‘یہ لوگ ہندو مذہب کو بدنام کر رہے ہیں‘

سورا بھاسکر

،تصویر کا ذریعہFacebook/Swara Bhasker

،تصویر کا کیپشنبالی وڈ اداکارہ سورا بھاسکر جلد ہی فلم ویرے دی ویڈنگ میں نظر آئیں گی
    • مصنف, سوپریا شوگلے
    • عہدہ, بی بی سی ہندی

بالی وڈ اداکارہ سورا بھاسکر سوشل میڈیا پر سماجی معاملات پر کھل کر بولنے کے لیے اکثر سرخیوں میں رہتی ہیں۔ کئی بار وہ اپنے بیانات کی وجہ سے تنازعات میں بھی پھنس جاتی ہیں۔

گذشتہ دنوں انھوں نے انڈیا میں ہونے والے ریپ کے معاملات کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ کٹھوا اور اناؤ کے ریپ کے واقعات کے بعد انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ ’میں ہندوستان ہوں، مجھے شرمندگی ہے۔ آٹھ سال کی لڑکی کے ساتھ مندر میں گینگ ریپ اور قتل۔‘

یہ بھی پڑھیے

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

سورا کے اس ٹویٹ پر انہیں ٹرول کیا گیا اور انہیں ہندو مخالف بھی قرار دیا گیا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سورا نے کہا کہ ’میں سو فیصد اپنے بیان پر قایم ہوں۔ اسے جس طرح کا رنگ دیا گیا وہ بہت گھٹیا طریقہ تھا۔‘

سورا نے کہا کہ ’آپ کس بات سے ہندو مخالف ہوتے ہیں؟ ہندو مخالف حرکت کیا ہے؟ ایک آٹھ سال کی بچی کو اغوا کرکے اس کے ساتھ گینگ ریپ اور ایسے جرم کا منصوبہ بنانا ایک ہندو مخالف حرکت ہے نہ کہ وہ لوگ ہندو مخالف ہیں جو اس جرم کے خلاف بول رہے ہیں۔‘

سورا کے بقول ’اگر آپ ہندو ہونے کی وجہ سے مسلمانوں پر حملے کر رہے ہیں تو آپ ملک کا نام نہیں کر رہے بلکہ اسے بدنام کر رہے ہیں۔‘

سورا بھاسکر

،تصویر کا ذریعہInstagram/reallyswara

،تصویر کا کیپشنسورا بھاسکر

سورا کے مطابق یہ ایک گھٹیا ہرکت ہے جس کا جواب دینا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر آپ ریپ کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو آپ بہت گرے ہوئے انسان ہیں۔‘

حالیہ واقعات کے بعد یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ سورا نے ان دو واقعات کے بعد ہی آواز کیوں بلند کی۔

یہ بھی پڑھیے

اس بارے میں سورا نے کہا کہ ’پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ انڈیا میں حکومت میں موجود افراد نے مجرموں کی حمایت کی۔ جن لوگوں کا کام ملک کو آئین کے مطابق چلانا ہے، سب سے زیادہ گھٹیا اور غیر قانونی حرکت وہی لوگ کر رہے ہیں۔‘

سورا کہتی ہیں کہ انہیں ملک کی فکر ہے اور اپنے ملک سے انہیں بے پناہ محبت ہے۔ اگر ان کے ملک میں کچھ بھی غلط ہوگا تو وہ آواز ضرور اٹھائیں گی۔

ویدے دی ویڈنگ

،تصویر کا ذریعہRaindrop Media

،تصویر کا کیپشنفلم ویرے دی ویڈنگ کا ایک پوسٹر

اداکارہ سورا بھاسکر جلد ہی فلم ’ویرے دی ویڈنگ‘ میں کرینا کپور، سونم کپور اور شکھا تلسانیا کے ساتھ نظر آئیں گی۔

سورا کے بقول ہندی سنیما کو ایک ایسی فلم بنانے میں ایک سو پانچ سال لگ گئے جس میں چار لڑکیوں کو ایک ہی لڑکے سے محبت نہیں ہے۔

زیادہ تر خواتین پر مبنی فلموں میں کسی اشو پر زور دیا جاتا ہے۔ سورا کا خیال ہے کہ خواتین کو فلم میں کسی مسئلے کی بات کیے بغیر بھی اپنی کہانی سنانے کی آزادی ہونی چاہیے۔ ان کا خیال ہے کہ اس فلم میں انہوں نے اہنا اب تک کا سب سے مشکل کردار نبھایا ہے۔