فیصل واوڈا کی دعوؤں سے بھرپور پریس کانفرنس: ’اگر ان کے فون میں شواہد ہیں تو کمیشن کو انھیں بلانا چاہیے‘

فیصل واوڈا

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@FaisalVawdaPTI

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ وہ بطور ڈی جی آئی ایس پی آر تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا کے ’ذاتی بیان‘ پر تبصرہ نہیں کرنا چاہیں گے۔

جمعرات کو ڈی جی آئی ایس آئی کے ہمراہ کی جانے والی ایک پریس کانفرنس کے دوران ان سے فیصل واوڈا کے ’انکشافات‘ سے متعلق جب سوال کیا گیا تو ڈی جی آئی ایس پی آر نے تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ’اُن کے فون میں اگر کچھ شواہد ہیں تو کمیشن میں اُن کو بلانا چاہیے۔‘

یاد رہے کہ تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا کی جانب سے بدھ کی رات کی جانے والی پریس کانفرنس کے بعد پارٹی کی جانب سے اُن کو شو کاز نوٹس جاری کرتے ہوئے اُن کی پارٹی رکنیت معطل کر دی گئی تھی۔ اس پریس کانفرنس میں فیصل واوڈا نے صحافی ارشد شریف کی ہلاکت اور پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے متعلق چند دعوے کیے۔

واضح رہے کہ سابق حکومت کی کابینہ کا حصہ رہنے والے فیصل واوڈا نے گذشتہ رات دعویٰ کیا تھا کہ ’صحافی ارشد شریف کو کینیا میں قتل کیا گیا جس کی منصوبہ بندی پاکستان میں ہوئی۔‘ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’قتل سے قبل ارشد شریف پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ سے رابطے میں تھے‘ جس کا اُن کے مطابق ارشد شریف کے قتل میں کوئی کردار نہیں اور وہ ’ملک واپس آنے کے خواہشمند تھے۔‘

ان کا ایک دعوی یہ بھی تھا کہ ’اس سازش کی منصوبہ بندی کرنے والے لانگ مارچ کو پُرامن نہیں رہنے دینا چاہتے۔‘ تاہم اس پریس کانفرنس کے بعد ان کی جماعت نے ناصرف ان کے دعووں سے اظہار لا تعلقی کیا بلکہ پارٹی حامیوں اور کارکنوں نے سوشل میڈیا پر ان کے خلاف ٹرینڈ بھی چلائے۔

ادھر وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے مطابق فیصل واوڈا کے دعووں پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا تاہم اس سے قبل قتل کی تحقیقات کے لیے کینیا روانہ ہونے والی ٹیم کی واپسی کا انتظار کیا جائے گا۔

فیصل واوڈا نے کیا کہا؟

فیصل واوڈا، جو پاکستان تحریک انصاف سے جڑی ایک متنازع شخصیت رہے ہیں اور دہری شہریت کے مقدمے میں نااہل بھی ہو چکے ہیں، کی پریس کانفرنس میں متعد دعوے کیے گئے جن کا محور پاکستانی صحافی ارشد شریف تھے۔

فیصل واوڈا نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا کہ ’ارشد ملک چھوڑنے پر تیار نہیں تھے۔ ان کو ڈرایا دھمکایا گیا کہ کچھ ہو جائے گا۔ پھر کینیا میں ایسی جگہ، ایسے فارم ہاؤس لے جایا گیا جہاں پاکستان کا کوئی عام آدمی نہیں جا سکتا۔

انھوں نے سوال اٹھایا کہ ’کینیا کا انتخاب کس نے کیا؟ کینیا میں کس نے چھپایا؟ کینیا میں ارشد شریف کس سے رابطے میں تھا؟‘

فیصل واوڈا نے اس پریس کانفرنس کے دوران جہاں قتل کی سازش کا دعویٰ کیا، وہیں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں کہا کہ ’آج کی موجودہ اسٹیبلشمنٹ کا ارشد شریف کے قتل سے کوئی تعلق نہیں۔‘

’وہ واپس آنے کو تیار تھا۔ اسٹیبلشمنٹ سے ارشد شریف کا مثبت تعلق تھا۔ وہ رابطے میں تھے اور میں ان رابطوں کا حصہ تھا۔ عمران خان کو سب کچھ پتہ ہے۔‘

ارشد شریف

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

انھوں نے دعوی کیا کہ ’اس سازش کے پیچھے وہ لوگ ہیں جو میری پارٹی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، جو اپنی خواہشات اور مفادات کے لیے لوگوں کو مروانا چاہتے ہیں۔‘

جب ان سے سوال کیا گیا کہ جن لوگوں کی جانب سے نام لیے بغیر اشارہ کر رہے ہیں تو کیا یہ تحریک انصاف کا حصہ ہیں، تو فیصل واوڈا نے جواب دیا کہ ’کچھ لوگ ہیں جو سازشی بیانیے کو مانتے ہیں لیکن اس کا حصہ نہیں ہیں۔‘

تاہم انھوں نے کہا کہ ’قتل کی سازش تیار کرنے والے پاکستان میں ہیں۔ ارشد شریف کا موبائل فون یا لیپ ٹاپ نہیں ملے گا، شواہد مٹا دیے گئے ہیں۔‘

’ارشد شریف نے ان لوگوں پر اعتبار کیا جنھوں نے پہلے اسے دبئی اور پھر کینیا کا رخ دکھایا۔ ‘ ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’عمران خان نے ارشد شریف کے کیس میں سب کچھ نیک نیتی سے کیا۔‘

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے یہ دعوی کیا ہے کہ ان کو ارشد شریف کو قتل کرنے کی سازش کا علم ہوا جس کے بعد انھوں نے ارشد شریف کو پاکستان چھوڑنے کے لیے کہا اور ’پھر ہم نے اسے باہر بھجوایا۔‘

فیصل واوڈا سے جب پریس کانفرنس میں موجود صحافیوں نے سازش کرنے والوں کا نام لینے پر اصرار کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’میں سب نام دنوں میں لوں گا۔ یہ وارننگ ہے۔ نام لینے سے کچھ لوگ مارے جا سکتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’میں ارشد اور اسٹیبلشمنٹ میں مثبت رابطوں کا حصہ تھا۔ میرے پاس فون میں شواہد موجود ہیں۔ میں فون کا فرانزک کروانے کے لیے تیار ہوں۔‘

جب ان سے سوال کیا گیا کہ آیا وہ یہ شواہد تحقیقاتی ٹیم کو دکھائیں گے تو ان کا جواب تھا کہ ’میں اپنے چیئرمین کے علاوہ آئی ایس آئی اور ایم آئی ملٹری انٹیلیجنس کو ثبوت دکھا سکتا ہوں۔‘

اپنی پریس کانفرنس میں فیصل واوڈا نے یہ دعوی بھی کیا کہ لانگ مارچ میں سازش کرنے والے ’لاشیں گرانا چاہتے ہیں۔ اصل مقصد کچھ اور ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

’فیصل واوڈا کہنا کیا چاہتے تھے؟‘

فیصل واوڈا کی اس پریس کانفرنس کے بعد تحریک انصاف رہنما فواد چوہدری نے ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے تو سمجھ نہیں آئی کہ فیصل واوڈا کہنا کیا چاہتے تھے۔ اس پریس کانفرنس کی ضرورت کیا تھی۔ ‘

تاہم تحریک انصاف کی جانب سے اس پریس کانفرنس کے بعد شدید ردعمل سامنے آیا۔

سابق وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا کہ ’فیصل واوڈا نے لانگ مارچ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ تمام چینلز بشمول پی ٹی وی نے پریس کانفرنس دکھائی جس کا مطلب ہے کہ فیصل واوڈا کو حکومت نے لانچ کیا۔ لیکن ان کی بات کا کوئی سر پیر نہیں تھا۔ ‘

حماد اظہر نے کہا کہ ’بڑی دلچسپ بات ہے کہ پی ٹی وی نے فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس دکھائی۔ پی ٹی وی تو تحریک انصاف کے کسی رہنما کی پریس کانفرنس نہیں دکھاتا بشمول عمران خان۔‘

پارٹی رہنما اسد عمر نے ٹؤٹر پر اعلان کیا کہ ’فیصل واوڈا کا بیان پارٹی پالیسی اور نظریات کی نمائندگی نہیں کرتا۔ انھوں نے کہا کہ پارٹی کے سندھ کے صدر کو عمران خان کی ہدایات پر کہہ دیا گیا ہے کہ فیصل واوڈا کو شو کاز نوٹس دیں۔ ‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 1

کچھ ہی دیر بعد تحریک انصاف رہنما علی زیدی کی جانب سے فیصل واوڈا کے نام شو کاز نوٹس سوشل میڈیا پر جاری کر دیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’آپ نے پارٹی پالیسی اور گائیڈ لائنز کے خلاف بیانات دے کر ڈسپلن کی خلاف ورزی کی ہے۔‘

فیصل واوڈا کو ہدایت دی گئی کہ وہ دو دن کے اندر جواب جمع کرائیں کہ ان کی پارٹی رکنیت منسوخ کیوں نہ کر دی جائے۔

اس دوران فیصل واوڈا کی پارٹی رکنیت معطل کرتے ہوئے ان کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ میڈیا پر پارٹی کی نمائندگی نہیں کر سکتے۔

فیصل واوڈا نے اس شوکاز اور خود پر ہونے والی تنقید کے جواب میں کہا کہ ’میرے مخالف جو کرنا چاہیں کر لیں میں نے ارشد شریف کیلئے جو کہا ہے اس پر کھڑا ہوں۔ میں نے اپنی پارٹی کو ایک سچا مشورہ دیا ہے، پہلے بھی کہ چکا ہوں اور آج بھی کہہ رہا ہوں کہ کچھ سازشی ہمارے پر امن مارچ میں معصوم لوگوں کو بلی کا بکرا بنا سکتے ہیں، اس میں پارٹی پالیسی کے خلاف کیا ہے؟‘

فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس کے بعد جہاں پارٹی کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر مایوسی اور غصے کا اظہار کیا وہیں چند نے سوال اٹھایا کہ کیا ان کو پہلے چیئرمین عمران خان سے مل کر یہ بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔ دوسری جانب ایک صارف نے لکھا کہ ایسا لگتا ہے کہ تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ چکی ہے۔ صحافی سلمان مسعود نے لکھا کہ قریبی لوگوں میں سے سب سے پہلے فیصل واوڈا نے چھلانگ لگائی۔ یہ دلچسپ ہو گا کہ اور کون کون ایسا کرتا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 2

’اب کسی اور شہادت کی ضرورت نہیں‘

ادھر وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز پر پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ سارے تانے بانے عمران خان کی طرف جاتے ہیں۔ اب کسی اور شہادت کی ضرورت نہیں ہے۔ ‘

رانا ثنا اللہ نے دعوی کیا کہ ’کینیا میں جو فارم ہاوس اور ان کے ساتھ جو دو لوگ تھے، خرم اور وقار، ان کا تعلق ایک ایسی شخصیت سے بتایا جا رہا ہے جن کا دبئی میں بھی بہت لمبا چوڑا کاروبار ہے اور وہ میڈیا سے بھی منسلک ہیں۔‘

’ان دو افراد سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے دو تجربہ کار افراد کو بھجوایا گیا ہے۔ جب تک وہاں سے تصدیق نہیں ہو گی، ہم باضابطہ طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔‘

جب رانا ثنا اللہ سے پی ٹی آئی کی جانب سے اٹھائے جانے والے نکات پر سوال کیا گیا کہ پی ٹی وی نے اس پریس کانفرنس کو کیوں دکھایا تو ان کا کہنا تھا کہ ’فیصل واوڈا کے بارے میں دو گھنٹے سے خبر چل رہی تھی کہ وہ اس قتل کے بارے میں انکشافات کرنے والے ہیں، ان کے پاس شواہد ہیں اور وہ ان لوگوں کو ایکسپوز کرنے والے ہیں جو اس قتل میں ملوث ہیں۔ میں تو خود انتظار کر رہا تھا کہ وہ کیا کہنے والے ہیں۔ ‘

’میں تجسس میں تھا کہ وہ کون سے شواہد دکھانے والے ہیں۔‘

فیصل واوڈا

،تصویر کا ذریعہTWITTER

فیصل واوڈا کون ہیں؟

فیصل واوڈا کا شمار کراچی مشہور کاروباری شخصیات میں سے ہوتا ہے۔ وہ متعدد کاروبار کرتے ہیں جن میں بیرون ملک سے مہنگی گاڑیوں کی درآمد کا کاروبار بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مہنگی گاڑیاں اور ہیوی بائیک بھی چلانے کا شوق رکھتے ہیں۔

فیصل واوڈا سنہ 2011 سے پاکستان تحریک انصاف کے ایک سرگرم کارکن کی حثیت سے اس جماعت کے ساتھ منسلک تھے اور کراچی میں اپنے حلقے میں اس جماعت کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔

چونکہ ان کے پاس امریکہ کی شہریت بھی تھی تو اس عرصے کے دوران ان کا امریکہ میں آنا جانا لگا رہتا تھا۔

فیصل واوڈا کا نام سنہ 2016 میں اُس وقت سامنے آیا جب قومی احتساب بیورو نے انھیں اثاثوں اور کراچی میں الاٹ کیے پلاٹوں کی چھان بین کے لیے نوٹس جاری کر کے طلب کیا تھا۔

پھر سنہ 2018 میں ملک میں ہونے والے عام انتخابات کے دوران پاکستان تحریک انصاف نے انھیں کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 249 سے ٹکٹ دیا اور انھوں نے اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر میاں شہباز شریف کو چھ سو سے زائد ووٹوں سے ہرایا تھا۔

ان انتخابات کے نتائج کے بعد ہی ان کے خلاف درخواست سندھ ہائی کورٹ میں دائر کی گئی تھی جس میں ان پر غیر ملکی اثاثے چھپانے کے علاوہ کاغذات نامزدگی میں حقائق توڑ موڑ کر پیش کرنے کا بھی الزام عائد کیا گیا تھا۔

فروری 2022 میں سنہ 2018 کے عام انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی کے ساتھ دہری شہریت کے معاملے پر جھوٹا حلف نامہ جمع کروانے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے فیصل واوڈا کو نااہل قرار دے دیا۔

اس سے قبل اکتوبر سنہ 2018 میں انھیں وفاقی کابینہ میں شامل کیا گیا اور انھیں آبی وسائل کے بارے میں وزارت کا قلمدان سونپا گیا۔

جب نومبر سنہ 2018 میں کراچی میں چینی قونصلیٹ کے باہر دہشت گردی کا واقعہ ہوا تھا تو فیصل واوڈا بلٹ پروف جیکٹ پہنے، ہاتھ میں پستول لیے سکیورٹی فورسز کے ساتھ متاثرہ علاقے میں گھومتے ہوئے دکھائی دیے گئے تھے جس کے بعد ان پر کافی تنقید کی گئی تھی۔

فروری 2019 میں جب پاکستانی فضائیہ نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انڈین طیارہ مار گرایا اور انڈین فضائیہ کے پائلٹ ابھیندن کو گرفتار کیا گیا تو وفاقی وزیر فیصل واوڈا پستول لے کر اس جگہ پر پہنچ گئے جہاں پر انڈین جہاز کا ملبہ پڑا ہوا تھا۔

فیصل واوڈا کو سوشل میڈیا پر ایک بار پھر اس وقت سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک ٹاک شو میں فوجی بوٹ لے کر آ گئے اور اس کو اپنے سامنے میز پر رکھ کر اپوزیشن جماعتوں پر تنقید کرنے لگے۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولٹری اتھارٹی یعنی پیمرا نے بھی اس پر اپنا سخت ردعمل دیتے ہوئے اس ٹاک شو پر کچھ عرصے کے لیے پابندی عائد کر دی تھی۔