آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شوبز ڈائری: انڈیا میں شہریت کے متنازع قانون پر نصیرالدین شاہ اور انوپم کھیر آمنے سامنے
- مصنف, نصرت جہاں
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
حال ہی میں بالی وڈ کے ممتاز اداکار نصیرالدین شاہ نے ڈیجیٹل پلیٹ فارم ’دی وائر‘ کے ساتھ انٹرویو میں انڈیا میں شہریت کے متنازع قانون پر اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں فرقہ پرستی میں اضافہ ہو رہا ہے اور انھیں حیرت ہے کہ متنازع قانون پر انڈسٹری کے بڑے بڑے اداکار بات کیوں نہیں کر رہے۔
ساتھ ہی انھوں نے مودی جی کے بھکت کہے جانے والے انوپم کھیر کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر وہ جو کچھ بھی پوسٹ کرتے ہیں اسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
نصیرالدین شاہ نے انھیں ’جوکر‘ پکارتے ہوئے کہا کہ ’نیشنل سکول آف ڈرامہ کے ان کے کسی بھی پرانے ساتھی سے معلوم کریں تو وہ بتائیں گے کہ انوپم کتنے ’چاپلوس قسم کے انسان ہیں اور یہ چاپلوسی ان کی فطرت اور خون میں شامل ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
ظاہر ہے یہ بات انوپم کو بڑی زور سے لگی اور وہ بلبلا کر سوشل میڈیا پر پہنچے اور ادب آداب کے بعد ایک ویڈیو کے ذریعے اپنے ’پیار بھرے پیغام‘ میں نصیرالدین شاہ کو کھری کھوٹی سناتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ انتہائی مایوس انسان ہیں اور نشہ آور ادویات کے اثر میں اس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انوپم کھیر جو ایک کشمیری پنڈت ہیں اور اکثر سوشل میڈیا پر کشمیری پنڈتوں کے مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ہمیشہ کی طرح مودی جی اور امت شاہ حمایت میں کمر کسے ہوئے ہیں اور اب مرحوم اور سابق وزیر خارجہ سشما سوراج کے شوہر سوراج کوشل جو میزورم کے گورنر رہ چکے ہیں انوپم کھیر کی حمایت میں سوشل میڈیا کے میدان میں کود پڑے اور ایک کے بعد دوسری ٹویٹ میں انوپم کی تعریف اور نصیر الدین کی تنقید پر لگے ہوئے ہیں باقی ٹرول کے لیے بھکت لوگ تو ہیں ہی۔
یوں تو شہریت کے متنازع قانون اور فرقہ پرستی کے خلاف بالی وڈ کے کئی فلسماز اور فنکار کھل کر اپنی رائے ظاہر کر چکے ہیں اور احتجاج کا حصہ بھی بنے ہیں لیکن ان آوازوں میں انڈسٹری کی بڑی کہی جانے والی ہستیوں کی آوازیں ابھی تک نہیں سنائی دیں۔
سیف علی خان اور ’تناجی‘
ہاں اسی ہفتے اداکار سیف علی خان نے ایک بیان دے کر تالاب میں پتھر مارنے کی کوشش ضرور کی۔ سیف نے حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم تناجی میں ادھے بان سنگھ راٹھور کا کردار نبھایا ہے اور غالباً جب انھوں نے پوری فلم دیکھی تو انھیں لگا کہ معاملہ گڑ بڑ ہے۔
فلم کرٹک انوپما چوپڑہ نے انٹرویو میں جب سیف سے پوچھا کہ فلم تناجی میں جس تاریخ کو دکھایا گیا ہے کیا اس پر سوالیہ نشان ہے جواب میں سیف نے کہا یقیناً انھیں بھی اس بات کا احساس ہے اور انھوں نے اس بارے میں بات بھی کی تھی لیکن انھوں نے پھر بھی یہ کردار نبھایا کیونکہ یہ کردار بہت مزے دار تھا۔
سیف کا کہنا تھا کہ انھیں ایک اداکار نہیں بلکہ ایک انڈین اور ایک انسان ہونے کے ناطے ان باتوں سے تکلیف ہوتی ہے اور انھیں لگتا کہ یہ درست تاریخ ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھیں لگتا کہ برطانوی راج سے پہلے انڈیا کا کوئی تصور بھی موجود تھا۔
سیف کا کہنا تھا کہ فلمیں بناتے وقت کہانی کو کسی خاص رنگ یا نظریے کے حساب سے توڑ مروڑ کرنا ٹھیک نہیں۔ سیف شاید بھول رہے ہیں کہ اس وقت انڈیا میں تناجی جیسی فلمیں ہی کامیاب ہو رہی ہیں اور اترپردیش جیسی بڑی ریاست میں جن کا ٹیکس بھی معاف کیا جاتا ہے تو پھر کہانی میں ٹوئسٹ کیوں نہ ڈالا جائے۔
بہرحال سیف کے اس انٹرویو کے بعد وہ کچھ اس طرح ٹرول ہوئے کے ان کے بیٹے تیمور کے نام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ بی جے پی رکن اور وکیل میناکشی لیکھی نے لکھا کہ ’اگر تاریخ کا حوالہ دیا جائِے تو ترک بھی تیمور کو ظالم فاتح قرار دیتے ہیں پھر بھی سیف نے اپنے بیٹے کا نام تیمور رکھا۔‘
حالانکہ سیف پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ سنہ 2016 میں تیمور کی پیدائش کے وقت بھی ایسا ہی تنازعہ پیدا ہوا تھا تب سیف نے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے بیٹے کا نام کسی تاریخی کردار سے متاثر ہو کر نہیں رکھا گیا بلکہ یہ ایک فارسی لفظ ہے جس کا مطلب ’خودار‘ ہے۔