ارشد شریف کی موت، فوجی افسران کی پریس کانفرنس اور سیاست: کیا حقائق کبھی سامنے آ پائیں گے؟

،تصویر کا ذریعہFacebook/Arshad Sharif
- مصنف, فرحت جاوید
- عہدہ, بی بی سی اردو
خودساختہ جلا وطنی کے دوران ہلاک ہونے والے صحافی ارشد شریف کی موت کی تحقیقات کے لیے پاکستانی تفتیش کار کینیا روانہ ہو چکے ہیں۔
لیکن اس ہلاکت کے پس منظر میں گذشتہ دو روز کے دوران پاکستان میں جس طرح کے بیانات اور بیانیے سامنے آ رہے ہیں ان کے پیش نظر باخبر لوگ اور حلقوں میں یہ تاثر گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ الزام تراشیوں اور سیاست کے بیچ ارشد شریف کی موت کو معمہ حل ہونے کے امکانات کم ہی ہیں۔
گذشتہ دور روز میں ارشد شریف سے متعلق مختلف اہم حلقوں کی طرف سے متعدد بیانات آئے اور پریس کانفرنسز کی گئی ہیں جن کے بعد ارشد شریف کی ہلاکت کی گتھی سلجھنے کی بجائے مزید الجھ گئی ہے۔
پہلے سمجھتے ہیں کہ ان چوبیس گھنٹوں سے کم وقت میں کیا کیا انکشافات ہوئے ہیں۔
فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس
سابق حکومت کی کابینہ کا حصہ رہنے والے فیصل واوڈا نے دو روز قبل دعویٰ کیا تھا کہ ’صحافی ارشد شریف کو کینیا میں قتل کیا گیا جس کی منصوبہ بندی پاکستان میں ہوئی۔‘
انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’قتل سے پہلے ارشد شریف پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ سے رابطے میں تھے‘ اور یہ کہ ارشد شریف کے قتل میں اسٹیبلشمنٹ کا کوئی کردار نہیں۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’ارشد ملک واپس آنے کے خواہشمند تھے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ ’میرے پاس فون میں شواہد موجود ہیں۔ میں فون کا فارینزک (آڈٹ) کروانے کے لیے تیار ہوں۔‘
اُنھوں نے کہا کہ ’قتل کی سازش تیار کرنے والے پاکستان میں ہیں۔ ارشد شریف کا موبائل فون یا لیپ ٹاپ نہیں ملے گا، شواہد مٹا دیے گئے ہیں۔ ارشد شریف نے ان لوگوں پر اعتبار کیا جنھوں نے پہلے اسے دبئی اور پھر کینیا کا رخ دکھایا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فیصل واوڈا سے جب پریس کانفرنس میں موجود صحافیوں نے سازش کرنے والوں کا نام لینے پر اصرار کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’میں سب نام (آنے والے) دنوں میں لوں گا۔‘

،تصویر کا ذریعہFacebook/Faisal Vawda
عمران خان کے مطابق انھیں ’قتل کی سازش‘ کا علم تھا
اس سے قبل سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کو ارشد شریف کو قتل کرنے کی سازش کا علم ہوا جس کے بعد انھوں نے ارشد شریف کو پاکستان چھوڑنے کے لیے کہا اور ’پھر ہم نے اسے باہر بھجوایا۔‘
ان کے اس بیان کے بعد بھی ارشد شریف کے ملک سے باہر جانے اور اُنھیں ملنے والی مبینہ ’دھمکیوں‘ کی بازگشت سنائی دی۔ اس کے علاوہ اس خط کی بات بھی کی گئی جو اُنھوں نے صدر عارف علوی کو لکھا تھا۔
صدر عارف علوی نے دو روز قبل ارشد شریف کی والدہ سے ملاقات میں ایک خط کا ذکر کیا تھا۔ یہ ذکر اس وقت ہوا جب وہ تعزیت کے لیے ارشد شریف کی والدہ سے ملے۔
صدر پاکستان اور ارشد شریف کے اہلخانہ کے ساتھ ہونے والی اس گفتگو کی ایک ویڈیو میں اُنھیں یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ارشد شریف نے اُنھیں اپنی جان کو لاحق خطرات سے آگاہ کیا تھا اور اُنھوں نے یہ خط وزیر اعظم کے دفتر پہنچا دیا تھا۔
تاہم ان کے مطابق وزیرِ اعظم ہاؤس کی جانب سے اُنھیں سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے عملی طور پر کچھ نہیں کیا گیا۔
فوجی ترجمان اور خفیہ ایجنسی کے سربراہ کا بیان
فیصل واوڈا نے اپنی پریس کانفرنس میں تو کسی فرد کا نام نہیں لیا تھا اور کہا کہ وہ آئندہ چند دنوں میں ان کرداروں کا نام لیں گے جو اس مبینہ ’سازش‘ کا حصہ ہیں۔ مگر جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر اور ڈی جی آئی ایس آئی نے بعض نام بھی لے لیے۔
ان میں خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ محمود خان، اے آر وائی نیوز کے مالک سلمان اقبال، اے آر وائی کے ڈائریکٹر نیوز عماد یوسف اور وہ دو بھائی شامل ہیں جن کے پاس ارشد شریف کینیا میں رہائش پذیر تھے اور جن میں سے ایک خرم اقبال وہ گاڑی ڈرائیو کر رہے تھے جس میں ارشد شریف کو ہلاک کیا گیا۔
تاہم ڈی جی آئی ایس پی آر نے فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں یہ واضح کیا کہ وہ اُن کی ’ذاتی رائے پر تبصرہ نہیں کرنا چاہیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہISPR
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں اب تک ہونے والی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ان (ارشد شریف) کا ہمارے ادارے سے رابطہ تھا۔ انھوں نے ہمارے ایک جنرل سے رابطہ رکھا۔ انھوں نے واپسی کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ پانچ اگست کو ارشد شریف کے لیے تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے ایک خطرے کا تھریٹ الرٹ جاری کیا گیا جس سے متعلق سکیورٹی اداروں کے پاس کوئی معلومات ہی نہیں تھیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق یہ ’ارشد شریف کو ملک چھوڑنے پر آمادہ کرنے‘ کی ایک کوشش نظر آتی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ اے آر وائی کے سی ای او سلمان اقبال کی ہدایت پر ان کے ساتھی عماد یوسف نے ارشد شریف کے ملک سے باہر جانے کے انتظامات کیے۔ یوں ’10 اگست کو ارشد شریف پشاور سے دبئِی روانہ ہوئے۔ کے پی حکومت نے اُنھیں مکمل پروٹوکول دیا۔‘
ان کے مطابق ’ارشد کینیا اس وقت روانہ ہوئے جب ان کا دبئی کا ویزا ختم ہوا۔‘
انھوں نے کہا ’یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ متحدہ عرب امارات میں ارشد شریف کے رہنے کا بندوبست کس نے کیا؟ کس نے ان کو کہا کہ ان کی جان کینیا میں محفوظ ہے اور پاکستان میں ان کو خطرہ ہے؟ کس نے ان کو کہا کہ صرف کینیا ویزہ فری ملک ہے؟ ان کی کینیا میں میزبانی کون کر رہا تھا؟ ان کا ارشد سے کیا تعلق تھا؟ کیا وہ ان کو پہلے سے جانتے تھے؟‘
یہ بھی پڑھیے
بیانات اور ارشد شریف کے ’قتل‘ کی گتھی
لیکن کیا یہ سب بیانات اور ان سے جڑی کہانیاں ارشد شریف کی موت کے گرد گھومتی مبینہ سازش کو حل کر پا رہی ہیں یا ایسا ہو گا بھی؟ اس سوال کے جواب میں تجزیہ کار مشرف زیدی کہتے ہیں کہ ایسا ہونا مشکل ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ مستقبل تاریک نظر آتا ہے اور یہاں ایسے واقعات ’اشرافیہ محض اپنی دکان، سیاست، مقاصد اور اہداف‘ کو حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ ان کے خیال میں کسی جماعت، گروہ یا ادارے کے لیے سرفہرست یہ ہدف ہی نہیں کہ ارشد شریف کو انصاف دلایا جائے۔
’لاشوں پر سیاست کی جا رہی ہے۔ کسی ایک پریس کانفرنس میں بھی ان سوالوں کا جواب ہی نہیں تھا جو اہم ہیں۔ اور ان میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ارشد شریف یا کسی بھی صحافی کے لیے زمین کیوں تنگ کی گئی۔‘
ان کے خیال میں وہ فیصل واوڈا کے انکشافات ہوں، پی ٹی آئی کی قیادت کے بیانات یا آج فوجی ترجمان کی پریس کانفرنس، کسی بھی موقع پر ’اس کیس سے جڑے بڑے سوالوں پر کوئی بات نہیں ہوئی، ہاں اس پر ضرور بات ہوئی کہ کس کو کیا ملا، کس کا کیا نقصان ہوا اور کون کیا چاہتا ہے۔ ارشد شریف کے قتل کا تو ان سب باتوں سے براہ راست تعلق نہیں ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’ارشد شریف پر قدغنیں کس نے لگائیں؟‘
صحافتی حلقوں میں ارشد شریف کی موت کے حوالے سے بار بار ان مقدمات کا حوالہ دیا جا رہا ہے جو ان کے ملک سے جانے سے پہلے درج کیے گئے تھے۔ یہ اس قدر خطرناک دفعات کے تحت دائر کیے گئے کہ تجزیہ کار یہ سمجھتے ہیں کہ یہ مقدمات کسی بھی شخص پر زمین تنگ کرنے کے مترادف تھے۔
مشرف زیدی کہتے ہیں کہ ارشد شریف کی رائے کو بنیاد پر ان پر قدغنیں لگائی گئیں، ’سوال یہ ہے کہ یہ قدغنیں کیوں لگیں، کس نے لگائیں اور ان قدغنوں کی وجہ سے کن کن لوگوں پر مقدمات بنے جن کی وجہ سے لوگ ملک بدر ہونے پر مجبور ہوئے۔ اور پھر کسی نے بھی ان حالات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے سب سے گھناؤنا جرم کیا، یعنی جان ہی لے لی گئی۔ یہ وہ سوال ہیں جن پر بات ہونی چاہیے۔ مگر فیصل واوڈا، عمران خان یا آج فوجی ترجمان کے پریسرز میں یہ سوال نہیں تھے۔‘
دوسری جانب صحافی سیرل المیڈا کے مطابق ارشد شریف کے قتل سے متعلق ان تمام بیانات میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جسے ہم حقیقت کہہ سکیں۔ ’ابھی تک حقیقت نہیں سامنے آئی ہے، اور ماسوائے کینیا سے آنے والے بیان کے سوا اور کوئی قابل یقین بات نہیں، مگر کینیا سے آنے والی کہانی میں بہت جھول اور ابہام ہیں اور اس کہانی نے کئی سوالوں کو جنم دیا ہے۔ کم از کم ان کی کہانی پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔‘
اُنھوں نے کہا کہ کینیا کی پولیس کی جانب سے جو بیان سامنے آئے تھے اس پر بہت سے سوال اٹھے تھے، اور ان تمام پریس کانفرنسز سے ان سوالوں کے جواب نہیں ملے ہیں۔
سیرل المیڈا کے خیال میں ارشد شریف کے قتل کو ایک علیحدہ یا سیاق و سباق سے ہٹ کر واقعے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، ’ہم اس کو پاکستان میں ایک تنہا ایونٹ کے طور پر نہیں دیکھ سکتے۔ اس کا ایک سیاق و سباق ہے۔ اس کا آغاز اپریل میں ہوتا ہے جب سے ارشد شریف نے جارحانہ انداز میں عمران خان کی حمایت شروع کی اور فوج پر کڑی تنقید کی۔ دوسری طرف پاکستان کی ایسے معاملات میں ایک تاریخ بھی ہے۔ یعنی اس سے پہلے بھی ہم نے وہ لوگ دیکھے ہیں جو فوج اور سویلین حکومت کے تعلقات، دھمکیوں، جرائم کا شکار ہوتے رہے ہیں۔‘
صحافی اور تجزیہ کار بینظیر شاہ نے کہا کہ ’افسوس کا مقام ہے کہ ایک شخص کی جان چلی گئی اور اس کی لاش پر سیاست کی جا رہی ہے۔‘
’عمران خان اور فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ارشد شریف کو خطرات کے بارے میں معلومات پہلے سے تھیں۔ اگر ایسا تھا تو یہ معلومات قانون نافذ کرنے والے اداروں تک کیوں نہیں پہنچائی گئیں تاکہ اس واقعے کو ہونے سے روکا جا سکتا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ فیصل واوڈا کی جانب سے اس پریس کانفرنس کے وقت کا چناؤ بھی عجیب ہے۔ ’ابھی جب تدفین بھی نہیں ہوئی اور ارشد کے گھر والوں پر پتہ نہیں کیا گزر رہی ہے تو اس پریس کانفرنس کو کرنے میں جلدی یا ایمرجنسی کس بات کی تھی؟‘
فوجی ترجمان اور آئی ایس آئی کے سربراہ کی پریس کانفرنس پر تبصرہ کرتے بینظیر شاہ نے کہا کہ اس پریس کانفرنس کا بہت اہم اور تاریخی کہا جا رہا ہے حالانکہ یہ تاریخ بن نہیں رہی بلکہ تاریخ کو درست کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔
’اگر آئی ایس آئی کے سربراہ کہتے ہیں کہ مارچ 2021 کے بعد فوج نے سیاست میں مداخلت بند کر دی ہے تو کیا یہ اعتراف نہیں ہے کہ اس سے پہلے سیاست میں مداخلت ہو رہی تھی؟‘
’اس معاملے کا خیال رکھنا ہے‘
وزیراعظم نے عدالتی کمیشن کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ دو رکنی فیکٹ فائینڈنگ کمیٹی بھی کینیا جا رہی ہے، دوسری طرف آج ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا ہے کہ وہ اس واقعے پر کینیا کے سرکاری مؤقف سے مطمئن نہیں ہیں اور اس سلسلے میں اُنھوں نے کینیا میں اپنے ہم منصب سے رابطہ کیا ہے۔ اسی طرح ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ارشد شریف کیس میں تفتیش کو مکمل طور پر شفاف اور غیر جانب دار ہونا چاہیے۔
مگر ان تمام پریس کانفرنسز، دعوؤں اور اعلانات کی بازگشت سے بے خبر ارشد شریف کی والدہ ہیں جن سے گذشتہ روز ان کے گھر میں ملاقات ہوئی۔ وہ تعزیت کے لیے دور دراز علاقوں سے آئی خواتین کو ملتیں اور اُنھیں دلاسہ دیتیں۔ جب میں ان سے ملی اور اپنا تعارف کروایا تو اُنھوں نے دیگر کئی صحافیوں کی طرح میرا ہاتھ تھاما اور کہا کہ اس معاملے کا خیال رکھنا ہے، تم سمجھ رہی ہو نا میں کیا کہہ رہی ہوں۔‘
پاکستان کی تاریخ ایسی تحقیقات کے معاملے میں خاصی تاریک ہی رہی ہے، چنانچہ ابھی اس کیس کی گتھی سلجھانے میں ممکنہ طور پر کافی وقت لگے گا۔












