بالی وڈ کے بڑے سٹار سوارا بھاسکر سے کچھ سبق لیتے!

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, نصرت جہاں
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
بالی وڈ کے معروف فلمساز مدھر بھنڈارکر دو باتوں کے لیے مشہور ہیں ایک متنازع اور بولڈ موضوع پر فلمیں بنانے کے لیے اور دوسرے ملک کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ اپنی ہمدردیوں کے لیے اور مدھر دونوں ہی کام بڑی محنت اور لگن کے ساتھ کر رہے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ جس طرح مدھر نے 'پیج تھری'، 'فیشن'، 'ہیروئن' اور 'کیلنڈر گرل' جسی فلمیں بنا کر شہرت اور کامیابی بٹوری وہیں ملک میں عدم رواداری کے موضوع پر بی جے پی کے ساتھ آواز میں آواز ملا کر ملک کے اعلیٰ ترین شہری اعزازوں میں سے ایک پدم شری حاصل کیا۔
اب مدھر بھنڈارکر ایک ایسا کام کر رہے ہیں جسے ایک پنت دو کاج کہا جا سکتا ہے۔ مدھر فلم 'اندو سرکار' بنا رہے ہیں جو کہ سنہ 1975 میں ملک میں لگنے والی ایمرجنسی پر مبنی ہے اور فلم کے کردار اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی اور ان کے بیٹے سنجے گاندھی سے ملتے جلتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فلم ریلیز سے پہلے ہی متنازع ہو گئی تو مدھر کا ایک مقصد تو پورا ہوا۔ خیال ہے کہ دوسرا مقصد ملک میں سنہ 2019 میں ہونے والے عام انتخابات سے پہلے پہلے کانگریس کی ساکھ کو خراب کرنے کی بی جے پی کی کوششوں کے روپ میں پورا ہو سکتا ہے۔
اب لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ گذشتہ برس عدم رواداری کے موضوع پر حکومت کی آواز میں آواز ملانے پر جب مدھر کو پدم شری سے نوازا گیا تھا تو اس بار انھیں کیا ملنے والا ہے۔
بحر حال کانگریس فلم کی ریلیز سے پہلے ہی فلم دیکھنے کا مطالبہ کر رہی ہے اور سینسر بورڈ کے کرتا دھرتا پہلاج نہلانی اور 'اندو سرکار' کے مالک مدھر بھنڈارکر کو یہ منظور نہیں۔ دیکھتے ہیں مدھر 'اندو سرکار' میں کانگریس پارٹی کو کس رنگ میں دکھانے بوالے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کاش سٹارز سوارا سے سبق لیتے!

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بالی وڈ میں ایسے ستارے کم ہی ہیں جو ملک کے اہم سماجی اور سیاسی معاملات پر کھل کر یا ایمانداری سے بات کرتے ہیں کیونکہ جب بھی کسی سٹار نے اپنی ایماندارانہ رائے پیش کرنے کی کوشش کی انھیں چپ کرانے کے لیے انتہائی گھٹیا ہتھیار استعمال کیے گئے ہیں۔
ایسے میں اداکارہ سوارہ بھاسکر نے ملک میں جاری 'لنچنگ' کے واقعات کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ انھوں نے ہجوم کے ہاتھوں ہلاک کرنے کے چلن کے خلاف ایک آن لائن مہم شروع کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ 'گئو رکشک' گروپوں پر پابندی لگائی جائے۔
ان کی اس مہم میں سینیئر صحافی کلدیپ نیئر، وکیل اور دلت کارکن جگنیش میوانی، سٹوڈنٹ لیڈر کنہیا کمار اور شہلا رشید شامل ہیں۔
سوارا اپنے ساتھیوں کے ہمراہ نہ صرف ایسے واقعات کو روکنے کے لیے ایک قانون کا مطالبہ کر رہی ہیں بلکہ ٹی وی شوز میں انتہائی جرات مند انداز میں ان واقعات کی مذمت کر رہی ہیں اور حکومت کی ناکامیوں پر کھل کر بول رہی ہیں۔
کاش انڈسٹری کے بڑے بڑے سٹارز سوارا کی اس ہمت و حوصلے سے کچھ سبق لے سکیں!
کونکنا کی شکایت

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اداکارہ کونکنا سین کا کہنا ہے کہ فلمسازوں اور ناظرین نے ایک آزاد سینیما کو تو قبول کر لیا ہے لیکن عورتوں کے مرکزی کردار یا ان سے متعلق موضوعات پر فلمیں بنانے کے لیے سرمایہ ملنا اب بھی مشکل ہے۔
کونکنا کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسی کئی سکرپٹس آئی ہی ہیں لیکن انھیں فلموں کا روپ دینے کے لیے پیسہ چاہیے اور یہ ایک مشکل کام ہے کیونکہ سرمایہ کار بڑے بڑے سٹارز کی مصالحہ فلموں کے لیے تو روپیہ لگانے کے لیے تیار ہوتے ہیں لیکن ایسی فلموں میں پیسہ لگانے سے ڈرتے ہیں۔
37 سالہ کونکنا کا کہنا ہے کہ 'لوگ تبدیلی کی بات تو کرتے ہیں لیکن اس تبدیلی کو عمل میں لانے کی کوشش نہیں کرتے۔'
کونکنا کی بات کافی حد تک درست ہے لیکن مسئلہ سرمایہ کاروں کا نہیں سماج یا معاشرے کا ہے اگر عوام ایسی فلمیں دیکھنے آئیں گے تو ہی سرماہ کار ایسی فلموں میں پیسہ لگائیں گے۔ تو یہاں ضرورت سماجی سوچ بدلنے کی ہے۔











