کی ہے۔ اب بھی کر رہا ہوں اور آئندہ بھی کروں گا۔ لیکن اس کمرے سے باہر آدھے لوگ موسیقی کو مانتے ہیں، باقی نہیں مانتے۔ تو بس یہاں سکون نہیں، سکون نہیں ہے!'

موسیقی، پاڑہ چنار
،تصویر کا کیپشنشام ڈھلتی ہے تو وادی کے دوردراز دیہاتوں میں کہیں کہیں رباب کی دھنیں سنائی دیتی ہیں۔

مواقعوں کی کمی ایک نوجوان رباب نواز عدنان حیدر کو اسلام آباد لے آئی، لیکن آج وہ بھی پاڑہ چنار اپنے استاد نعیم عاجز کے ہمراہ ہیں۔ عدنان حیدر کہتے ہیں کہ پاڑہ چنار میں میوزک کے لیے 'نوجوان اپنے طور پر اکیڈمی بناتے ہیں، میوزک بینڈزبھی بنائے جاتے ہیں، مگر یہ اس لیے نہیں چلتے کہ اول تو موسیقاروں کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور دوسرا مواقع نہ ہونے کے باعث مستقبل تاریک نظر آتا ہے، اس لیے میوزک گروپ بنتے اور بکھرتے رہتے ہیں'۔

عدنان حیدر، نے مشہور انگریزی گانے 'ڈیسپاسیٹو' کی دُھن رباب پر بجاتے ہوئے کہا: 'میں پہاڑوں میں بیٹھ کر تو رباب بجا سکتا تھا، مگر شہر کے بازار میں نہیں، اس لیے اسلام آباد چلا آیا'۔

موسیقی، پاڑہ چنار
،تصویر کا کیپشنسورج ڈوبتا ہے تو صحن کے بیچ آگ جلائی جاتی ہے اور ساٹھ سالہ حیات علی رباب اٹھاتے ہیں۔

انتہا پسندی، بے یقینی اور مواقع نہ ہونے کی باتوں میں دِن گزر گیا۔ اب پاڑہ چنار کو افغانستان سے جدا کرتے کوہِ سفید کے اس پار سورج ڈوب رہا ہے۔ بازار بند ہو چکے اور ایک کمرے کی یہ میوزک اکیڈمی بھی۔

لیکن یہاں سُر ابھی زندہ ہیں۔

اندھیرا پھیلا ہے تو شہر سے باہر ایک کچے مکان سے رباب کی آواز آ رہی ہے۔ صحن کے بیچ آگ جلائی گئی ہے۔ ساٹھ سالہ بزرگ رباب نواز حیات علی رباب بجا رہے ہیں۔ ان کے اردگرد نوجوان بھی ہیں اور بزرگ بھی۔ رات گئے تک رباب کی تاریں ساز چھیڑتی رہیں اور یہ نوجوان اور بزرگ سر دھُنتے رہے۔