کلسٹر سردرد: ’میرے سر میں اتنا شدید درد ہوتا ہے کہ میں دیواروں سے سر ٹکرانے پر مجبور ہو جاتا ہوں‘

- مصنف, اینجی براؤن
- عہدہ, بی بی سی سکاٹ لینڈ، ایڈنبرا اینڈ ایسٹ رپورٹر
53 سالہ ڈیرن فرینکش گذشتہ 17 سالوں سے ایک اذیت ناک سر درد کی بیماری میں مبتلا ہیں جس کی تکلیف کے باعث وہ چیختے چلاتے ہیں اور یہاں تک کے سر دیواروں پر مارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
سکاٹ لینڈ کے رہائشی ڈیرن کا کہنا ہے کہ انھیں ایسا لگتا ہے کہ جیسے کوئی پوری طاقت سے بیس بال کا بلا اُن کے سر پر مار رہا ہو۔ اس دوران انھیں آنکھوں میں بھی شدید تکلیف ہوتی ہے اور انھیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی ان کی ’آنکھوں میں خنجر مار رہا ہو۔‘
اس بیماری کو ’کلسٹر سر درد‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ انسان کو متاثر کرنے والی سب سے زیادہ تکلیف دہ حالتوں میں سے ایک ہے۔
ڈیرن پیشے کے لحاظ سے انجینیئر ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’لاک ڈاؤن کے دنوں میں ایک بار مجھے اسی شدید سر درد کی شکایت کے ساتھ ہسپتال جانا پڑا اور مجھے یاد ہے کہ ایک وقت ایسا آیا کہ درد کی شدت کے باعث میرا دل کر رہا تھا کہ میں بس کے سامنے کود پر اپنی جان دے دوں۔ یہ وہ لمحہ تھا جب مجھے سمجھ آئی کہ اس کو خودکشی پر مجبور کرنے والا سر درد کیوں کہا جاتا ہے۔‘
’میں ہر وقت اس خوف کے ساتھ جی رہا ہوں کہ سر درد کا اگلا حملہ کب ہو گا۔ اس سوچ نے مجھے زندگی سے ہی خوفزدہ کر دیا ہے۔ یہ جانتے ہوئے جینا کہ یہ کسی بھی وقت ہو سکتا ہے، ایک نفسیاتی اذیت سے کم نہیں، میں اس سے خوفزدہ ہوں۔‘
عام طور پر جب اس درد کا دورہ پڑتا ہے تو اس کا دورانیہ 15 منٹ سے تین گھنٹے تک ہوتا ہے اور ایک دن میں سات سے آٹھ درد کے دورے پڑ سکتے ہیں۔
لیکن ڈیرن بتاتے ہیں کہ کئی مرتبہ انھیں یہ سر درد 12 گھنٹے تک بھی رہا۔
ان کا کہنا ہے کہ اس درد کے دورے کا آغاز اُن کے سر کے بائیں جانب آنکھ کے اوپر اٹھنی والی ایک شدید ٹیس سے ہوتا ہے۔ ’دھیرے دھیرے میری بائیں آنکھ سرخ ہونا شروع ہوتی ہےاور اس سے بہت زیادہ پانی بہنے لگتا ہے۔ میری ناک بند ہو جاتی ہے اور میرے سر میں شدید درد شروع ہو جاتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈیرن کہتے ہیں کہ وہ اس درد کو صرف ایک خوفناک احساس کے طور پر بیان کر سکتے ہیں۔
’ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے پوری طاقت سے بیس بال کے بلے سے آپ کو مارا ہو۔ ساتھ ہی ایسا لگتا ہے جیسے کوئی چاقو میری بائیں آنکھ کے اوپر گھونپ کر اسے نیچے کی جانب کھینچ رہا ہو۔‘

’میں بہت بے چین ہو جاتا ہوں اور کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے میں جسمانی طور پر بیمار ہوں۔ میں تکیے میں منہ دے کر چیختا ہوں، سر زور زور سے دیوار یا کسی سخت چیز پر مارتا ہوں۔ میں تیز تیز قدموں کے ساتھ اندھیرے کمرے میں ٹہلتا رہتا ہوں کیونکہ مجھ سے روشنی بالکل برداشت نہیں ہوتی۔‘
درد کی وجہ سے کیونکہ آنکھ سے مسلسل پانی بہہ رہا ہوتا ہے، اس لیے ڈیرن اکثر اپنی بائیں آنکھ پر کپڑا رکھ کر چہل قدمی کے لیے باہر جاتے ہیں۔
کیونکہ درد کے مارے ان سے بات نہیں کی جاتی، اس لیے ڈیرن اپنے پاس ایک کارڈ رکھتے ہیں تاکہ لوگوں کو اپنی حالت کے بارے میں آگاہ کر سکیں۔
وہ کہتے ہیں کہ اب وقت کے ساتھ انھیں پڑنے والے سر درد کے دورے زیادہ تواتر اور زیادہ لمبے عرصے کے لیے ہونے لگے ہیں۔
پچھلے سال مئی کے مہینے میں 12،12 گھنٹوں تک ہونے والے درد کے بعد انھیں دو راتیں ہسپتال میں گزارنی پڑی تھیں۔
اس بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اب تک ہونے والے سب سے تکلیف دہ اور کربناک درد تھے۔‘
کلسٹر سر درد ہوتا کیا ہے؟

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
کلسٹر (یعنی جھرمٹ) سر درد ایک نایاب بیماری ہے جو 1,000 افراد میں سے کسی ایک کو متاثر کرتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق، برطانیہ میں تقریباً 65,000 افراد اس کا شکار ہیں۔
کیٹی مارٹن برین ریسرچ کی ایک مینیجر ہیں۔ ان کے مطابق اس بیماری کا نام اس کی شدت کو بیان کرنے کے لیے ناکافی ہے جو صرف سر درد سے کہیں زیادہ ہے۔
’جیسا کہ ڈیرن نے بیان کیا ہے، کلسٹر اٹیک کا درد ناقابل برداشت ہوتا ہے، اس میں لوگ درد سے چیخ رہے ہوتے ہیں، حتی کہ اس اذیت سے نجات پانے کے لیے دیواروں سے سر ٹکرا رہے ہوتے ہیں۔‘
’ہم اس بیماری کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ضروری تحقیق کے لیے فنڈز فراہم کر رہے ہیں، تاکہ ایسا طریقہ علاج ڈھونڈا جا سکے جو تمام متاثرہ افراد کو موثر ریلیف فراہم کر سکے۔‘
عام طور پر متاثرہ افراد کی عمر 30 سال سے زیادہ ہوتی ہے، اور خواتین کے مقابلے مردوں میں یہ بیماری زیادہ پائی جاتی ہے۔
اس درد کا دورانیہ چند دنوں میں ایک بار سے لے کر روزانہ متعدد بار تک ہو سکتا ہے۔ اور اس کا ایک دورانیہ 15 منٹ سے لے کر کئی گھنٹوں تک طویل ہو سکتا ہے۔
اس کی وجہ سے کئی افراد کو ہسپتال میں داخل ہونا پڑتا ہے۔ یہ بیماری لوگوں کے طرزِ زندگی کو کافی متاثر کرتی ہے اور متاثرہ افراد کو اکثر نوکری سے بھی ہاتھ ڈھونا پڑسکتا ہے۔
کلسٹر سردرد کی وجہ سے ڈپریشن کا خطرہ تین گنا تک بڑھ جاتا ہے جبکہ کئی بار اس کے شکار مریضوں کی جانب سے خودکشی کے رجحانات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
اس کا فی الحال کوئی علاج نہیں۔
جب ڈیرن کو پہلی بار یہ سر درد ہوا تو اس وقت کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میں اس وقت گھر والوں کے ساتھ چھٹیاں گزارنے کی غرض سے پراگ میں تھا جب مجھے شدید سر درد ہوا۔ یہ اتنا شدید تھا کہ مجھے لگا کہ جیسے میرے اندر کچھ انتہائی غلط ہے اور جیسے مجھے برین ٹیومر ہو۔‘
اس کے بعد سے انھیں کئی دوائیں تجویز کی گئی ہیں جن میں سٹیرائڈز، لیتھیم، دل کی دوائیں اور مرگی کی گولیاں شامل ہیں۔
ڈیرن کہتے ہیں کہ حالانکہ ان کو مرگی کا مرض لاحق نہیں ہے، لیکن ڈاکٹرز سب آزما رہے ہیں۔ مگر کچھ بھی کام نہیں کر رہا ہے۔
’مجھے ایک انجکشن دیا گیا ہے جسے میں درد شروع ہوتے ہی استعمال کر سکتا ہوں۔ یہ کبھی کبھی کام کر جاتا ہے۔‘
ڈیرن کے پاس گھر میں آکسیجن کے سلینڈر بھی ہیں، جنھیں وہ درد کے دوران اپنی حالت کو مستحکم کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
انھوں نے مختلف غذائیں آزمائیں، تمباکو اور شراب نوشی بھی چھوڑ دی، لیکن انھیں بدستور سردرد کا سامنا ہے۔
’اگلا مرحلہ یہ ہے کہ میں اپنے سر میں اعصاب بلاک کرنی کے دوا لگواؤں۔‘
لوکل انیستھیسیا کی دوا قلیل مدت کے لیے اعصاب کو بے حس کر دیتی ہے۔ سٹیرایڈ سوزش کو کم کرتا ہے۔ یہ ایک سال تک درد کی شدت کو کم کر دیتا ہے۔
ڈیرن کہتے ہیں کہ وہ اس کا خطرہ مول لینے کو تیار ہیں کیونکہ یہ خودکشی کی نہج پر دھکیلنے والا یہ سردرد انکی زندگی کو بری طرح متاثر کررہا ہے۔ ' یہ سب کچھ تباہ کر دیتا ہے اور جب درد ہوتا ہے تو میں کچھ نہیں کر پاتا۔'
'اس سے میری ازدواجی زندگی پراثر پڑا اور میری طلاق کی ایک وجہ یہ بھی تھی۔ اورمجھے یہ سوچ کر بہت بُرا لگتا ہے کہ میرے بچے میری چیخیں سن کر بڑے ہو رہے ہیں۔‘
ڈیرن نے کچھ شواہد پڑھے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ کلسٹر سر درد گردن توڑ بخار کی وجہ سے ہو سکتا ہے، انھیں پہلی بار گردن توڑ بخار دو سال کی عمر میں ہوا تھا اور پھر دوبارہ اس وقت جب ان کی عمر 12 سال تھی۔
مگر ابھی کے لیے انھیں اس سردرد کے ساتھ ہی جینا ہو گا۔











