واسا: 17ویں صدی کا جدید جنگی بحری جہاز جو 20 منٹ ہی تیر پایا

،تصویر کا ذریعہScience & Society Picture Library/Getty Images
- مصنف, دی ٹریول شو
- عہدہ, بی بی سی ٹریول
سنہ 1628 میں جب وہ خلیج سٹاک ہوم سے روانہ ہوا تھا تو واسا اس وقت دنیا میں سب سے جدید جنگی بحری جہاز تھا۔
بادشاہ گستاف دوم ایڈولف کے حکم پر تیار کیا گیا یہ بحری جہاز 68 میٹر لمبا تھا اور اس پر 64 توپیں نصب تھیں۔ یہ اس دور میں دو ایسے عرشوں والے ان چند جہازوں میں سے تھا جس میں دونوں عرشوں پر توپیں لگائی گئی تھیں۔
لیکن اس خوبصورتی سے سجائے گئے جہاز کی شان و شوکت کے دن تھوڑے ہی تھے اور اپنے پہلے سفر کے آغاز کے 20 منٹ بعد ہی یہ ڈوب گیا اور اس پر سوار 30 افراد ہلاک ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیے
واسا تقریباً تین صدیوں تک سمندر کی تہہ میں پڑا رہا یہاں تک کہ ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے اسے نکالا، بحال کیا اور آج یہ سیکنڈے نیویا کے سب سے مشہور اور سیاحوں میں مقبول عجائب گھروں میں سے ایک کی زینت ہے۔

،تصویر کا ذریعہMacduff Everton/Corbis/VCG via Getty Images
واسا کی اتنے جلدی ڈوبنے کو بحری تعمیرات کی تاریخ میں سب سے بڑی ناکامیوں اور پراسرار واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کہا جاتا ہے کہ تیز ہوا نے جہاز کو ایک جانب جھکا دیا تھا اور پھر توپیں باہر نکالنے کے لیے بنائے گئے خانوں سے پانی بحری جہاز میں داخل ہو گیا تھا۔
یہ جہاز سفر کے آغاز کے اتنے کم وقفے کے بعد ہی ڈوبا کہ اسے پہلے سفر کے لیے الوداع کہنے کے لیے بندرگاہ پر جمع ہونے والا مجمع بھی ابھی چھٹ نہیں پایا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ اس جہاز کی غرقابی کو ایک قومی تباہی قرار دیا گیا تھا۔

واسا کے اچانک ڈوبنے کے بعد اس حادثے کی تحقیقات کی گئیں جن کا نتیجہ یہ نکلا کہ جہاز غیرمتوازن تھا لیکن اس عدم توازن کی وجہ کیا تھی آج بھی اس پر بحث کی جا رہی ہے۔
کچھ مؤرخین کے خیال میں اس بحری جہاز کا ڈیزائن ہی درست نہیں تھا جبکہ کچھ کہتے ہیں کہ اس پر نصب توپوں کا وزن اس عدم توازن کی وجہ تھا۔
اگرچہ یہ جہاز قریباً 300 برس تک زیرِ آب رہا لیکن اس کے باوجود اس کی حالت زیادہ خراب نہیں ہوئی۔
واسا کی سجاوٹ کے لیے اس پر لکڑی کا جو کام کیا گیا تھا وہ سویڈن کے شاہی خاندان کے اہم واقعات کا عکاس تھا۔ بحیرۂ بالٹک کے کم آکسیجن والے انتہائی سرد پانی کی وجہ سے یہ جہاز لکڑی کے عرشوں والے دیگر جہازوں کے مقابلے میں خراب ہونے اور بیکٹیریا کا نشانہ بننے سے محفوظ رہا۔

،تصویر کا ذریعہBettmann/Getty Images
جب سنہ 1961 میں اسے باہر نکالا گیا تو ماہرین کے اندازوں کے مطابق جہاز کی 98 فیصد اصل لکڑی ٹوٹ پھوٹ سے محفوظ تھی اور یوں یہ آج کے دور میں 17ویں صدی کا سب سے بہتر حالت والا بحری جہاز بن گیا ہے۔
آج یہ بحری جہاز سٹاک ہوم کے واسا میوزیم میں موجود ہے لیکن اس کے تباہ ہونے کا خطرہ ایک بار پھر لاحق ہو گیا ہے۔ عجائب گھر میں جس جگہ یہ جہاز رکھا گیا ہے وہاں یہ ایک جانب کو جھکنے لگا ہے اور سالانہ ایک ملی میٹر تک دھنس بھی رہا ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ واسا کی تاریخ کو دہرانے نہیں دیں گے اس لیے بحری جہاز کی مرمت کا عمل شروع کر دیا گیا ہے تاکہ وہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی محفوظ رہے۔









