دیپیکا پادوکون کے پروڈکشن ہاؤس کا نام ’کا پروڈکشنز‘ کیوں اور یش راج میں راج کون ہے؟ ہالی وڈ کی فلم کمپنیوں کے ناموں کی کہانی

،تصویر کا ذریعہrajshri productions facebook
’ہم آپ کے ہیں کون‘ جیسی فلمیں بنانے والی کمپنی راج شری فلمز کو آخر یہ نام کیسے ملا، اگر یش راج فلمز کے نام کا پہلا حصہ یش چوپڑہ کے نام پر ہے تو 'راج' کہاں سے آیا اور دیپیکا پڈوکون کے پروڈکشن ہاؤس کا نام 'کا پروڈکشن' کیوں رکھا گیا ہے؟
کسی بھی پروڈکشن ہاؤس کی فلم، فلم کمپنی کا نام اور لوگو اس کی شناخت سمجھی جاتی ہے۔ آئیے بالی وڈ اور ہالی وڈ کے مشہور پروڈکشن ہاؤسز کے لوگو اور فلم کمپنیوں کے ناموں کی کہانی جانتے ہیں۔
دھرما پروڈکشن نے اپنی شناخت بدل لی
حال ہی میں کرن جوہر کے فلمساز ادارے دھرما پروڈکشن نے اپنی شناخت بدل دی۔ کرن جوہر نے اس کمپنی کے بینر تلے ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘، ’کبھی خوشی کبھی غم‘ اور ’کل ہو نہ ہو‘ جیسی فلمیں بنائیں۔
یہ بھی پڑھیے
اب اپنی آنے والی فلم ’بھوت- پارٹ ون: دی ہانٹڈ شپ‘ کی تشہیر کے لیے دھرما پروڈکشن نے اپنے لوگو میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں۔ کمپنی نے لوگو کا رنگ تبدیل کیا اور پس منظر میں سنائی دینے والی موسیقی کو خوفناک بنا دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہdharma productions facebook
کرن جوہر نے اپنی کمپنی ’دھرما پروڈکشن‘ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر موجود لوگو کو بھی سیاہ کر دیا ہے اور کور سٹوری میں لکھا ہے- ’ڈارک ٹائمز بیگن ناؤ۔‘ اس فلم میں وکی کوشل اور بھومی پدنیکر مرکزی کردار میں ہیں۔
دیپیکا کے پروڈکشن ہاؤس کا نام 'کا پروڈکشن' کیوں رکھا گیا؟
اس سال دیپیکا پڈوکون فلم 'چھپاک' کے ساتھ پروڈیوسر بن گئیں۔ دیپیکا کے پروڈکشن ہاؤس کا نام ’کا پروڈکشنز‘ رکھا گیا ہے۔
دیپیکا کا کہنا ہے ’کا‘ کا مطلب روح ہے۔ آپ کا ایک حصہ جو آپ کے جانے کے بعد بھی اس دنیا میں باقی رہتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ میں بھی چاہتی ہوں کہ میرا کام میرے جانے کے بعد بھی یہیں رہ جائے اور میں ایسا کام کرتی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ لوگ مجھے یاد رکھیں۔‘
میگھنا گلزار نے تیزاب کے حملے کا شکار ہونے والی لڑکی لکشمی اگروال کی زندگی سے متاثر ہو کر بنائی گئی اس فلم کی ہدایتکاری کی ہے۔
چھپاک انڈین باکس آفس پر ایک اوسط فلم رہی ہے تاہم عوام اور ناقدین نے اسے پسند کیا ہے اور فلمساز کو فلم کی لاگت سے کچھ زیادہ ہی وصول ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہka productions facebook
راج شری فلموں کا نام کیسے رکھا گیا؟
راج شری فلمز کے سورج برجاتیہ نے ’ہم آپ کے ہیں کون‘ ، ’میں نے پیار کیا‘ اور ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ جیسی فیملی فلمیں بنائی ہیں۔
کمار برجاتیہ کے مطابق تاراچند برجاتیہ کے بیٹے نے راج شری پروڈکشن کی شروعات کی تھی۔ ’جب نام کی بات کریں تو ابتدائی نام ’راج کمل‘ تھا۔ میرا نام ’کمل‘ ہے اور میرے بھائی کا نام ’راج‘ ہے۔ لیکن پھر کمپنی کا نام میری بہن کے نام پر طے کیا گیا تھا۔‘
جب راج شری پروڈکشنز کی فلم شروع ہوتی ہے تو سرسوتی دیوی کا مجسمہ دکھائی دیتا ہے۔ اس کے پیچھے کیا راز ہے؟
اس پر کمل نے کہا، ’میرے والد سرسوتی دیوی پر بہت زیادہ یقین کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ جو فلمیں بنیں گی وہ ایسی ہوں گی جسے پورا خاندان دیکھ سکے۔‘
راج کپور اور نرگس، آر کے فلموں کی پہچان بنے
راج کپور نے 1948 میں آر کے فلمز کی بنیاد رکھی تھی۔ راج کپور اور نرگس نے آر کے فلمز اور سٹوڈیوز کے لیے متعدد فلموں میں ایک ساتھ کام کیا۔ ان دونوں کے درمیان قریبی تعلقات بھی زیربحث رہے۔

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK
آر کے فلمز اور سٹوڈیوز کی پہلی فلم ’آگ‘ سلور سکرین پر کچھ خاص نہیں کر سکی لیکن ان کی دوسری فلم ’برسات‘ کامیاب رہی اور یہ ان کی پہچان بن گئی۔
سن 1949 میں آنے والی راج کپور اور نرگس کی فلم ’برسات‘ کے پوسٹر میں فلم کے ایک منظر کی تصویر تھی جس میں راج کپور نے نرگس کو ایک ہاتھ سے تھام ہوا ہے اور دوسرے ہاتھ میں وائلن ہے۔
پھر یہ آر کے فلمز کا لوگو بن گیا جو فلم کے آغاز میں آتا ہے۔
یش راج پروڈکشن میں ’راج‘ کا ’راج‘
یش راج فلمز کا آغاز فلم ’داغ‘ سے ہوا تھا۔ 1973 میں آنے والی یہ فلم یش چوپڑا کی بطور پروڈیوسر پہلی فلم تھی۔

،تصویر کا ذریعہyash raj productions facebook
اس فلم کی کہانی میں اختتام میں دونوں ہیروئنز ہیرو کے ساتھ گھر چلی جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے اس کی کہانی اس زمانے کے لحاظ سے خاصی بولڈ تھی۔
لیکن یش چوپڑا کو اس فلم پر اور ہیرو راجیش کھنہ کو یش چوپڑا پر اعتماد تھا۔
کہا جاتا ہے کہ راجیش کھنہ نے اس فلم کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا تھا اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یش راج میں ’راج‘ دراصل راجیش کھنہ کے نام کا حصہ ہے۔
خاموش فلموں سے ٹاکیز کے دور تک
’بمبئی ٹاکیز‘ کی بنیاد ہمانشو رائے، دیویکا رانی اور راج نارائن دوبے نے رکھی تھی۔
سنہ 1934 میں بمبئی ٹاکیز نے کام شروع کیا۔ اس کمپنی کے لوگو میں ہمانشو رائے اور راج نارائن دوبے کی تصاویر ہیں۔
راج نارائن دوبے ایک بڑے تاجر تھے اور انھوں نے اس پروڈکشن ہاؤس میں پیسہ لگایا تھا۔ ہمانشو رائے پروڈیوسر، ہدایتکار اور اداکار تھے جنھوں نے اداکارہ دیویکا رانی سے شادی کی جو رابندر ناتھ ٹیگور کی رشتے دار تھیں۔

،تصویر کا ذریعہbombay talkies facebook studios
ہمانشو رائے نے خاموش اور بولتی دونوں قسم کی فلمیں بنائیں۔
دلیپ کمار، اشوک کمار اور مدھوبالا نے اپنے کریئر کا آغاز اسی ’بمبئی ٹاکیز‘ سے کیا تھا جبکہ راج کپور، ستیہ جیت رے، بمل رائے اور کشور کمار نے بھی اس پروڈکشن ہاؤس میں کام کیا۔
غیر ملکی فلم کمپنی کا لوگو
انگریزی فلموں کی مشہور پروڈکشن کمپنی میٹرو گولڈوین مییر (ایم جی ایم) کے لوگو کے پیچھے بھی ایک حیرت انگیز کہانی اور سوچ ہے۔
فلمی نقاد ارنب بنرجی کہتے ہیں ’ایم جی ایم‘ کے لوگو میں ایک شیر موجود ہے۔ یہ 20 ویں صدی کے اوائل میں تیار کیا گیا تھا۔ کمپنی کے مرکزی مشتہر ہارورڈ ڈائیٹس کولمبیا یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرتے تھے اور یونیورسٹی کے نشان سے متاثر ہو کر ہی ایم جی ایم کے لوگو میں شیر کی آمد ہوئی۔‘
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’اس دور میں خاموش فلمیں بنتی تھیں لہٰذا جب تک فلموں میں آواز نہیں آئی یعنی سنہ 1928 تک اس شیر کی دھاڑ سنائی نہیں دی۔‘

،تصویر کا ذریعہMGM facebook
کچھ کمپنیاں ایسی ہیں جنہوں نے اپنی شناخت برسوں سے نہیں بدلی اور کچھ ایسی جو وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی رہی ہیں۔
کچھ پروڈکشن ہاؤس اب بھی فلمیں بنا رہے ہیں جیسے یش راج اور راج شری جبکہ کچھ دیر اندھیرے میں کھو گئے۔
ممبئی کے علاقے چیمبور میں واقع ’آر کے فلمز‘ کی آخری فلم سنہ 1999 میں آئی تھی جس کا نام ’آ اب لوٹ چلیں‘ تھا۔









