شوبز ڈائری: ’ایسی سکرپٹ لے کر کنگنا کے پاس آئے بھگوان ہی بچائے‘

    • مصنف, نصرت جہاں
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

اس سال انڈین اعزاز پدم شری حاصل کرنے والوں میں کرن جوہر اور کنگنا رناوت بھی شامل ہیں۔ یوں تو یہ ایوارڈ 118 لوگوں دیا گیا ہے لیکن سب سے زیادہ ذکر عدنان سمیع کے ساتھ ساتھ کرن جوہر اور کنگنا رناوت کا ہو رہا ہے۔

عدنان سمیع کے بارے میں سوشل میڈیا پر کافی بات ہو چکی لیکن کنگنا اور کرن کا قصہ اب زیادہ رنگین ہوتا جا رہا ہے۔ ایوراڈ ملنے کے بعد انٹرویوز کا سلسلہ شروع ہوا اور جب لوگوں نے کرن سے کنگنا کے ایوارڈ کے بارے میں پوچھا تو کرن نے ان کے ٹیلنٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس ایوارڈ کی مستحق ہیں کیونکہ وہ بہت اچھی اداکارہ ہیں۔

یہاں تک تو ٹھیک تھا لیکن کرن نے یہ کہہ کر مصیبت کو بلاوا دے ڈالا کہ انھیں کنگنا کے ساتھ کام کرنے میں کوئی اعتراض نہیں اور اگر ان کے پاس کوئی سکرپٹ ہو گا تو وہ کنگنا کو ضرور بلائیں گے۔

ایسے میں کنگنا کی بہن رنگولی کہاں خاموش رہنے والی تھیں فوراً ٹوئٹر پر سوار ہو کر کرن کے کان کھینچنے پہنچ گئیں۔

یہ بھی پڑھیے

اپنی ٹوئٹ میں رنگولی نے لکھا کہ کنگنا کرن کی فلم میں کبھی کام نہیں کریں گی کیونکہ کرن کے پاس کنگنا کے لائق کوئی سکرپٹ ہو ہی نہیں سکتا اس لیے تم کنگنا سے دور رہو۔

یہ سب لکھ کر بھی جب رنگولی کو سکون نہیں ملا تو انھوں نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا جب کنگنا نے کرن جوہر کی فلم اے دل ہے مشکل دیکھی تھی تو اسے بہت غصہ آیا تھا، جس میں فلم کا ہیرو کینسر سے متاثر ہیروئن کو کس کرنے کی ضد کرتا ہے۔ رنگولی کا کہنا ہے کہ اگر وہ ایسی سکرپٹ لے کر کنگنا کے پاس آئیں گے تو انھیں بھگوان ہی بچا سکتا ہے۔

تاہم ان ٹوئٹس پر کرن کا ابھی تک کوئی ردِ عمل نہیں آیا ہے۔

'کچھ کپڑے ایک خاص عمر کے لیے ہوتے ہیں‘

پردیسی گرل پرینکا چوپڑا آج کل پھر سے سرخیوں میں ہے۔ حال ہی میں گریمی ایوراڈز میں انہوں نے جو لباس زیب تن کیا تھا اس کا گلا ناف کے نیچے تک جاتا ہے۔

اس پر ڈیزائنر وینڈل راڈرِگز نے کہا ’کچھ کپڑے ایک خاص عمر کے لیے ہوتے ہیں۔‘

اس کے بعد سوشل میڈیا پر پرینکا کے لباس اور وینڈل راڈرِگز کے کمنٹس پر خاصی طویل بحث چھڑی۔ دوسرا پرینکا ایک کامیاب ترین فرنچائز میٹرکس کے چوتھے سیکوئل میں نظر آنے والی ہیں جسے وانر برودرز اینڈ ویلج روڈ شو پروڈیوس کر رہے ہیں۔

ورائٹی میگزین کی رپورٹ کے مطابق اس بارے میں پرینکا چوپڑا کی بات چیت اختتامی مرحلے میں ہے اور وہ جلد ہی کانٹریکٹ پر سائن کرنے والی ہیں۔

'آپ میری فلم کی ریٹنگ بدل سکتے ہیں لیکن میرا ذہن نہیں‘

دپیکا پادوکون کی فلم چھپاک کو انٹرنیٹ مووی ڈیٹا بیس میں کم ووٹ دیے جا رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ حال ہی میں دلی میں جواہر لال یونیورسٹی کے طالب علموں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے دپیکا کی فلم کو نشانہ بنایا گیا ہے تاہم دپیکا کا کہنا ہے کہ آپ میری فلم کی ریٹنگ بدل سکتے ہیں لیکن میرا ذہن نہیں۔

دپیکا کے فین کلب کی جانب سے جاری ایک ویڈیو میں انھوں نے کہا کہ میری فلم کی ریٹنگ تبدیل کی گئی ہے لیکن میرا ذہن نہیں بدلا جا سکتا۔ فلم کو مثبت رویوز تو ملے لیکن انڈیا کے مختلف علاقوں میں اس کے بائیکاٹ کی مہم بھی چلائی گئی تھی۔