سات دن میں بارہ مسالے

،تصویر کا ذریعہFilm PR
- مصنف, حسن زیدی
- عہدہ, فلم تجزیہ کار
میں نے 'سات دِن محبت اِن' دیر سے دیکھی (کیونکہ جب وہ سینیما ہال میں پیش کی گئی تو میں پاکستان سے باہر تھا)۔ اُس وقت تک میں اس کے بارے میں دوست احباب سے بہتیرے ردِ عمل سُن چکا تھا، جو عموماً دونوں انتہاؤں کو چھوتے تھے، یا تو وہ نہایت ہی مزیدار فلم تھی یا نہایت ہی بُری فلم۔
فلم دیکھنے کے بعد مجھے اتنا تو اندازہ ہو گیا کہ دونوں انتہاؤں کے نقطۂ نظر غلط تھے، لیکن 'مینو اور فرجاد' کی بنائی ہوئی تیسری فیچر فلم کے بارے میں میرے اپنے کیا احساسات تھے، اِن کو سمیٹنے میں مجھے کچھ اور وقت لگ گیا۔

،تصویر کا ذریعہ7DMI
میرا خیال ہے کہ کچھ ایسا ہی مسئلہ فلمسازوں کو درپیش تھا۔ یہ ہدایتکار مینوگور اور فرجاد نبی کی پہلی بڑی بجٹ فلم تھی۔ اس سے پہلے وہ 'زندہ بھاگ' بنا چکے تھے، جو اپنے کم بجٹ کے باوجود نقادوں میں خاصی مقبول ہوئی تھی، اور اس کے بعد 'جیون ہاتھی' بھی پیش کر چکے تھے، جو اصل میں ٹی وی کے لیے بنایا گیا ایک ڈراما تھا جس کے بارے میں کم ہی بولا جائے تو بہتر ہے۔ دوسری طرف یہ نئی فلم پروڈکشن کمپنی ڈان فلمز کی بھی پہلی پیشکش تھی۔ اور اس سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں۔

،تصویر کا ذریعہ7DMI
دونوں نے سوچا ہوگا کہ فلم کو ہِٹ کرانے کا بہترین راستہ یہی ہے کہ ایک ہلکی پھلکی 'رومینٹک کامیڈی' بنائی جائے، جس میں پاکستان کی سب سے بڑی سٹار ماہرہ خان بھی ہوں۔ اور اُن کے ساتھ فلمی دنیا کے دیگر ستارے بھی سکرین پر جھلملائیں۔ اور چاشنی کے لیے فصیح باری خان کو لکھاری کے طور پر رکھا گیا، جن کی مشہوری 'برنس روڈ کی نیلوفر' اور 'قدوسی صاحب کی بیوہ' جیسے ٹیلی فلموں اور ڈراموں کے منفرد کرداروں اور ڈائیلاگ سے ہوئی ہے۔
چلیں، یہاں تک تو بات سمجھ میں آتی ہے اور کہانی میں فینٹسی کا پہلو بھی قابلِ فہم ہے۔ کہانی کے خدوخال یہ ہیں کہ ٹیپو (شہریار منوّر) ایک بیچارہ سا لڑکا ہے جو اپنی اپاہج لیکن غصیلی ماں (حنا دلپزیر) کے ساتھ رہتا ہے اور جس کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کی زندگی پیار کے بغیر گزرتی جا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہ7DMI
ایک دن ایک جادو کی صراحی اس کے ہاتھ لگتی ہے۔ اس صراحی میں رہنے والا 'خوش شکل' جِن دہلی کا دوارکا پرشاد (جاوید شیخ) ہے جو ٹیپو کو 'آفر' کرتا ہے کہ ٹیپو کے پاس سچی محبت ڈھونڈنے کے لیے سات دن ہیں۔ اگر وہ اِن سات دنوں میں کِسی لڑکی کو اپنی محبت میں گرفتار نہیں کر سکتا تو وہ ہمیشہ کے لیے دوارکا پرشاد کا غلام بن کر اسی صراحی میں رہے گا۔ (ایک شرط یہ بھی ہے کہ لڑکی کے چہرے پر تِل ہونا چاہیے۔)
ٹیپو یہ 'آفر' قبول کر لیتا ہے اور تِل والی لڑکی کی تلاش میں نکل پڑتا ہے۔ دوسری طرف اُسی کے گھر میں اس کی یتیم خالہ زاد بہن نیلی (ماہرہ خان) رہتی ہے جو ٹیپو کے عشق میں مبتلا ہے، لیکن ٹیپو اس کے بارے میں رومانوی انداز سے نہیں سوچتا اور اُس کی ماں، یعنی نیلی کی خالہ، بھی اُن کے جوڑے کے خلاف ہے۔
جیسے شاید آپ کو پڑھنے میں اندازہ ہوا ہو، یہاں سکرپٹ کے ساتھ پہلا مسئلہ نمودار ہوتا ہے۔ بھلا یہ کیسی 'آفر' ہے جو دوارکا دیتا ہے؟ اس کے عوض ٹیپو کو کیا ملتا ہے، سوائے اِس کے کہ اُس کی بینائی بہتر ہو جاتی ہے اور اُسے عینک نہیں لگانی پڑتی ہے؟ دوسری طرف ٹیپو کی ماں ٹیپو کی شادی کے اس لیے خلاف بتائی گئی ہے کہ وہ نہیں چاہتی کہ ٹیپو کا سہارا اُس سے چھِن جائے، لیکن نیلی تو پہلے ہی اُن کے گھر میں رہتی ہے اور وہ نیلی کو ویسے بھی نوکروں کی طرح استعمال کرتی ہے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اپنی بہن کی بیٹی کے رشتے سے ٹیپو کی ماں کیوں بدظن ہو؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیر چلیں، کہانی کے ان دو بڑے سقم کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں۔ 'سات دِن محبت اِن' کا اصل مسئلہ کچھ اور ہے۔ فلم کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ کبھی بھی ٹیپو کے کردار اور اُس کی مشکلات سے ہم احساس نہیں ہوتے۔ ٹیپو اپنی محبت کی تلاش میں پہلے غزالہ (آمنہ الیاس) کی طرف راغب ہوتا ہے، جو کہ نسوانی حقوق کی ایک تنظیم کی علمبردار ہے (اور وہ تنظیم بھی ایک مضحکہ خیز تصویر بنا کر پیش کی گئی ہے)، اور پھر'پرنسیس' سونو (میرا سیٹھی) کی طرف مائل، جو برطانیہ میں رہنے والی امیر خاندان کی بیٹی ہے اور جس کی شادی اس کی مرضی کے بغیر پاکستان میں کرائی جا رہی ہے۔
لیکن آپ کو محسوس یہی ہوتا ہے کہ ٹیپو کی، سوائے اپنی ڈیڈلائن پر پورا اُترنے کے، اِن خواتین میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔ نہلے پہ دہلا یہ کہ غزالہ جب ٹیپو میں دلچسپی ظاہر کرنا شروع کرتی ہے (جس کی بظاہر کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی)، تو ٹیپو اس کو فٹا فٹ بھُلا دیتا ہے۔ جس سے کم از کم میرے جیسے فلم بین کو اس کے کردار پر غصّہ ہی آسکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ7DMI
فلم کا واحد کردار جس میں پیچیدگیاں ہیں اور جس کی کہانی سچ مُچ میں دلچسپ لگتی ہے وہ نیلی کا ہے، جو ٹی وی کے مارننگ شوز اور ڈائجیسٹوں سے انتہائی متاثر ہے اور جس کے رومانوی خیالات بھی اُن ہی کے مرہونِ منت ہیں۔ ظاہر ہے ہر فلم بین کو پتہ ہے کہ آخرکار نیلی ہی کو ٹیپو کا جوڑ بننا ہے، لیکن فلم کے لیے کہیں بہتر ہوتا اگر نیلی کے کردار کو اور ڈیویلپ کیا جاتا اور ٹیپو اور اس کے ڈرامے کو بڑھایا جاتا۔ افسوس ایسا صرف فلم کے آخر میں جا کر ہوتا ہے، جب تک آپ ٹیپو سے ہمدردی کھو چُکے ہوتے ہیں۔
لیکن یہ بات نہیں ہے کہ 'سات دِن محبت اِن' میں مزے کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ کہانی، اپنے جھولوں کے باوجود، اچھی رفتار سے چلتی ہے، عکاسی اور تدوین عام طور پر قابلیت سے کی گئ ہے، اور سپیشل ایفیکٹس اب تک کی کسی بھی پاکستانی فلم سے بہتر ہیں۔
فلم میں زیادہ گانے نہیں ہیں لیکن جو ہیں وہ موسیقی کے اعتبار سے عمدہ اور موزوں ہیں، خاص طور پر علی سیٹھی اور آئمہ بیگ کا گایا اور شجاع حیدر کا کمپوز کیا ہوا 'یونہی رستے میں' اور فرید ایاز اور ابو محمد کا پیش کیا ہوا امیر خسرو کا کلام 'کاہے کو بیاہی بِدیس'۔ دونوں گانے فلم میں وہ سنجیدگی اور جذبات پیدا کرتے ہیں جو باقی فلم میں نہیں ہیں۔
اداکاری کے حوالے سے، اس کا معیار اگرچہ بہت بلند پایہ نہیں تو دیکھنے کے عین قابل ہے۔ جاوید شیخ اپنے جِن کے کردار میں خوب مزے لیتے ہیں لیکن میرے خیال میں دوارکا کا کردار قدرے کم ہونا چاہیے تھا تاکہ باقی کرداروں، خاص طور پر ٹیپو اور نیلی کے کرداروں کو کچھ وسعت مل سکتی۔ شہریار منوّر، جن کا 'گیٹ اپ'، کچھ کچھ ’کوئی مِل گیا' میں رتیک روشن سے ملتا جُلتا تھا، کہانی کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں۔ اور ماہرہ خان کو بھی نیلی کے کردار کے اُتار چڑھاؤ دکھانے کا کم ہی چانس ملتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ7DMI
آمنہ الیاس کا کردار بہت ہی ہلکا پھُلکا لکھا گیا تھا لیکن وہ پھر بھی اس میں تھوڑی بہت جان ڈالنے میں کامیاب رہتی ہیں۔ میرا سیٹھی کو جیسا کردار دیا گیا وہ اس پر پورا اُترتی ہیں۔ عامر قریشی (جو کہ مشہور فلم اداکار مصطفیٰ قریشی کے صاحبزادے ہیں) فلم میں نصیر کنکٹا نامی ایک گینگسٹر کا کردار ادا کرتے ہیں جس کی شادی ٹیپو کی ماں نیلی سے طے کر دیتی ہے۔ اُن میں اپنے والد کی طرح وِلن کے رولز کرنے کا خاصا پوٹینشل نظر آتا ہے، لیکن یہاں وہ صرف مزاح کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ یہی حال کچھ حنا دلپزیر کے ساتھ ہوتا ہے، اسی طرح کے رول وہ پہلے بھی بہت کر چُکی ہیں۔
بہر کیف، امید یہی رکھی جا سکتی ہے کہ فلمساز اگلی فلموں میں اِن چیزوں کا خیال رکھیں گے اور ہِٹ بنانے کے چکر میں بارہ مسالے کی چاٹ بنانے سے گریز کریں گے۔ بارہ مسالوں سے اکثر کھانوں کا اپنا ذائقہ دب جاتا ہے۔













