بالی وڈ کے لیے انگلش ونگلش ضروری؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بالی وڈ اداکارہ کنگنا رناوت سے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران پوچھا گیا کہ ان کے آبائی قصبے منڈی اور ممبئی میں کیا فرق ہے تو ان کا کہنا تھا کہ منڈی جیسے چھوٹے شہر میں آپ کو یہ فکر رہتی ہے کہ آپ کے موسا جی، ماما اور پھوپو اور پڑوسی آپ کے بارے میں کیا سوچتے ہیں جبکہ ممبئی جیسے بڑے شہر میں کچھ اور ہی فکر ہوتی ہے کہ آپ نے کتنے پیسے کمائے اور اس سے کیا خرید پائے۔
کنگنا کا تعلق ریاست ہماچل پردیش کے ایک چھوٹے سے شہر منڈی کے ایک قدامات پسند راجپوت خاندان سے ہے۔ اس شہر میں لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکوں کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، عورتیں مردوں کے سامنے گھونگھٹ پہنتی ہیں اور گھر کے مردوں کے بعد ہی کھانا کھا سکتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس ماحول میں کنگنا نے اپنی شرطوں پر زندگی گزارنے کی جرات کی۔ کالج میں سکرٹ پہننے پر ان کے والدین کو شکایت ہوتی تھی اور ان کی والدہ کو اس بات کا طعنہ دیا جاتا تھا کہ انھوں نے اپنی بیٹی کی اچھی تربیت نہیں کی۔
بالی وڈ میں بھی کنگنا کا سفر آسان نہیں تھا۔ 2006 میں فلم گینگسٹر سے اپنے کریئر کا آغاز کرنے والی کنگنا رناوت ہمیشہ سے ہی انڈسٹری کے لوگوں اور میڈیا کی جانب سے تمسخر کا نشانہ بنتی رہیں، کبھی اپنے قدرے دیہاتی پس منظر کی وجہ سے تو کبھی اپنی انگلش بولنے کی کوششوں کی وجہ سے۔
تین نیشنل ایوارڈ حاصل کرنے والی کنگنا کا کہنا ہے کہ بالی وڈ میں ایسی ہیروئنز کے لیے بے پناہ مواقع ہوتے ہیں جنہیں ہندی نہیں آتی لیکن ایسی اداکاراؤں کو اپنی جگہ بنانے میں مشکل ہوتی ہے جنہیں انگلش نہیں آتی۔
فلم ’کوئن‘ اور ’تنو ویڈ منو‘ جیسی کامیاب فلمیں کرنے والی کنگنا اب اپنی اگلی فلم ’سِمرن‘ کی پروموشن کی تیاری میں مصروف ہیں۔



