’کوٹھے کی مٹھائی‘: ترکیہ کا مشہور پکوان جسے ’قدرتی ویاگرا‘ مانا جاتا ہے

ترکی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, بونیٹا گریما
    • عہدہ, بی بی سی ٹریول

میں استنبول کے ’مصر بازار‘ میں داخل ہوا تو رنگ اور مصالحوں کی خوشبو کے ایک طوفان کا سامنا تھا۔ اسے ترکی کے کئی مقامی لوگ شہر کا سب سے بہترین بازار مانتے ہیں۔

سامان کی خرید و فروخت میں مصروف گاہکوں اور دکانداروں کی قطار کے ساتھ چلتے چلتے میں بازار کی پچھلی جانب موجود گلیوں میں پہنچ گیا جہاں پنیر، گلاب کی پتیوں کی چائے، پستہ اور گلابی زیتون کے ڈھیر موجود تھے۔ اس بیش قیمت خزانے پر نظر جمائے میں کسی خواب کی طرح بھٹک گیا۔ لیکن کچھ ہی دیر میں میری نظر اس افسانوی میٹھے پر پڑ گئی جس کی تلاش مجھے یہاں کھینچ لائی تھی۔

’ہلکا تیتلیسی‘ استنبول کی گلیوں میں ملنے والی سب سے پسندیدہ اور قدیم خوراک ہے۔ ہر گلی کے کونے پر ملنے والے اس میٹھے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ گھنٹوں تک اس مصروف شہر میں پیدل چلنے والوں کو ایک دم تر و تازہ کر دیتی ہے۔ یہ گول شکل میں گوندھے آٹے سے بنتی ہے جس کو سنہرے بھورے رنگ کا ہونے تک پکایا جاتا ہے اور پھر ایک شربت میں گھول دیا جاتا ہے جس سے اس کی مٹھاس جڑی ہے۔ لیکن اتنی مرغوب چیز کو مقامی لوگ ’کوٹھے کی مٹھائی‘ کیوں کہتے ہیں؟

ترکیہ کے مشہور شیف سومیر نے اس نام کی وضاحت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ اس مٹھائی کو ’قدرتی ویاگرا‘ مانا جاتا ہے۔

اس مٹھائی کو روایتی طور پر استنبول کے اس حصے میں فروخت کیا جاتا تھا جو یورپ کا حصہ ہے۔ یہ کاراکوئے کا علاقہ ہے جس کا پرانا نام گالاٹا تھا۔ یہ گولڈن ہارن، جو آبنائے باسفورس کا حصہ ہے، کے شمال میں پانی کے کنارے پر موجود ہے جسے باظنتینیوں کے زمانے سے شہر میں بحری آمدورفت کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

ترکی

،تصویر کا ذریعہLeyla Capaci

ایک زمانے میں یہ گینوا کے تاجروں کا رہائشی علاقہ تھا تاہم 13ویں صدی کے بعد سے یہاں دوسرے علاقوں سے آنے والے رہائش پذیر ہوتے چلے گئے۔ ان میں وہ یہودی بھی شامل تھے جن کو سلطان بایذید دوم نے 1492 میں سپین سے بے دخلی کے بعد استنبول آنے کی دعوت دی۔

یہ ایک انتہائی مصروف بندر گاہ کے ساتھ ساتھ صنعتی علاقہ بن گیا۔ تاہم یہاں جسم فروشی کا بازار بھی گرم ہونا شروع ہو گیا۔ سنہ 1884 میں جب استنبول میں قحبہ خانو کو قانون کے تحت کام کرنے کی باقاعدہ اجازت ملی تو بیرون ملک سے آنے والوں کے لیے مخصوص علاقہ اگلے 137 سال تک خوب پھلا پھولا۔

استنبول کی ٹور گائیڈ لیلا نے بتایا کہ اس زمانے میں اناطولیا کے دیہی علاقوں اور چھوٹے شہروں کے تاجر یہاں کاروبار کے لیے آتے تو قحبہ خانوں پر بھی جاتے۔ سستی، مذیدار مٹھائی اس وقت مشہور ہو گئی کیوں کہ کہا جاتا ہے کہ اسے کھانے سے مردوں کو کوٹھوں پر جانے سے پہلے اور بعد کے لیے درکار توانائی میسر ہو جاتی تھی تاہم آج یہ علاقہ یکسر مختلف نظر آتا ہے۔

گالاٹا کے مشہور ٹاور سے نکل کر پرانی پتھریلی گلیوں سے گزرا تو ایسے شواہد صاف تھے کہ اس علاقے میں جدت آ چکی ہے۔ گذشتہ ایک دہائی کے دوران یہاں موجود گوداموں میں جدید آرٹ کی گیلریز بن چکی ہیں، ورکشاپس کی جگہ کیفے اور بوتیک کھل چکے ہیں۔ اس تبدیلی کی سب سے بڑی نشانی حال ہی میں زرفا سٹریٹ پر بقیہ ماندہ کوٹھوں کی بندش تھی جن کو گرانے کے بعد وزارت ثقافت اور سیاحت ایک منصوبے کے تحت آرٹس اینڈ کلچر سینٹر بنا رہی ہے۔

لیلی نے کہا کہ کوٹھے تو بند ہو چکے ہیں لیکن اس مٹھائی کو بیچنے والے اسی علاقے میں جگہ جگہ کھڑے نظر آتے ہیں۔

ترکی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

کچھ ہی دیر میں اس بات کا تجربہ بھی ہو گیا۔ گالاٹا پل پر باسفورس کی چمیلی سطح میں مچھلیاں پکڑنے کی کوشش میں مصروف مچھیروں کے قریب سے گزرا تو آسمان پر سمندری بگلے منڈلا رہے تھے۔ کچھ ہی آگے بڑھا تو دو شخص شہر کی محبوب مٹھائی تیار کرنے اور بیچنے میں مصروف تھے۔

ان کو ابلتے ہوئے تیل میں ایک بوتل سے سیرپ انڈیلتے دیکھا تو ایک ایسی شکل بنی جو دیکھی بھالی محسوس ہوئی۔ میں نے سوچا کہ یہ گول مٹھائی ایک چورو جیسا ہی نہیں؟ چورو ہسپانوی خوراک ہے جو آٹے کو پکا کر مختلف اشکال میں بنائی جاتی ہے۔

لیلی کہتی ہیں کہ ’ہلکا تیتلیسی‘ دیکھنے میں چورو جیسا ہی لگتا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سپین سے یہودیوں کی بے دخلی کے بعد ان ہی کے ساتھ ترکیہ کے ساحل پر نمودار ہوا۔

فرق یہ ہے کہ ہماری مٹھائی جسے اکثر ترکش چورو بھی کہا جاتا ہے، گول شکل کی ہے اور تولمبا تتلیسی سے اخذ گئی ہے۔

تولمبا تتلیسی ایک ترکش مٹھائی ہے جس کا نام اس پمپ جیسے آلے یا سرنج کی وجہ سے پڑا جس سے سیرپ ملایا جاتا ہے۔ اسے پکانے سے پہلے چھوٹی چھوٹی ٹیوبز میں کاٹ کر اس سیرپ میں بھگو دیا جاتا ہے۔ یہ مٹھائی ترکیہ میں شادیوں اور ماہ رمضان میں شوق سے کھائی جاتی ہے۔

اس مٹھائی کے استنبول تک پہنچنے کے سفر کے بارے میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں تاہم مجھے معلوم ہوا کہ ہلکا تیتلیسی، تولمبا تتلیسی اور چورو کا تعلق دراصل ایک قدیم عربی پکوان سے ہے۔ زلابیا مشبق نامی میٹھے کا ذکر سب سے پہلے ابن سیار ال ورق کی کتاب ال تبیخ میں کیا گیا ہے۔

دسویں صدی کی مشہور کتاب میں بغداد کے پکوانوں کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں اور اس کی مدد سے اسلام کے سنہرے دور میں اس وقت کی ایک جھلک ملتی ہے جب بغداد دنیا بھر میں سائنس اور ثقافت کا مرکز تھا۔

یہ بھی پڑھیے

عراقی نژاد خوارک کی مؤرخ نوال نصر اللہ نے پہلی بار اس کتاب کا عربی سے انگریزی زبان میں ترجمہ کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ تولمبا بلکل وہی چیز ہے جو ہلکا تیتلیسی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ موخر الذکر کی شناخت اس کی شکل سے منسوب ہے۔

انھوں نے بتایا کہ بہت سے پکوان اس وقت استنبول پہنچے جب سلطنت عثمانیہ کے سلطانوں نے اپنے عالی شان باورچی خانے عربیوں کے حوالے کر دیے۔ عین ممکن ہے کہ اس کی شکل میں سپین سے بے دخل ہونے والے یہودیوں کا بھی عمل دخل ہو، تاہم ہم یہ جانتے ہیں کہ مسلمان سپین میں یہ پکوان مشرق وسطی سے متاثر ہو کر بنا۔

ان تمام مٹھائیوں میں کم و بیش وہی اجزا اور ترکیب استعمال ہوتے ہیں۔ نصر اللہ نے بتایا کہ زلابیا مشبق کو روایتی طور پر ایک ناریل میں کیے گئے سوراخ سے گرم چربی میں ڈال کر بنایا جاتا تھا۔ ہلکا تیتلیسی اور تولمبا کو جدید طریقوں سے بنایا جاتا ہے۔

ترکی

،تصویر کا ذریعہElif Yaren Hari

لیکن ان مٹھائیوں کی اس متنازع خصوصیت کا کیا جس کی وجہ سے ان کو کوٹھوں کے باہر فروخت کیا جاتا رہا؟ عرق گلاب اور شہد، جو تاریخی طور پر زلابیا کی مٹھاس کا باعث بنتے تھے، میں جنسی طاقت بڑھانے کی خصوصیات ہوتی ہیں۔ نصر اللہ کا کہنا ہے کہ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ یہ مٹھائی بھی جنسی طاقت بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔

زمانہ قدیم میں لوگ رومی فلسی گیلن کے نظریات کو مانتے تھے جن کے مطابق میٹھے میں جنسی طاقت ہوتی ہے جو اپنی گرم اور مرطوب خصوصیات کی وجہ سے مردانہ طاقت میں اضافہ کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ زلابیا ایک ایسا پکوان تھا جو خلیفہ کے میز پر اور بازار جیسی عام جگہ پر موجود ہوا کرتا تھا۔

آج ہلکا تیتلیسی استنبول کی محبوب غذا ہے اگرچہ اب اسے صرف کوٹھوں کے باہر نہیں بیچا جاتا۔ ریسٹورنٹ ہوں یا پھر ریڑھی والا، یہ ہر جگہ ملتی ہے۔

ترکیہ کے مشہور شیف سومیر کا منصوبہ ہے کہ وہ اس مٹھائی کی ایک جدید شکل اپنے نئے ریسٹورنٹ افندی میں متعارف کروائیں گے۔

ہم چاہتے ہیں کہ اس عام گلی کی خوراک کو ریسٹورنٹ تک پہنچا دیں۔

وہ ماسٹر شیف ترکی میں بطور جج بھی حصہ لے چکے ہیں جہاں چند سال قبل انھوں نے مقابلے میں حصہ لینے والوں کا اس محبوب مٹھائی کا نئے طریقے سے بنانے کا چیلنج سونپا تھا۔

وہ ایک مذیدار چیلنج تھا کیوں کہ دیکھنے میں یہ ایک عام سا میٹھا نظر آتا ہے لیکن اس کو درست طریقے سے بنانا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ تیل کا درجہ حرارت بلکل مناسب ہو گا تو اندر کی نرمی اور باہر کی ساخت اچھی ہوتی ہے اور یہ کام مقابلے میں حصہ لینے والوں کے لیے تو مشکل ثابت ہوا لیکن ٹی وی کے لیے بہت اچھا تھا۔

سومیر اس مٹھائی کو جو جدت دے رہے ہیں اس میں مشرقی ترکیہ کا پستے سے بنا میدہ اور روایتی سیمولینا استعمال کیا گیا۔ پھل، چینی اور پانی سے بنے شربت میں ملا کر اس مٹھائی کو تیار کا جاتا ہے جس پر پستہ کے ٹکڑے پھیلا کر ایویلک کے ساحلی شہر سے حاصل کردہ سمندرہ نمک چھڑکا جاتا ہے اور پھر بکری کے دودھ سے تیار کردہ آئس کریم کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔

مجھے ہدایت کی گئی کہ میں اسے ٹھںڈا ہونے سے پہلے کھا لوں۔ میں نے ایک چھوٹا نوالہ لیا۔ پہلے ایک ہلکے سخت سے احساس کے بعد مجھے زبان پر نرمی سی محسوس ہوئی اور ایسا لگا کہ مٹھاس کا دھماکہ ہو گیا جب شربت کا پانی میرے حلق سے نیچے اترنا شروع ہوا جو بہت ہی عمدہ ذائقہ تھا۔

یہ کوئی حیران کن معمہ نہیں رہا کہ سلطاںوں اور گناہ گاروں کو ایک جیسی خوشی دینے والی یہ قدیم مٹھائی صدیوں کا سفر طے کرنے کے باوجود اتنی ہی محبوب کیوں ہے۔