پورولیا کیس: جب ’خلائی مخلوق‘ نے آسمان سے انڈیا میں کلاشنکوف اور سنائپر رائفلز سمیت جدید ہتھیار برسائے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, نیاز فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، دلی
پڑھنے میں شاید یہ آپ کو کوئی فلمی کہانی لگے گی مگر یہ ایک حقیقی واقعہ ہے!
وہ 17 دسمبر 1995 کی رات تھی جب ایک طیارے نے انڈیا کی ریاست مغربی بنگال کے ضلع پورولیا میں غیرمعمولی طور پر زمین کے قریب آ کر کچھ سامان گرایا اور پھر یہ طیارہ غائب ہو گیا۔
بنگالی زبان کے اخبار ’آنند بازار پتریکا‘ کے ایک مقامی صحافی نے اُسی رات صحافی دیبدت گھوش ٹھاکر کو فون کر کے اس عجیب واقعے کی اطلاع دی۔
مگر فون پر مقامی رپورٹر جو کچھ بیان رہا تھا اس پر نیوز روم میں موجود اُن تجربہ کار صحافیوں کو بھی یقین نہیں آ رہا تھا جن کے لیے مضحکہ خیز اور عجیب و غریب کہانیاں سننا اور بیان کرنا روزمرہ کا معمول تھیں۔
گاؤں والوں نے طیارے کے انجنوں کا شور تو سُنا تھا لیکن رات کی تاریکی میں وہ طیارے کو آسمان پر دیکھ نہیں سکے تھے۔ اور پھر وہی ہوا جو عموماً ایسے معاملات میں ہوتا ہے یعنی تصدیق شدہ اطلاعات کی عدم موجودگی میں جلد ہی افواہیں پھیلنے کا سلسلہ شروع ہوا۔
گاؤں میں یہ افوہ پھیل گئی کہ کسی دوسرے سیارے سے آنے والی ’خلائی مخلوق‘ نے گاؤں پر حملہ کر دیا ہے اور انھوں نے اسی مقصد کے لیے اپنے طیارے سے اِدھر اُدھر ہتھیار بھی پھینک دیے ہیں۔
درحقیقت طیارے سے پھینکا جانے والا سامان کچھ اور نہیں بلکہ اسلحہ تھا۔ تین لکڑی کے تختوں پر پیراشوٹ سے بندھے بکسوں میں ایسا جدید اسلحہ گاؤں میں پھینکا گیا تھا جس سے مقامی لوگ شاید واقف بھی نہیں تھے۔ گرنے والے سامان میں 300 کلاشنکوف، 15 ماکاروف پستول، دو سنائپر رائفلیں، گولہ بارود، آر پی جی سیون، 10 راکٹ لانچر، 100 اینٹی ٹینک گرنیڈ اور فوجیوں کے رات میں دیکھنے کے آلات شامل تھے۔
خبر بہرحال حیران کر دینے والی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نیوز روم میں جیسے ہی مقامی صحافی کی جانب سے دی گئی یہ اطلاع موصول ہوئی تو اس واقعے کے بارے میں مزید جاننے کے لیے اخبار کی انتظامیہ نے دیبدت ٹھاکر کو گاؤں روانہ کیا۔
’آنند مارگ‘ پر شک

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پورولیا گاؤں میں ہر طرف کافی افراتفری تھی کیونکہ اس سے قبل نا تو کبھی اس طرح کا واقعہ دیکھنے میں آیا تھا اور نہ ہی سننے میں۔
اہم بات یہ تھی کہ گاؤں میں جس مقام پر اسلحہ گرایا گیا تھا وہاں نزدیک میں پہلے ہی انڈین فوج موجود تھی اور ایک آرمی کے زیر انتظام چلنے والا سکول بھی تھا۔ گاؤں میں موجود انڈین فوج کو واقعے کا تو پتہ چل چکا تھا مگر یہ خبر نہیں تھی کہ یہ اسلحہ کہاں سے، کس طرح اور کیوں آیا۔
جب تک دیبدت ٹھاکر گاؤں میں اُس مقام تک پہنچے تب تک سرکاری اہلکار گرنے والا تمام اسلحہ جمع کر چکے تھے۔ ٹھاکر کو یہ شبہ بھی ہوا کہ عین ممکن ہے کہ حکام کے پہنچنے سے پہلے ہی اس میں سے کچھ ہتھیار مقامی لوگوں کے ہاتھ آ گئے ہوں۔
گاؤں میں انھوں نے دیکھا کہ ’آنند مارگ‘ نامی ایک مذہبی جماعت کا سالانہ اجتماع بھی اسی گاؤں کے قریب جاری تھا جہاں ہتھیار پھینکے گئے تھے۔
اس جماعت کے اجتماع میں بہت سے غیر ملکی بھی شامل تھے۔ انڈیا کے اس علاقے میں ماؤ نواز باغی بھی قریبی ریاستوں میں متحرک تھے لیکن اب تک آسمان سے ہتھیار گرنے کے عجیب و غریب واقعے کی کسی کے پاس کوئی تسلی بخش وضاحت نہیں تھی۔
ریاستی حکومت نے اپنی طرف سے فوری طور پر کارروائی شروع کر دی۔ ٹھاکر بتاتے ہیں کہ ’پہلے دن سے ہی سی پی ایم (بائیں بازو کی اس وقت ریاست میں حکمراں پارٹی) کی قیادت والی ریاستی حکومت نے آنند مارگ پر اس واقعے کا الزام لگانا شروع کر دیا۔‘
’آنند مارگ‘ پورولیا ضلع میں ہی مقیم ایک مذہبی گروپ تھا جس کا مختلف مسائل پر ریاستی حکومت کے ساتھ جھگڑا رہتا تھا۔
یہ گروپ اپنے جلسے جلوسوں میں تلواروں اور کھوپڑیوں جیسی علامات کا استعمال کرتے تھے اور اُن کا سالانہ اجتماع اتفاق سے اسی وقت جاری تھی جب آسمان سے ہتھیار گرے۔ اس پس منظر کو دیکھتے ہوئے حکومت نے سب سے پہلے اسی گروپ پر اس واقعے کا الزام عائد کیا۔
مگر جب قانون نافذ کرنے والے مقامی اداروں نے اس مذہبی گروہ کے ہیڈ کوارٹر پر چھاپہ مارا تو انھیں وہاں سے کچھ بھی نہیں ملا۔
’طیارے کو ایئر پورٹ پر اُتار لیا گیا‘

اس واقعے کا پہلا اہم سراغ چند روز بعد اس گاؤں سے تقریباً دو ہزار کلومیٹر دور ممبئی سے اس وقت ملا جب 23 دسمبر کو لیٹویا کے ایک AN-26 طیارے کو زبردستی ممبئی ایئرپورٹ پر اُتارا گیا۔
یہ وہی طیارہ تھا جس نے پورولیا گاؤں میں ہتھیار گرائے تھے اور اب یہ طیارہ انڈیا کے فضائی راستے کو استعمال کرتے ہوئے واپس اپنی منزل کی جانب جا رہا تھا۔
مگر ہتھیار کس کے لیے تھے؟
انڈیا کی تفتیشی ایجنسی سینٹرل بیورو آف انڈیا (سی بی آئی) کے ایک سابق سینیئر افسر، جنھوں نے اس کیس پر کام کیا تھا، نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’یہ اُن کی حماقت تھی کہ وہ واپس انڈیا آئے۔ لیکن ہمارے لیے اچھا ہوا کہ وہ انڈیا کے راستے واپس آئے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ممبئی میں زبردستی لینڈنگ سے پہلے، یہی طیارہ انڈیا کے جنوبی شہر چنئی کے ہوائی اڈے پر ایندھن بھروانے کے لیے رُکا تھا اور یہ کرنے کا مقصد یہ تھا کہ طیارے کا عملہ کلکتہ جانے سے بچنے کی کوشش کر رہا تھا۔
’وہ یہ سوچ رہے تھے کہ کلکتہ میں اُن کے بارے میں تفتیش کی جا رہی ہے۔ وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ انڈین پولیس مقامی سطح پر ہی نہیں کام کرتی ہے بلکہ اس کا قومی سطح پر بھی نظام ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جب اس جہاز کے عملے کو گرفتار کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ان میں سے پانچ کا تعلق لیٹویا سے، ایک کا برطانیہ جبکہ ایک ڈنمارک کا شہری ہے۔ گرفتار ہونے والے افراد میں ڈنمارک کا شہری نیلس ہولک بھی شامل تھا۔
مگر گرفتاری کے بعد چند منٹوں میں ہی نیلس ہولک حیران کن طور پر پرہجوم ممبئی ایئرپورٹ سے فرار ہو گئے۔
فرار ہونے والا شخص کم ڈیوی کے فرضی نام سے سفر کر رہا تھا اور اس کا اصلی نام نہیں تھا۔ اس نام کا انتخاب انھوں نے پانچ ہفتے کی عمر میں مرنے والے نیوزی لینڈ کے ایک شیر خوار بچے کے نام پر کیا تھا۔
وہ اس سے پہلے کم از کم 46 جعلی شناختیں اختیار کر چکے تھا اور اُن کے پاس متعدد پاسپورٹ تھے۔ وہ اس ’آنند مارگ‘ گروپ کے رُکن بھی تھے جن کے اجتماع کے مقام کے قریب ہتھیار گرائے گئے تھے۔
تفتیش کاروں کو معلوم ہوا کہ لیٹوین عملہ محض پیسوں کے لیے انڈیا یہ کام کرنے آیا تھا۔ لیکن برطانوی شہری، جن کا نام پیٹر بلیچ تھا، ایک اسلحہ ڈیلر تھے اور برطانوی خفیہ ایجنسی MI5 کے ڈبل ایجنٹ بھی۔
پیٹر بلیچ نے تفتیش کے دوران اور رہائی کے بعد بارہا دعویٰ کیا کہ انھوں نے اس منصوبے کے بارے میں برطانوی انٹیلیجنس کو آگاہ کیا تھا جنھوں نے بعدازاں انڈین خفیہ ایجنسیوں کو آگاہ کیا تھا۔
سنہ 1998 میں بی بی سی کو ایک انٹرویو میں انھوں نے بتایا تھا کہ ’دہلی میں کانگریس کی حکومت تھی اور مغربی بنگال میں کمیونسٹ حکومت تھی اور دونوں کے تعلقات اچھے نہیں تھے۔‘
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ کسی نے برطانوی خفیہ ایجنسی کی یہ رپورٹ دیکھ لی اور مجھے لگتا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ کسی نے اس سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہو۔‘
بی بی سی نے یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ اس کی تفتیش کے مطابق یہ ہتھیار آنند مارگ نامی مذہبی فرقے کے لیے ہی تھے تاہم اس دوران کئی متضاد دعوے بھی سامنے آئے۔
اب یہ معلوم ہو چکا ہے کہ اس طیارے نے بلغاریہ سے اڑان بھرنے کے بعد پہلے کراچی میں پڑاؤ کیا اور پھر انڈین فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد ریاست اتر پردیش کے شہر وارانسی سے ایندھن بھروا کر رنگون کی طرف روانہ ہوا، جو کہ ملک کے مزید مشرق میں ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن کچھ ہی دیر میں طیارے نے اپنا رخ بدل کر پورولیا گاؤں کی جانب کر لیا۔
ہتھیار پھینکنے کے بعد یہ مخالف سمت میں کلکتہ کی طرف چلا گیا جہاں سے ایندھن بھروا کر یہ طیارہ تھائی لینڈ کی جانب روانہ ہو گیا جہاں اس کے عملے نے انڈیا واپس آنے سے پہلے چند روز تک ایک ریزورٹ میں قیام کیا۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ اس جہاز میں اسلحے کی موجودگی کے باوجود بھی انڈیا میں لینڈنگ اور اڑان بھرنے کی منظوری ملتی رہی۔
اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ تھی کہ اس جہاز کا عملہ اتنا پراعتماد تھا کہ اسلحہ گرانے کے چند دن بعد واپسی کا راستہ اختیار کرنے کی غرض سے بھی انھوں نے انڈین فضائی حدود کا انتخاب کیا۔
لیکن تب تک انڈین ایجنسیاں چوکنا ہو چکی تھیں۔ جیسے ہی اس نے انڈیا سے نکلنے کے لیے چنئی سے دوبارہ اڑان بھری، انڈین ایئر فورس نے دوMIG21 روانہ کیے گئے جنھوں نے اسے ممبئی ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے پر مجبور کیا۔
طیارے کی لینڈنگ کے بعد تفتیش کاروں نے اس معمے کو حل کرنے کی کوشش کی۔
اس معاملے کی تفتیش کرنے والی ایجنسی سی بی آئی کو اس کیس کی وسعت اور سازش کرنے والوں کی دلیری نے حیران کر دیا کیوںکہ اس کارروائی میں مختلف قومیتوں کے لوگ ملوث تھے، جو مختلف اوقات میں مختلف ممالک میں ملے تھے۔ کسی نے ایک ملک سے اسلحہ خریدا تھا تو کسی نے دوسرا بندوبست کیا۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سی بی آئی کے سابق افسر نے کہا کہ ’یہ ایک حیرت انگیز بین الاقوامی سازش تھی۔ یہ ہمارے لیے ایک دم نئی چیز تھی۔‘
انھوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں گرفتار افراد نے تفتیش کاروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان کا جھوٹ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہا۔
انھوں نے جلد ہی انکشاف کیا کہ اسلحہ اصل میں کسی اور ملک کے لیے تھا لیکن انھوں نے اسے پورولیا میں گرا دیا۔ (افسر نے ملک کا نام نہیں بتایا کہ یہ کس ملک کے لیے تھا)۔
افسر نے بتایا کہ ’انھیں جہاں سے بہتر پیسہ ملا وہاں ہتھیار چھوڑ گئے۔‘
تاہم یہ ہتھیار کس کے لیے تھے یہ آج تک واضح نہیں ہو سکا۔ کچھ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ یہ درحقیقت ’آنند مارگ‘ نامی مذہبی تنظیم کے لیے تھا جبکہ چند کا خیال ہے کہ یہ غیر ملکی ایجنسیوں کی طرف سے کی گئی کارروائی تھی جس کا نتیجہ غیر متوقع نکلا۔
اعترافات

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کلکتہ کے رہنے والے یو این بسواس سی بی آئی کے تفتیش کاروں میں شامل تھے۔
وہ ایسے شواہد جمع کرنے میں ناکام رہے تھے جو عدالت میں ثبوت کے طور پر پیش کیے جا سکتے۔ لیکن طیارے سے ضبط مواد میں سے ان کو برطانوی شہری پیٹر بلیچ کا بنگلہ دیش کے ایک فوجی جنرل کو لکھا گیا خط ضرور ملا تھا۔
بسواس کہتے ہیں کہ ’جب میں پہلی بار سی بی آئی میں شامل ہوا تھا تو میرے ٹرینر نے کہا تھا کہ سی بی آئی میں ہم کاغذ ڈھونڈتے ہیں، کاغذ تلاش کرو، کاغذ بار بار پڑھو۔ یہ ہماری بائبل ہے۔‘
بسواس نے کہا کہ اسی کاغذ نے ثبوت اکھٹا کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ انھوں نے اس خط کی بنا پر بلیچ سے سوالات کیے، بسواس کے مطابق بلیچ نے بظاہر اس سازش میں اپنے کردار کا اعتراف کر لیا۔
بسواس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بلیچ نے کہا کہ اپنے ملازموں سے کہو کہ مجھے ایک کمپیوٹر دیں اور ڈھیر ساری کافی فراہم کرتے رہیں۔ اس نے کہا ’میں اپنا بیان لکھنے جا رہا ہوں اور وہ سب کچھ لکھوں گا جو میں جانتا ہوں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اس نے تقریباً تین گھنٹے کا وقت لیا، اور آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس نے تقریباً 30 صفحات پر مشتمل اپنا بیان لکھا۔‘
بسواس کا کہنا ہے کہ بلیچ کے تعاون کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے کلکتہ میں حراست کے دوران ان کے ساتھ تعلقات استوار کیے تھے۔ ’میں تب تک ان سے چند بار مل چکا تھا اور ان کے ساتھ ان کے عملے کے دیگر ارکان کے ساتھ بھی ایک فیملی کی طرح برتاؤ کیا تھا۔ یہاں تک کہ میری بیوی نے ان کے لیے ناشتہ اور کرسمس کیک بنایا تھا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیار خالصتاً اقتدار میں موجود حکومت سے لڑنے کے لیے تھے کیونکہ ریاستی حکومت کی سیاسی جماعت نے آنند مارگ کے ارکان کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ وہ کہتے ہیں ’لیکن ذاتی طور پر بلیچ کو اس سب میں کوئی دلچسپی نہیں تھی کہ ہتھیار کس مقصد کے لیے لے جائے جا رہے تھے۔‘
بلیچ کا یہی بیان اس کیس کا ایک اہم حصہ بنا۔
بسواس کہتے ہیں کہ جب بلیچ نے اپنی معاملے میں اپنی شمولیت کا اعتراف کر لیا تب ان دونوں کے درمیان ایک ان کہی مفاہمت ہوئی کہ بلیچ کو ریاستی گواہ کے طور پر استعمال کیا جائے گا جو انھیں سزا سے بچنے میں مدد کرے گا۔
لیکن یہ مقدمہ جلد ہی انڈیا کی بیوروکریسی کی بھول بھلیوں کا شکار ہو گیا۔ بسواس اور دیگر افسران کو مزید معاملات کی تفتیش کی ذمہ داری ملتی رہی اور نئے افسران کی ترجیحات مختلف تھیں۔ یا جیسا کہ ناقدین کہتے ہیں، معاملے کی تحقیقات کو سیاسی مفادات کی وجہ سے بھلا دیا گیا۔
سی بی آئی کی تفتیش کی بنا پر عملے کے پانچ لیٹوین ارکان اور بلیچ کو 1998 میں عمر قید کی سزا تو سنائی گئی لیکن انھیں روس اور برطانیہ کی حکومتوں کی درخواستوں پر بالترتیب 2000 اور 2004 میں رہا کر دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہTimesNow/Screengrab
تفتیش میں شامل ایک افسر نے بتایا کہ یہ معاملہ کئی ملکوں کے لیے کافی اہم تھا۔
انھوں نے کہا ملکہ برطانیہ کا نمائندہ بلیچ کے کیس کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے اُن کے پاس آیا تھا۔
ایک اور افسر نے کہا کہ وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے برطانیہ کے دورے پر انڈیا کے نائب وزیر اعظم لال کرشنا ایڈوانی سے بلیچ کی رہائی کی درخواست کی (انڈین حکومت نے عوامی طور پر بھی پیٹر بلیچ کی رہائی کی یقین دہانی کروائی تھی)۔
اور ولادمیر پوتن نے بھی انڈیا سے درخواست کی کہ لیٹوین شہریوں، جو کہ روسی شہریت لے چکے تھے، کو رہا کر دیا جائے۔
وہ کس کے لیے کام کر رہے تھے؟
بلیچ کی سزا کو کم کر دیا گیا اور انھیں ملک چھوڑنے کی اجازت دے دی گئی۔ تاہم فرار ہونے والے کم ڈیوی انڈین حکام سے بچنے میں اب تک کامیاب ہیں۔
کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے معاملے نے انڈیا اور ڈنمارک کے تعلقات کو بھی متاثر کیا تھا۔ انڈیا نے انٹرپول (بین الاقوامی پولیس) کے ذریعے نوٹس جاری کروایا لیکن ڈنمارک کی ایک عدالت نے 2011 میں ان کی حوالگی کی درخواست مسترد کر دی۔
جب کم ڈیوی کو انڈیا واپس لانے کی کوششیں کی جا رہی تھیں، اسی وقت وہ 2011 میں انڈین نیوز چینل ’ٹائمز ناؤ‘ پر نمودار ہوئے اور دعویٰ کیا کہ انھوں نے یہ کام کچھ لوگوں کے سیاسی مفادات کی خاطر کیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ ’دہلی میں سیاسی مفاد تھا، اور پورولیا گاؤں میں موجود چند لوگوں کی طرف سے علاقے میں دہائیوں سے جاری تشدد، قتل، عصمت دری، سی پی آئی کے ذریعے تباہی کے خلاف اپنے دفاع کے لیے یقینی طور پر دلچسپی تھی۔‘
وہ آنند مارگ کے رکن کے طور پر پورولیا گاؤں میں رہ چکے تھے۔ انھوں نے کہا ’آپ کو سمجھنا چاہیے کہ میں نے ذاتی طور پر اس تشدد کا تجربہ کیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ جو لوگ ’ان لوگوں کے دفاع کے انتظامات میں دلچسپی رکھتے تھے انھوں نے مجھے (انڈیا سے) بغیر کسی رکاوٹ کے گزرنے کی یقین دہانی کروائی تھی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ان ہی لوگوں نے یہ یقینی بنایا کہ میں انڈیا سے نکلنے میں کامیاب رہوں۔‘
بی بی سی نے آنند مارگ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
اس معاملے کو پیٹر بلیچ کا دعویٰ مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے برطانوی خفیہ ایجینسی MI5 کو پورولیا میں اسلحہ گرانے کے منصوبے کے بارے میں آگاہ کیا تھا، اور MI5 نے انڈین حکام کو اس کی اطلاع دی تھی۔
مصنف چندن نندی، جنھوں نے صحافی کے طور پر اس معاملے کی تفتیش کی ہے، کہتے ہیں کہ ’M15 کی معلومات کی بنیاد پر انڈیا کی وزارت داخلہ نے بنگال اور بہار کی حکومت کو الرٹ کیا تھا لیکن انھیں رجسٹرڈ پوسٹ سے خطوط بھیجے گئے تھے۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اسے کتنی اہمیت دی گئی تھی۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ بندوقیں اور اسلحہ آنند مارگ یا کسی انڈین ریاست یا غیر ریاستی عناصر کے لیے نہیں بلکہ برمی باغیوں کے لیے تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ کہتے ہیں کہ ’جہاں تک کم ڈیوی کا تعلق ہے تو ان کا یہ آپریشن خراب ہو گیا تھا۔ جب ان کو معلوم ہوا کہ انھیں ڈھاکہ میں اُترنے کی اجازت نہیں ملے گی، اور اس کے بعد رنگون میں بھی اجازت نہیں ملی تو انھیں معلوم تھا کہ پورلیا واحد جگہ ہے جہاں وہ ہتھیاروں کو گرا سکتے ہیں اور جہاں سے انھیں زمین کے ذریعے صحیح جگہ پہنچایا جا سکتا ہے، اور اس کام میں مذہبی تنظیم آنند مارگ کے ممبران کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔‘
نندی کہتے ہیں کہ یہ آپریشن کم از کم 14 ممالک پر محیط تھا اور اس طرح کا وسیع منصوبہ بنا غیر ملکی طاقتوں کی شمولیت کے ناممکن تھا۔
انھوں نے سوال کیا کہ آپ اس حقیقت کی وضاحت کیسے کریں گے کہ اس طیارے کی مرمت کراچی میں سی آئی اے کے زیر استعمال کمپنی کے ہینگر میں ہوئی تھی؟ یا یہ کہ کم ڈیوی روس میں رہ چکے ہیں۔ ایک آنند مارگ کمیونسٹ روس میں کیا کر رہا تھا؟ اور وہ پھر امریکہ کی کولوراڈو ریاست میں کیا کر رہا تھا؟
وہ کہتے ہیں ’یہ حقیقت ہے کہ وہ کراچی سے انڈیا میں دو بار بغیر روک ٹوک داخل ہو سکتے ہیں، ایک بار ڈرائی رن کے دوران اور دوسری بار اصل آپریشن کے دوران، پھر وارانسی میں اُتر سکتے ہیں، کلکتہ جا کر اُتر سکتے ہیں، ایندھن بھروا سکتے ہیں، یہ اس معاملے کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے۔‘
کم ڈیوی کا ممبئی ایئر پورٹ سے فرار ہونا بھی اسی طرح ایک معمہ ہے۔
سابق سی بی آئی افسر بسواس کہتے ہیں کہ اس کے فرار ہونے کی وجہ کنٹرول روم سے صحیح رابطے کی کمی تھی۔ ایمرجنسی لینڈنگ کے ’سٹینڈرد آپریٹنگ پروسیجر‘ کے مطابق ایمبولینس اور مدد کے لیے دوسری گاڑیاں فوراً یہ سوچ کر آئیں کہ وہ ایک ہنگامی لینڈنگ تھی اور انھوں نے کم ڈیوی سے دریافت کیا کہ کیا انھیں کیا مدد چاہیے۔
بسواس کہتے ہیں ’اس آدمی نے کہا کہ مجھے ایندھن کی ضرورت ہے۔ وہ اسے رن وے سے ہوائی اڈے پر لے گئے، اور وہ وہاں سے غائب ہو گیا۔یہ ایک فلمی کہانی ہے۔‘
نندی کا کہنا ہے کہ ممبئی کے ہوائی اڈے سے فرار ہونے کے بعد وہ شہر کے ایک رہائشی علاقے میں گئے، پھر ایک مشہور آشرم میں رُکے، اور پھر گاڑی کے ذریعے انڈیا، نیپال سرحد پر پہنچے۔
تاہم کم ڈیوی نے 2011 میں ٹائمز ناؤ چینل پر لائیو آ کر اپنے فرار ہونے کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ایئرپورٹ سے نکل کر مہاراشٹرا کے شہر پونے گئے اور وہاں ایک رات ٹھہرنے کے بعد دہلی میں ایک رکن پارلیمنٹ کی ذاتی کار میں ان کے گھر گئے۔
کم ڈیوی کے مطابق سی بی آئی کے ایک سینیئر افسر جے کے دت بھی اس رکن پارلیمنٹ کے گھر آئے جس کے بعد انھیں ٹرین میں ایک چھوٹے سٹیشن پر بھیجا گیا جہاں سے ان کو براہ راست نیپال لے جایا گیا۔
اسی لائیو شو میں جے کے دت بھی موجود تھے، جنھوں نے ڈیوی کے دعوؤں کو جھوٹ قرار دیا (جے کے دت 2021 میں وفات پا چکے ہیں۔)
نندی کہتے کہ بہت سارے اہم اشارے ہیں اور کئی سوالات بھی۔ مثلا ’کم ڈیوی کی وہاں دو امریکیوں نے مدد کی تھی۔ وہ کون تھے؟ انھوں نے اسے ایمسٹرڈیم کی فلائٹ پر بٹھایا اور پھر انھوں نے دوسری فلائٹ لی۔‘
آخری بار کم ڈیوی عوامی طور پر ڈنمارک میں ظاہر ہوئے تھے، جہاں وہ مبینہ طور پر متبادل توانائی سے متعلق کنسلٹنسی کا کاروبار چلاتے ہیں، جبکہ پیٹر بلیچ انگلینڈ میں ایک ہوٹل چلاتے ہیں۔
ہر چند مہینوں میں انڈین میڈیا میں یہ خبر آتی ہے کہ کم ڈیوی کو جلد ہی انڈیا کے حوالے کیا جائے گا لیکن اس حوالے سے معنی خیز پیش رفت آج تک نہیں ہو پائی۔
صحافی ٹھاکر (جو اس واقعے کی اطلاع ملنے کے فوراً بعد اس گاؤں پہنچے تھے) کہتے ہیں کہ ’ہم یقینی طور پر جانتے ہیں کہ ہتھیار گرائے گئے اور کس نے گرائے۔ لیکن ساری تفتیش کے باوجود آج بھی یہ ایک معمہ بنا ہوا ہے کہ وہ کس کے لیے تھے، اسے منصوبے کے پیچھے کون تھا اور اس کام کے لیے پورولیا گاؤں ہی کیوں چُنا گیا۔‘
پورولیا گاؤں میں آسمان سے ہتھیار گرائے جانے کے اس واقعے کو آج 27 سال مکمل ہو چکے ہیں مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کیس شاید مستقبل میں بھی ایک معمہ ہی رہے گا۔













