ارشد شریف کی ہلاکت: تحقیقات کے لیے مشترکہ ٹیم کی تشکیل نو

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK
پاکستان کی وفاقی حکومت نے کینیا میں صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل نو کا اعلان کیا ہے۔
وزارتِ داخلہ سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق یہ ٹیم ایف آئی اے کے ڈائریکٹر اطہر وحید اور آئی بی کے ڈپٹی ڈی جی عمر شاہد حامد پر مشتمل ہو گی۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز جاری ہونے والی نوٹیفیکیشن میں تین رکنی ٹیم تشکیل دی گئی تھی جس میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سورسز انٹیلیجنس ایجنسی (آئی ایس آئی) کے ایک کرنل بھی شامل تھے تاہم بدھ کے دن وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن میں آئی ایس آئی کے افسر کو شامل نہیں کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے اس تبدیلی کی وجہ نہیں بتائی گئی۔
سرکاری نوٹیفیکیشن کے مطابق یہ ٹیم فوری طور پر کینیا جائے گی اور حقائق کا تعین کرنے کے بعد اپنی رپورٹ وزارتِ داخلہ کو جمع کروائے گی۔
واضح رہے کہ منگل کی شام پاکستانی افواج کے ترجمان نے کہا تھا کہ کینیا میں پاکستانی صحافی ارشد شریف کی ہلاکت کی جامع تحقیقات کے ساتھ ساتھ فوج پر بےبنیاد الزام تراشی کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے اور یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس مہم سے کون فائدہ اٹھا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہMINISTRY OF INTERIOR
وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی منگل کو ہی حقائق کے تعین کے لیے ایک عدالتی کمیشن سے تحقیقات کروانے کا اعلان کیا ہے۔
ارشد شریف اتوار کی شب افریقی ملک کینیا میں پولیس ناکے پر فائرنگ کے واقعے میں مارے گئے تھے۔ کینیا کی پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق پولیس اہلکاروں نے شناخت میں غلط فہمی پر اس گاڑی پر گولیاں چلائیں جس میں ارشد شریف سوار تھے۔
یہ واضح نہیں کہ ارشد شریف کینیا میں کیا کر رہے تھے تاہم کینیا کی پولیس کے ترجمان برونو شیوسو نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ ارشد شریف کی موت کے پسِ منظر کے حالات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ارشد شریف کی ہلاکت کے بعد جہاں صحافتی برادری کی جانب سے اس واقعے کی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ سامنے آیا وہیں سوشل میڈیا پر ایسی مہم بھی دیکھنے کو ملی جس میں فوج پر الزام تراشی کی جاتی رہی۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے منگل کی شام نجی ٹی وی چینل 24 سے گفتگو میں کہا کہ جی ایچ کیو کی جانب سے حکومتِ پاکستان سے درخواست کی گئی ہے کہ اس افسوسناک واقعے کی مکمل تحقیقات کروائی جائیں تاکہ تمام چیزوں کو منطقی انجام تک لے جایا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہISPR
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
فوج کے ترجمان نے یہ بھی سوال کیا کہ دیکھنا ہوگا کہ اس تناظر میں فوج پر بےبنیاد الزام تراشی سے 'کسے فائدہ حاصل ہو رہا ہے؟'
لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ جو لوگ اس واقعے کے حوالے سے قیاس آرائیاں کر رہے ہیں اسے بھی ختم کرنے کی ضرورت ہے۔
جب ان سے اداروں پر الزام تراشی سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا جواب تھا کہ 'اسی لیے ہم نے حکومت سے درخواست کی ہے۔۔۔ اعلیٰ سطح کی تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ جو لوگ قیاس آرائیاں کر رہے ہیں، اسے ختم کیا جاسکے۔ بدقسمتی سے ان چیزوں پر لوگ قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔ سانحے کو جواز بنا کر من گھڑت اور بے بنیاد الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ میرے خیال میں تمام چیزوں کو روکنے کے لیے وسیع پیمانے کی تحقیقات ضروری ہے۔
'یہ تحقیقات صرف انھی حالات کی نہیں ہونی چاہیے کہ وہاں (کینیا میں) کیا ہوگا بلکہ ان حالات کی بھی ہونی چاہیے کہ ارشد شریف کو پاکستان سے جانا کیوں پڑا، کس نے انھیں یہاں سے جانے پر مجبور کیا۔ اور وہ کیسے گئے اور کہاں پر گئے۔ اس واقعے کے پس منظر میں کیا حالات تھے۔ ان تمام مراحل پر بدقسمتی سے بار بار ادارے کی جانب الزامات تراشی کی جاتی ہے۔ اس قیاس آرائی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔'
انھوں نے کہا کہ ’جو لوگ یہ الزام تراشیاں کر رہے ہیں، بغیر کسی ثبوت کے، ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔'
انھوں نے کہا کہ ’سب کو ارشد شریف کی ناگہانی وفات پر افسوس ہے، وہ بہت پروفیشنل صحافی تھے۔ اس بات کا زیادہ افسوس ہے کہ ان کی وفات کو جواز بنا کر بے بنیاد قسم کی بات چیت کی جا رہی ہے اور انگلیاں اٹھائی جا رہی ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ کون اس سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اس نفرت انگیز مہم سے کسے فائدہ ہو رہا ہے؟'

،تصویر کا ذریعہAFP
فوج کے ترجمان کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے منگل کو کہا کہ صحافی ارشد شریف کو 'نامعلوم نمبروں سے دھمکیاں آ رہی تھیں اور انھوں نے اسے ملک چھوڑنے کے لیے کہا تھا۔'
پشاور میں انصاف لائرز کنونشن سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ 'ارشد شریف کو نامعلوم نمبروں سے دھمکیاں آئیں کہ رجیم چینج پر بات نہ کرو۔ مجھے معلومات آئیں کہ اسے مارنے لگے ہیں۔ میں نے ارشد شریف سے کہا کہ تم ملک سے باہر چلے جاؤ، تمھاری جان کو خطرہ ہے‘۔
ارشد شریف نے رواں سال اپریل میں سابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد یہ دعویٰ کیا تھا کہ انھیں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے ہراسانی کا سامنا ہے۔ بعدازاں وہ ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے اور اطلاعات کے مطابق خود ساختہ جلا وطنی کے دوران وہ دبئی اور پھر کینیا میں مقیم رہے۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ارشد شریف کی موت کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک ٹویٹ میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اس عدالتی کمیشن کے ذریعے ارشد شریف کی ہلاکت کی شفاف اور نتیجہ خیز انداز میں تحقیقات کی جائے گی۔
وزیرِ اطلاعات مریم اورنگزیب کے مطابق کمیشن کی سربراہی ہائیکورٹ کے جج کریں گے اور وہ حقائق کی کھوج لگانے کے لیے اس کمیشن میں سول سوسائٹی اور میڈیا سے بھی ارکان کو کمیشن میں شامل کر سکیں گے۔
اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے ارشد شریف کے قتل کی فوری عدالتی تحقیقات کے لیے کمیشن کی تشکیل کی درخواست مسترد کر دی تھی۔
فیکٹ فائنڈنگ کمیشن بنانے کی درخواست پر سماعت منگل کو چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی اور نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سماعت کے دوران اس معاملے پر ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ دو مختلف ملکوں کا معاملہ ہے اور ریاست کے ادارے بہتر طور پر اس معاملے کو حل کر سکتے ہیں۔
سماعت کے بعد عدالت نے کہا تھا کہ اس مرحلے پر کمیشن بنانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا تاہم تحقیقات کے معاملے پر صحافتی تنظیموں کو باخبر رکھا جائے۔
یہ بھی پڑھیے
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ارشد شریف کی میت پاکستان پہنچ گئی
ارشد شریف کی میت بدھ کو رات گئے قطر ایئر لائن کی پرواز کے ذریعے پاکستان پہنچی۔ ان کی نمازِ جنازہ جمعرات کو اسلام آباد کے ایچ الیون قبرستان میں ادا کی جائے گی۔
ان کی اہلیہ جویریہ صدیق نے ٹوئٹر پر کہا کہ ان کا پوسٹ مارٹم دوبارہ ہو گا۔ ساتھ ہی اُنھوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ ایئرپورٹ پر ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا اور اُنھیں ارشد شریف کی نعش کے پاس فوری طور پر نہیں جانے دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہ Eliud Kibii
بیرون ملک روانگی سے قبل ہراساں کیے جانے کا دعویٰ
کراچی میں پیدا ہونے والے 49 سالہ ارشد شریف نے متعدد پاکستانی نیوز چینلز میں کلیدی عہدوں پر کام کیا تھا۔ خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنے سے قبل وہ نجی نیوز چینل اے آر وائی سے منسلک تھے تاہم عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد انھیں نوکری سے فارغ کر دیا گیا تھا جس کا اعلان ان کے ملک چھوڑنے کے چند دن بعد اے آر وائی کی جانب سے کیا گیا تھا۔
بعدازاں وہ بیرون ملک سے اکثر وی لاگز کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کرتے رہتے تھے اور عمران خان کے خلاف ’بیرونی سازش‘ کے بیانیے کے حامی تھے۔
عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد بھی انھوں نے دعویٰ کیا تھا انھیں ایف آئی اے کی جانب سے ہراسانی کا سامنا ہے۔ ان کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کو صحافیوں کے خلاف شکایت کی صورت میں صحافتی تنظیموں کے ساتھ رابطہ کرنے کا حکم دیا تھا۔
ارشد شریف کے وکیل فیصل چوہدی کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ اُن کے موکل (ارشد شریف) کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ موجودہ حکومت نے اُن کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کو گرفتار کیا جا سکتا ہے جس کی وجہ ارشد شریف کی رپورٹنگ اور حکومت پر تنقید بتائی گئی۔
درخواست کے مطابق ارشد شریف ذرائع سے ملنے والی ان معلومات کے بعد ڈرے ہوئے تھے کیونکہ ’سول کپڑوں میں ملبوس افراد اُن کے گھر اور خاندان کی نگرانی کر رہے ہیں۔‘ تاہم ایف آئی اے کا دعویٰ تھا کہ اس نے نہ تو ارشد شریف کو گرفتار کیا ہے اور نہ ہی انھیں ہراساں کیا گیا۔ عدالتی حکم کے مطابق ایف آئی اے کے ڈائریکٹر نے بتایا تھا کہ درخواست گزار کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں۔












