اسٹیبلیشمنٹ کی ’خواہش‘ یا متحدہ کی سیاسی ضرورت: دھڑوں میں بٹی ایم کیو ایم کو متحد کرنے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے؟

ایم کیو ایم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

متحدہ قومی موومنٹ کے دھڑوں کے انضمام کا تاحال باضابطہ اعلان تو سامنے نہیں آیا تاہم فریقین میں ملاقاتوں اور رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے منگل کی شب پاک سرزمین پارٹی کے دفتر کا دورہ کیا اور پی ایس پی کے سربراہ اور ایم کیو ایم کے سابق میئر مصطفیٰ کمال سے ملاقات کی۔ ایم کیو ایم سے وابستہ شخصیات کے مطابق امکان ہے کہ خالد مقبول صدیقی ڈاکٹر فاروق ستار سے بھی ملاقات کریں گے جس کے بعد مزید پیشرفت متوقع ہو گی۔

اس ملاقات کے بعد مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم جو کوشش کر رہی ہے اُس کا مثبت جواب دیں گے، قوم کے مفاد میں مشکل فیصلے بھی کریں گے۔

ان ملاقاتوں کے بعد سوال یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے انضمام کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟ کیا یہ انضمام پارٹی کی سیاسی ضرورت ہے اور یہ اتحاد کتنا پائیدار اور کارگر ثابت ہو گا؟ یا اس کے پیچھے کوئی اور عوامل کارفرما ہیں؟

متحدہ قومی موومنٹ تقریباً تین دہائیوں تک کراچی کی نمائندہ اکثریتی جماعت رہی ہے جس کی قیادت لندن میں سیاسی پناہ حاصل کرنے والے پارٹی قائد الطاف حسین کے پاس تھی۔

ایم کیو ایم کو 22 اگست 2016 کو الطاف حسین کی ایک متنازع تقریر کے بعد سیاسی و تنظیمی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کے بعد ایم کیو ایم پاکستان نے اپنی جماعت کے لندن گروپ سے لاتعلقی کا اظہار کیا تاہم بعد میں اپنی صفوں میں اتحاد برقرار نہیں رکھ سکی اور دھڑوں میں تقسیم ہو گئی۔

ایم کیو ایم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’ری برانڈیڈ‘ ایم کیو ایم

ایم کیو ایم بہادر آباد گروپ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے انضمام کی حالیہ کوششوں سے قبل پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال سے مذاکرات کیے تھے لیکن ’اندرونی اختلافات‘ کی وجہ سے یہ کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔

ڈاکٹر فاروق ستار کہتے ہیں کہ ’ایم کیو ایم میں جب ٹوٹ پھوٹ ہوئی اور تنظیم میں اندرونی یکہجتی برقرار نہیں رہی اور اختلاف ہو گیا تو ظاہر ہے بیرونی فریقین نے بھی اس کا فائدہ اٹھایا کیونکہ ان کا اسی میں مفاد تھا کہ ایم کیو ایم میں تقسیم ہو تاکہ ایک مینج ایبل (جسے اپنی مرضی سے چلایا جا سکے) ایم کیو ایم بن جائے۔ اب ان فریقین میں یہ حقیقت پسندانہ سوچ آئی ہے کہ ایم کیو ایم مینج تو ہو گئی لیکن اس نے اپنی مبقولیت گنوا دی اس کا گراف بہت نیچے چلا گیا۔‘

ڈاکٹر فاروق ستار کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم کی ری برانڈنگ کی ضرورت ہے جس میں 50 فیصد قیادت 35 سال سے کم عمر کے نوجوان ہونے چاہییں۔

گورنر ہاؤس: ’نائن زیرو‘

کامران ٹیسوری کی ایم کیو ایم میں شمولیت پر ڈاکٹر فاروق ستار اور ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت میں اختلافات سامنے آئے تھے۔

پچھلے دنوں ایم کیو ایم پاکستان نے خود کامران ٹیسوری کو سندھ کے گورنر کے لیے اپنا امیدوار نامزد کیا تھا۔ موجودہ وقت میں گورنر ہاؤس کو پارٹی دھڑوں میں رابطوں اور ملاقاتوں کا مرکز بنایا گیا ہے جہاں تمام فریق بغیر اعتراض کے آ رہے ہیں۔

کامران ٹیسوری نے ایم کیو ایم میں انضمام کے لیے مصطفیٰ کمال اور ڈاکٹر فاروق ستار سے ملاقاتیں کیں۔

ایم کیو ایم

،تصویر کا ذریعہMQMPAKISTAN

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

گورنر کی ان سرگرمیوں پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ نے اعتراض کیا اور کہا کہ گورنر ہاؤس ایک نیا نائن زیرو بن چکا ہے، جہاں کامران ٹیسوری اپنی آئینی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاسی سرگرمیاں کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ایم کیو ایم کے ورکرز کنونشن سے خطاب کر کے دیگر دھڑوں سے مذاکرات کی منظوری لی تھی۔

اس موقع پر انھوں نے کہا کہ ہمارے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں، یہ تنظیم و پلیٹ فارم ’مہاجروں کے اتحاد‘ کے لیے تھا اور یہ اتحاد قائم رکھنا ہماری اولین ذمہ داری ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے انضمام کو ایم کیو ایم لندن سیاسی انجینئرنگ قرار دیتی ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ لندن کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات مصطفیٰ عزیز آبادی کے مطابق یہ سیاسی انجینیئرنگ کرنے والے وہ ہی لوگ ہیں جنھوں نے ایم کیو ایم کو ختم کرنے کے لیے 1992 میں ایم کیو ایم حقیقی بنائی، 2016 میں پی ایس پی بنائی، جنھوں نے اصل ایم کیو ایم کو ختم کرنے اور اس کے بانی الطاف حسین کو طاقت کے ذریعے سیاسی منظر نامے سے ہٹانے کے لیے 22 اگست 2016 کے بعد ایم کیو ایم (پی آئی بی) بنائی اور پھر اس کو ایم کیو ایم پی آئی بی اور بہادر آباد میں تقیسم کر دیا۔

ان کے مطابق شہری سندھ کے عوام آج بھی الطاف حسین کے ساتھ ہیں۔ الیکشن کا بائیکاٹ اس کا ثبوت ہے لہذا پولیٹیکل انجینیئرنگ اور مصنوعی قیادتیں مسلط کرنے کے بجائے آج بھی وقت ہے کہ الطاف حسین کی حقیقت کو تسلیم کیا جائے۔

ایم کیو ایم کے انضمام میں اسٹیبلیشمنٹ کا ممکنہ کردار

ایم کیو ایم کی قیادت بظاہر اس انضمام کو اپنا سیاسی عمل قرار دے رہی ہے لیکن سیاسی تجزیہ نگار اس انضمام میں اسٹیبلیشمنٹ کا ممکنہ کردار اور اس کی سیاسی چال قرار دیتے ہیں۔

سینیئر تجزیہ نگار ڈاکٹر توصیف احمد کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم اپنے آغاز سے ہی اسٹیبلیشمنٹ کے زیر سیاہ رہی۔ ایک وقت ایسا آیا کہ وہ ان سے علیحدہ ہو گئی تھی پھر الطاف حسین کے بیانیے کی وجہ سے ایم کیو ایم کا جو گروپ بچا وہ ان کے نرغے میں آ گیا۔

’اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ سندھ میں ایم کیو ایم کو دوبارہ متحد کر کے قوت بنایا جائے تاکہ پی پی اور تحریک انصاف میں توازن کیا جائے کیونکہ ایم کیو ایم کو مینج کرنا ان کے لیے تھوڑا سا آسان ہے۔‘

ایم کیو ایم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سینیئر تجزیہ نگار مظہر عباس بھی ڈاکٹر توصیف کی رائے سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم اسٹیبلیشمنٹ کی گرفت سے نکل نہیں پا رہی اور اس کو نکلنے بھی نہیں دیا جا رہا۔

’سنہ 2016 کے بعد انھوں نے کافی سخت فیصلے کیے تھے اس کے باوجود بھی ان کے کئی لوگوں پر اسٹیبلیشمنٹ شک کرتی ہے، جب بھی کوئی بات ہوتی ہے تو لندن والا چیپٹر کھل جاتا ہے۔ وہ ایک ہی صورتحال میں پھنسے ہوئے ہیں۔‘

ایم کیو ایم رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کہتے ہیں کہ جب بھی کوئی سیاسی جماعت بہت زیادہ محاذ آرائی پر چلی جائے تو اس کا گراف بہت زیادہ نیچے چلا جاتا ہے۔

’جب جماعت اسلامی نے سنہ 1985 میں محاذ آرائی کی تو ایم کیو ایم نے ان کی جگہ لی، جب ایم کیو ایم نے محاذ آرائی کی غلطیاں کیں تو یہ نیچے آئی اور پی ٹی آئی کو موقع ملا۔ جس پر پی ٹی آئی کو کچھ سیٹیں ملیں اور کچھ دلائی گئیں یعنی جو بھی جماعت محاذ آرائی میں جاتی ہے تو اس کی جگہ پر دوسری جماعت کو لانا آسان ہوتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

پاکستان تحریک انصاف کو محدود کرنے کی کوشش

کراچی میں 2018 کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف شہر کی سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی تھی جس نے 21 صوبائی اور 14 قومی اسمبلی کی نشستیں جیتی تھیں جبکہ ایم کیو ایم کے ہاتھ 13 صوبائی اور آٹھ قومی اسمبلی کی نشستیں آئی تھیں۔

قائد اعظم یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر فرحان صدیقی کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے اہداف تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ ’کراچی کا تقسیم شدہ سیاسی مینڈیٹ اسٹیبلیشمنٹ کے لیے فائدہ مند ہے۔ انھیں خوف و خطرہ پی ٹی آئی اور عمران خان کے بیانیے سے ہے اس لیے اس جماعت کو محدود کرنا ہے اور توقع یہ ہے کہ ایم کیو ایم اُن کی کچھ نشستیں کم کر سکتی ہے مگر ایسا بھی نہیں کہ اس سے ایم کیو ایم دوبارہ ایک سیاسی قوت بن کر سامنے آئے گی۔‘

سینیئر تجزیہ کار مظہر عباس کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم کے اندر بھی یہ سوچ ہے کہ تقسیم کی وجہ سے وہ بالکل ہی ختم ہو گئے ہیں اور ان کی مقبولیت کم ہو گئی لہذا انھیں متحد ہونا چاہیے۔ دوسری جانب اسٹیبلیشمنٹ کے اندر بھی یہ سوچ تھی کہ ایم کیو ایم کو آؤٹ کرنا بھی درست نہیں۔

’یہ حقیقت ہے کہ 2016 کے بعد سے ایم کیو ایم کمزور ہوئی اور کھل کر کام ہی نہیں کر سکی، ان کی چار سال کی بلدیاتی کارکردگی بھی اچھی نہیں رہی۔ وہ اختیارات کا رونا روتے رہے لیکن کام نہیں ہوا، ایم کیو ایم کا ووٹر اور سپورٹر یا تو کنفیوز رہا یا پھر اس نے تحریک انصاف کو متبادل ڈھونڈ لیا۔ اس کے علاوہ پاک سر زمین پارٹی بھی اپنا کوئی اثر نہیں دکھا سکی۔‘

ایم کیو ایم

،تصویر کا ذریعہMQMPAKISTAN

پارٹی کے اندر کی سیاست

ایم کیو ایم پاکستان کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے ہی تنظیم دھڑا بندی کا شکار ہوئی۔ متعدد بار قیادت کے اختلافات کی خبریں سامنے آ چکی ہیں۔

موجودہ وقت میں عامر خان خاموش ہیں جبکہ وفاقی وزیر امین الحق اور فیصل سبزواری کی طرف سے بھی کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

ڈاکٹر فاروق ستار کہتے ہیں کہ وہ خالد مقبول کو اپنا لیڈر مانتے ہیں اور ان کے نیچے کام کریں گے۔ فیصلہ سازی اور تنظیم سازی میں بہتر فیصلے کرنے ہیں تاکہ ماضی میں جو غلطیاں ہوئی ہیں ان کو دہرایا نہ جائے ہمارا اعتماد تب لوگوں پر ہو گا جب ہم انتخابی امیدواروں اور قیادت میں نوجوان لائیں گے۔

پروفیسر فرحان صدیقی کہتے ہیں کہ یہ ایک اہم سوال ہے کہ پارٹی ڈھانچے کے بارے میں کیا کرے گی۔ انتخابات آئندہ چھ ماہ میں ہیں اور اس عرصے میں اندرونی اختلافات کو حل کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ مصطفیٰ کمال اپنے طور پر ایک لیڈر ہیں، فاروق ستار بھی لیڈر ہیں جو دیگر ہیں وہ بھی خود کو قیادت سمجھتے ہیں اگر یہ انضمام ہوا بھی تو یہ بڑا دشوار اور پیچیدہ ہو گا اور اگر اتحاد ہو بھی گیا تو انتخابات کے بعد پائیدار ثابت نہیں ہو سکے گا۔

ایم کیو ایم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

نئی ایم کیو ایم اور نوجوان ووٹر

کراچی میں ایم کیو ایم کے انضمام کی سرگرمیوں پر سوشل میڈیا پر بھی بہت تبصرے سامنے آ رہے ہیں، ڈاکٹر فرحان صدیقی کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم کی بالادستی اور تسلط ختم ہو چکا، جنریشن تبدیل ہو چکی ہے جو 20- 25 سال کا نوجوان ووٹر ہے اس نے الطاف حسین کی سیاست کو نہیں دیکھا، جو ایم کیو ایم کا نظریہ تھا جس کی بنیاد پر اسی اور نوے کی دہائی سے لے کر اس نے راج کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ موجودہ نسل کے لیے یہ جماعت پُرکشش نہیں، انھیں ملازمتیں چاہییں، تعلیم چاہیے، آسائشیں چاہیے۔‘

’ایم کیو ایم کے پاس وقت بہت کم ہے کیونکہ چھ ماہ بعد الیکشن ہے تو ایسے میں وہ سیاسی نعرہ کیا ہو گا جس کی بنیاد پر وہ لوگوں کو متحرک کریں گے۔ جو شکوہ شکایت والی سیاست ہے کہ ہمیں یہ نہیں ملا، ہمیں وہ نہیں ملا اس پر لوگ سوال اٹھائیں گے کہ آپ کے پاس بلدیاتی ادارے تھے، آپ کا گورنر تھا آپ کے پاس ایم این ایز، ایم پی ایز تھے، وفاق میں اتحاد تھا تو آپ نے کراچی میں کیا انھیں کیا دیا۔‘

سینیئر تجزیہ کار مظہر عباس کہتے ہیں کہ نئی ایم کیو ایم بہتری تو لا سکتی ہے لیکن وہ فیصلہ کن ہو سکتی ہے یہ کہنا قبل از وقت ہے۔

’سنہ 2013 سے کراچی کا ووٹر کافی تبدیل ہوا، اب ایک نیا ووٹر سامنے آیا ہے جو مختلف جماعتوں میں گیا۔ اب وہ صورتحال نہیں جو آج سے دس پندرہ سال قبل تھی۔ ایم کیو ایم کو کافی جدوجہد کرنا پڑے گی اپنی جگہ بنانے کے لیے کیونکہ آج کل وہ مسائل نہیں جو ماضی میں تھے ایم کیو ایم کو اپنی سیاست میں بھی تبدیلی لانا ہو گی۔‘

الطاف حسین فیکٹر

الطاف حسین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کراچی میں گذشتہ سال قومی اسمبلی کے دو حلقوں میں ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف نے کامیابی حاصل کی جس میں ایک حلقے سے محمود مولوی جبکہ دوسرے سے عمران خان کامیاب ہوئے جبکہ ایم کیو ایم پاکستان کو ووٹ کم ملنے کی ایک وجہ ایم کیو ایم لندن کے سربراہ الطاف حسین کی جانب سے بائیکاٹ بھی قرار دیا گیا۔

ڈاکٹر فرحان صدیقی کہتے ہیں کہ کراچی میں کچھ ایسے علاقے ہیں جیسے لانڈھی، کورنگی، ناظم آباد کے کچھ علاقے جہاں پر الطاف حسین کی حمایت بدستور موجود ہیں۔

 تجزیہ نگار ڈاکٹر توصیف احمد بھی ان سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ الطاف حیسن کراچی کی سیاست میں متعلقہ ہیں اور لوگ ان کے ساتھ یکہجتی کا اظہار کرتے ہیں اور تمام تر آپریشن کے باوجود ان کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔

مظہر عباس کہتے ہیں الطاف حسین ایک اہم فیکٹر ہیں جس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

’ان کے حمایت کتنی ہے اس کی آزمائش نہیں ہوئی لیکن بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ایک بڑا ووٹ خاموش ہو گیا ہے اور وہ لندن کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ حقیقت تبھی ممکن ہے جب لندن گروپ کو بھی اجازت دیں پھر دیکھیں کہ سیاسی طور پر وہ کہاں کھڑے ہوئے ہیں ورنہ ایم کیو ایم جب بھی ہارے گی لندن اس کو اپنی کامیابی قرار دے گا۔

 ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کشیدگی

ایک طرف ایم کیو ایم قیادت انضمام کی کوشش میں ہے تو دوسری جانب وہ بلدیاتی انتخابات کا التوا چاہتی ہے جو 15 جنوری کو مجوزہ ہے۔ ایم کیو ایم رہنما خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ وہ جعلی مردم شماری اور بوگس ووٹر لسٹوں والے انتخابات نہیں چاہتے۔

سینیئر تجزیہ کار مظہر عباس بھی اتفاق کرتے ہیں کہ اس انضمام کی وجہ تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کی کشیدہ صورتحال ہے۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ پیپلز پارٹی کا شہری آبادی میں اثر و رسوخ بڑھ گیا ہے۔

’بلدیاتی اداروں کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں پیپلز پارٹی کو کافی کامیابی ملی ہے۔ حیدرآباد اور میرپور خاص میں ان کا میئر منتخب ہو سکتا ہے اب جب دوسرا مرحلہ مکمل ہو گا تو اصل تصویر سامنے آئے گی۔ پیپلز پارٹی کراچی میں بھی جماعت اسلامی یا کسی اور کے ساتھ اتحاد کر کے میئر یا ڈپٹی میئر لا سکتی ہے۔‘

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کئی ماہ قبل کہہ چکے ہیں کہ کراچی کا میئر جیالا ہوگا، ایم کیو ایم کا وفد وزیر اعظم شہباز شریف اور سابق صدر آصف علی زراری سے ملاقات کر کے نئی حلقہ بندیوں پر تحفظات کا اظہار کرچکا ہے لیکن فریقین میں ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

ڈاکٹر توصیف احمد کہتے ہیں کہ اگر پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم میں اتفاق نہ ہوا تو تحریک انصاف کراچی سے اکثریتی نشستیں حاصل کر لے گی۔

تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم کا صفایا کر دیں گے، جماعت کے مرکزی رہنما اسد عمر کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کا انضمام فطری نہیں بلکہ اس کے پیچھے یقیناً کوئی وجہ کارفرما ہے۔