اژدھے نے خاتون کو نگل لیا، شوہر نے بیوی کی باقیات کی تلاش میں اژدھے کا سر اور پیٹ کاٹ دیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈونیشیا میں 36 سالہ ایک خاتون کو اژدھے نے نگل لیا جس کے باعث ان کی موت ہو گئی ہے۔
پولیس کے مطابق سریاتی نامی خاتون دو روز قبل اپنے بچے کے لیے دوا خریدنے گھر سے نکلیں تاہم اس کے بعد وہ لوٹ کر واپس نہ آ سکیں۔
سریاتی کے شوہر اڈیانسا کو سولاویسی صوبے میں واقع گاؤں میں اپنے گھر سے تقریباً 500 میٹر کے فاصلے پر بیوی کے جوتے اور کپڑے ملے، جس کے بعد انھوں نے فوری طور پرحکام کو آگاہ کیا۔
بی بی سی انڈونیشیا سے بات کرتے ہوئے پولیس چیف نے بتایا کہ سریاتی کے شوہر نے غیر معمولی طور پر پھولے ہوئے پیٹ والے اژدھے کو دیکھا اور اپنی بیوی کی باقیات کی تلاش کے لیے پہلے اژدھے کا سر اور پھر اس کا پیٹ کاٹ دیا۔
واضح رہے کہ انڈونیشیا میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران اس نوعیت کا یہ دوسرا کیس رپورٹ ہوا ہے۔
اس سے قبل جون کے آغاز میں سولاویسی کے ایک اور ضلع میں ایک خاتون کو پانچ میٹر لمبے اژدھے نے نگل لیا تھا۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے مقامی افراد کوخبردار کیا تھا کہ ایسے دیگر حادثات بھی ہو سکتے ہیں لہذا اپنے بچاؤ کے لیے ہر وقت چاقو ساتھ رکھا جائے۔
پولیس نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ علاقے میں تنہا سفر نہ کریں۔

،تصویر کا ذریعہ Luwu Police Station
جنگلات کی کٹائی اور جانوروں کے حملے
ماہرین ماحولیات ایسے جان لیوا حملوں کا تعلق جنگلات کی کٹائی سے جوڑتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سولاویسی انوائرمینٹل انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر محمد الامین نے بی بی سی کو بتایا کہ اس علاقے میں کان کنی اور باغات بنانے کے لیے جنگلات کا صفایا اور زمین ہموار کرنے کا رجحان کافی حد تک بڑھ رہا ہے۔
’جنگلات کی کٹائی کے نتیجے میں جانوروں کی خوراک ختم ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے، جس کے باعث وہ خوراک کے حصول کے لیے رہائشی علاقوں میں شکار کر سکتے ہیں اور براہ راست انسانوں پر بھی حملہ آور ہو سکتے ہیں۔‘
سانپوں کی خوراک کا اہم حصہ جنگلی سؤر ہوتے ہیں تاہم ان کی تعداد میں بھی تیزی سے کمی آ رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہ Luwu Police Station
انسانوں کو کھانے والے سانپ کی خصوصیات
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
دھاری دار جِلد والے اژدھے تقریباً 10 میٹر سے زیادہ لمبے ہو سکتے ہیں اور انڈونیشیا میں لوگوں پر حملہ کر کے انھیں ہلاک کرنے والے بھی یہی طویل القامت دھاری دار اژدھے ہیں۔
10 میٹر یا 32 فٹ تک لمبے یہ سانپ انتہائی طاقتور ہوتے ہیں۔ یہ گھات لگا کر حملہ کرتے ہیں اور پھر خود کو اپنے شکار کے گرد لپیٹتے ہیں اور اسے دبانا شروع کر دیتے ہیں۔
شکار کے ہاتھ پاؤں چلانے پر وہ اسے مزید مضبوطی سے دبوچتے ہیں۔ ایسے میں لمحوں کے اندر ہی شکار کا دم گھٹ جاتا ہے یا اس کا دل کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
جنگلی حیات کی ماہر میری روتھ لو اژدھوں پر تحقیق کرتی ہیں، جن کے مطابق بڑی جسامت کے اژدھے اپنا شکار پورا نگلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
’اژدھے اپنا شکار سالم نگل لیتے ہیں۔ ان کے جبڑے بہت لچکدار ہوتے ہیں جس کے باعث وہ بڑا منہ کھول کر اپنے شکار کے گرد گھیرا تنگ کر کے اسے اپنے اندر اتار لیتے ہیں۔‘
’جب انسانوں کو کھانے کی بات آتی ہے تو اس میں رکاوٹ کا سبب کندھوں کی ہڈی (شولڈر بلیڈز) بنتی ہے کیونکہ وہ آسانی سے ٹوٹتی نہیں۔‘
عام طور پر اژدھے چوہے اور دوسرے چھوٹے جانور کھاتے ہیں لیکن ایک بار جب وہ ایک خاص سائز تک پہنچ جاتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ ان کی چوہوں میں دلچسپی ختم ہو جاتی ہے کیونکہ انھیں مطلوبہ کیلوریز نہیں مل پاتیں۔
میری روتھ لو کے مطابق ’مختصر یہ کہ وہ جتنے بڑے ہوتے جاتے ہیں اتنا ہی بڑا شکار ان کی ترجیح ہوتی ہے اور اس میں سور یا گائے جیسے جانور بھی شامل ہو سکتے ہیں۔‘










