شوبز ڈائری: ’بالی ووڈ میں لوگوں کی انا ان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, نصرت جہاں
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
گزشتہ 24 برسوں سے انڈسٹری میں موجود سابق حسینہ کائنات سشمیتا سین ایک خوبصورت اور با صلاحیت اداکارہ ہونے کے باوجود بھی کافی عرصے سے بڑے پردے سے عائب ہیں۔ سشمیتا نے اس طویل کریئر میں ہٹ اور فلاپ ہر طرح کی فلمیں دی ہیں۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ وہ اپنے دور کی دوسری ہیروئنز کی طرح کامیاب نہیں ہیں۔
حال ہی میں روزنامہ ہندوستان ٹائمز کے ساتھ ایک انٹرویو میں سشمیتا کا کہنا تھا کہ جس طرح کے کردار انہیں آفر کیے گئے وہ یا تو اچھے نہیں تھے یا پھر انہیں آفر احسان کے طور پر دی گئی جو انہیں قبول نہیں تھا۔
سشمیتا کا یہ بھی کہنا تھا کے سوشل میڈیا آپ کے حقیقی چہرے یا شخصیت کو نہیں چھپا سکتا اور یہ کہ آپ حقیقت میں جو ہیں وہی رہتے ہیں چاہے اس کے لیے کتنی ہی مارکیٹنگ کیوں نا کر لیں۔
سشمیتا کے مطابق بالی ووڈ میں لوگوں کی انا ان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ نے کسی ایسے کردار سے انکار کر دیا جو آپ کو مناسب نہیں لگا تو پھر آپ کے بارے میں رائے بنا دی جاتی ہے کہ آپ کام ہی نہیں کرنا چاہتے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سشمیتا سین نے 1994 میں 18 برس کی عمر میں حسینہ کائنات کا خطاب جیتا تھا۔ سشمیتا سین کی طرح بالی ووڈ میں خطاب جیت کر آنے والی نامور اداکاراؤں میں ایشوریہ رائے اور پرینکا چوپڑہ بھی شامل ہیں لیکن شسمیتا سین ان کی طرح زیادہ کامیابی حاصل نہیں کرسکیں۔
’سُپر وومن‘ کترینہ کیف

،تصویر کا ذریعہKatrina Kaif/Instagram
کیا آپ اداکارہ کترینہ کیف کو سپر ہیرو کے کردار میں تصور کر سکتے ہیں، کیونکہ فلمساز علی عباس ظفر نے انہیں بالی ووڈ کی پہلی سپر وومن یا سپر ہیرو بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ویب سائٹ بالی ووڈ ہنگامہ کے ساتھ ایک خصوی بات چیت میں علی عباس ظفر نے بتایا کہ فلم ٹائگر زندہ ہے میں کترینہ نے جس طرح ’ایکشن سینز کے ساتھ انصاف کیا‘، اس سے انہیں لگا کہ ان میں سپر ہیرو یا سپر ہیروئن کا کردار نبھانے کی صلاحیت موجود ہے اور اب وہ ان کے ساتھ ایسی ہی ایک فلم بنانے جا رہے ہیں۔ فلم کا سکرپٹ تیار ہے اور ایک انٹرنیشنل سٹنٹ کمپنی کے ساتھ ایکشن سیکوئنس پر بات ہو رہی ہے۔
کترینہ کی اس فلم کا پریمیئر نیٹ فلکس پر ہوگا اور اس فلم کے دو حصے ہوں گے۔ پہلے حصے کے لیے نیٹ فلکس نے 80 سے 85 کروڑ روپے کا فنڈ بھی مختص کر دیا ہے۔ یوں تو علی یہ فلم بڑے پردے کے لیے بنانا چاہتے تھے لیکن اتنے بڑے پراجیکٹ کے لیے وہ کسی اور ذریعے سے فنڈز کاانتظام نہیں کر پائے تھے۔ علی کا کہنا ہے کہ یہ فلم ’گیم چینجر‘ ثابت ہوگی اور بالی ووڈ میں ہیروئنز کو اس طرح کے کردار ملنے لگیں گے۔
اس سے پہلے دپیکا پادوکون نے بھی سپر ہیرو فلم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور وہ سوشل میڈیا پر اس کا اعلان بھی کر چکی تھیں لیکن انہیں نہ تو کوئی اچھی سکرپٹ مل سکی اور نہ ہی اس کے مطابق ڈائریکٹر، اس لیے انہوں نے ایسی فلم کا اردہ ترک کر دیا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعی علی اور کترینہ کی جوڑی بالی ووڈ میں ایک نئی تاریخ لکھ پائے گی یا نہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سونم کپور کو سوشل میڈیا کوئن ایسے ہی نہیں کہا جاتا کیونکہ مختلف موضوعات پر جس طرح وہ سوشل میڈیا پر اپنی رائے کا اظہار کرتی ہیں وہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ وہ حال ہی میں سُشانت سنگھ راج پوت کی موت کے بعد بری طرح ٹرول ہوئی تھیں اور اب انہوں نے ایک سیاسی مسئلے پر اپنی بے باک رائے دے ڈالی۔
انڈیا کے سینٹرل بورڈ آف سکینڈری ایجوکیشن نے اس سال نصاب سے نیشنل ازم، سیکولر ازم، شہریت اور جمہوریت کے چیپٹر نکال دیے ہیں۔ انسٹا گرام پر اپنی پوسٹ میں سونم نے سی بی ایس سی کے اس فیصلے کو ’عجیب‘ قرار دیا اور تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ انتہائی اہم موضوع ہیں، ان کے بغیر نوجوان اپنی سیاسی رائے کس طرح قائم کر سکیں گے۔‘













