شوبز ڈائری: #WhatsInYourDabba چیلنج کے ذریعے جانیے کے بالی وڈ کے فلم سٹارز آخر کھاتے کیا ہیں؟

    • مصنف, نصرت جہاں
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

اکثر لوگ سوچتے ہوں گے کہ پردے پر خوبصورت اور عام زندگی میں پتلے، دبلے اور سمارٹ نظر آنے والے بڑے بڑے فلم سٹارز آخر کھاتے کیا ہیں۔

لوگوں کے اس تجسس اور ان میں کھانے اور صحت کے حوالے سے بیداری پیدا کرنے کے لیے اداکارہ اور مصنفہ ٹوئنکل کھنہ نے حال ہی میں ایک چیلنج شروع کیا جس کا عنوان ہے #WhatsInYourDabba یعنی آپ کے ڈبے میں کیا ہے۔

اس چیلنج کے تحت بڑے فلم سٹارز ان کھانوں کے ساتھ اپنی تصاویر لگا رہے ہیں جو وہ روزمرہ کی زندگی میں کھاتے ہیں۔

اس چیلنج میں ٹوئنکل کھنہ نے چقندر کی ٹکیوں کے ساتھ اپنی تصویر لگائی، جبکہ ان کے شوہر اکشے کمار کے ڈبے سے ٹوسٹ کے ساتھ اواکاڈو، اخروٹ کے دودھ میں تخم ملنگا اور پھل نکلے۔

آپ جاننا چاہیں گے کہ 46 سال کی عمر میں 26 کی نظر آنے والی ملائکہ اروڑہ خان کے ڈبے سے کیا نکلا۔

پڑھ کر آپ کو زیادہ خوشی نہیں ہوگی کیونکہ ملائکہ کے ڈبے سے توری سے بنے ہوئے نوڈل اور کچھ ابلی ہوئی گاجریں نکلیں ساتھ وہ ہر روز جم بھی جاتی ہیں جس کے بعد توری کے نوڈل اور ابلی گاجروں کا کیا حال ہوتا ہو گا۔

آپ کو یہ بھی بتا دیں کہ کترینہ کیف اکثر بھاپ میں تیار کی گئی اِڈلی اور سامبر کھاتی ہیں۔

ان سب میں خود مجھے سب سے اچھا ڈبہ اداکارہ راکل پریت کا لگا جن کی پلیٹ میں پالک اور جوار کی روٹی، بھنڈی کی سبزی اور ہری دالیں نظر آئیں۔

جبکہ توشار کپور خالص پنجابی انداز میں دال روٹی اور سبزی کی تھالی لیے بیٹھے تھے۔ ان کے علاوہ اداکارہ نیلم اور ملکہ شیراوت کے ڈبوں میں سلاد تھی۔ ان سب کے ڈبوں کی ایک خاص بات کم مقدار اور صحت مند خوراک تھی کیونکہ ہم جیسا کھاتے ہیں ویسے ہی نظر آتے ہیں۔

دپیکا پادوکون کی فلم ’چھپاک‘ مثبت رویوز کے باوجود بھی باکس آفس پر ٹھہرنے میں ناکام رہی اور محض ستائیس کروڑ ہی کما پائی جبکہ اجے دیوگن کی فلم ’تناجی‘ سو کروڑ کے کلب میں داخل ہو چکی ہے۔

سوشل میڈیا پر جہاں ’چھپاک‘ کے بارے میں برا ردِعمل آیا وہیں دپیکا کے جواہر لال یونیورسٹی کے دورے کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔

مودی جی کے خاص دوست اور اترپردیش کے وزیرا اعلی یوگی ادتیہ ناتھ نے اجے دیوگن کی فلم کو اتر پردیش جیسی بڑی ریاست میں ٹیکس فری کر دیا اور جواب میں اجے دیوگن نے انتہائی انکساری کے ساتھ نہ صرف ان کا شکریہ ادا کیا اور انہیں فلم دیکھنے کی دعوت بھی دی۔

یہاں فلم کے ساتھ سیاسی دھما چوکڑی صاف نظر آئی دپیکا کی فلم کو گانگریس کی حکومت والی ریاستوں میں ٹیکس فری کیا گیا جبکہ اجے کی فلم کو بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ ان فلموں کو سیاست کی بنیاد پر ترجیح دی گئی ہے۔

دپیکا نے جے این یو طالب علموں کے ساتھ کھڑا ہونے کی جرات کی جبکہ اجے دیوگن نے جے این یو میں تشدد پر ایک گول مول ٹویٹ کر کے اپنی جان چھڑائی جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔

اداکار، گلوکار، موسیقار، فلسماز، سکرپٹ رائٹر، ایڈیٹر دوسرے لفظوں میں ہمیش ریشمیا انتہائی محنتی انسان ہیں اور اپنی فلم کی ہیروئن بننے کے علاوہ فلم میں ہر کام خود ہی کرنا چاہتے ہیں۔

ایسے میں کچھ لوگوں کو ان کی آواز سے شکایت ہوتی ہے تو کچھ کو سکرپٹ سے اور بہت سے لوگوں کو ان کی اداکاری سے چڑ ہوتی ہے۔ ہمیش آخری بار 2016 میں فلم تیرا سرور میں نظر آئے تھے اور اب ان کی اگلی فلم ’ہیپی ہارڈی اور ہیر‘ رلیز کے لیے تیار ہے۔

اس فلم کی موسیقی تو ان کی ہے ہی ساتھ ہی وہ خود ہی ڈبل رول میں ہوں گے یعنی ان کی اداکاری کے مداحوں کے لیے ڈبل ڈوز۔

تاہم ریشمیا نے ہار نہیں مانی اور لوگوں کو چیلنج کیا ہے کہ اب وہ ان لوگوں کی شکایت دور کر دیں گے جو ان کی اداکاری پر تنقید کرتے ہیں۔

ریشمیا کہتے ہیں کہ ان کی بیوی سونیا نے انھیں چیلنج کیا ہے کہ وہ اپنی اداکاری سے لوگو ں کا دل جیت کر دکھائیں۔