پرتھ میں پاکستان ٹیم کی پریکٹس: شہر میں گاؤں جیسا سکون اور شاہین آفریدی کے بولنگ ردھم کی واپسی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, محمد صہیب
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
- مقام, پرتھ
میلبرن میں ہم جس کو بھی بتاتے تھے کہ ہم پرتھ جا رہے ہیں تو اُن کے تاثرات ویسے ہی ہوتے تھے جیسے آپ لاہور یا کراچی میں کسی کو یہ بتائیں کہ آپ اسلام آباد جا رہے ہیں۔
یعنی خوبصورت جگہ ہے، سکون ہو گا لیکن لوگ جلدی سو جاتے ہیں۔
نقشے پر نظر ڈالیں تو آسٹریلیا کی ریاست ویسٹرن آسٹریلیا کا دارالحکومت پرتھ ملک کے ایک کونے میں واقع شہر ہے۔
پرتھ کا ٹائم زون بھی مختلف ہے اور یہاں کے ایئرپورٹ پر پہنچتے ہی آپ کو یہاں کی ثقافت میں بھی فرق دکھائی دیتا ہے۔
ویسٹرن آسٹریلیا رقبے کے اعتبار سے ایک بڑی ریاست ہے اور جب آپ پرتھ ایئرپورٹ پر پہنچتے ہیں تو یہاں پر آسٹریلوی فاسٹ بولر ڈینس للی کی مونچھوں کی یاد تازہ ہوتی ہے۔
اکثر مرد آپ کو بڑی بڑی مونچھوں اور کاؤ باؤ ہیٹ پہنے دکھائی دیں گے اور یہاں کی زندگی میلبرن سے قدرے سست معلوم ہو گی۔
تاہم یہ ہفتہ پرتھ کے لیے خاصا مصروف ہے کیونکہ یہاں پاکستان کی ٹیم اپنے دو میچ کھیلنے والی ہے بلکہ جنوبی افریقہ اور انڈیا کے درمیان گروپ بی کا انتہائی اہم میچ بھی 30 اکتوبر کو یہیں کھیلا جائے گا۔
پرتھ پہنچتے ہی جو چیز آپ کو اپنی طرف سب سے پہلے کھینچتی ہے وہ یہاں کی خوبصورتی ہے۔ پرتھ شہر کے بیچوں بیچ دریائے سوان اور کیننگ گزرتے ہیں، پرتھ کے ساحلوں کے بھی چرچے ہیں اور ایک ساحلی شہر ہونے کے باعث یہاں مسلسل ہوا چلتی رہتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ آسٹریلیا کے ان شہروں میں سے ایک ہے جہاں موسم گرم رہتا ہے اور دن میں ایک طویل وقت کے لیے دھوپ نکلی رہتی ہے۔ پرتھ کی یہ خصوصیت بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنتی ہے۔
تاہم یہاں میلبرن یا سڈنی کے مقابلے میں آپ کو پاکستانی اور انڈین کمیونٹی قدرے کم دکھائی دے گی اور یہاں موجود دیسی ریستورانوں کا فقدان بھی اس بات کی گواہی دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے پریکٹس سیشنز کے دوران بھی اسے دیکھنے والوں کی تعداد خاصی کم تھی۔


’یہاں سہولیات شہر والی ہیں، لیکن سکون پنڈ جیسا ہے‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پاکستان کے دوسرے پریکٹس سیشن کے دوران پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک بائیو میڈیکل انجینیئر سیف الرحمان بتاتے ہیں کہ پرتھ ایک انتہائی خاموش شہر ہے جہاں آپ کے پاس کام کے علاوہ بھی دوسری چیزوں کو وقت دینے کا موقع ملتا ہے۔
پریکٹس پر انڈیا کی ریاست گجرات سے تعلق رکھنے والے سیتن بھی موجود تھے جن کے بھائی راہل اس سیشن میں بطور نیٹ بولر موجود تھے۔
انھوں نے بتایا کہ ’مجھے سڈنی کی مصروف زندگی چھوڑ کر یہاں آنے کا فیصلہ کرنے میں چار سال لگے لیکن یہاں آ کر مجھے اچھا لگتا ہے، آپ گھر والوں کو وقت دے سکتے ہیں۔‘
یہیں موجود ایک پاکستانی سے ہماری بات ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ ’یہاں سہولیات تو شہر والی ہیں، لیکن سکون آپ کو پنڈ جیسا ملے گا۔‘
اس کی ایک وجہ تو یہاں شام سات بجتے ہی سڑکوں کا سنسان ہو جانا ہے، پرتھ بہت جلدی سو جاتا ہے لیکن پورا دن یہاں کے لوگ آپ کو دریاؤں میں بوٹنگ کرتے، مچھلیاں پکڑتے اور ٹریکس پر دوڑتے، سائیکلنگ کرتے یا چہل قدمی کرتے دکھائی دیں گے۔
پرتھ میں مائننگ انڈسٹری میں لوگوں کی اکثریت کام کرتی ہے اور یہاں پر آسٹریلیا کی اوسط کے اعتبار سے قوتِ خرید قدرے زیادہ ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں مہنگائی کی شرح باقی بڑے شہروں سے کم ہے۔
’پرتھ کی مکھیاں آپ کو چپک جاتی ہیں‘

سیف الرحمان بتاتے ہیں کہ پرتھ کی ایک خاص بات یہاں کی مکّھیاں بھی ہیں ’جو ایک مرتبہ آپ کو چپک جائیں تو پھر جان نہیں چھوڑتیں۔‘
اس کی وجہ گندگی ہرگز نہیں ہے، پرتھ ایک صاف ستھرا شہر ہے لیکن یہ مکّھیاں عموماً آسٹریلیا کے زرعی رقبے اور بش لینڈز سے چلنے والی ہواؤں کے ساتھ یہاں آتی ہیں اور گرمیوں کے وسط میں شہر کے مضافاتی علاقوں میں شہریوں کا جینا دو بھر کر سکتی ہیں۔
انھیں ہٹانے کے لیے آپ کو یہاں اپنے ہاتھ لہراتے افراد اردگرد دکھائی دیں گے جسے یہاں ’دی آسٹریلین سیلوٹ‘ کہا جاتا ہے۔
یہاں پر آپ مختلف انواع کے پرندے بھی دکھائی دیں گے جو اکثر دریاؤں کے اردگرد نظر آتے ہیں اور یہاں پورے آسٹریلیا کی طرح بائیو ڈائیورسٹی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔

’شاہین کا ردھم واپس آ رہا ہے‘
پاکستان کا پریکٹس سیشن دو دن چلتا رہا لیکن یہاں پر پریکٹس سیشن کے دوران کی کہانی ہمیں یہاں کے پاکستانی اور انڈین نیٹ بولرز نے سنائی۔
دوسرے روز کے سیشن میں اکثر بڑے نام جیسے شاہین آفریدی، حارث رؤف، شاداب خان اور نسیم شاہ موجود نہیں تھے لیکن بابر اعظم اور محمد رضوان علیحدہ علیحدہ نیٹس میں تھرو ڈاؤنز لے رہے تھے اور خاص طور پر سنگ مر مر کی بڑی سی ٹائل پر بیٹنگ پریکٹس کر رہے تھے۔
یہ پرتھ کی پچ کے لیے تیاری کا انداز ہے جو اس سے قبل بھی پاکستانی ٹیم کی جانب سے آسٹریلیا کی باؤنسی اور تیز پچوں کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
پریکٹس سیشن سے قبل پرتھ سٹیڈیم میں بیٹنگ کوچ میتھیو ہیڈن پچ کا معائنہ کرتے دکھائی دیے لیکن ان کا انداز خاصا انوکھا تھا۔ وہ بیٹنگ کریز پر پہنچے اور وہاں جا کر لیٹ گئے۔
خیال رہے کہ پرتھ میں یہ سٹیڈیم چند سال قبل تعمیر کیا گیا ہے اور یہ دلکش ’ملٹی پرپز‘ گراؤنڈ دریائے سوان کے کنارے واقع ہے۔
اس سے قبل یہاں کا تاریخی واکا کرکٹ سٹیڈیم اپنے پیس اور باؤنس کے لیے بہت مشہور تھا اور عام طور پر ایشیائی بلے بازوں کے لیے یہ ایک خطرناک پچ تصور کی جاتی تھی۔
تاہم واکا میں ہی میتھیو ہیڈن نے سنہ 2003 میں زمبابوے کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ میں 380 رنز کی تاریخی کی اننگز کھیلی تھی جو اس وقت ایک ریکارڈ تھا۔
تاہم بعد میں ان کا ساتھ دینے آسٹریلوی فاسٹ بولر شان ٹیٹ بھی آ گئے جو بعد میں پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں حارث رؤف اور شاہین آفریدی کو بتا رہے ہیں کہ ’پرتھ کی پچ میں باؤنس اچھا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ زیادہ شارٹ گیندیں کراوئیں بلکہ اچھی لینتھ پر ہی بولنگ کرنی ہے۔‘
یہاں موجود نیٹ بولرز پاکستانی نژاد سید نقی سے بات ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ یہاں کی پچ پر گیند بلے پر اچھا آتا زیادہ سوئنگ نہیں ہوتا لیکن باؤنس قدرے زیادہ ہوتا ہے جس کے لیے عادی ہونا ہوتا ہے۔
سید نقی خود بھی ایک فاسٹ بولر ہیں اور انھوں نے شاید پاکستانی شائقین کے لیے ایک خوشخبری سنا دی۔ ان کے مطابق گذشتہ روز کے پریکٹس سیشن کے دوران ’شاہین بھائی کا ردھم اچھا آ رہا تھا اور ان کی گیند ہل بھی رہی تھی۔ انڈیا والے میچ (ورلڈکپ 2021) جیسی بولنگ تو نہیں لیکن گیند پورا کر رہے تھے اور گیند پڑ کے سوئنگ ہو رہا تھا۔ انھوں نے حیدر بھائی کو ایک دو بار پھیرا بھی۔‘
ایک اور نیٹ بولر محمد سارم اشفاق جن کا تعلق اسلام آباد سے ہے بتاتے ہیں کہ نیٹس میں پاکستانی بلے بازوں مخصوص پلان دیے گئے تھے کہ انھوں نے صرف مخصوص شاٹس ہی کھیلنی ہیں۔
انڈین سے شکست کے بعد شاید پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے پرتھ کا سکون اچھا ثابت ہو لیکن دیکھنا یہ ہو گا کہ کیا پاکستانی بلے باز پرتھ کے تیز اور باؤنسی وکٹ پر ٹک پائیں گے۔










