ٹوئٹر کی سربراہی چھوڑنے کا عندیہ: ایلون مسک سنجیدہ ہیں یا یہ ان کی کوئی چال ہے؟

ایلون مسک، جیرڈ کشنر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, زوئی کلین مین
    • عہدہ, ٹیکنالوجی ایڈیٹر

ایلون مسک نے ٹوئٹر پر پوچھا کہ کیا انھیں اس پلیٹ فارم کی سربراہی چھوڑ دینی چاہیے۔ اور ساتھ یہ بھی لکھا کہ وہ اس پول کے نتائج پر عمل کریں گے۔

انھوں نے بس دو آپشن دیے: ہاں اور نہیں۔ اس ٹویٹ سے کچھ گھنٹے قبل وہ قطر میں فٹبال ورلڈ کپ کا فائنل دیکھ رہے تھے۔ ان کی ایک تصویر میں دو قابل ذکر باتیں تھیں۔

پہلی یہ کہ وہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے ساتھ کھڑے تھے۔ مسک ٹرمپ کو ٹوئٹر پر واپس لانے کی کوشش کر چکے ہیں مگر اس میں انھیں ناکامی ہوئی ہے۔

مسک جانتے ہیں کہ ٹرمپ کی کوئی متنازع ٹویٹ ٹوئٹر کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔ وہ اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بڑی تعداد میں صارفین لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام

یہ بات ٹرمپ کو بھی معلوم ہے مگر ظاہر ہے ان کا اپنا ایجنڈا ہے۔ جیسے وہ اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل کے وفادار صارف رہنا چاہیں گے۔

تصویر میں دوسری قابل ذکر بات کیا ہے؟ وہ یہ کہ اس سے ثابت ہوا کہ مسک علاقائی اعتبار سے سعودی عرب کے قریب تھے جہاں ٹوئٹر کے سب سے بڑے سرمایہ کار بستے ہیں۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

کیا وہ سعودی عرب گئے۔۔۔ یا پھر کیا سعودی سرمایہ کاروں نے گذشتہ مہینوں کے دوران ان کی ٹوئٹر کی سربراہی پر سوالات پوچھے۔

مگر پول کے نتائج نے بھی مسک کو ضرور مشکل میں ڈالا ہے۔ اس میں 57 فیصد لوگوں نے ایک کروڑ 75 لاکھ ووٹ دے کر فیصلہ سنایا کہ مسک بطور ٹوئٹر سی ای او مستعفی ہوں۔ اب یہ کسی کو معلوم نہیں کہ مسک اصل میں اس پول سے کیا حاصل کرنا چاہتے تھے۔

یہ پول مسک کی ناکامی ہے یا پھر ٹوئٹر خریدنے کے بعد ناکامیوں سے نکلنے کا طریقہ، یہ فی الحال واضح نہیں۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ٹیسلا کے مالک نے کئی ماہ تک اس کمپنی کو نہ خریدنے کی کوشش کی تھی۔

اس پول کے بعد سے ایلون مسک کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ مگر شاید یہ خاموشی زیادہ دیر تک نہ رہے۔

ان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ عوامی پول کے نتائج پر سر تسلیم خم کر دیتے ہیں۔ یاد رہے کہ ٹوئٹر خریدنے سے قبل بھی انھوں نے یہ فیصلہ ایک پول کے ذریعے کیا تھا۔ یعنی اس سرکس کی شروعات ایک پول سے ہوئی۔

وہ ماضی میں ٹوئٹر پر اپنے فینز سے یہ پوچھتے نظر آئے کہ آیا انھیں ٹیسلا میں اپنے قیمتی سٹاک بیچ دینے چاہییں۔

کم از کم ایک بات واضح ہے کہ یہ کاروبار کرنے کا غیر معمولی طریقہ ہے۔ ایلون مسک جیسے لوگوں کی وجہ سے اب ہم ناقابل تصور چیزوں کی توقع کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ایلون مسک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ٹوئٹر کا اگلا سی ای او کون ہوگا؟

تو اگر ایلون مسک واقعی ٹوئٹر کی سربراہی سے دور ہو رہے ہیں تو ان کی جگہ کون لے گا؟

ان کی ٹوئٹر آمد پر یہ ’ون مین شو‘ رہا ہے۔ ان کے نائب کے طور پر کسی کو نامزد نہیں کیا گیا اور نہ ہی کوئی ان کے اتنا قریب ہے کہ یہ سمجھا جا سکے کہ وہی اگلا سی ای او ہوگا۔ جیسے میٹا میں مارک زکربرگ نے شیرل سینڈبرگ اور ایمیزون کے جیف بیزوس نے اینڈی جیسی کو سربراہ بنایا۔ مگر مسک کا کوئی جانشین نظر نہیں آ رہا۔

جبکہ ٹوئٹر کے سینیئر اہلکار جنھیں وہ اپنا اتحادی سمجھتے تھے، جیسے اعتماد کے شعبے کے سربراہ یول روتھ، بھی ٹوئٹر چھوڑ چکے ہیں اور انھوں نے مسک کی قیادت پر تنقید کی ہے۔

اس سے پہلے کہ آپ اپنی سی وی بھیجنے پر غور کریں، آپ کو یہ دیکھنا ہوگا کہ ٹوئٹر کا سی ای او کرتا کیا ہے۔ آپ کو انتہائی باصلاحیت ہونا ہوگا اور معیار پر سمجھوتہ کسی قدر قابل قبول نہیں۔ آپ کو ایسا عملہ ملے گا جس کے حوصلے پہلے ہی پست ہیں۔ قریب آدھے سٹاف کو نکالا جاچکا اور باقی آدھا اوورٹائم کرنے پر مجبور ہے۔

ٹوئٹر کی مالی حالت بھی اچھی نہیں۔ مسک کے مطابق ٹوئٹر کو روزانہ چالیس لاکھ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

گذشتہ مہینوں کے دوران ٹوئٹر میں افراتفری سے بھرپور فیصلہ سازی ہوئی ہے۔ ٹوئٹر پر مواد کی نگرانی میں مسک نے اپنی ذاتی حکمت عملی کو ترجیح دی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ ٹوئٹر کو ایسی جگہ میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں جو ایک گھر کی مانند پُرامن ہو، نہ کہ ایسا گھر جس میں ہر کوئی توڑ پھوڑ کرنے کی کوشش کرے۔

مسک نے ٹوئٹر کی پالیسیوں میں تبدیلیاں کیں اور پھر بعض تبدیلیاں واپس لیں۔

مستقبل میں کسی بھی ٹوئٹر سربراہ کو قریب 30 کروڑ صارفین کو تحفظ فراہم کرنا ہوگا کیونکہ انھیں تضحیک آمیز اور بعض اوقات غیر قانونی مواد کا سامنا ہوتا ہے۔

تاہم مسک سے جڑی توقعات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ان کی اگلی کوئی بھی ٹویٹ اس سوشل پلیٹ فارم کی ساکھ یا نگرانی کی پالیسیوں پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔ جب انھوں نے کہا تھا کہ ٹیسلا کے سٹاکس کی قیمت اصل قدر سے زیادہ ہے تو یہ قیمت اچانک گِر گئی تھی۔ اس کے بعد سے ان پر ٹیسلا کے بارے میں ٹویٹ کرنے پر پابندی ہے۔

آپ یہ بھی سوچ سکتے ہیں کہ ہر زوال کو عروج حاصل ہوتا ہے۔

ایک نیا سی ای او انقلاب لانے کے بجائے سرمایہ کاروں کو خوش اور ملازمین کے حوصلے بلند کر سکتا ہے۔ ٹوئٹر پر ہر دوسرا شخص اس پلیٹ فارم کو چھوڑنے کی دھمکی یا اس کی شکایت کرتا نظر آتا ہے۔

ایسا سوشل نیٹ ورک جو خود ہی بحث کا عنوان بن جائے، یہ کچھ مؤثر نہیں۔

ایلون مسک خلا کے بارے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور شاید ان کا خیال تھا کہ ٹوئٹر کو بھی راکٹ کے ایندھن کی ضرورت ہے۔ اور انھوں نے اسی کو ثابت کیا ہے۔

مگر اب یہ لگنے لگا ہے کہ انھوں نے مشکل سے ہی سہی لیکن بالآخر سیکھ لیا کہ سوشل میڈیا اور اسے چلانے والے لوگ کوئی مشین نہیں۔

اس کا مستقبل ستاروں میں نہیں بلکہ زمین پر ہی طے ہوگا۔۔۔ اگر وہ اس کی اجازت دیں گے تو!