شوبز ڈائری: اداکارہ وانی کپور کی بکنی ٹرولز کے نشانے پر

    • مصنف, نصرت جہاں
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

اداکارہ وانی کپور ابھی انڈسٹری میں نئی ہیں لیکن اتنی نئی بھی نہیں کہ انھیں کسی خاص تعارف کی ضرورت ہو لیکن اس ہفتے سوشل میڈیا پر ان کی ایک تصویر نے انھیں تعریف کے بجائِے ٹرولز کا نشانہ ضرور بنا دیا۔

رتک روشن اور ٹائیگر شیروف کے ساتھ حال میں ہی ہٹ ہونے والی فلم ’وار‘ کی ہیروئن وانی نے سوشل میڈیا پر بکنی میں اپنی ایک تصویر لگائی جس پر ہرے رام لکھا ہوا تھا اور یہ بات بہت سے لوگوں کو پسند نہیں آیا۔

سوشل میڈیا پر لوگوں نے وانی کپور کو ’غیر مہذب‘ قرار دیتے ہوئِے نصیحت کی کہ انھیں رام کے بھگتوں کے جذبات کا احترام کرنا چاہیے تھا۔

ایک صارف نے لکھا ’اگر آپ ہندو بھگوانوں کا احترام نہیں کر سکتیں تو کم از کم ان کی بے حرمتی بھی نہ کریں۔‘

یہ بھی پڑھیے

اس تمام ہنگامے کے بعد وانی کپور نے سوشل میڈیا سے اپنی وہ تصویر تو ہٹا لی لیکن یہ تصویر لگاتے وقت ان کے ذہن میں کیا تھا یہ انھوں نے ابھی تک واضح نہیں کیا۔

اس ہفتے اداکار اور فلمساز فرحان اختر انڈین سینسر بورڈ سے خاصے ناراض رہے۔

دراصل سینسر بورڈ نے کرسچین بیل اور میٹ ڈیمن کی فلم ’فورڈ ورسز فراری‘ میں شراب کی بوتلوں اور شراب سے بھرے گلاسز کو بلر یعنی دھندلا کرنے کاحکم دیا ہے۔

فرحان اختر کو یہ بات ناگوار گزری اور انھوں نے سوشل میڈیا کے اپنے اکاؤنٹ پر لکھا ’اب وہ دن دور نہیں جب سنیما ہالوں میں صرف اور صرف سکرپٹ ہی پڑھا جائے گا۔

فرحان کا کہنا تھا کہ انڈیا کے بالغوں کو اتنا بھولا یا بیوقوف کیوں سمجھا جاتا ہے کہ وہ خود اپنے لیے صحیح یا غلط کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔

فلم ’فورڈ ورسز فراری‘ اپنے مرکزی کرداروں کی زبردست پرفارمنس کے سبب پہلے سے ہی خبروں میں ہے اور اسکے آسکر میں نامزد ہونے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔

گلوکار اور موسیقار انو ملک نے اپنے خلاف لگائے جانے والے الزامات پر آخر کار اپنی خاموشی توڑ دی۔

انو ملک نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں اپنے خلاف جنسی ہراسانی کے تمام الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔

اپنے بیان میں انھوں نے لکھا کہ مجھ پر ایسے گناہ کا الزام لگایا گیا ہے جو میں نے کبھی کیا ہی نہیں۔

انھوں نے لکھا کہ میں اب تک اس لیے خاموش تھا کہ سچائی خود ہی سامنے آ جائے گی لیکن اب مجھے محسوس ہونے لگا کہ میری خاموشی کو میری کمزوری سمجھا جا رہا ہے۔

انو ملک نے یہ بھی لکھا کہ مجھ پر جو بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں ان کی وجہ سے میری ساکھ اور میرے خاندان کا نہ صرف سکون اور چین برباد ہوا ہے بلکہ میں ذہنی دباؤ کا بھی شکار ہوا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے خلاف الزامات کا سلسلہ بند نہیں ہوا تو وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔

سونا مہاپاترہ اور شویتا پنڈت نامی گلوکاراہوں نے انو ملک پر مبینہ طور پر جنسی ہراسانی کے الزام لگائے تھے اور یہ تمام سلسلہ سوشل میڈیا پر الزامات اور جوابی الزامات سے شروع ہوا تھا۔