غدار، نیوٹرل کا بیانیہ اس لیا بنایا گیا کیونکہ فوج نے غیر قانونی کام کرنے سے انکار کیا: ڈی جی آئی ایس آئی

،تصویر کا ذریعہPTV
پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے رواں برس مارچ کے مہینے میں فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ کو غیر معینہ مدت کی توسیع کی پیشکش کی تھی جسے قبول نہیں کیا گیا۔
لیفٹینینٹ جنرل ندیم انجم نے جمعرات کو غیر معمولی طور پر فوج کے ترجمان لیفٹینینٹ جنرل بابر افتخار کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں شرکت کی جس میں دونوں نے سائفر کے معاملے، اس پر تحریک انصاف کی جانب سے ’گمراہ کن‘ سیاسی بیانیہ ترتیب دینے اور ارشد شریف کی ہلاکت سے متعلق واقعات پر تفصیلی گفتگو کی۔
اس پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس آئی کا مزید کہنا تھا کہ ’آپ کو اپنی رائے کے اظہار کا حق ہے۔ لیکن اگر آپ کا دل مطمئن ہے کہ آپ کا آرمی چیف غدار ہے تو ماضی میں اُن کی اتنی تعریف کیوں کی گئی اور یہ پیشکش کیوں کی گئی کہ اگر پوری زندگی بھی اس عہدے پر رہنا چاہتے ہیں تو رہ لیں۔‘
انھوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ ’اب بھی آپ چھپ کر اُن سے کیوں ملتے ہیں؟ رات کو آپ ہم سے غیر آئینی خواہشات کا اظہار کریں، وہ آپ کا حق ہے، لیکن پھر دن کی روشنی میں جو کہہ رہے ہیں وہ نا کہیں۔ آپ کی گفتگو میں کھلا تضاد ہے۔‘
خفیہ ملاقاتیں اور مدت ملازمت میں توسیع کی پیشکش
ڈی جی آئی ایس آئی نے اپنی گفتگو کے دوران کہا کہ ’مارچ کے مہینے میں آرمی چیف کو غیر معینہ مدت کی توسیع کی میرے سامنے پیشکش کی گئی۔ انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا۔‘
’جنرل باجوہ صاحب چاہتے تو آخری وقت بہت سہولت سے گزار سکتے تھے۔ لیکن انھوں نے ملک کے حق میں، ادارے کے حق میں فیصلہ کیا۔ ان پر، ان کے بچوں پر غلیظ تنقید کی گئی۔ ‘
انھوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ ’آپ کو اپنی رائے کے اظہار کا حق ہے۔ لیکن اگر آپ کا دل مطمئن ہے کہ آپ کا آرمی چیف غدار ہے تو ماضی میں اتنی تعریف کیوں کی گئی؟ اب بھی آپ چھپ کر ان سے کیوں ملتے ہیں؟ ‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’رات کو آپ ہم سے غیر آئینی خواہشات کا اظہار کریں، وہ آپ کا حق ہے، لیکن پھر دن کی روشنی میں جو کہہ رہے ہیں وہ نا کہیں۔ آپ کی گفتگو میں کھلا تضاد ہے۔ ‘
جب ان سے بعد میں اس بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’صدر پاکستان کی جن ملاقاتوں کا آپ نے ذکر کیا، وہ ہوئیں۔ اس کی ممانعت نہیں۔ ان کا مقصد ملک میں سیاسی ٹھہراو لانا تھا لیکن وہ ملاقاتیں اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکیں۔ ‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ ’میں آئی ایس آئی چیف بنا تو مجھ سے سوال کیا گیا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے، تو میں نے کہا میرے خیال میں ملک کے معاشی حالات۔ جنھوں نے مجھ سے سوال پوچھا ان کا خیال تھا کہ حزب اختلاف سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ‘
’سائفر پر جھوٹا بیانیہ بنایا گیا ‘
پریس کانفرنس کے آغاز میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس غیر ملکی سازش پر بات کی جو عمران خان کے مطابق ایک سائفر سے شروع ہوئی جو امریکہ میں پاکستان کے سفیر نے بھجوایا۔ انھوں نے کہا کہ ’سائفر سے جڑے حقائق تک پہنچنا ضروری ہے تاکہ سب کو سچ معلوم ہر سکے۔ ‘
انھوں نے دعوی کیا کہ ’آرمی چیف نے گیارہ مارچ کو اس وقت کے وزیر اعظم سے خود سائفر کا ذکر کیا جنھوں نے کہا کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں۔‘ ’ہمارے لیے یہ بڑی بات تھی جب 27 مارچ کو ایک کاغذ لہرایا گیا اور ایک بیانیہ بنایا گیا۔ اس بارے میں کئی حقائق سامنے آ چکے ہیں جنھوں نے اس من گھڑت کہانی کا پول کھول دیا ہے۔‘ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ’آئی ایس آئی نے واضح الفاظ میں بتا دیا تھا کہ کسی قسم کی سازش کے آثار نہیں ملے۔ پاکستانی سفیر نے جو لائحہ عمل طے کیا، نیشنل سکیورٹی کمیٹی نے اسی پر عمل کیا گیا۔ ‘
’ہم نے حکومت پر یہ فیصلہ چھوڑ دیا کہ وہ خود آئی ایس آئی کی معلومات کو پبلک کرے۔ ‘
’لیکن حکومت کا مقصد سیاسی بیانیہ بنانا تھا۔ پاکستان کے اداروں، لیڈر شپ کو نشانہ بنایا گیا۔ ہر چیز کو غداری اور رجیم چینج سے لنک کر دیا گیا۔ ‘
لیفٹینینٹ جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ اس وقت کئی صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کو ایک مخصوص بیانیہ دیا گیا۔ ’پاکستان کے اداروں کو دنیا بھر میں بدنام کرنے کی کوئی کوشش نہیں چھوڑی۔‘ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’اے آر وائی چینل نے ایجنڈا سیٹنگ کے ذریعے فوج مخلاف بیانیے کو پروان چڑھایا جس کے تحت پاکستان آرمی سے سیاسی مداخلت کی توقع کی گئی۔ ‘
’نیوٹرل کو گالی بنا دیا گیا۔ اس سب کے باوجود ادارے اور آرمی چیف نے تحمل کا ثبوت دیا۔ ہم نے کوشش کی کہ سیاست دان آس میں بیٹھ کر معاملات حل کریں۔ ‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوال کیا کہ ’کہا گیا سائفر کو چھپایا گیا۔ کیا فارن آفس نے چھپایا؟ جنھوں نے چھپایا ان کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی گئی؟ ان کے نام کیوں نہیں لیے گئے؟ ‘
’غدار، نیوٹرل کا بیانیہ اس لیا بنایا گیا کیونکہ فوج نے غیر قانونی کام کرنے سے انکار کیا‘
اپنی بات چیت کا آغاز کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ ’میرا منصب اور میرے کام کی نوعیت ایسی ہے کہ مجھے اور میری ایجنسی کو پس منظر میں رہنا ہے۔ لیکن آج میں اپنے ادارے اور ایجنسی کے لیے آیا ہوں۔‘
’جب ہمارے لوگوں کو جھوٹ کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنایا جائے، تو ہم چپ نہیں رہ سکتے۔ جب اتنی آسانی سے جھوٹ بولا جائے کہ ملک میں فساد کا خطرہ ہو، تو ایک جانب سے طویل خاموشی نہیں رکھی جا سکتی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس میں دو رائے نہیں کہ آپ بنا شواہد کسی کو میر جعفر کہیں تو اس کی مذمت ہونی چاہیے۔ ’یہ نظریہ کیوں بنایا گیا؟ غدار، نیوٹرل کہنا اس لیے نہیں کہ کسی نے غداری کی یا کسی نے غیر قانونی کام کیا۔ بلکہ اس لیے کہ غیر قانونی کام کرنے سے انکار کیا۔گذشتہ سال ادارے نے فیصلہ کیا کہ ہم سیاست سے باہر نکل جائیں۔ یہ صرف آرمی چیف کا فیصلہ نہیں تھا۔ اس پر کافی بحث ہوئی، ہم نے یہ فیصلہ ملک کے مفاد میں کیا۔‘
ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ ’ہم پر پریشر ڈالا گیا لیکن ہم نے فیصلہ کیا کہ جو بنیادی فیصلہ کیا ہے اس سے نہیں ہٹیں گے۔ جنرل باجوہ صاحب چاہتے تو آخری وقت بہت سہولت سے گزار سکتے تھے۔ لیکن انھوں نے ملک کے حق میں، ادارے کے حق میں فیصلہ کیا۔ ان پر، ان کے بچوں پر غلیظ تنقید کی گئی۔‘
انھوں نے کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ جب وہ جائیں تو ایک ایسا ادارہ چھوڑ کر جائیں جس کا آئینی کردار ہو۔

،تصویر کا ذریعہPMO PAKISTAN
لانگ مارچ اور آرمی چیف کی تعیناتی
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’فوج کو تنقید سے کوئی مسئلہ نہیں۔ ہمیں مسئلہ تب ہوتا ہے جب تنقید سے بڑھ کر بات الزام تراشی اور پروپیگینڈا تک چلی جاتی ہے۔ ‘
’ہمارے پاس ایسا کوئی فورم نہیں کہ روز کسی کی کہی ہوئی بات کا جواب دیں۔‘ ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ آرمی چیف کی آئینی طریقہ کار کے مطابق تعیناتی وقت پر ہو گی۔‘ ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’دو ہزار اکیس مارچ کے بعد اگر کسی الیکشن میں فوج کی یا آئی ایس آئی کی مداخلت ملی تو بتائیں۔ ‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک اور سوال کے جواب میں کہ ’لانگ مارچ کرنا سب کا جمہوری حق ہے، اس سے پاکستان کو کسی قسم کا خطرہ نہیں ہے۔ آئینی طور پر، قانون کے مطابق لوگ اکھٹے ہوتے ہیں تو اس سے کسی کو پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ضرورت پڑی تو فوج آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کرے گی۔ ہم پاکستان کو ڈی سٹیبلائز کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔‘ ڈی جی آئی ایس آئی نے لانگ مارچ سے متعلق سوال پر کہا کہ ’ہمیں کسی کے لانگ مارچ یا دھرنے سے اختلاف نہیں کرنا چاہیے۔‘ آرمی چیف کے ایک حالیہ بیان کے بارے میں سوال پر انھوں نے کہا کہ ’آرمی چیف نے کہا تھا کہ وہ کسی کو جازت نہیں دیں گے کہ وہ پاکستان کو سیاسی یا اقتصادی عدم استحکام سے دوچار کرے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’لانگ مارچ کے حوالے سے حکومت کے پاس عدالتی ہدایات ہیں اور سپریم کورٹ میں کیس چل رہا ہے، ہمیں امید ہے کہ واضح ہدایات جاری ہوں گی۔ ‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ایسے مواقع پر خدشہ رہتا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ اگر حکومت نے فوج کو آئینی طریقہ کار کے مطابق بلایا تو ہم ضرور مدد کریں گے۔‘







