ہالی وڈ کی کئی کامیاب فلموں کے ریمیک بالی وڈ میں فلاپ ثابت ہوئیں

،تصویر کا ذریعہFRANK CAPRA
آج کے دور میں فلموں اور نغموں کو دوبارہ نئے طریقے سے پیش کرنے کا رواج عام ہے۔
جیسے فیشن میں کچھ چیزیں واپس آتی ہیں اسی طرح فلموں کی بھی ری میک بنتی ہیں اور پھر ری میک کو بھی کچھ عرصے کے بعد دوبارہ بنایا جاتا ہے۔
انڈین فلم انڈسٹری بالی وڈ میں ہالی وڈ کی کامیاب فلموں کی کہانیوں پر مبنی فلمیں بنتی رہی ہیں لیکن وہ سب کامیاب نہیں ہوئیں۔
بالی وڈ کی معروف فلم 'سلیپنگ ود دی اینیمی' کی کہانی میں اداکارہ جولیا رابرٹس اپنے شوہر کے ظلم کی وجہ سے فرار ہوجاتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہLEONARD GOLDBERG
جب وہ ایک نئی زندگی کا آغاز کرتی ہیں تو ان کا شوہر واپس آتا ہے اور پھر سے انھیں تنگ کرتا ہے۔ اس فلم کی کہانی پر مبنی پہلے 1995 میں مادھوری دکشت کی فلم 'يارانا' آئی تھی۔ اس کے بعد جوہی چاولہ کی فلم 'دراڑ' بھی اسی موضوع پر 1996 میں ریلیز ہوئی تھی۔ لیکن یارانا اور دراڑ دونوں ہی فلمیں فلاپ ثابت ہوئیں۔
آڈری ہیپبرن اور گریگوری پیک کی سنہ 1953 میں آنے والی فلم 'رومن ہالیڈیز' اور 1934 کی فلم 'اِٹ هیپنڈ ون نائٹ' کی کہانی اور راج کپور، نرگس کی فلم 'چوری چوری' کی کہانی تقریباً ایک ہی جیسی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہT SERIES
اس کہانی کو بڑے پردے پر کئي بار پیش کیا گیا۔ سنہ 1991 میں عامر خان اور پوجا بھٹ کی فلم 'دل ہے کہ مانتا نہیں' اسی فلم کی کہانی پر مبنی تھی۔
گریگوری پیک کی فلم 'میكیناز گولڈ' خزانے کی تلاش پر مبنی کہانی ہے جو 1969 میں ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم سے متاثر ہوکر بالی وڈ میں کئي فلمیں بنی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارت میں اس پر سب سے پہلے سنہ 1988 میں دھرمیندر اور شتروگھن سنہا کی فلم 'زلزلہ' آئی تھی۔ پھر 1992 میں جوہی چاولہ اور عامر خان کی فلم 'دولت کی جنگ' بھی اسی کہانی پر مبنی تھی۔ لیکن یہ دونوں فلمیں فلاپ ثابت ہوئی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہJALIL AHMED
رشی کپور کی فلم 'قرض' میں مرکزی کردار اپنے خون کا بدلہ لینے کے لیے دوسرا جنم لیتا ہے۔ اس فلم کی کہانی ایک انگریزی فلم 'ری انكارنیشن آف پیٹر پراؤڈ' کی کہانی سے ملتی جلتی ہے۔
ان دونوں فلموں میں تھوڑا فرق یہ ہے کہ انگلش فلم میں مرکزی کردار کا وہی حشر ہوتا ہے جو پہلے جنم میں ہوا تھا لیکن رشی کپور کا کردار اپنا بدلہ لے لیتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہSOHAIL KHAN
رشی کپور کی فلم 'قرض' تو ہٹ ہوئی لیکن اسی کہانی پر سنہ 2008 میں بننے والی ہمیش ریشميا اور ارملا متونڈكر کی 'قرض' بری طرح فلاپ ہوئی۔
امول پالیكر کی فلم 'چھوٹی سی بات' 1960 کی انگریزی فلم 'سکول فار سكاؤنڈرلس' پر مبنی ہے۔
فلم 'چھوٹی سی بات' اور وِل سمتھ کی فلم 'دی ہچ' کی کہانی بھی ایک جیسی ہیں۔
گووندا اور سلمان خان کی 2007 میں آنے والی فلم 'پارٹنر' کی کہانی بھی انھیں دو فلموں کی کہانیوں سے متاثر ہے۔










