بالی وڈ رؤانڈ اپ: 'انڈیا عورتوں اور جانوروں کے لیے محفوظ نہیں ہے'
- مصنف, نصرت جہاں
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
بالی وڈ اداکار جان ابراہم اپنی ہوم پروڈکشن فلم 'پرمانو' کے بعد کئی فلمیں کر رہے ہیں۔ پہلے 'ستیہ مے و جے تے' اس کے بعد 'را' اور پھر فلم 'بٹلہ ہاؤس۔'
جان کا کہنا ہے کہ انھیں خوشی ہے کہ وہ مصروف ہیں اور وہ بھی بامقصد اور اچھی سکرپٹ والی فلموں کے ساتھ۔ فلم 'ستیہ مے و جے تے' کرپشن اور عورتوں کے خلاف جرائم کے موضوع پر ہے جبکہ 'بٹلہ ہاوس' دہشت گردی کے ایشو پر۔
روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کے ساتھ انٹرویو میں جب جان سے پوچھا گیا کہ آج انڈیا میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم پر انکا کیا کہنا ہے تو جان نے بغیر جھجکے کہا کہ وہ خود ایک اقلیتی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن خود کو پہلے انڈین سمجھتے ہیں اور اپنے ملک کی خامیوں پر پردہ ڈالنے کے بجائے مسائل کو اجاگر کر کے ان کے حل کی بات کرنا چاہیں گے۔
یہ بھی پڑھیے
جان کا کہنا تھا کہ وہ یہ بات کھلے عام کہہ سکتے ہیں کہ انڈیا عورتوں اور جانوروں کے لیے محفوظ نہیں ہے۔ یہاں عورتوں کے حوالے سے جان کی بات کافی حد تک درست کہی جا سکتی ہے لیکن 'میرا بھارت مہان' ہے جہاں لوگ جانوروں کی محبت میں انسانوں کا خون بہانے سے بھی نہیں کتراتے۔
ملک میں 'ملک کی حقیقت پسندانہ عکاسی'

،تصویر کا ذریعہHindustan Times
جان ابراہم کے بعد رشی کپور دوسری بالی وڈ شخصیت ہیں جو کھلم کھلا کافی کچھ کہہ جاتے ہیں۔ اس ہفتے ان کی فلم 'ملک' ریلیز ہوئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فلم میں رشی کپور ایک مسلم خاندان کے سربراہ کے کردار میں ہیں جو اپنے خاندان کے کھوئے ہوئے وقار کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ رشی کپور کا کہنا تھا کہ انھیں خوشی ہے کہ فلمساز ابھینو سنہا نے اس فلم کو بغیر کسی لاگ لپیٹ کے ناظرین کے سامنے پیش کیا۔
انکا مزید کہنا تھا کہ انڈیا میں فرقہ واریت پر بولنے کی جرات ہر کسی میں نہیں اور ابھینو نے بڑی صاف گوئی سے ملک کے موجودہ حالات کو سب کے سامنے رکھا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
رشی کپور کا کہنا تھا کہ 'یہ خیال عام ہے کہ ہر دہشت گرد مسلمان ہوتا ہے لیکن یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر مسلمان دہشت گرد نہیں ہوتا۔' حالانکہ رشی کپور کایہ ڈائیلاگ پہلے کافی استعمال ہو چکا ہے لیکن پھر بھی ہر بار دل کو چھو جاتا ہے۔
سلمان کی فلم چھوڑنے کی ہمت کس میں ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پچھلے ہفتے فلسماز علی عباس ظفر نے پرینکا کے فلم 'بھارت' چھوڑنے پر جس طرح ٹویٹ کیا تھا اس پر نہ صرف لوگوں کا ردِ عمل سامنے آیا بلکہ ایسی خبریں بھی آئیں کہ پرینکا نے سلمان کی فلم 'بھارت' نک جونز سے شادی کے لیے نہیں بلکہ ہالی وڈ فلم کے لیے چھوڑی ہے۔
پرینکا کے قریبی دوستوں کا کہنا ہے کہ پرینکا کی شادی کا ابھی دور تک کوئی امکان نہیں ہے فی الحال وہ ہالی وڈ کے کئی پراجیکٹس میں مصروف ہیں۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ علی ظفر نے اپنی ٹویٹ میں بالواسطہ طور پر پرینکا کی شادی کا اشارہ دے کر پرینکا کی جانب سے فلم چھوڑنے پر اپنی خفت مٹانے کی کوشش کی تھی۔
بات جو بھی ہو اس وقت سب سے فائدے میں قطرینہ کیف ہیں جو اب پرینکا کی جگہ سلمان کی ہیروئن ہوں گی۔











