کیا تشدد کسی صورت میں بھی جائز ہے؟

- مصنف, مارک مارڈل
- عہدہ, مدیر شمالی امریکہ، بی بی سی
امریکہ میں ٹوئن ٹاورز پر ان حملوں کو اب دس برس ہو رہے ہیں جن سے امریکہ سمیت تمام دنیا متاثر ہوئی تھی۔
امریکہ ایک ایسا ملک ہے جہاں آئین کا خاص احترام کیا جاتا ہے اور اہم سوالوں پر بحث مباحثے کا اکثر انجام یہ ہوتا ہے کہ اوّلین اصولوں پر بحث شروع ہو جاتی ہے۔
ایسے میں ٹوئن ٹاورز پر حملوں کے بعد بھی امریکہ میں یہ بحث چھڑ گئی تھی کہ انسانیت کا احترام کرنے والے معاشروں کو اپنے دشمنوں سے کیسے پیش آنا چاہیے اور کیا ’ٹارچر‘ یعنی حراست میں لیے گئے افراد پر تشدد کسی صورت میں جائز ہو سکتا ہے؟
فل مڈ دو ہزار ایک میں سی آئی اے کے ’آفس آف ٹیرررِزم انیلیسِز‘ کے ڈپٹی ڈائریکٹر تھے۔ گوانتانامو اور ایسے دیگر مقامات میں جو کچھ ہو رہا ہے اس بارے میں ان کا کہنا ہے ’مجھے رات کی وہ ملاقاتیں یاد ہیں، جن کا مقصد سی آئی کے ڈائریکٹر ٹیننٹ کو دہشتگردی کے خطرات سے آگاہ کرنا ہوتا تھا‘۔
فل مڈ کا کہنا تھا ’آپ جمعہ کی شام سات بجے بیٹھتے اور شام کا کھانا پھر چھوٹ جاتا۔ دوستوں کے ساتھ باہر جانا بھی ناممکن ہو جاتا اور اتنے میں ہمیں احساس ہوتا کہ ایک نیا قیدی اور ہاتھ لگا ہے۔ ہم نہیں جانتے تھے کہ دوسرے دن کیا ہونے والا ہے لیکن ہمیں جلد از جلد یہ ہی معلوم کرنا ہوتا تھا۔‘
وہ مزید کہتے ہیں ’ہو سکتا ہے ایک اور بچہ یا پھر والدین مارے جائیں۔ بس اسی جلد بازی سے نمٹنے کے لیے اس حساس تکنیک کا استعمال کرتے تھے جسے ایک روز تو سامنے آنا ہی تھا۔ پورے نظام میں کوئی بھی ایسا نہیں تھا جسے یہ گمان ہو کہ یہ سب ہمیشہ کے لیے خفیہ رہے گا۔ اور رہا بھی نہیں۔‘
اور پھر امریکہ کے محکمۂ انصاف کی طرف سے ایک ’غیر معمولی‘ میمو سامنے آیا جس کے تحت تشدد کو تو غیر قانونی قرار دے دیا گیا لیکن قیدیوں کو اذیت پہنچا کر ان سے معلومات کا حصول جائز قرار دے دیا گیا۔
اس میمو کے تحت ’بعض حرکتیں اذیت ناک تو کہلائی جا سکتی ہیں لیکن اس قدر تکلیف دہ نہیں ہوتیں کہ انھیں ٹارچر کہا جا سکے۔ ٹارچر کا مطلب یہ ہے کہ تکلیف بہت زیادہ ہو یا پھر اس کے وجہ سے کوئی عضو متاثر ہو۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فل مڈ کو صدر اوباما کی انتظامیہ میں انٹیلیجنس کا ’انڈر سیکرٹری‘ نامزد کیا گیا لیکن چونکہ وہ سابق انتظامیہ کی تفتیش کے طریقے کار سے واقف تھے اس لیے انھیں یہ عہدہ نہیں دیا گیا۔

مسٹر مڈ کہتے ہیں کہ ’ٹارچر کو کسی بھی صورت لازم نہیں قرار دیا جا سکتا۔ کسی صورت بھی! اکثر ایسے سوالات سامنے آتے ہیں کہ اگر کسی بچے کی زندگی بچ سکتی ہو تو کیا اس کے لیے کسی کو دیوار سے ٹکرانا جائز ہے؟
’اس بارے میں کیا خيال ہے کہ آپ کسی کو دیوار سے ٹکرا دیں اور اچانک انہیں پتہ نہیں کہ کیا ہونے والا ہے اور وہ پریشانی میں یہ کہہ دیں کہ اچھا ٹھیک ہے میں آپ کو ایک منصوبے کے بارے میں بتاتا ہوں، کیا یہ جائز ہے؟ کیا یہ قانونی ہے؟ کیا یہ ٹارچر ہے؟‘
فل مڈ کہتے ہیں کہ تکنیکی سطح پر، بعض واقعات میں، یہ ٹارچر ہوگا کیونکہ یہ ایک قیدی کے ساتھ جسمانی جارحیت ہے۔ ہمارے معاملات میں ہم نے جسٹس ڈپارٹمنٹ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت یہ قانونی ہے۔ ’میں کوئی تفتیش کے کام کا ماہر نہیں بلکہ تجزیہ کار ہوں اور ہمارا مقصد تکلیف دینا نہیں تھا۔ ہمارا مقصد انہیں راز اگلوانے کے لیے قائل کرنا تھا۔ لیکن ہمارا سوال تھوڑا وسیع ہے۔ اگر آپ اس طرح سوچیں کہ دیوار سے ٹکرانے سے کوئی معلومات نہیں ملتیں تو اسے آپ کیا کہیں گے؟ کیا یہ درست ہے؟‘
’جو سات آٹھ برس پہلے ہوا اس پر میں فیصلہ سنانے کے خلاف ہوں۔ اس وقت دنیا میں ماحول گرم تھا اور آپ نہیں سوچ سکتے اس وقت کی زندگی کیسی تھی لیکن اب لوگوں نے جو کہنا تھا وہ کہہ دیا ہے۔‘
فل مڈ کا یہ کہنا ہے کہ ٹارچر کے ذریعے حاصل کی گئي معلومات کئی بار اہم بھی تھیں۔
تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس طرح کا حملہ دوبارہ ہوا تو ماحول پھر گرم ہوجائے گا اور کیا پھر وہی پرانی روش اختیار کی جائے گی؟

وہ کہتے ہیں ’نہیں۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آج ہم جہاں بھی ہیں میں اس سے مطمئن ہوں۔ میں کہوں گا ہم اس راستے پر چل چکے ہیں۔ میرے خیال سے امریکی عوام یہ پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ ہمیں تیار رہنا چاہیے، سر بلند رکھیں، اور ہم آگے کی طرف بڑھیں۔‘
امریکہ ایسا پہلا مغربی ملک نہیں ہے جس نے ٹارچر جیسے غیر انسانی برتاؤ کو استعمال کیا ہو۔ برطانیہ نے بھی مالے، کینیا اور شمالی آئرلینڈ سمیت کئي جگہوں پر یہ روش اپنائی تھی۔ لیکن امریکہ ایسا پہلا ملک ہے جہاں سب سے پہلے اس مسئلے پر بحث کا آغاز ہوا کہ آیا ٹارچر جائز ہے یا نہیں۔
اس طرح کے موضوع پر بات چیت نئی جمہوریتوں میں ہونا تو عام بات ہے لیکن بالغ جمہوری ملکوں میں نہیں جہاں پر یہ تصور کرنا کہ یہ سب غلط ہے معمول کی بات ہے۔







