پاکستان کی ٹیک انڈسٹری میں خواتین: ’کمپنی کا آغاز کیا تو سننے کو ملا کہ تم لنڈا بیچ رہی ہو‘

سحرش
،تصویر کا کیپشنسحرش رضا بز بی کے نام سے ایک ٹیکنالوجی کمپنی چلاتی ہیں۔ جس کے ذریعے سے وہ خواتین کو کپڑوں کی خرید و فروخت کی سہولت فراہم کرتی ہیں
    • مصنف, سحر بلوچ، ترہب اصغر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

’اپنے ساتھ کاروبار میں کسی مرد کو لگا لو تو کام اچھا چل جائے گا۔۔۔ یہ مشورہ مجھے اس وقت سننے کو ملا جب میں نے ٹیک انڈسٹری میں بطور انٹرپرینیور قدم رکھا۔ حالانکہ میرا کام زیادہ تر خواتین سے جڑا تھا لیکن پھر بھی یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ٹیکنالوجی سے جڑے کام میں مرد خواتین سے بہتر ہیں۔‘

سحرش رضا’بز بی‘ کے نام سے ایک ٹیکنالوجی کمپنی چلاتی ہیں، جس کے ذریعے وہ خواتین کو کپڑوں کی خرید و فروخت کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔

اپنی کمپنی کے بارے میں بتاتے ہوئے ان کا کا کہنا تھا کہ ’میرے ارد گرد بہت سی عورتیں تھیں، جو اپنی الماری کھولتی تھیں اور ان کے کپڑے الماری سے باہر گر رہے ہوتے تھے لیکن ان کا بس یہی ایک ڈائیلاگ سننے کو ملتا تھا کہ میرے پاس تو کچھ پہننے کو نہیں۔‘

’اس جملے کی مجھے کبھی سمجھ نہیں آئی کہ اتنے کپڑے ہونے کے باوجود خواتین کہتی ہیں کہ کچھ پہننے کو نہیں لیکن جب میں نے اپنی ریسرچ کی تو بہت بعد میں مجھے پھر یہ سمجھ آیا کہ مسئلہ یہ نہیں تھا کہ خواتین کے پاس کپڑے نہیں بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ وہ بار بار وہی کپڑے نہیں پہننا چاہتی ہیں۔‘

’اسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے مجھے ’بزبی‘ کا آئیڈیا آیا۔ مجھے یہ تو معلوم تھا کہ عورتوں کے زائد اور پرانے کپڑوں سے انھیں نجات چاہیے مگر کیسے؟ جس کے بعد میں نے ایسا پلیٹ فارم بنایا جہاں خواتین ان کپٹروں کو بیچ اور خرید سکتی ہیں۔‘

’اس سب سے دو چیزیں ہوں گی۔ ایک تو خواتین کو ان کے زائد کپڑے دوبارہ سے نجات مل جائے گی اور وہ کچھ پیسے بھی کما سکیں گی اور دوسرا وہ خواتین جو کپٹروں پر زیادہ پیسے نہیں خرچ کرنا چاہتیں وہ کم پیسوں میں بہت اچھے اور برینڈڈ کپڑے خرید سکیں گی۔‘

کپڑے

،تصویر کا ذریعہWRAP

’کمپنی کا آغاز کیا تو باتیں سننے کو ملیں کہ تم لنڈا بیچ رہی ہو‘

سحرش رضا نے اپنی کمپنی پر ہونے والی تنقید کا ذکر کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ ’مجھے بہت باتیں سننے کو ملیں کہ تم لنڈا بیچ رہی ہو اور زیادہ تر خواتین یہ کہتی تھیں کہ میں تو کبھی کسی کی اترن نہیں پہنوں گی۔‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

’یہ مائنڈ سیٹ تبدیل کرنا ایک مشکل عمل تھا کیونکہ میں سمجھتی ہوں کہ ہم خود بچپن سے یہی سنتے آئے ہیں کہ اگر استعمال شدہ کپڑے ہیں تو وہ لنڈا ہے یا اگر کوئی اپنی استعمال شدہ کپڑے دے رہا ہے تو وہ اترن ہے۔‘

’ہمارے لیے یہ انا والی چیز ہوتی تھی، جس کی وجہ سے میں نے کئی مرتبہ سوچا کہ اس پراجیکٹ کو چھوڑ دوں کیونکہ لوگوں کی سوچ تبدیل کرنا ممکن نہیں لگ رہا تھا۔‘

پہلے میں نے یہ ویب سائٹ صرف شادیوں والے استعمال شدہ کپڑوں کے لیے رکھی تھی، جس میں برائیدل اور پارٹی وئیر کپڑے تھے کیونکہ جیسے برائیدل ڈریس آپ ایک مرتبہ پہن لیں تو دوبارہ نہیں پہن سکتے، اسی طرح آپ پارٹی وئیر خاندان کی ایک شادی میں پہن لیں تو اس خاندان میں وہ آپ دوبارہ پہن کر نہیں جا سکتے۔

’لیکن اس میں بھی سو مسئلے سامنے آنے لگے۔ لڑکیاں کہتی تھیں کہ پتا نہیں جس کے کپڑے میں پہن رہی ہوں اس کی قسمت کیسی تھی، اس کی وجہ سے میری قسمت نہ خراب ہوجائے۔ اس لیے میں نے شادیوں والے کپڑوں کے علاوہ بھی کپڑے رکھنے شروع کر دیے، جن کی طلب زیادہ تھی۔ اس وقت ہماری ویب سائٹ کے علاوہ بھی ایسی ایپس ہیں جہاں خواتین باآسانی کپڑے بیچنے کے لیے تصوریر کھینچ کر اپ لوڈ کر سکتی ہیں۔‘

سحرش رضا بتاتی ہیں کہ ’آپ جتنے چاہیں جوڑے اپ لوڈ کر سکتے ہیں کیونکہ ہم اس کے پیسے چارج نہیں کرتے۔ جیسے ہی کوئی وہ کپڑے خریدتا ہے تو وہ پارسل پہلے ہمارے پاس آتا ہے۔‘

’ہم اس کی کوالٹی چیک کرتے ہیں اور اس کو اپنی پیکیجنگ میں پیک کرکے کسٹمر کو بھیجتے ہیں۔ ہم تمام آڈرز خواتین کے گھروں سے خود اٹھاتے ہیں اور پھر اپنی انڈسٹری سے چیک کرنے کے بعد ان کو پیسے آن لائن ٹرانسفر کرتے ہیں۔ اس میں سے ہم اپنا کمیشن بھی رکھتے ہیں۔ ‘

سحرش کہتی ہیں کہ انھیں شروع میں یہ بھی سننے کو ملا کہ ’میں کیوں اپنے کپڑے بیچوں، مجھے پیسوں کی ضرورت نہیں، میں غریب تھوڑی ہوں جو میں بیچوں۔ میں اپنی ماسی کو دے دوں۔‘

’لیکن میں نے ان کو یہ سمجھایا کہ اگر آپ مہنگے برانڈ کا 25 ہزار کا سوٹ اپنی ماسی کو دے رہے ہیں تو اس کے لیے 25 ہزار کے سوٹ کے کوئی معنی نہیں۔ اس کے لیے وہ صرف ایک کپڑا ہے۔ اس لیے اسے بیچیں اور وہ پیسے ضرورت مند کو دے دیں۔‘

سحرش نے مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہمیں بتایا کہ وہ اپنے کاروبار کو آگے بڑھانا چاہتی ہیں۔

’میں بنگلہ دیش میں بھی اسے شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں اور پھر دینا کےدیگر ممالک تک یہ کاروبار لے کر جاؤں گی۔‘

سحرش رضا واحد خاتون نہیں، جو پاکستان کی تیزی سے آگے بڑھتی ہوئی ٹیک انڈسٹری کا حصہ ہیں۔ ان جیسی درجنوں خواتین منفرد قسم کے آئیڈیاز پر کام کرتے ہوئے دنیا میں اپنا نام بنا رہی ہیں۔

ایسی کئی کہانیوں میں سے ایک کہانی جویریہ شکیل کی ہے، جو پچھلے تین سال سے ٹیک انڈسڑی کا حصہ ہیں اور کامیانی کے ساتھ اپنی کمپنی چلا رہی ہیں۔

جویریہ شکیل
،تصویر کا کیپشنجویریہ شکیل پچھلے تین سال سے ٹیک انڈسڑی کا حصہ ہیں اور کامیانی کے ساتھ اپنی کمپنی چلا رہی ہیں

’کچھ مختلف کرنا چاہتی تھی کیونکہ گھر میں بھائی پہلے ہی انجینیئرز ہیں‘

’کیا کبھی کوئی سوچ سکتا ہے کہ لِنگوسٹکس پڑھنے والی لڑکی آج ٹیکنالوجی کی دنیا میں انٹرپرینیور ہے۔ میں نے سوشل سائنسز پڑھی ہیں۔ لوگ مجھے کہتے تھے انجنئیرنگ یونیورسٹی میں آپ لنگوسٹکس کیوں پڑھنے جا رہی ہیں؟ تو تب بھی میں یہ بولتی تھی کہ میں کچھ مختلف کرنا چاہتی ہوں کیونکہ میرے گھر میں پہلے ہی میرے بھائی انجینیئرز ہیں۔‘

جویریہ شکیل کہتی ہیں کہ جب وہ دوسروں کو یہ بتاتی تھیں کہ وہ ادبی علوم پڑھ رہی ہیں تو لوگ کہتے تھے کہ اچھا لٹریچر پڑھ رہی ہو تو تم شیکسپیئر کو پڑھتی ہو گی؟ اس وقت میں سمجھا ہی نہیں پاتی تھی کہ یہ اس سے آگے کی چیز ہے کہ ہم کس طرح لینگویج کو بزنس میں، مارکیٹنگ میں استعمال کر سکتے ہیں۔‘

جویریہ شکیل کی کمپنی کا نام ’ایننٹ‘ ہے۔ جویریہ بتاتی ہیں کہ اس کمپنی میں سب انجینئرز تھے، جو مشینوں سے اچھے سے ڈیل کر لیتے تھے لیکن جہاں انسانوں سے بات کرنے کی ضرورت ہوتی تھی تو یہ ان کے لیے مشکل ہوتا تھا۔

’وہاں میری لِنگوسٹکس ڈگری کام آتی تھی۔ میں نے اس کمپنی کی پاکستان سمیت دنیا بھر میں نمائندگی کی اور کئی مقابلے بھی جیتے۔‘

اپنی کمپنی کے بارے میں بات کرتے ہوئے جویریہ نے بتایا کہ ان کی کمپنی ایسے آلات تیار کرتی ہے کہ جو پاکستان کے انرجی کرائسز کو کم کرسکیں۔

’ہمارے تيار کردہ آلات سے بجلی کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔ اس کی وجہ سے ہم 15 فیصد تک بجلی کے بِل کو بچا سکتے ہیں۔ اس وقت ہمارے آلات شیل کے پیٹرول پمپس پر نصب کیے گئے ہیں، جس سے انھیں بھی فائدہ ہوا۔‘

جویریہ آنے والے دنوں میں اپنے کاروبار کو تیزی سے آگے لے کر جانے پر توجہ دے رہی ہیں۔

جویریہ کا مزيد کہنا تھا کہ لازمی نہیں کہ آپ ٹیکنالوجی سے جڑے سٹارٹ اپ کے لیے انجینیئر ہوں۔

’ٹیک انڈسٹری میں کام کرنے کے بہت مواقع موجود ہیں اور خواتین کے لیے تو بلاشبہ بہت ہی زیادہ گنجائش ہے۔ یہ تاثر غلط ہے کہ ٹیک انڈسٹری میں جانے سے بہت عورتوں کو چیلنجز آئیں گے۔ پاکستانی سوسائٹی اور لوگوں کا مائنڈ سیٹ تبدیل ہو رہا ہے۔ اب اس انڈسٹری میں خواتین کو مردوں سے زیادہ سپورٹ ملتی ہے اگر وہ واقعی کام کرنا چاہتی ہیں۔‘

دیوویا
،تصویر کا کیپشندیوویا کماری اور رفعیہ تعلیم کے شعبے میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو ایک نئے انداز میں متعارف کروانا چاہتی ہیں

’چاہتے ہیں کہ ہمارا تعلیمی نظام تبدیل ہو‘

ٹیکنالوجی کا استعمال ہماری روز مرہ کی زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ ٹیکنالوجی کی اہمیت کو جانتے ہوئے ہی حیدر آباد سے تعلق رکھنے والی دیوویا کماری اور رفعیہ تعلیم کے شعبے میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو ایک نئے انداز میں متعارف کروانا چایتی ہیں۔

وہ دونوں اپنے دیگر ٹیم ممبرز کے ساتھ مل کر ’آلٹ ایڈ‘ کے نام سے کمپنی چلا رہی ہیں۔ وہ تھری ڈی ماڈل لے کر آئی ہیں، جس کے ذریعے آپ اپنے لیپ ٹاپ یا موبائل پر دیکھ کر مشہور شخصیات اور تاریخی عمارتوں کو دیکھ اور جان سکتے ہیں۔

اس بارے میں دیوویا نے بات کرتے ہوئے کہا کہ آپ سوچیں کہ اگر آپ پاکستان کی تاریخ قائد اعظم سے پڑھیں یا پھر آپ کراچی میں رہتے ہوئے یہ دیکھ سکیں کہ اسلام ٓاباد کی فیصل مسجد اندر سے کیسی دکھتی ہے۔ ہم نے اسی چیز کو ذہن میں رکھتے ہوئے پاکستان کی تاریخی عمارتوں کے تھری ڈی ماڈل تیار کیے ہیں۔

’ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا تعلیمی نظام تبدیل ہو اور بچوں کو ایک نئے اوردلچسپ انداز میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے۔ اس وقت تک ہم نے پاکستان سمیت دینا کی کئی اہم شخصیات اور عمارتوں کے ماڈل تیار کر لیے ہیں جو ہماری ویب سائٹ پر موجود ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

دیوویا کماری اور رفعیہ
،تصویر کا کیپشندیوویا کماری اور رفعیہ تعلیم کے شعبے میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو ایک نئے انداز میں متعارف کروانا چایتی ہیں

’ہم سے سب پوچھتے ہیں کہ اس سب سے کیا فائدہ ہو گا؟ تو ہم لوگوں کو یہ سمجھاتے ہیں کہ آنے والا دور اسی کا ہے۔‘

دیوویا کہتی ہیں کہ جب انھوں نے بطور ٹیک انٹرپرینیور کام شروع کیا تو سب لوگ ان سے کئی سوالات پوچھتے تھے بلکہ اب تک سوال کرتے ہیں۔

’مجھ سے ابھی تک میرے گھر والے پوچھتے ہیں کہ کیا تمھیں تنخواہ ملے گی؟ کیا تمھارا آفس ہے؟ یہ سب کرنے سے ہوگا کیا؟ میں انھیں بتاتی ہوں کہ آپ فکر مت کریں، جو میں چاہتی ہوں وہ سب کچھ ہوگا۔‘

ہم نے اپنے کچھ سینئیرز کے ساتھ مل کر تربیتی پروگرامز کا انعقاد کرایا تاکہ واضح کیا جا سکے کہ ’آرٹیفیشل انٹیلیجس‘ ہوتی کیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’جب ہم نے اس بارے میں مزید پڑھانا شروع کیا تو ہماری دلچسپی بھی مزید بڑھتی گئی اور ہم نے سوچا کہ ہم اس فیلڈ سے جُڑا ہی کوئی کام کریں گے۔

دیوویا کماری نے اپنے آلٹ ایڈ کمپنی کے سفر کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جب میں ٹیکنالوجی کی طرف آئی تو شروع میں گھر والے کہتے تھے کہ ڈاکٹری کر لو یا ٹیچینگ میں چلی جاؤ۔

’لیکن میں کچھ الگ کرنا چاہتی تھی۔ اس لیے میں نے تھری ڈی آرٹسٹ کے طور پر کام کرنا شروع کیا تھا، جس کے بعد میں اس کمپنی کی شریک بانی بن گئی۔‘

’اگر آپ کو ٹیکنالوجی کا شوق ہے اور آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں تو اس سے جڑی ہر چیز سیکھنا انتہائی آسان ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ خواتین کے لیے تو بہت ہی زیادہ آسان ہے کیونکہ آپ سب گھر بیٹھے بھی سیکھ سکتے ہیں اور پیسے کما سکتے ہیں۔‘

دیوویا مزید کہتی ہیں کہ ’بطور خاتون میں جانتی ہوں کہ اکثر لڑکیوں کو گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں ملتی۔ اس لیے میں تو ہمیشہ یہی کہتی ہوں کہ بس آپ کے پاس ایک لیپ ٹاپ، انٹرنیٹ اور سیکھنے کی لگن ہونی چاہیے۔ اس کے بعد کامیابی ان کا مقدر ہو گی کیونکہ مستقبل کا دور تو صرف ٹیکنالوجی کا ہی ہے۔‘