ورلڈ کپ فائنل میں انڈیا کی شکست پر جشن منانے پر گرفتار کشمیری طالبعلم رہا: ’بچوں نے غلطی کی اور ہم معافی چاہتے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر
انڈیا اور آسٹریلیا کے درمیان کرکٹ ورلڈ کپ کے فائنل مقابلے میں آسٹریلیا کی کامیابی پر جشن منانے اور غیر کشمیری طالب علموں کو ہراساں کرنے کے الزام میں انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے گاندربل ضلع میں ویٹرنری کالج کے ہوسٹل میں جن سات طالب علموں کو گرفتار کیا گیا تھا، انھیں والدین کی یقین دہانی کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔
گزشتہ روز ان طالب علموں کے والدین نے پولیس کو ایک تحریری حلف نامہ پیش کیا جس میں تسلیم کیا گیا کہ ’بچوں نے غلطی کی اور ہم اس کے لیے غیرمشروط معافی چاہتے ہیں۔‘
والدین نے پولیس کو یہ یقین بھی دلایا کہ یہ طالب علم ہوسٹل میں آپسی بھائی چارے میں کوئی رخنہ نہیں ڈالیں گے۔
واضح رہے کہ ان طالب علموں پر انسداد دہشت گردی کے نئے قانون یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
گاندربل ضلع کی پولیس نے یہ کارروائی کالج میں زیر تعلیم انڈین پنجاب سے تعلق رکھنے والے طالب علم کی شکایت پر کی تھی۔
ایف آئی آر کے مطابق ’میچ ختم ہوتے ہی طالب علموں نے مجھے بُرا بھلا کہنا شروع کیا، مجھے خاموش رہنے کو کہا اور اور بات یہاں رُکی نہیں بلکہ اُنھوں نے مجھے گولی مارنے کی دھمکی تک دی۔ جہاں یہ سب مجھے ڈراتے دھمکاتے رہے وہیں انھوں نے ’جیوے جیوے پاکستان‘ کے نعرے بھی لگائے جس سے غیر کشمیری طالب علم بہت ڈر گئے۔‘
طالب علم نے اپنی شکایت میں لکھا کہ ’وہ ڈر کے مارے کئی گھنٹوں تک اپنے کمرے میں بند رہے اور باہر نہیں نکلے لیکن چند گھنٹوں کے بعد میں ہمت کر کے پولیس کے ساتھ رابطہ کیا۔‘

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
اس واقعے کے بارے میں کالج انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ ’بچوں کے درمیان نوک جھونک ہوتی رہتی ہے لیکن بدقسمتی سے شکایت وارڈن کے پاس نہیں بلکہ براہ راست پولیس کے پاس کی گئی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے اس کالج میں کُل 300 طلبا تعلیم حاصل کر دہے ہیں جن میں سے تقریباً 40 کا تعلق راجھستان، پنجاب اور دیگر انڈین ریاستوں سے ہے۔
سابق وزیراعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے ان گرفتاریوں کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’مقابلے میں جیتنے والی ٹیم پر تالی بجانا بھی اب جرم قرار دے دیا گیا۔ صحافیوں، رضاکاروں اور اب طالب علموں پر یو اے پی اے کا مقدمہ دائر کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ جموں کشمیر کے نوجوانوں کے تئیں ایسٹیبلشمنٹ کا رویہ کس قدر ظالمانہ ہے۔‘
انھوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے اپیل کی تھی کہ وہ اس معاملہ میں مداخلت کریں۔
واضح رہے کہ یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ نئی دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں بھی ایسے ہی ایک واقعے میں دو کشمیری طالب علموں کو ہوسٹل سے بے دخل کیا گیا۔
ان پر الزام ہے کہ انھوں نے کرکٹ ورلڈ کپ 2023 کے فائنل کے اختتام پر آسٹریلیا کی جیت پر آتشبازی کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انسداد دہشت گردی کا نیا قانون ’یو اے پی اے‘ کیا ہے؟
اَن لافُل ایکٹِوٹیز (پری وینشن) ایکٹ دراصل 1967 میں منظور کیا گیا تھا تاہم 2019 میں اس قانون میں ترمیم کرکے اس سے مزید سخت بنا کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو وسیع اختیارات دئے گئے تاکہ ’ملک کی سالمیت اور یکجہتی کے خلاف‘ کارروائیوں اور رویوں پر قدغن عائد جاسکے۔
ترمیم شدہ قانون کے تحت گرفتار افراد کے لیے طویل مدت تک عدالت میں پیشی یا عدالت سے ضمانت نہایت مشکل ہوتی ہے۔
پولیس نے گاندربل میں طلبا کے خلاف ہونے والی ایف آئی آر سے متعلق جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یہ کارروائی محض نعرے بازی پر نہیں۔‘
’نعرے بازی جس پس منظر میں ہوئی ہے وہ ہند مخالف جذبات کو نارمل کرنے کی کوشش ہے جو دہشت گردوں اور علیحدگی پسندوں کی ایما پر ہوتی ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’یہ معاملہ تنقید یا اظہار رائے کی آزادی کا نہیں بلکہ ایسے لوگوں کو دہشت میں مبتلا کرنے کا ہے جو انڈیا کے حق میں یا پاکستان کے خلاف جذبات رکھتے ہیں۔‘










