ارشد شریف کا ہراس کا دعویٰ: صحافیوں کے خلاف شکایت کی صورت میں صحافتی تنظیموں کے ساتھ رابطہ کیا جائے

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کی جانب سے صحافیوں کو ہراساں کرنے کے خلاف کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے صحافیوں کے خلاف شکایت کی صورت میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کو صحافتی تنظیموں کے ساتھ رابطہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
خیال رہے کہ ارشد شریف کے وکیل فیصل چوہدی کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ اُن کے موکل (ارشد شریف) کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ موجودہ حکومت نے اُن کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کو گرفتار کیا جا سکتا ہے جس کی وجہ ارشد شریف کی رپورٹنگ اور حکومت پر تنقید بتائی گئی۔
عدالت نے اپنے تحریری حکم میں ایف آئی کو بتایا کہ ڈائریکٹر سائبر کرائم ایف آئی اے، پی ایف یو جے اور اسلام آباد ہائی کورٹ، صحافیوں کی نمائندہ تنظیموں کے ساتھ رابطہ کریں۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ صحافتی تنظیموں سے صحافیوں کے خلاف کیسز متعلق تجاویز لیں۔ عدالتی حکم کے مطابق صحافیوں نے کہا وہ گائیڈ لائنز بنائیں گے تاکہ وہ ایس او پیز کا حصہ بن سکیں گے۔ آئین کے آرٹیکل 19 اور 19 اے کے تحت دیے گئے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
عدالتی حکم کے مطابق ایف آئی اے کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ درخواست گزار ارشد شریف کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے۔ عدالت کے مطابق صحافی ارشد شریف نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم کے بعد اسے ہراساں نہیں کیا گیا اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے افضل بٹ اور شہزادہ ذوالفقار نے کہا ہے کہ صحافیوں کے خلاف کارروائی سے متعلق گائیڈ لائن بنانے کا موقع دیا جائے۔
اس مقدمے کی کارروائی کا احوال
درخواست کے مطابق ارشد شریف ذرائع سے ملنے والی ان معلومات کے بعد ڈرے ہوئے ہیں کیوںکہ سول کپڑوں میں ملبوس افراد اُن کے گھر اور خاندان کی نگرانی کر رہے ہیں۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ ارشد شریف کا آزادی اظہار کا آئینی حق سلب کیا جا رہا ہے جب کہ ان کے موکل (ارشد شریف) کے خلاف کرمنل کیسز بنائے جانے سے متعلق معلومات پر ایف آئی اے جواب نہیں دے رہی۔
واضح رہے کہ صحافی ارشد شریف کی طرف سے دائر کردہ درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے ایف آئی اے کو ارشد شریف سمیت کسی بھی صحافی کے خلاف کارروائی سے روکتے ہوئے ڈی جی ایف اے اور آئی جی اسلام آباد کو نوٹسز جاری کیے تھے۔
اس مقدمے کی ایک سماعت پر ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا تھا کہ انھوں نے ارشد شریف کے خلاف نہ تو کوئی ایکشن لیا اور نہ ہی کوئی انکوائری کی ہے جبکہ اس حوالے سے تحریری وضاحت بھی جاری کر دی گئی ہے۔
’سول کپڑوں میں کچھ لوگ ارشد شریف کے گھر آئے تھے‘
ارشد شریف کے وکیل ایڈووکیٹ فیصل چوہدری نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’رات کو ارشد نے مجھے فون کر کے کہا کہ ایف آئی اے کی طرف سے ہراساں کیا گیا ہے، گھر پر سول کپڑوں میں کچھ لوگ آئے جو انھیں ڈھونڈ رہے تھے۔'
فیصل چوہدری کا کہنا ہے کہ انھوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنے کے لیے کچھ کاغذات بھجوائے جو انھوں (ارشد شریف) نے دستخط کر کے بھیجے۔ آج (جمعرات) صبح ان کی جانب سے درخواست دائر کی گئی مگر اس دوران ان کا ارشد شریف سے رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا جس کی وجہ سے انھیں شک تھا کہ وہ زیر حراست ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ عدالتی حکم کے بعد آج شام اُن کا ارشد سے رابطہ ہو گیا ہے۔
ایف آئی اے کی جانب سے اس گرفتاری کو فیک نیوز قرار دیے جانے پر فیصل کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے کا یہ موقف عدالتی حکم کے بعد آیا اور پہلے انھوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی تھی۔ 'جب عدالت مداخلت کرتی ہے تو یہ چیز ہوتی ہے۔ ہمیں اسی کی توقع ہوتی ہے اور ہم اسی لیے عدالت جاتے ہیں۔'
جب ان سے پوچھا گیا کہ سوشل میڈیا پر ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ ارشد شریف کو ایف آئی اے نے نہیں بلکہ کسی اور ریاستی ادارے نے حراست میں لیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں ارشد شریف بہتر بتا سکتے ہیں کیونکہ وہی متاثرہ شخص ہیں مگر ماضی میں ایسے واقعات کی تاریخ رہی ہے کہ 'سامنے کوئی اور ہوتا ہے اور پیچھے کوئی اور ہوتا ہے۔'
فیصل چوہدری نے دعویٰ کیا کہ نئی حکومت اے آر وائے سے وابستہ صحافیوں پر دباؤ ڈال رہی ہے اور چینل کی ٹرانسمیشن کو نامعلوم لوگوں کی طرف سے بند کیا گیا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ایف آئی اے کا مؤقف
دوسری جانب ایف آئی اے کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اینکر پرسن ارشد شریف کو نہ تو گرفتار کیا اور نہ ہی انھیں ہراساں کیا۔ یہ فیک نیوز (جعلی خبر) لگتی ہے۔‘
جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ایف آئی اے اور اس کے افسران کے خلاف پراپیگنڈا قابل مذمت ہے۔‘
'میڈیا اور عوام سے گزارش ہے کہ اس قسم کے پراپیگنڈے سے باز رہیں۔ ایف آئی اے ایسے پراپیگنڈے میں ملوث افراد پر مقدمہ کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ ایسے لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے جو اس طرح کا پراپیگنڈا شروع کرتے اور پھیلاتے ہیں۔‘
وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اینکر پرسن کی گرفتاری سے متعلق قیاس آرائی شرانگیز پراپیگنڈا مہم کا حصہ ہے۔
’شک کی بنیاد پر پٹیشن دائر کرنے والوں کو ثبوت دینے چاہیے تھے۔ یہ عمران صاحب کی حکومت نہیں جس میں صحافیوں کو ٹارگٹ کیا جائے۔‘
دوسری جانب سابق وزیر اعظم عمران خان نے پارٹی ترجمانوں کے اجلاس کے دوران ارشد شریف پر مبینہ حملے کی مذمت کی اور کہا کہ حکومتی عتاب کا نشانہ بننے والے صحافیوں کے حق میں بھرپور آواز اٹھائی جائے گی۔

ایف آئی اے پر ہی نہیں بلکہ دوران سماعت عدالت نے اے آر وائی کی کوریج پر بھی سوال اٹھائے
دوران سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اے آر وائی نیوز پر کاشف عباسی کے پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے ارشد شریف کے وکیل فیصل چوہدری سے پوچھا کہ ’کیا آپ نے کاشف عباسی کا پروگرام دیکھا؟‘
’پروگرام میں حقائق کی تصدیق کے بغیر کیا کچھ کہا گیا، انھوں نے کہا کہ عدالت رات کو کیوں کھلی؟ عدالت سے عوام کا اعتماد اٹھانے کی کوشش کی گئی۔‘
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے یہ ریمارکس بھی دیے کہ ’ایک بیانیہ بنا دیا گیا کہ عدالتیں کھلیں، عدالتیں کھلیں گی اور کسی کو آئین کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دیں گے۔‘
یہ بھی پڑھیے
’آپ لوگوں کا عدالتوں پر اعتماد ختم کر رہے ہیں۔ اس عدالت کا بھی کہا گیا کہ چیف جسٹس عدالت پہنچ گئے، آپ چاہتے ہیں کہ عدالت فوری نوعیت کی درخواستیں نہ سنے؟ اگر رات تین بجے کوئی ارشد شریف کو اٹھائے تو کیا عدالت کیس نہ سنے؟‘
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے مزید کہا کہ عدالت نے ایک نہیں بلکہ عدالتی اوقات کار کے بعد بہت سی درخواستیں سنی ہیں۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ سیاسی بیانیے کے لیے اداروں کو تباہ کیا جا رہا ہے اور ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا۔
چیف جسٹس نے یہ بھی واضح کیا کہ عدالت کسی کے پریشر میں نہیں آتی اور نہ ہی آئے گی۔ ’بنیادی حقوق کے لیے عدالت کھلیں گی، ان بیانیوں سے کچھ نہیں ہو گا۔‘
عدالت نے دوران سماعت اے آر وائی کے رپورٹر سے یہ سوال بھی کیا تھا کہ آپ کے چینل نے مسنگ پرسنز یا بلوچ سٹوڈنٹس سے متعلق کتنے پروگرام کیے ہیں؟ اے آروائی نے لاپتہ افراد کے لیے کتنی آواز اٹھائی جو اصل ایشو ہے؟
چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ نے واضح پیغام دیا ہے کہ آئین کے خلاف کسی اقدام کی اجازت نہیں۔









