جانی واکر اور شراب کی کاغذی بوتلیں: اگر شراب کی بوتلیں شیشے کے بجائے کاغذ کی بننے لگیں تو بالی وڈ کا کیا ہو گا؟

وہسکی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, نصرت جہاں
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

کہا جاتا ہے کہ شراب کا شاعری، موسیقی اور فن سے بہت قریبی رشتہ ہے۔ شاعری میں میخانوں، پیمانوں اور نشے کی باتیں تو فلموں میں جام ٹکرانے سے لے کر ولن کے سر پر شراب کی بوتل پھوڑنے تک کے بے شمار سین فلمائے گئے ہیں۔

تصور کیجیے کہ ہیرو ایک طاقتور ولن کے سر پرشراب کی بوتل دے مارے اور یہ بوتل ولن کے سر پر پھوٹنے کے بجائے پچک جائے، تو اس کے بعد اس بیچارے ہیرو کا کیا حشر ہو گا؟

لگتا ہے اب بالی وڈ کی فلموں میں شراب کی بوتلیں پھوڑنے کا چلن ختم ہو جائے گا۔ کیونکہ اب شراب کی بوتل شیشے کے بجائے کاغذ کی ہو گی۔ تقریباً دو سو سال پرانی وہسکی کمپنی ’جانی واکر‘ کی بوتلیں اب شیشے کی نہیں کاغد کی ہوا کریں گی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ماحولیات کے پیشِ نظر اب کاغذ کی بوتلیں بنانے کا ٹرائل شروع کر رہی ہے۔

سوچیں اگر یہ ٹرائل آج سے 30، 35 سال پہلے شروع ہو جاتا تو فلم 'سہاگ' سے لے کر ’شرابی‘ تک میں امیتابھ بچن شراب کی لت چھوڑنے کے لیے بوتلیں کیسے توڑتے۔

یہ بھی پڑھیے

ویسے شراب کی بوتلیں توڑنے کا چلن بالی وڈ میں کافی پرانا ہے، فلم دیوداس میں پارو کے غم میں نڈھال شاہ رخ خان نے شروع سے آخر تک اتنی بوتلیں پھوڑیں کہ بیچاری چندر مکھی نے بھی ہار مان لی۔ اگر اس وقت کاغذ کی بوتلیں ہوتیں تو شاید چندر مکھی اتنی ہریشان نہ ہوتی۔

ان سے پہلے بڑے خان صاحب یعنی یوسف خان نے بھی اپنی دیو داس میں شیشے کی بوتلوں پر خوب جی بھر کے غصہ نکالا تھا۔ اور ان سب سے بڑھ کر فلم شعلے کا ’گببر‘ شراب کی کاغذ کی بوتلیں پھوڑ کر بسنتی کو شیشوں پر ناچنے کے لیے کیسے مجبور کرتا۔

شراب کی خالی بوتلیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ویسے وہسکی ’جانی واکر‘ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ بوتلیں ری سائیکل ہوا کریں گی بالکل اسی طرح جیسے فلم شرابی میں شیشے کی بوتل لڑھکانے پرامیتابھ کے پاپا اداکار پران کہتے ہیں کہ ’خالی بوتلوں کی بھی قیمت ہوتی ہے بیٹا۔‘

یہاں سوال یہ ہے کہ اگر شراب بنانے والی دوسری کمپنیوں نے بھی کاغذ کی بوتلیں بنانے کا فیصلہ کر لیا تو بالی وڈ فلموں کے ولن سے لے کر ہیرو یہاں تک کے ہیروئنز کاغد کی بوتلیں توڑتے کیسے لگیں گے اور اب ہیرو ولن کے سر پر کیا مارے گا۔ یا پھر فلسماز شیشے کی پرانی بوتلیں خرید خرید کر رکھیں گے۔ یا پھر یہ کہیں گے کہ

پِلا دے اوک سے ساقی گر پیالہ میسر نہیں

پیالہ گر نہیں دیتا نہ دے شراب تو دے

حالانکہ کچھ سال پہلے انڈین فلم سینسر بورڈ نے یہ فیصلہ سنا دیا تھا کہ سگریٹ اور شراب نوشی کے مناظر میں ’ڈسکلیمر‘ یعنی انتباہ دینا ضروری ہے، لیکن منچلے شائقین کو ان انتباہی پیغامات سے کیا فرق پڑتا ہو گا جب ہاتھوں میں شراب کی بوتل لیے ہیروئن اس نغمے پر تھرک رہی ہو ’پلا دے دیوانی ہوں میں جس کی آئی ایم اے بیڈ گرل آئی لائیک وہسکی۔‘