ارشد شریف نے آخری دن کہاں گزارا؟ ہلاکت کا معمہ جو روز بروز الجھتا جا رہا ہے

- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
کینیا میں پاکستانی صحافی ارشد شریف کی ہلاکت کا معمہ بظاہر ہر گزرتے دن کے ساتھ الجھتا نظر آ رہا ہے۔ نہ صرف پاکستان میں حکمراں جماعت اور فوج اس حوالے سے کئی سوالوں کے جوابات کی تلاش میں سرگرداں نظر آتی ہے وہیں کینیا میں اس واقعے کی کوریج کرنے والے صحافیوں کا بھی دعویٰ ہے کہ اس حوالے سے ’پورا سچ ابھی سامنے نہیں آیا۔‘
سائرس اومباتی کینیا کے ایک بڑے نیوز گروپ کے چیف کرائم رپورٹر ہیں۔ اس نمائندے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے تحویل میں لیے گئے افراد نے پولیس کے ساتھ ابتدائی تفتیش میں کچھ معلومات فراہم کی ہیں مگر ’جس طرح ارشد شریف قتل ہوئے، اس حوالے سے ابھی بھی پورا سچ سامنے نہیں آیا ہے۔‘
سائرس اومباتی کے مطابق سکیورٹی اداروں کی جانب سے فراہم کی جانے والی اطلاعات کے مطابق واقعے سے ایک دن قبل ارشد شریف نے اپنے ساتھی خرم احمد کے ساتھ شام اموڈمت نامی علاقے کے ایک تفریح کمپلکیس میں گزاری تھی، جہاں انھوں نے اپنا زیادہ وقت شوٹنگ رینج میں گزارا تھا۔
مذکورہ علاقہ کینیا میں رہنے والے پاکستانی نژاد شہریوں کی پسندیدہ جگہ ہے اور اس علاقے میں واقع بیشتر فارم ہاؤسز اور گھر پاکستانیوں کی ملکیت ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
سائرس اومباتی کے مطابق انھیں حکام نے تصدیق کی ہے کہ سفید رنگ کی وہ ٹویوٹا کرولا گاڑی جس پر فائرنگ ہوئی تھی وہ بھی خرم احمد کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ خرم احمد کے حوالے سے جو ابتدائی معلومات سامنے آ رہی ہیں اُن کے مطابق خرم احمد پاکستانی نژاد کینڈین شہری ہیں، جو کینیا میں فارمنگ، پراپرٹی اور تعمیرات کے کاروبار سے منسلک ہیں۔
سائرس اومباتی کے مطابق حکام نے بھی بتایا ہے کہ ارشد شریف لگ بھگ گذشتہ دو ماہ سے کینیا کے علاقے ویسٹ لینڈ میں رہائش پذیر تھے، جہاں پر اُن کی میزبانی خرم احمد کا خاندان کر رہا تھا۔
سائرس اومباتی کے مطابق پولیس کی تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ واقعے والے دن دونوں نے شام آٹھ بجے کوینیا کے علاقے سے نیروبی جانے والے راستے پر سفر کا آغاز کیا تھا۔
ان کے مطابق ’یہ بھی پتا چلا ہے کہ جب فائرنگ کا واقعہ پیش آ رہا تھا عین اُس وقت خرم احمد نے ٹنگا کے علاقے میں رہائش پذیر ایک پاکستانی شہری کو فون کال کی تھی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کینیا میں حکام کا کہنا ہے کہ تفتیشی حکام نے اُس پاکستانی شہری سے بھی پوچھ گچھ کی ہے جنھیں خرم احمد نے کال کی تھی۔
سائرس اومباتی کا کہنا ہے کہ ’وہ پاکستانی شہری کون ہیں اس بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہو سکی ہیں۔ پولیس بھی یہ نہیں بتا رہی ہے کہ خرم احمد کی اس شہری سے کیا بات ہوئی تھی؟‘
سائرس اومباتی اور کینیا کے ذرائع ابلاغ کے مطابق اپنے ابتدائی بیان میں خرم احمد نے پولیس کو بتایا ہے کہ ارشد شریف اُن کے پاس گذشتہ دو ماہ سے سیاحتی ویزے پر مقیم تھے۔ انھوں نے ابتدائی بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ ارشد شریف اور اُن کے درمیان کچھ کاروباری تعلقات بھی تھے۔
یاد رہے کہ خرم احمد کو کینیا میں ایک بااثر سرمایہ کار سمجھا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہSocial Media
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ارشد شریف کی سٹوری کور کرنے والی ایک اور صحافی والیایلیودکیبی کے مطابق خرم احمد نے پولیس کو بتایا ہے کہ ارشد کینیا میں رُک کر متحدہ عرب امارات کا ویزا دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور اس کے لیے انھوں نے پراسس بھی شروع کر رکھا تھا۔
ایلیود کیبی کے مطابق پولیس نے ابتدائی تفتیش کے بعد یہ دعویٰ بھی کیا کہ ارشد شریف کا خرم احمد کے ساتھ تعلق صرف دوستانہ ہی نہیں تھا بلکہ یہ کاروباری تعلق بھی تھا اور ارشد شریف نے خرم احمد کے ساتھ مل کر پراپرٹی میں سرمایہ کاری بھی کر رکھی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
ایلیود کیبی کے مطابق پولیس نے ارشد شریف کی سرمایہ کاری کے حوالے سے خرم احمد سے دستاویزات بھی طلب کی ہیں۔
ایلود کیبی کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ارشد شریف کو کندھے اورسر کے درمیاں گولی لگی ہے۔
صحافی سائرس اومباتی کے مطابق پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد صحافتی حلقوں میں یہ بات بھی کی جا رہی ہے کہ پولیس کا مبینہ طور پر گاڑی روکنا مقصد ہی نہیں تھا کیونکہ اگر گاڑی روکنا مقصد ہوتا تو ڈرائیور کی طرف نشانہ لیا جاتا۔
انھوں نے کہا کہ اس معاملے کو لے کر کینیا کی پولیس اور حکومت دونوں اس وقت دباؤ کی شکار ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPTV
یاد رہے کہ کینیا کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی اس واقعے کے حوالے سے مختلف سوالات پوچھے جا رہے ہیں۔ گذشتہ روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے کہا تھا کہ ’ہم اس واقعے پر کینیا کے سرکاری مؤقف سے مطمئن نہیں۔ میں نے اس سلسلے میں کینیا میں اپنے ہم منصب سے رابطہ کیا ہے۔‘
اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ ’یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ متحدہ عرب امارات میں ارشد شریف کے رہنے کا بندوبست کس نے کیا؟ کس نے اُن کو کہا کہ ان کی جان کینیا میں محفوظ ہے اور پاکستان میں ان کو خطرہ ہے؟ کس نے ان کو کہا کہ صرف کینیا ویزا فری ملک ہے؟ ان کی کینیا میں میزبانی کون کر رہا تھا؟ ان کا ارشد سے کیا تعلق تھا؟ کیا وہ ان کو پہلے سے جانتے تھے؟‘
مزید سوالات اٹھاتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ’ارشد شریف کی وفات ایک دور افتادہ علاقے میں ہوئی تو اُن کی وفات کی خبر پہلے کس کو ملی؟ کیا یہ واقعی حادثاتی ہلاکت تھی یا ٹارگٹ کلنگ؟‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ بین الاقوامی فورم چاہے یو این کے ماہرین کی ضرورت ہو تو ان کو اس ہلاکت کی تفتیش میں شامل کرنا چاہیے۔ سلمان اقبال صاحب کو پاکستان لایا جائے اور شامل تفتیش کیا جائے۔‘
انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر الزامات کا رُخ فوج کی جانب کر دیا گیا۔ اس سے کون فائدہ اٹھا رہا ہے؟ ’میں نے اب تک کی تفصیلات سامنے رکھ دی ہیں۔ آپ کا فرض ہے کہ ان کی تہہ تک پہنچیں۔ جب تک انکوائری رپورٹ سامنے نہیں آتی، الزام تراشی نہیں ہونی چاہیے۔‘













