شادیوں کے انتظام کا کاروبار، جس کا آغاز کراچی کے ایک جوڑے نے اپنی شادی سے کیا

’ہماری بیٹی کی پیدائش کے اگلے ہی دن مجھے ایک ایونٹ پر جانا تھا۔ یہ میری بیوی عائشہ کے بغیر میرا پہلا ایونٹ تھا۔ عائشہ وہاں موجود نہیں تھی مگر جیسے ہی ڈیلیوری ہوئی عائشہ نے پوچھا میرا لیپ ٹاپ کدھر ہے؟ میں نے سمجھایا ہسپتال میں لیپ ٹاپ تو نہیں۔۔۔‘
انڈین فلم ’بینڈ باجا بارات‘ کے بٹو اور شروتی کی طرح فہد اور عائشہ نے ’ویڈنگ پلیننگ‘ کے شعبے میں اپنی جوڑی بنائی جو ایک ہی وقت میں کاروبار اور زندگی میں شراکت کی اچھی مثال بن گئی۔
فہد جنوبی افریقہ میں فنانشل ٹیکنالوجی کی نوکری چھوڑ کر اس خیال سے وطن لوٹے کہ انھیں کچھ اپنا کام کرنا تھا۔ وہ یہ سوچ کر واپس آئے کہ ایونٹس سے متعلق کوئی کاروبار شروع کرنا ہے کیونکہ شادیاں کرانے کا کاروبار تو دنیا کی شروعات سے ہے اور شاید اختتام تک رہے گا۔
پھر ان کی عائشہ سے ملاقات ہوئی جنھوں نے ڈیجیٹل ڈیزائنگ کی تعلیم حاصل کی تھی اور ان میں بھی ویسا ہی جذبہ تھا۔
فہد یاد کرتے ہیں کہ کام کے ویژن نے ان کی کیمسٹری بنا دی اور ایونٹس کے شعبے میں داخل ہونے کے پانچ ماہ بعد دونوں نے اپنی ہی منگنی کرا لی۔
عائشہ کے مطابق یہ دلچسپ بات تھی کہ دونوں بیک وقت اپنا کاروبار اور زندگی شروع کرنے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔
فہد کہتے ہیں کہ ’وہ سال ہی کچھ الگ تھا۔‘

پیار اور کاروبار ایک ساتھ ممکن؟
فلم ’بینڈ باجا بارات‘ میں انوشکا رنویر سنگھ سے کہتی ہیں کہ ’بزنس کا پہلا اصول، جس کے ساتھ ویاپار کرو اس سے کبھی نہ پیار کرو۔ پیار اور کاروبار کی جوڑی کبھی نہیں بیٹھتی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تو کیا میاں بیوی ایک کامیاب کاروبار چلا سکتے ہیں؟
کراچی کے رہائشی فہد اور عائشہ کے کیس میں دونوں نے شروع میں ہی گھر اور کاروبار میں اپنے اپنے کردار طے کر لیے۔
عائشہ کو معلوم تھا کہ ان میں کچھ تخلیقی صلاحیتیں ہیں مگر وہ اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کر سکتیں جبکہ قائدانہ اور دور کی سوچ رکھنے والے فہد زمین پر قدم جمائے رکھنے میں معاونت کر سکتے ہیں۔
عائشہ کہتی ہیں کہ ’کاروبار چلانے کے لیے دونوں ہنر اہم ہیں۔ اگر میں تنہا کچھ سوچتی ہوں تو بہت آگے نکل جاتی ہوں۔ میرے ایونٹس بجٹ سے باہر بھی چلے جاتے ہیں۔ فہد کے اندر ایک کنٹرول ہوتا ہے۔ ہم دونوں مل کر کاروبار کے لیے ایک توازن پیدا کرتے ہیں۔‘

فہد کے نزدیک اچھی بات یہ ہے کہ ’کام میں ہمارے مسئلے کبھی ذاتی نوعیت کے نہیں ہوئے۔ ہماری بحث تخلیقی باتوں پر ہوتی ہے۔ بحث یہ ہوتی ہے کہ ہم نے یہ کرنا ہے یا نہیں، یہ نہیں کہ یہ کیوں یا وہ کیوں۔ بحث اس بارے میں ہوتی ہے کہ یہ اچھا لگے گا یا بُرا۔‘
اپنے اس جواب کے دوران فہد نے تسلیم کیا کہ ’بہت سی جگہوں پر میں غلط ہوتا ہوں‘ جس پر عائشہ نے کہا ’ہاں‘ اور دونوں ہنسنے لگے۔
پھر فہد نے محتاط ہوتے ہوئے کہا ’کبھی کبھی عائشہ بھی غلط ہو جاتی ہے۔‘
عائشہ نے کہا کہ ’جب سے ہماری بچی پیدا ہوئی ہے ہم میں ایک ٹھہراؤ آ رہا ہے۔ پہلے ہم ایک الگ دھن میں رہتے تھے اور والدین کہتے تھے تھوڑے ٹھہر جاؤ۔‘
ان کے مطابق ’ہم صنفی کرداروں پر یقین نہیں کرتے اور ایک دوسرے کو پُراطمینان رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے

’اگر کوئی اور بزنس پارٹر ہوتا تو اتنا مزہ نہ آتا‘
دونوں کا خیال ہے کہ ساتھ کام کرنے میں مزہ تو بہت آتا ہے مگر کچھ پیچیدگیاں بھی ہوتی ہیں۔ ایسا نہیں کہ ان کے کاروبار اور شادی شدہ زندگی میں عروج کے بعد زوال نہیں آتا۔
عائشہ کہتی ہیں کہ ’کبھی ایک شخص کام میں مصروف ہوتا ہے، کبھی دوسرا۔ یہ ایک جنگ ہوتی ہے کہ میں صحیح جگہ پر ہوں مگر تم کیوں نہیں ہو۔‘
’اگر صرف کاروباری پارنٹر ہوتے تو اپنی اپنی جگہ ڈھونڈ لیتے مگر ذاتی تعلق کی وجہ سے آپ کو اس پر محنت کرنا پڑتی ہے۔‘

فہد نے کہا کہ وہ اپنی غلطی ماننے اور معذرت کرنے میں پہل کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ آپ غلط بھی ہوں اور معافی بھی نہ مانگیں۔
عائشہ کے مطابق ’کبھی کبھی ایک الگ سپیس بھی درکار ہوتی ہے۔ سب سے بہترین چیز یہ ہے کہ اگر کسی اور کے ساتھ کام کر رہی ہوتی تو شاید اتنا لطف حاصل نہ کرتی۔‘
وہ کہتی ہیں کہ کہیں سے بہت اچھی آفر آئے، بڑا کلائنٹ ملے، اچھی میٹنگ ہو جائے تو یہ بہترین لمحات ہوتے ہیں۔
’اگر کسی دوست یا بزنس پارٹنر کے ساتھ کام کر رہی ہوتی تو شاید اتنا انجوائے نہ کر پاتی۔‘












