500 سال پہلے چوہے اور چمڑا کھا کر دنیا کے گرد پہلا بحری سفر کرنے والے ملاح

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, گونزالو کینیڈا
- عہدہ, بی بی سی نیوز ورلڈ
یہ آٹھ ستمبر 1522 کی بات ہے جب سیویلی کی بندرگاہ پر ایک جہاز بہت بری حالت میں لنگر انداز ہوا۔ اسے دریائے گواڈلکیور سے سانلوکر ڈی برامیڈا نامی جہاز کے ذریعے باندھ کر لایا گیا تھا جہاں یہ دو روز قبل پہنچا تھا۔
اس بحری جہاز پر سوار عملے کے 18 افراد بھوکے، پیاسے اور حواس باختہ تھے۔
اس جہاز کا نام ناؤ وکٹوریا تھا اور اس جہاز کے عملے کا سربراہ ایک ہسپانوی کپتان یویان سیبشیئن الکانو تھا۔ یہ ان کا بنیادی مقصد نہیں تھا لیکن وہ اتفاقیہ طور پر تاریخ کا حصہ بن گئے۔ وہ پہلی مرتبہ دنیا کے گرد چکر لگانے میں کامیاب ہوئے تھے۔
کوئی بھی یہ سوچ سکتا ہے کہ ایسا کرنے پر یہ ملاح جو پہلا کام کریں گے وہ یہ کہ وہ اس کامیابی پر جشن منائیں گے۔ تاہم اس پر شیخی بگھارنے کی بجائے وہ نیوسٹرا سینورا دی لا وکٹوریا اور کیتھیڈرل آف سیولے کے کلیساؤں میں ننگے پیر گئے تھے۔
وہ اپنا وہ وعدہ پورا کرنا چاہتے تھے جو انھوں نے اپنے بحری سفر کے برے ترین وقت میں کیا تھا۔ کیونکہ اس بحری سفر کے دوران وہ اس قدر مشکل اور نامصائب حالات سے گزرے تھے کہ جشن اور فخر کے بجائے ان کا زندہ بچ جانا ہی ان کے لیے بہترین انعام تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے ابھی ایک ایسا کارنامہ سر انجام دیا تھا جس کا شاید ہی کسی بحری جہاز پر تصور کیا جا سکتا ہو کیونکہ یہ تقریباً تین سال تک جیل میں رہنے جیسی چیز رہی۔
چلیں تین سال پیچھے کی کہانی کی جانب بڑھتے ہیں تاکہ یہ جان سکیں کہ ان جہازوں پر کیا ہوا تھا۔
’چوہے کے لیے آدھا ڈیوکٹ (طلائی سکہ) ادا کرنا‘
اس بحری سفر کا آغاز دس اگست 1519 میں ہوا جب پانچ بحری جہازوں اور 250 افراد پر مشتمل عملے نے پرتگالی کپتان فرنیڈینڈ میگالین کی سربراہی میں سیولے سے اپنے بحری سفر کا آغاز کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان جہازوں پر اس وقت دو سال کے لیے کافی خوراک اور پانی موجود تھا۔
میڈرڈ نیول میوزیم کے تکنیکی ڈائریکٹر لولا ہیگیوراس نے بی بی سی منڈو کو بتایا کہ ’انھوں نے جہازوں پر نمک لگی مچھلی اور گوشت، سبزیاں، پھل، پنیر، مکھن، ڈبل روٹی، تیل، سرکہ اور مصالحہ جات رکھے تھے۔ جہازوں پر سفل جل بھی تھا البتہ اسے صرف اعلیٰ افسران ہی استعمال کرتے تھے۔‘
تاہم مختلف چیزوں پر مشتمل یہ خوراک چند ماہ ہی چل سکی کیونکہ اس وقت ان کو محفوظ بنانے کے کوئی وسائل نہیں تھے لہذا وہ خراب ہونے اور گلنے سڑنے لگی تھی۔
ہیگیوراس کا کہنا ہے کہ ’ڈبل روٹی میں بہت جلد کیڑے پیدا ہو گئے تھے اور وہ ڈبل روٹی سے زیادہ کیڑے کھاتے تھے، یہ بہت بھیانک تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہHUW EVANS AGENCY
خوراک کی قلت کے اثرات نظر آنا شروع ہو گئے تھے اور ان جہازوں کے بحر اوقیانوسں پہنچنے پر صورتحال مزید بدتر ہو گئی۔ انھیں اس بحر کی وسعت کا اندازہ نہیں تھا اور جیسے جیسے دن گزرنے لگنے عملے کے بہت سے افراد فاقوں پر مجبور ہونا شروع ہو گئے۔
دیگر نے ناامیدی اور مایوسی میں اپنی نظریں اس زندہ جانور کی تلاش کے لیے فرش پر گاڑ لیں تھیں جسے وہ خوراک کے طور پر استعمال کر سکیں، وہ تھا چوہا۔
مؤرخ پبلو امیلو پیرز مالینا کہتے ہیں کہ 'اس وقت ایک چوہے کے لیے آدھا ڈیوکٹ (قدیم زمانے میں کئی یورپی ممالک میں رائج طلائی سکہ جس کی مالیت تقریباً نو شلنگ ہوتی تھی) ادا کیا جانے لگا۔
یہ ناپسندیدہ کھانا ان حالات میں ایک لذیذ خوراک بن گیا اور آگے چل کر ہم دیکھیں گے کہ کیسے یہ نجات کا ایک عنصر بن گیا تھا۔
لیکن چوہے بھی ختم ہو گئے اور بحری سفر جزیروں کی تلاش کے بغیر بھی جاری رہا اور پھر ان ملاحوں نے شدید بھوک کے عالم میں اپنی خوراک میں ایک اور چیز کو شامل کیا۔
ہیگیوراس کا کہنا ہے کہ ’حتیٰ کہ انھوں نے اس چمڑے کو کھانا شروع کر دیا جو جہاز کے مختلف حصوں پر لگا ہوا تھا، وہ اسے سمندر کے پانی میں نرم کر کے یا کبھی آگ پر تھوڑا سے پکا کر کھانے لگے تھے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پانی کی ’جیل‘ میں پیاسے رہے
ان چھوٹے بحری جہازوں پر شدید بھوک ہی واحد مشکل نہیں تھی۔ ان بہادر ملاحوں کو شدید پیاس کا بھی سامنا تھا۔
لولا ہیگوراس اس بارے میں مزید بتاتے ہیں کہ 'چند ماہ بعد ہی جہازوں پر موجود پینے کا پانی بھی خراب ہونے لگا تھا، اور پینے کا پانی حاصل کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ جہازوں کے بادبانوں کے ذریعے بارش کا پانی اکٹھا کرنا تھا۔ لیکن ہمیشہ بارش نہیں ہوتی تھی اور وہ عملے کے تمام ارکان کے لیے کافی پانی اکٹھا نہیں کر سکتے تھے۔'
مؤرخ کارلوس مارٹینز بتاتے ہیں کہ 'لہذا کچھ ملاح جب اپنی پیاس برداشت نہیں کر پاتے تھے تو وہ اپنی بالٹیاں سمندر سے بھر کر نمکین پانی سے ہی اپنی پیاس بجھا لیتے تھے۔ مگر ان سے ان کے پیٹ میں شدید درد ہوتا۔ '
پیاسے ہونا اور پانی سے گھرے ہوئے بحری جہاز پر محصور ہونا مگر اس پانی کو پینے سے قاصر رہنا کیونکہ اس پینے سے شاید وہ بیمار ہو جائیں گے، یہ ایک ایسی ذہنی اذیت تھی کہ جو سفر کے کئی ادوار تک روزانہ دہرائی جاتی تھی۔
پانی کے علاوہ خود کو تر رکھنے کے لیے وہ جس چیز کا استعمال کرتے تھے وہ شراب تھی، اگرچہ اسے کثیر تعداد میں جہازوں پر رکھا گیا تھا مگر یہ بھی خراب ہونے لگی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
'وٹامن سی کی کمی اور دانتوں کا ٹوٹنا‘
بھوک اور پیاس کے ساتھ ساتھ ایک بیماری نے بھی انھیں آن لیا۔ خاص طور پر وہ لوگ جو ملاحوں کے بحری سفر کے حوالے سے جانتے ہیں انھیں اسکروی (وٹامن سی کی کمی سے لاحق ہونے والی بیماری) کا سامنا تھا۔
یہ وہ بیماری ہے جو بہت طویل عرصے تک کسی زمینی جزیرے پر پہنچے بغیر انسانوں میں ہوتی ہے۔
یہ بیماری ملاحوں میں تازہ پھلوں اور سبزیوں کے استعمال کی کمی کی وجہ سے پھیلتی ہے جو کہ وٹامن سی کی نمایاں کمی کا باعث بنتی ہے۔
ہیگوراس بتاتے ہیں کہ 'ان کے دانٹ ٹوٹنا شروع ہو گئے تھے، ان کے مسوڑوں میں سوزش ہو گئی اور ان کی جسم میں اس قدر کمزوری ہو گئی کہ وہ مرنے لگے۔ اس کے ساتھ ایک اور سنگین مسئلہ بھی لاحق تھا۔ جہاز کی نقل و حرکت بادبانوں پر منحصر تھی اور اس کے لیے ان پر چڑھ کر انھیں کھولنا، موڑنا پڑتا تھا مگر جب جہاز کی سمت کو بدلنے کا وقت آتا تو کمزور اور لاغر ملاح بادبان پر چڑھ کر اسے تبدیل نہ کر پاتے اور جہاز اپنا رخ بدلنے سے قاصر رہتے۔ '
بہت کم لوگ اس بیماری سے محفوظ رہے اور ان چوہوں کو پکڑنے کی تاک میں رہتے جو جہاز پر ہر طرف منڈلاتے تھے۔
ہیگراس بتاتے ہیں کہ 'یہ ان کی اس بیماری سے نجات کا ذریعہ بنے تھے کیونکہ چوہوں میں وٹامن بی اور سی کی ایک خاص مقدار ہوتی ہے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
'گمنام ہیرو'
لیکن تین سالوں کی جسمانی اذیتوں کے ساتھ ساتھ یہ نفسیاتی اذیت بھی بن گئی تھی۔ وہ بحری جہاز، جو بمشکل 80 یا 90 ٹن کے تھے ان مشکلات اور نامصائب حالات کا مقابلہ کرنے والے عملے کے ارکان کے لیے 'جیل' بن گئے تھے۔
ان کے پاس جہاز پر چھوٹے چھوٹے کمرے تھے جہاں وہ آرام کرنے کے ساتھ ساتھ جہاز کے اضافی پرزے اور کچھ بچا کچا راشن سنبھال کر رکھتے تھے۔
لہذا جہاز کا 'ڈیک' ہی اس عملے کے لیے رات اور دن گزارنے کا مقام تھا جہاں وہ اس تمام عرصے کے دوران ہر طرح کے سرد و گرم موسم کا سامنا کرتے تھے۔ ان کے پاس موسم کی سختی سے محفوظ رہنے کے وسائل بھی موجود نہیں تھے۔
ریت اور اینٹوں سے بنائے گئے چولہوں پر جلائے جانے والی آگ ملاحوں کو گرم رکھنے کے لیے نہیں جلائی جاتی تھی بلکہ اسے صرف جب ممکن ہوتا کھانا پکانے کے لیے محضوص رکھا گیا تھا۔
لولا ہیگراس بتاتے ہیں کہ 'بہت مرتبہ وہ جہاز پر چولہے نہیں جلا سکتے تھے کیونکہ کسی بھی طوفان کے باعث آگ پھیل سکتی اور جہاز کو جلا سکتی تھی۔ اس بارے میں قواعد بہت سخت تھے، جہاز کے کچھ مقامات کے قریب موم بتیاں بھی نہیں جلائی جا سکتی تھیں، وہ لالٹین بھی استعمال نہیں کر سکتے تھے کہ کہیں آگ نہ لگ جائے اور جہاز پر سگریٹ نوشی بھی سختی سے منع تھی۔'
ان تین برسوں کے دوران سمندری طوفان مسلسل آتے رہے اور یہ چھوٹے بحری جہاز سمندر کی لہروں کے رحم و کرم پر رہے۔ ہر لمحے موت ان کے سروں پر منڈلاتی رہی لیکن یہ ملاح گمنام ہیرو بن کر ابھرے۔
اسی کو لولا ہیگوراس غوطہ خور کہتے ہیں۔ وہ ماہر ملاح جو اضافی آکسیجن کے بغیر اور گہرے پانی کی تاریکی میں قیمتی کارگو، ہتھیاروں کے پرزوں اور سب سے بڑھ کر جہاز کے نیچے کسی سوراخ یا لیک کو بند کرنے جیسے پیچیدہ اور مشکل کام کر لیتے ہیں۔'
ان ہیروز نے جنھوں نے ان جہازوں اور اپنے ساتھی ملاحوں کی زندگیاں بچانے کے لیے خود کو خطرے میں ڈالا تھا، بہت سی بیماروں کا شکار تھے جن میں کانوں کے پردوں کا خراب ہونا بھی شامل تھا۔
بھوک، پیاس، بیماری، موت کا خوف اور ان گنت مشکلات کے باوجود دنیا کا پہلی بار طواف کرنے کا اعزاز ان ملاحوں کو حاصل ہے۔
مگر اس سفر میں زندہ رہنے کی جدوجہد سب سے بڑی کامیابی تھی۔ لولا ہیگوراس کہتے ہیں کہ 'انتہائی غیر معمولی حالات میں یہ بحری سفر ایک شاندار اور بہ مثال سفر تھا۔'













